کیا مراقبہ خواب کا تسلسل ہے؟

کتاب : روح کی پکار

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=11924

سوال: مراقبہ کرتے ہوئے کسی شخص کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ نیند کی حالت میں ہے۔ مکمل خاموشی اور سکون، بند آنکھیں اور سانس کا ایک مخصوص زیروبم۔ یہ سب وہ علامات ہیں جو خواب کی حالت کو ظاہر کرتی ہیں۔ براہِ کرم اس تاثر کی روشنی میں مراقبہ پر روشنی ڈالیں۔
جواب: خواب اور بیداری کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ خواب اور بیداری دراصل زندگی کے دو رُخ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق ہر چیز دو رخوں پر پیدا کی گئی ہے اور زندگی کی تمام حرکات و سکنات بھی دو رخوں پر قائم ہیں۔ زندگی کے وہ دو رخ جن پر ماضی حال اور مستقبل رواں دواں ہیں۔ بنیادی طور پر خواب اور بیداری ہیں جب کہ سمجھا یہ جاتا ہے کہ خواب کوئی خاص زندگی نہیں ہے البتہ بیداری زندگی ہے۔ علومِ ظاہری کے دانش ور جب خواب کا تذکرہ کرتے ہیں تو خواب کو ایک خیالی زندگی کہہ کر گزر جاتے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق خواب اور بیداری الگ الگ نہیں ہیں صرف حواس کی درجہ بندی کا فرق ہے۔ ایک حواس میں ذی روح اپنے اوپر پابندی محسوس کرتا ہے اور دوسرے حواس میں خود کو پابندی سے آزاد دیکھتا ہے۔ ان میں ایک ہی فرق صرف پابندی اور آزادی کا ہے۔
مراقبہ دراصل ایک ایسی کیفیت او ر مشق کا نام ہے جو انسان کو حواس کے دو رخوں سے متعارف کراتی ہے۔ اس کیفیت سے متعارف ہونے کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ آدمی اعصابی تھکان کی وجہ سے پابندی کے حواس سے ہٹ کر ایسے حواس میں قدم رکھنا چاہتا ہے جہاں پابندی نہیں ہے تو طبیعت اسے دنیاوی آلام و مصائب سے آزاد کر کے اس زندگی میں لے جاتی ہے جس زندگی کا نام خواب ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی اعصابی طور پر بے حس ہو کر سو جائے اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اعصابی سکون کے ساتھ اپنے ارادہ اور اختیار سے بے دار رہتے ہوئے اپنے اوپر خواب کے حواس مسلّط کرے۔ جس مناسبت سے خواب کے حواس بیداری میں منتقل ہوتے ہیں اسی مناسبت سے کوئی آدمی روحانی ترقی کرتا ہے۔
جب آدمی سونے کے لئے لیٹتا ہے تو اعصابی سکون اور خمار کی کیفیت سے دوچار ہونے کے بعد غنودگی کے عالم میں چلا جاتا ہے۔ غنودگی کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے شعوری حواس لاشعوری حواس میں منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اور جب غنودگی اپنے عروج کو پہنچتی ہے یعنی شعوری حواس لاشعوری حواس میں منتقل ہو جاتے ہیں تو آدمی سو جاتا ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو ہر ذی روح میں جاری ہے خواہ وہ کسی نوع سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اس کو اپنی صفات کا علم عطا فرمایا ہے جو دوسری مخلوقات کو عطا نہیں کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم سب کا سب غیبی انکشافات ہیں۔ اور یہ وہی صلاحیتیں ہیں جن کو ’’علم الاسماء‘‘ کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ بندہ غیب کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی صناعی کا مشاہدہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا عرفان حاصل کرے۔ اس لئے یہ ضروری ہو گیا کہ بندے کے اندر وہ صلاحیتیں بھی موجود ہوں۔ جن کو بروئے کار لا کر وہ اللہ تعالیٰ کے منشاء کو پورا کر سکے۔ یہ منشاء آزاد زندگی میں داخل ہو کر پورا ہو سکتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ غیب کی دنیا میں ٹائم اور اسپیس نہیں ہوتا۔
جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ انسان کے حواس پابند زندگی میں بھی سفر کرتے ہیں اور پابند زندگی سے آزاد ہو کر بھی۔ پابند زندگی بیداری ہوتی ہے اور آزاد زندگی خواب ہے۔ خواب کی زندگی میں داخل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بیداری کے حواس بھی قائم رہیں اور آدمی جس طرح بیدار رہ کر ارد گرد کے ماحول سے متصل رہتا ہے اسی اتّصال کے ساتھ آزاد زندگی میں بھی سفر کرے۔ اس بات کو آسان الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ مراقبہ دراصل بیداری کے حواس میں رہتے ہوئے خواب دیکھنا ہے۔ یعنی ایک آدمی بیدار ہے۔ شعوری حواس کام کر رہے ہیں۔ وہ ماحول اور فضا سے متاثر بھی ہو رہا ہے، آوازیں بھی سن رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ خواب بھی دیکھ رہا ہے۔ وہ بیک وقت دو کام کر رہا ہے۔ جاگ بھی رہا ہے ، سو بھی رہا ہے، ’’ٹائم اسپیس‘‘ میں بند بھی ہے اور آزاد بھی ہے۔
اس بات کو ایک مثال سے سمجھئے۔ ایک آدمی کسی دوست کو خط لکھ رہا ہے۔ خط لکھنے میں اس کا دماغ بھی کام کر رہا ہے۔ اس کا ہاتھ بھی چل رہا ہے۔ ماحول میں پھیلی ہوئی آوازیں بھی سن رہا ہے، کوئی بولتا ہے تو اس کی بات کا مفہوم بھی اس کے ذہن میں منتقل ہوتا ہے۔ کوئی شخص اس سے سوال کرتا ہے تو اس کا جواب بھی دیتا ہے۔ فضا میں خنکی ہے تو سردی محسوس کر رہا ہے، گرمی ہے تو گرمی کا احساس بھی اُسے ہو رہا ہے۔ بنیادی طور پر وہ خط لکھ رہا ہے اور خط لکھنے میں شعوری کیفیت الفاظ کی شکل میں منتقل ہو رہی ہے اور الفاظ کے اندر جو مفہوم ہے وہ لاشعور سے شعور میں منتقل ہو رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی بیک وقت اپنے اندر چھپی ہوئی کئی صلاحیتوں کو استعمال کر رہا ہے۔ جب کوئی بندہ بیداری میں رہتے ہوئے خواب کے حواس کو اپنے اوپر وارد کر لیتا ہے تو جس طرح خط لکھنے کی حالت میں وہ بہت سے صلاحیتیں ایک ساتھ استعمال کر رہا تھا اسی طرح وہ خواب یا لاشعوری زندگی میں بھی بیداری اور خواب کی صلاحیتوں سے ایک ساتھ متعارف ہو کر ان کا استعمال کر سکتا ہے۔
شعوری اور لاشعوری صلاحیتوں سے ایک ساتھ کام لینے کے طریقے کا نام مراقبہ ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 50 تا 52

روح کی پکار کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - زمان و مکان کیا ہے؟  ِ 3 - لوحِ محفوظ  ِ 4 - خالقِ خدا  ِ 5 - اللہ تعالیٰ نظر کیوں نہیں آتے؟  ِ 6 - اللہ تعالیٰ کی امانت کے حصول کے بعد ظالم اور جاہل کیسے؟  ِ 7 - کونسی طرزِ فکر اللہ کے قریب کرتی ہے؟  ِ 8 - روحانی طرزِ فکر کا تجزیہ  ِ 9 - روحانیت میں سب سے پہلے کیا ضروری ہے؟  ِ 10 - طرزِ فکر کی منتقلی کس قانون سے ہوتی ہے؟  ِ 11 - زمان (Time) کی حدود  ِ 12 - نفس کیا ہے؟  ِ 13 - درست طرزِ فکر کونسی ہے؟  ِ 14 - مرشد کو ظاہری آنکھ سے نہ دیکھا ہو  ِ 15 - کیا مراقبہ خواب کا تسلسل ہے؟  ِ 16 - اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب  ِ 17 - اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہیں  ِ 18 - اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہیں  ِ 19 - اللہ تعالیٰ کے علم کا عکس  ِ 20 - کائنات کے تخلیقی خدوخال  ِ 21 - کسی چیز کو سمجھنے کے لئے بنیادی عمل نظر ہے  ِ 22 - اللہ تعالیٰ کی صفات  ِ 23 - علم استدراج اور علم نوری میں فرق  ِ 24 - روحانی تصرّف کیا ہے؟  ِ 25 - اختیاری اور غیر اختیاری طرزِ فکر  ِ 26 - بخیلی اور سخاوت  ِ 27 - زندگی کی بنیاد  ِ 28 - حقیقت مُطلَقہ کیا ہے؟  ِ 29 - یقین کے کیا عوامل ہیں؟  ِ 30 - کیا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان سب مسخر کر دیا؟  ِ 31 - شُہود کی قسمیں  ِ 32 - سائنسی ایجادات  ِ 33 - علم کی حیثیت  ِ 34 - کیا قرآنی آیات پڑھنی چاہئیں؟  ِ 35 - تعویذ کے اندر کونسی طاقت ہے؟  ِ 36 - فِقہی علم کیا ہے؟  ِ 37 - سلطان کیا ہے؟  ِ 38 - مٹھاس یا نمک  ِ 39 - خیالی اور حقیقی خواب  ِ 40 - دعا آسمان سے کیوں پھینکی جاتی ہے؟  ِ 41 - مرشد کس طرح فیض منتقل کرتا ہے؟  ِ 42 - کتنی نیند کرنی چاہئے؟  ِ 43 - کیا رنگین روشنیاں غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں؟  ِ 44 - طریقت اور شریعت  ِ 45 - روح کا عرفان  ِ 46 - عام آدمی اور مؤمن میں فرق  ِ 47 - حساب کتاب کیا ہوتا ہے؟  ِ 48 - استغنائی طرزِ فکر  ِ 49 - خود ترغیبی کیا ہے؟  ِ 50 - کیفیت اور خیال میں فرق  ِ 51 - حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد  ِ 52 - تدلّیٰ اور علم الاسماء  ِ 53 - ارتقائی منازل  ِ 54 - نورِ باطن  ِ 55 - ذہن بیمار یا جسم بیمار  ِ 56 - روح کہاں جاتی ہے؟  ِ 57 - علم الغیب کیا ہے؟  ِ 58 - اللہ کا پسندیدہ بندہ  ِ 59 - فنا و بقا کیا ہے؟  ِ 60 - رنج و غم کیوں جمع ہوتے ہیں؟  ِ 61 - وَحدت الوجود اور وَحدت الشُہود  ِ 62 - دماغ میں دو کھرب خانے  ِ 63 - قلم خشک ہو گیا  ِ 64 - ترقی کا فسوں  ِ 65 - کون سا رنگ کون سا پتھر؟  ِ 66 - نماز میں حضورِقلب پیدا ہو  ِ 67 - روحانی تفسیر  ِ 68 - روح سے وُقوف حاصل کرنا  ِ 69 - نظر کا قانون  ِ 70 - زمان و مکان (Time And Space)  ِ 71 - شجرِ ممنوعہ کیا ہے؟  ِ 72 - کائنات کا بنیادی مسالہ  ِ 73 - اِرتکازِ توجّہ  ِ 74 - جسم میں لطیفے  ِ 75 - مادری زبان میں خیالات  ِ 76 - تصوّرِ شیخ  ِ 77 - کشش کیوں ہوتی ہے؟  ِ 78 - معجزہ، کرامت، اِستدراج کیا ہے؟  ِ 79 - قوّت ارادی کیا ہے؟  ِ 80 - تخلیقی اختیارات  ِ 81 - بغیر استاد کیا نقصان ہوتا ہے؟  ِ 82 - سورج بینی کا کیا فائدہ ہے؟  ِ 83 - رَحمۃَ لِّلعالمین  ِ 84 - وہاں کی زبان کو سمجھنا  ِ 85 - مراقبہ کا حکم  ِ 86 - انسانی کوشش کا عمل دخل  ِ 87 - اسفل زندگی سے نکلنا  ِ 88 - اسمِ اعظم کیا ہے؟  ِ 89 - ہر شئے دو رخوں پر ہے  ِ 90 - مؤکل کیا ہوتے ہیں؟  ِ 91 - مذہب کی حقیقت کیا ہے؟  ِ 92 - حواس کہاں سے آتے ہیں؟  ِ 93 - شرحِ صدر کیا ہے؟  ِ 94 - تفکر کی صلاحیت  ِ 95 - عشاء کا وقت افضل کیوں ہے؟  ِ 96 - سعید روح اور شَقی روح کیا ہے؟  ِ 97 - حافظے کی سطح  ِ 98 - حسبِ خواہش نتیجہ نہ ملنا  ِ 99 - نیگیٹیو بینی کیا ہے؟  ِ 100 - اس کتاب میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے  ِ 101 - یاحي یاقیوم کا کیا مطلب ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message