چھ نقطے

کتاب : آگہی

مصنف : خواجہ شمس الدۤین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=11514

روحانی علوم میں یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ نوع انسانی کی بنیاد پر ایک نفس پر قائم ہے جس کو ہم ایک نقطہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس نقطہ کے چھ رخ ہیں۔ ان کو چھ دائرے بھی کہا جا سکتا ہے۔

دائرہ نمبرایک:جب لہریں ٹوٹ کر بکھرتی ہیں تو واہمہ تخلیق پاتا ہے جب یہی لہریں نمبر ۲ دائرہ میں داخل ہوتی ہیں تو خیال بن جاتا ہے۔ خیال کی روشنیاں جب دائرہ نمبر۳ میں داخل ہوتی ہیں تو تصور بن جاتا ہے اور تصور دائرہ نمبر۴ میں نزول کرتا ہے تو احساس بن جاتا ہے اور جب احساس کی لہریں دائرہ نمبر۵ میں داخل ہوتی ہیں تو مظاہراتی خدوخال کا روپ دھار لیتی ہیں۔

دائرہ نمبر۶ مظاہراتی خدوخال کا یہ روپ جب حرکت میں آتا ہے تو ہم احساس کے اس مرحلے میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں ہم کسی چیز کو پہچان کر اس کا نام رکھ دیتے ہیں۔

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی ’’بنیاد‘‘ پر قائم ہے تو یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ انسان کی زندگی میں کام کرنے والے عوامل بھی کسی نہ کسی بنیاد پر قائم ہیں۔ الجھن، اضطراب، پریشانی، بیماری، غم کی بھی ایک بنیاد ہے۔ اسی طرح سکون، راحت، آرام، صحت بھی اسی اصول پر قائم ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’ہم نے اپنی امانت سماوات اور ارض اور پہاڑ کو پیش کی انہوں نے کہا ہم اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ اس امانت کو قبول کر لیں۔ (ہم نے اگر قبول کر لیا تو ہم ریزہ ریزہ ہو جائیں گے) انسان نے اس امانت کو اٹھا لیا بے شک وہ ظالم اور جاہل ہے۔‘‘
(سورۃ الاحزاب۔ آیت ۷۲)

آیت مقدسہ پر غور کرنے کے بعد یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ سماوات، ارض اور پہاڑ بھی شعور رکھتے ہیں۔ کیونکہ کسی چیز کے اقرار یا انکار میں شعور کی کارفرمائی لازمی ہے۔ اس قانون کے تحت زمین بھی باشعور ہے۔ لہٰذا زمین کی کوکھ سے جنم لینے والی ہر چیز باشعور ہے۔ غم، خوشی، سکون، راحت و آرام، اضطراب، الجھن، پریشانی، دماغی کشمکش، اعصابی کشاکش بھی کسی بنیاد پر قائم ہیں۔
چونکہ زمین کی فضا (Atmosphere) سے تعلق رکھتی ہے اس لئے یہ سب چیزیں بھی شعور کے دائرے میں مقید ہیں۔
دائرہ نمبر۵ اور دائرہ نمبر۶ میں اگر لہروں کا توازن برقرار نہ رہے تو سکون کی جگہ اضطراب، خوشی کی جگہ غم، صحت کی بجائے بیماریاں وجود میں آ جاتی ہیں۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے ہم جو کچھ بھی دیکھ رہے ہیں وہ باہر نہیں دیکھ رہے ہیں۔ ہر شئے کا مظہر ہمارے اندر ہے ہم سمجھتے یہ ہیں کہ ہم جو کچھ دیکھتے ہیں ہمارے سامنے ہے۔ حالانکہ کسی شئے کا خارج میں موجود ہونا کافی نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم ہر چیز کا مشاہدہ اپنے اندر کرتے ہیں اور یہ سب کا سب ہمارا علم ہے۔ وہ علم جو ہمارے اندر کام کرنے والے چھ دائروں سے گزر کر ہمیں اطلاع بخشتا ہے اگر ہمیں کسی شئے کا علم حاصل نہ ہو تو ہم اس چیز کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے یا اس کا ادراک نہیں کر سکتے۔

علم لہر یا شعاع سے باخبر انسان یہ بات سمجھنے پر قدرت حاصل کر لیتا ہے کہ لہروں میں کیا تغیر واقع ہو گیا ہے جس کی وجہ سے اضطراب یا کوئی بیماری انسان کے اوپر مسلط ہو گئی ہے۔ علاج کے مختلف طریقے رائج ہیں۔

معالج اس حقیقت کو سمجھتے ہوں یا ان کی نظر اس طرف نہ گئی ہو لیکن یہ مسلمہ امر ہے کہ وہ ہی دوائیں آرام پہنچاتی ہیں جو لہروں کے نظام میں معاون ہوں۔

اگر کسی مریض کو ایسی دوائیں دی جائیں جو اس کی کٹی ہوئی بکھری ہوئی ٹوٹی ہوئی متحرک لہروں کے توازن کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوں تو مریض شفا حاصل کر لیتا ہے بصورت دیگر مریض صحت یاب نہیں ہوتا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 150 تا 153

آگہی کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ 1 - روحانی اسکول میں تربیت  ِ 2 - با اختیار بے اختیار زندگی  ِ 3 - تین سال کا بچہ  ِ 4 - مرید کی تربیت  ِ 5 - دس سال۔۔۔؟  ِ 6 - قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ  ِ 7 - موت حفاظت کرتی ہے  ِ 8 - باہر نہیں ہم اندر دیکھتے ہیں  ِ 9 - اطلاع کہاں سے آتی ہے؟  ِ 10 - نیند اور شعور  ِ 11 - قانون  ِ 12 - لازمانیت اور زمانیت  ِ 13 - مثال  ِ 14 - وقت۔۔۔؟  ِ 15 - زمین پر پہلا انسان  ِ 16 - خالق اور مخلوق  ِ 17 - مٹی خلاء ہے۔۔۔  ِ 18 - عورت کے دو رُخ  ِ 19 - قانون  ِ 20 - ہابیل و قابیل  ِ 21 - آگ اور قربانی  ِ 22 - آدم زاد کی پہلی موت  ِ 23 - روشنی اور جسم  ِ 24 - مشاہداتی نظر  ِ 25 - نیند اور بیداری  ِ 26 - جسمِ مثالی  ِ 27 - گیارہ ہزار صلاحیتیں  ِ 28 - خواتین اور فرشتے  ِ 29 - روح کا لباس؟  ِ 30 - ملت حنیف  ِ 31 - بڑی بیگمؓ، چھوٹی بیگمؓ  ِ 32 - زم زم  ِ 33 - خواتین کے فرائض  ِ 34 - تیس سال پہلے  ِ 36 - کہکشانی نظام  ِ 37 - پانچ حواس  ِ 38 - قانون  ِ 39 - قدرِ مشترک  ِ 40 - قانون  ِ 41 - پچاس سال  ِ 42 - زندگی کا فلسفہ  ِ 43 - انسانی مشین  ِ 44 - راضی برضا  ِ 45 - زمانے کو بُرا نہ کہو، زمانہ اللہ تعالیٰ ہے(حدیث)  ِ 46 - مثال  ِ 47 - سائنس اور روحانیت  ِ 48 - مادی دنیا اور ماورائی دنیا  ِ 49 - چاند گاڑی  ِ 50 - تین ارب سال  ِ 51 - کائناتی نظام  ِ 52 - تخلیق کا قانون  ِ 53 - تکوین  ِ 54 - دو علوم۔۔۔  ِ 55 - قانون  ِ 56 - ذات کا عرفان  ِ 57 - روحانی شاگرد  ِ 58 - ذات کی نفی  ِ 59 - پانچ کھرب بائیس کروڑ!  ِ 60 - زندگی کا تجزیہ  ِ 61 - عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ  ِ 62 - دین فطرت  ِ 63 - عید  ِ 64 - ملائکہ اعلان کرتے ہیں  ِ 65 - بچے اور رسول اللہﷺ  ِ 66 - افکار کی دنیا  ِ 67 - مثال  ِ 68 - تحقیق و تلاش  ِ 69 - Kirlian Photography  ِ 70 - قرآن علوم کا سرچشمہ ہے  ِ 71 - روشنی سے علاج  ِ 72 - روشنی کا عمل  ِ 73 - چھ نقطے  ِ 74 - قانون  ِ 75 - امراض کا روحانی علاج  ِ 76 - مشق کا طریقہ  ِ 77 - نور کا دریا  ِ 78 - ہر مخلوق عقل مند ہے  ِ 79 - موازنہ  ِ 80 - حضرت جبرائیل ؑ  ِ 81 - ڈائری  ِ 82 - ماں کی محبت  ِ 83 - حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانیؒ  ِ 84 - اکیڈمی میں ورکشاپ  ِ 85 - زمین اور آسمان  ِ 86 - ورد اور وظائف  ِ 87 - آواز روشنی ہے  ِ 88 - مثال  ِ 89 - نگینوں سے علاج  ِ 90 - تقدیر کیا ہے؟  ِ 91 - مثال  ِ 92 - حضرت علیؓ کا ارشاد  ِ 93 - فرشتے، جنات اور آدم ؑ  ِ 94 - انسان اور موالید ثلاثہ  ِ 95 - سلطان  ِ 96 - مثال  ِ 97 - دو رخ  ِ 98 - سیاہ نقطہ  ِ 99 - قانون  ِ 100 - کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالی۔۔۔  ِ 101 - تین کمزوریاں  ِ 102 - عفو و درگذر  ِ 103 - عام معافی  ِ 104 - توازن  ِ 105 - شکر کیا ہے؟  ِ 106 - قافلہ سالار  ِ 107 - ٹیم ورک  ِ 108 - سلسلہ عظیمیہ کے ارکان کی ذمہ داری  ِ 109 - چھوٹوں کی اصلاح  ِ 110 - ایک نصیحت  ِ 111 - صبحِ بہاراں  ِ 112 - دنیا مسافر خانہ ہے  ِ 113 - روح کیا ہے؟  ِ 114 - سانس کی مشقیں  ِ 115 - من کی دنیا  ِ 116 - بے سکونی کیوں ہے؟  ِ 117 - غور و فکر  ِ 118 - روحانی علوم  ِ 119 - ہمارے بچے  ِ 120 - اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں  ِ 121 - اللہ ھُو  ِ 122 - اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگو  ِ 123 - قربت  ِ 124 - ہر مخلوق باشعور ہے  ِ 125 - کامیاب زندگی  ِ 126 - انا کی لہریں  ِ 127 - صدقۂ جاریہ  ِ 128 - ادراک یا حواس
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message