چھپا ہوا خزانہ

کتاب : قلندر شعور

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=9309

آسمانی صَحائِف کے نقطۂِ نظر سے تخلیقِ کائنات پر تفکر کرتے ہیں تو ہمیں اس بات علم ہو جاتا ہے کہ ہم مخلوق ہیں، اللہ ہمارا خالق ہے۔ خالق نے جب چاہا ’’کُن‘‘ فرما کر کائنات کو بنا دیا۔
سوال یہ ہے کہ خالق نے کیوں چاہا؟ اور
خالق نے جو چاہا وہ پہلے سے مَوجود تھا یا نہیں؟
اگر خالق کا چاہنا مَوجود تھا تو وہ کہاں تھا؟ اور
خالق نے کائنات کیوں بنائی؟
اس کے بارے میں خالق خود کہتا ہے:
’’مَیں چھپا ہوا خزانہ تھا، مَیں نے مخلوق کو محبّت کے ساتھ اس لئے پیدا کیا کہ میں پہچانا جاؤں‘‘۔
مخلوق جو کچھ اور جس طرح مَوجود ہے اس کی مَوجودگی کے بارے میں بھی خالق خود بتاتا ہے کہ:
’’مَیں نے مخلوق کو اپنی صِفات پر پیدا کیا‘‘۔
یہ بات سب جانتے ہیں کہ ذات کو صِفات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ صِفات ذات کے اندر مَوجود ہوتی ہیں اور صِفات سے ہی ذات کا تعارف ہوتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 99 تا 99

قلندر شعور کے مضامین :

ِ 0.01 - رباعی  ِ 0.02 - بِسمِ اللہِ الرّحمٰنِ الرّحِیم  ِ 1 - معرفت کی مشعل  ِ 2 - قلندر کا مقام  ِ 3 - جسم اور روح  ِ 4 - جیتی جاگتی تصویر  ِ 5 - ذات کا مطالعہ  ِ 6 - تخلیقی سانچے  ِ 7 - جنسی کشش کا قانون  ِ 8 - ظاہر اور باطن  ِ 9 - نَوعی اِشتراک  ِ 10 - زمین دوز چوہے  ِ 11 - طاقت ور حِسّیات  ِ 12 - سُراغ رساں کتے  ِ 13 - اَنڈوں کی تقسیم  ِ 14 - بجلی کی دریافت سے پہلے  ِ 15 - بارش کی آواز  ِ 16 - منافق لومڑی  ِ 17 - کیلے کے باغات  ِ 18 - ایک ترکیب  ِ 19 - شیر کی عقیدت  ِ 20 - اَنا کی لہریں  ِ 21 - خاموش گفتگو  ِ 22 - ایک لا شعور  ِ 23 - مثالی معاشرہ  ِ 24 - شہد کیسے بنتا ہے؟  ِ 25 - فہم و فراست  ِ 26 - عقل مند چیونٹی  ِ 27 - فرماں رَوا چیونٹی  ِ 28 - شہد بھری چیونٹیاں  ِ 29 - باغبان چیونٹیاں  ِ 30 - مزدور چیونٹیاں  ِ 31 - انجینئر چیونٹیاں  ِ 32 - درزی چیونٹیاں  ِ 33 - سائنس دان چیونٹیاں  ِ 34 - ٹائم اسپیس سے آزاد چیونٹی  ِ 35 - قاصد پرندہ  ِ 36 - لہروں پر سفر  ِ 37 - ایجادات کا قانون  ِ 38 - اللہ کی سنّت  ِ 39 - لازمانیت (Timelessness)  ِ 40 - جِبِلّی اور فِطری تقاضے  ِ 41 - إستغناء  ِ 42 - کائناتی فلم  ِ 43 - ظرف اور مقدّر  ِ 44 - سات چور  ِ 45 - ٹوکری میں حلوہ  ِ 46 - اسباق کی دستاویز  ِ 47 - قومی اور اِنفرادی زندگی  ِ 48 - انبیاء کی طرزِ فکر  ِ 49 - اللہ کی عادت  ِ 50 - عمل اور نیّت  ِ 51 - زمین کے اندر بیج کی نشوونما  ِ 52 - اللہ کی ذَیلی تخلیق  ِ 53 - صحیح تعریف  ِ 54 - کائنات کی رکنیت  ِ 55 - جنّت دوزخ  ِ 56 - توکّل اور بھروسہ  ِ 57 - قلندر شعور اسکول  ِ 58 - سونا کھاؤ  ِ 59 - آٹومیٹک مشین  ِ 60 - انسان، وقت اور کھلونا  ِ 61 - آسمان سے نوٹ گرا  ِ 62 - ساٹھ روپے  ِ 63 - گاؤں میں مرغ پلاؤ  ِ 64 - مچھلی مل جائے گی؟  ِ 65 - پرندوں کا رزق  ِ 66 - درخت اور گھاس  ِ 67 - مزدور برادری  ِ 68 - آدم و حوّا کی تخلیق  ِ 69 - لہروں کا نظام  ِ 70 - رنگوں کی دنیا  ِ 71 - روشنیوں کے چھ قمقمے  ِ 72 - ترکِ دنیا کیا ہے  ِ 73 - زمان و مکان  ِ 74 - خواب اور مراقبہ  ِ 75 - مراقبہ کی قسمیں  ِ 76 - زندگی ایک اطلاع ہے  ِ 77 - مراقبہ کی چار کلاسیں  ِ 78 - پیدا ہونے سے پہلے کی زندگی  ِ 79 - چھپا ہوا خزانہ  ِ 80 - لوحِ محفوظ  ِ 81 - اللہ کی تجلّی  ِ 82 - کائنات پر حکمرانی  ِ 83 - روشنی کی چار نہریں  ِ 84 - نیابت اور خلافت  ِ 85 - آدم اور ملائکہ  ِ 86 - دوربین آنکھ  ِ 87 - گوشت پوست کا وجود  ِ 88 - اللہ میاں کی جیل  ِ 89 - روحانی بغدادی قاعدہ  ِ 90 - روح اور کمپیوٹر  ِ 91 - سائنس اور خرقِ عادات  ِ 92 - قانون  ِ 93 - معاشرہ اور عقیدہ  ِ 94 - دماغی خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ  ِ 95 - مذہب  ِ 96 - سائنسی نظریہ  ِ 97 - تخلیقی فارمولے  ِ 98 - رنگوں کی تعداد گیارہ ہزار ہے  ِ 99 - آدمی کے اندر بجلی کا بہاؤ  ِ 100 - وقت کی نفی  ِ 101 - آکسیجن اور جسمانی نظام  ِ 102 - دو سَو سال کی نیند  ِ 103 - سانس کے دو رُخ  ِ 104 - توانائی اور روح  ِ 105 - زندگی میں سانس کا عمل دخل  ِ 106 - رو شنیوں سے تیار کئے ہو ئے کھانے  ِ 107 - روشنیوں کے گودام  ِ 108 - رنگین شعاعیں  ِ 109 - کرنوں میں حلقے  ِ 110 - برقی رَو کیمرہ  ِ 111 - اَعصابی نظام  ِ 112 - مراقبہ
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)