پیر صاحب

کتاب : روحانی ڈاک (جلد اوّل)

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=24398

سوال: ہم بہت زیادہ پریشان ہیں اور پریشانی کا سبب ایک پیر صاحب ہیں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ آج سے تین روز قبل ایک پیر صاحب ہمارے گھر میں وارد ہوئے۔ انہوں نے آتے ہی اپنا تعارف کچھ یوں کرایا کہ ملتان میں مقیم تمہارے بھائی صاحب کا میں پیر ہوں اور انہوں نے مجھ سے درخواست کی ہے کہ میں کراچی میں آپ لوگوں سے ملوں تا کہ آپ کی پریشانیوں کا تدارک کر سکوں۔ ہم نے انہیں اند ربلا لیا۔ گھر پر اس وقت والد صاحب اور دیگر تمام اہل خانہ موجود تھے۔ صبح کا وقت تھا۔ ان بزرگ کے ساتھ دو لڑکے بھی ملتان سے آئے تھے۔ لڑکوں میں سے ایک نے کہا کہ ہمارے پیر صاحب کا طریقہ کشف کچھ مختلف ہے۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے سامان کی اچھی خاصی فہرست مرتب کی اور کہا کہ بازار سے سامان خرید کر لایا جائے۔ اس سامان میں سات گز لٹھا۔ ایک سٹیل کی نئی بڑی بالٹی۔ ایک نیا پلنگ ،چراغ کے لئے آٹھ عدد مٹی کے کوزے اور کیلیں تھیں۔ اچھی خاصی رقم خرچ کر کے یہ چیزیں فراہم کر دی گئیں۔ کمرے میں نئے پلنگ پر بستر لگایا۔ پیر صاحب اس پر بیٹھ گئے اور کچھ پڑھنا شروع کیا۔ پڑھتے ہی وہ بستر پر گر گئے ہم پریشان ہو گئے کہ خدانخواستہ ان کی روح نہ پرواز کر گئی ہو لیکن ان کے چیلے نے کہا، سب خیریت ہے دراصل اب ان کے اندر ایک بزرگ حلول کر گئے ہیں۔ آپ جس قسم کا سوال ان سے پوچھنا چاہتے ہیں پوچھیں، یہ جواب دینگے۔ یہ سن کر والد صاحب نے ان سے دریافت فرمایا کہ میری پریشانی کا سبب کیا ہے، سکون قلب کیوں حاصل نہیں ہوتا۔ آپ اس کا تدارک بھی فرمایئے۔ جواباً بزرگ نے ارشاد فرمایا کہ تم سے بچپن میں کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے۔ جس کی سزا اللہ کی جانب سے تمہیں اب تک مل رہی ہے۔ تدارک کے بارے میں فرمایا کہ آپ ایک عدد کالا بکرا گھر میں لا کر صدقہ کریں اور اس کا خون گھر کے چاروں کونوں میں ڈال دیں۔ پھر والدہ نے دریافت کیا کہ میرا بیٹا گزشتہ چار سال سے سعودی عرب میں ہے وہ کراچی اب تک ملنے نہیں آیا کیا وجہ ہے؟ ان بزرگ کے اندر موجود دوسری روح نے کہنا شروع کیا کہ تمہارا بیٹا کراچی نہیں آئے گا وہ چاہتا ہے کہ وہاں پیسہ کمائے اور خوب پیسہ کما کر آپ کو بھیجے لیکن وہ اس کوشش میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکا۔ الغرض بہت سے سوالات ہوئے بہت سے جوابات موصول ہوئے لیکن وہ جواب قطعی نہ تھے بلکہ ایسے تھے کہ کوئی بھی ایسے جوابات دے سکتا تھا پھر ہماری باجی کی شامت آئی۔ انہیں قریب بلا لیا اور سر کے بال نوچنے شروع کئے۔ ہم حیرت سے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے چند بال باجی کے سر سے اکھاڑے اور ایک کاغذ میں لپیٹ دیئے اور باجی سے کہا کہ باہر گلی میں جا کر اپنے پاؤں کی مٹی لے آؤ۔ چنانچہ باجی نے ان کے حکم کی تعمیل کی اور مٹی لا کر ان کے سامنے حاضر کر دی۔ انہوں نے اس مٹی کو بالوں والی پڑیاں میں ڈالا اور کچھ پڑھا اور باجی کے حوالے کر دیا اور کہا جب بھی کوئی مصیبت درپیش ہو۔ ہوامیں اچھال دینا، مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ملتان سے آئے ہوئے ماڈرن بزرگ کی دوپہر کے کھانے پر خوب خاطر مدارت کی گئی۔ کھانے سے فارغ ہو کر انہوں نے تعویذ لکھنا شروع کئے جب وہ لکھ رہے تھے تو امی نے ان سے پوچھا آپ کا ہدیہ کیا ہے۔ اس پر وہ مسکرائے اور فرمایا کہ تمہارا بھائی میرا مرید ہے اس لئے تمہارے لئے کوئی ہدیہ نہیں۔ امی مطمئن ہو گئیں۔ اب سٹیل کی نئی بالٹی میں انہوں نے پانی منگوایا اور ایک تعویذ لکھ کر پانی میں گھول دیا کچھ پڑھا پھونکا، دیواروں پر پانی کے چھینٹے مارے اور بقیہ پانی کو ابا کے اوپر انڈیل دیا۔ ہمیں ہنسی بہت آئی لیکن ڈر کی وجہ سے خاموش رہے۔ ایک تعویذ انہوں نے اپنے پاس موجود ہرن کی کھال پر تحریر کیا اور وہ بھی ہمیں دے دیا۔ تعویذوں سے فارغ ہو کر مٹی کے کوزے کی جانب متوجہ ہوئے۔ چار کوزوں پر مختلف عملیات تحریر کئے، آپس میں آٹے سے انہیں جوڑ دیا اور بھائی جان سے کہا کہ صحن میں چار گڑھے کھود کے پلاسٹک کی تھیلی میں رکھ کر دفن کردیں۔ حکم کی تعمیل ہوئی۔ اب کیلوں کی باری آئی ، کیلوں پر دم کرنے کے بعد انہیں بھی صحن میں ٹھونک دیا گیا۔ ان عملیات سے فارغ ہو کر پیر صاحب ہمارے بھائی جان کی جانب متوجہ ہوئے انہیں صحن میں لے گئے اور صحن میں کوئلے سے ایک بڑا سا دائرہ بنایا اور بھائی جان کو اس دائرے میں بٹھا کر دائرے میں چار چراغ روشن کر دیئے گئے۔ اب انہوں نے اس دائرے کے اطراف میں دوڑنا شروع کیا۔ ہم سب تماش بین بنے یہ سب دیکھتے رہے۔ ہاں ایک بات یہ کہ انہوں نے چراغ جلانے کے لئے بھائی جان کو لائے ہوئے لٹھے میں لپیٹ کر دائرے میں بٹھا دیا تھا۔ وہ دوڑتے رہے اور دوڑتے دوڑتے ڈنڈے کی مدد سے چراغ کو بجھاتے رہے۔ 15منٹ کے بعد یہ کھیل ختم ہو گیا۔ پیرصاحب ہانپتے ہوئے دوبارہ پلنگ پر آ بیٹھے۔ اور کہا اس لڑکے پر اثر ہے اور روزگار میں رکاوٹ ہے۔ میں نے روزگار کی رکاوٹ ختم کر دی ہے۔ پھر وہ دوبارہ بستر پر گرے ان کے چیلوں نے کہا اب ان پر ایک اور بزرگ کی حاضری ہوئی ہے۔ اور یہ بزرگ بدروح کا عمل جانتے ہیں۔ ان پیرصاحب نے کہنا شروع کیا کہ تمہارے گھر میں بدروح کا سایہ ہے۔ اور اسی طرح انہوں نے روحوں کی داستان سنا ڈالی۔

رات کافی ہو چکی تھی۔ ان تمام عملیات کے دوران(یعنی صبح نو بجے سے رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے تک) انہوں نے دوپہر کا کھانا، شام کی چائے، رات کا کھانا اور پھل وغیرہ نوش جان کئے۔ رات کافی ہونے کی وجہ سے انہوں نے کہا کہ ہم رات یہیں قیام کریں گے۔ ہم بہت پریشان ہوئے کیونکہ ہمارا گھر دو کمروں پر مشتمل چھوٹا سا گھر ہے۔ الغرض والد صاحب نے حیل و حجت سے کام لیا۔ وہ جانے پر راضی ہو گئے لیکن انہوں نے فرمایا کہ ملتان میں میری فیس دس ہزار روپے ہے۔ یہ سن کر والد صاحب پر تقریباً سکتے کی سی کیفیت طاری ہو گئی۔ ہماری بڑی درخواستوں پر وہ دس ہزار سے دو ہزار روپے پر اصرار کرنے لگے۔ امی نے دبے لفظوں میں دو سو روپے دینے کی پیشکش کی۔ انہیں جلال آ گیا اور انہوں نے کہا دو ہزار روپے سے ایک پیسہ کم نہ ہو گا اور اگر رقم مجھے نہ ملی تو میں استدراجی عمل کے ذریعے آپ کے گھر کو تباہ کر دوں گا۔ الغرض بہت انگاروں میں لپٹی ہوئی دھمکیاں دیں۔ دھمکیاں دیتے ہوئے وہ اٹھے اور گھر کے دروازے سے باہر نکل گئے۔ ان کے جانے کے بعد ہم نے سکھ کا سانس لیا اور دس منٹ بعد وہ دوبارہ دروازے سے اندر داخل ہوئے اور امی سے کہا۔ اچھا آپ دو سو روپے ہی دیں اور دو سو روپے لے کر رفو چکر ہو گئے۔

براہ کرم آپ بتایئے کہ یہ سب ڈرامہ کس علم کی کڑی ہے۔ ان تعویذوں ، کیلوں اور چراغوں کا کیا کریں۔ ہمیں ڈر محسوس ہو رہا ہے۔ آیا وہ ہم سے انتقام تو نہیں لیں گے۔

جواب: اللہ کا شکر ادا کیجئے کہ بات دو سو روپے پر ختم ہو گئی۔ جس طرح نو سر باز لوگوں کو بے وقوف بنا کر روپے اینٹھ لیتے ہیں اسی طرح یہ پیرصاحب بھی اپنے عمل کے ذریعے ہاتھ کی صفائی دکھا گئے ہیں۔ جو تعویذ انہوں نے دیئے ہیں وہ سب بے اثر ہیں۔ ان کو جمع کر کے بہتے ہوئے پانی میں ڈال دیں اور بالکل پریشان نہ ہوں۔ انشاء اللہ آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔ آج کل عامل حضرات نے ایک وبا کی صورت اختیار کر لی ہے جگہ جگہ دیواروں پر اشتہار اور نہایت خوبصورت دفاتر اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ بے چارے سیدھے سادے لوگ ان کے فریب میں آ کر خون پسینے کی کمائی برباد کر دیتے ہیں۔ دولت پرستی اللہ کے اوپر عقیدہ کی طاقت کو کمزور کر دیتی ہے اور جب آدمی کے اندر عقیدہ کی طاقت کمزور ہو جاتی ہے تو آدمی سہارے تلاش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ چالاک لوگ نئے نئے روپ میں اللہ کی مخلوق کو بے وقوف بنا کر عیش کرتے ہیں۔ یہ بات یاد رکھیئے کہ اگر کسی آدمی میں دنیا کا لالچ ہے تو وہ ہرگز روحانی آدمی نہیں ہو سکتا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 85 تا 89

روحانی ڈاک (جلد اوّل) کے مضامین :

ِ انتساب  ِ ترتیب و پیشکش  ِ 1 - اولاد نہیں ہوتی  ِ 2 - الرجی کا علاج  ِ 3 - ایک سو پچاس چھینکیں  ِ 4 - اداسی  ِ 5 - انگلیاں کشش کا ذریعہ  ِ 6 - اولاد نرینہ  ِ 7 - اولاد نہیں ہوئی  ِ 8 - اندرونی بخار  ِ 9 - احساس کمتری  ِ 10 - استغناء اور کیلوریز  ِ 11 - انسانی وولٹیج  ِ 12 - ایک لاکھ خواہشات  ِ 13 - ایب نارمل زندگی  ِ 14 - اجمیر شریف کی حاضری  ِ 15 - آوارہ لڑکا  ِ 16 - آنکھوں کے سامنے نقطے  ِ 17 - آنکھ میں آنسو  ِ 18 - آدھے جسم میں درد  ِ 19 - آسمان  ِ 20 - آنتیں  ِ 21 - آپریشن  ِ 22 - آٹھ علاج  ِ 23 - انا للہ و انا الیہ راجعون  ِ 24 - اسلامی لباس کا تصور  ِ 25 - آرزو  ِ 26 - اندھی محبت  ِ 27 - استخارہ  ِ 28 - ایک عجیب بیماری  ِ 29 - اجتماعی خود کشی  ِ 30 - اجتماعی سکون  ِ 31 - اُم الصبیان  ِ 32 - آوازیں آتی ہیں  ِ 33 - اندرونی مریض  ِ 34 - ایمان کی روشنی  ِ 35 - اقتدار کی جنگ  ِ 36 - اولاد  ِ 37 - برص کا علاج  ِ 38 - برے خیالات  ِ 39 - بجلی کے جھٹکے  ِ 40 - بیوہ عورت  ِ 41 - بچپن کا خواب  ِ 42 - بیٹی نہیں بیٹا  ِ 43 - بے وفا شوہر  ِ 44 - بہرے پن کا علاج  ِ 45 - بخار  ِ 46 - بچوں کی نفسیات  ِ 47 - بدعقیدہ  ِ 48 - بھوت  ِ 49 - بیہوشی  ِ 50 - بزدلی کی تصویر  ِ 51 - برقی رو کا ہجوم  ِ 52 - بارونق چہرہ  ِ 53 - بھینگا پن  ِ 54 - بڑا سر  ِ 55 - بسم اللہ کی زکوٰۃ  ِ 56 - بے جوڑ شادی  ِ 57 - بال خورے کا علاج  ِ 58 - پراگندہ ذہنی  ِ 59 - پریشانیوں کا حل  ِ 60 - پرانی پیچش  ِ 61 - پولیو کا علاج  ِ 62 - پڑھنے میں دل نہ لگنا  ِ 63 - پر اسرار بیماری  ِ 64 - پیٹ کی تکلیف  ِ 65 - پسینہ آنا  ِ 66 - پیدائشی دماغی معذور  ِ 67 - پسند کی شادی  ِ 68 - پیلیا  ِ 69 - پرانی پیچش  ِ 70 - پیر صاحب  ِ 71 - پیر وہ نہیں ہوتا جو مرید بنا دیتے ہیں  ِ 72 - پرابلم  ِ 73 - پرکشش چہرہ  ِ 74 - پیر سو جاتے ہیں  ِ 75 - پچہتر ہزار روپیہ  ِ 76 - ترقی نہیں ہوتی  ِ 77 - تقدیر  ِ 78 - تیسری آنکھ  ِ 79 - تصور شیخ  ِ 80 - تخلیقی فارمولے  ِ 81 - تنہائی کا احساس  ِ 82 - ٹائی فائیڈ کے اثرات  ِ 83 - ٹیڑھا منہ  ِ 84 - ٹانگیں کپکپاتی ہیں  ِ 85 - ٹیلی پیتھی  ِ 86 - ٹیوشن  ِ 87 - ٹانگیں کمزور ہیں  ِ 88 - ٹونسلز  ِ 89 - ٹرانس پیرنٹ  ِ 90 - جادو کا توڑ(۱)  ِ 91 - جوڑوں کادرد  ِ 92 - جسم میں کرنٹ لگنا  ِ 93 - جادو کا توڑ(۲)  ِ 94 - جسم چھوٹا سر بڑا  ِ 95 - جلد بازی  ِ 96 - جسم میں آگ  ِ 97 - جنسی مسائل  ِ 98 - جادو ختم کرنے کیلئے  ِ 99 - جگر کا متاثر ہونا  ِ 100 - جسم اچھل اچھل جاتا ہے  ِ 101 - جن  ِ 102 - جھنجلاہٹ کیسے دور ہو  ِ 103 - جہیز کا مسئلہ  ِ 104 - چوکور کاغذ  ِ 105 - چمگاڈر  ِ 106 - چاند گرہن  ِ 107 - چہرے پر دانے  ِ 108 - چہرے پر چھائیاں  ِ 109 - چھپکلی کا خوف  ِ 110 - چھوٹی بیگم  ِ 111 - چہرے پر بال  ِ 112 - حضرت خضرؑ سے ملاقات  ِ 113 - حسد کی عادت  ِ 114 - حروف مقطعات  ِ 115 - حالات کی ستم ظریفی  ِ 116 - حسد  ِ 117 - حسب منشاء شادی کیلئے  ِ 118 - حقیقت آگاہی  ِ 119 - خوف  ِ 120 - خود سے باتیں کرنا  ِ 121 - خون کی بوند  ِ 122 - خوفناک شکلیں نظر آتی ہیں  ِ 123 - خیالی پلاؤ  ِ 124 - خون میں کمزوری  ِ 125 - خود ترغیبی  ِ 126 - خود غرضی  ِ 127 - خون کی کلیاں(۱)  ِ 128 - خالہ کی روح  ِ 129 - خلفشار  ِ 130 - خون کی الٹیاں(۲)  ِ 131 - خشکی کا علاج  ِ 132 - خشک خارش  ِ 133 - خواب اور ہماری زندگی  ِ 134 - دماغی خلئے اور پیدائش  ِ 135 - دل میں سوراخ  ِ 136 - دنیا بیزاری  ِ 137 - دماغی امراض  ِ 138 - دماغ کے اوپر خول چڑھ گیا ہے  ِ 139 - دستخط کیجئے اور مسئلہ حل  ِ 140 - دوپٹہ میں جوئیں  ِ 141 - دل میں درد  ِ 142 - دمہ  ِ 143 - دریا اور سبزہ زار  ِ 144 - دواؤں کا ری ایکشن  ِ 145 - دوائیں  ِ 146 - دماغ کے اعصاب  ِ 147 - دانت پیسنا  ِ 148 - دوسری شادی  ِ 149 - دماغی توازن  ِ 150 - دکھی لڑکی  ِ 151 - درخت بولتے ہیں  ِ 152 - دھوکہ  ِ 153 - ڈراؤنے خواب  ِ 154 - ذہنی سکون  ِ 155 - ذہنی مریضہ  ِ 156 - ذہنی الجھنیں  ِ 157 - ذہنی مریض  ِ 158 - روح سے ملاقات  ِ 159 - رنگ و نور کا شہر  ِ 160 - روح کا الارم  ِ 161 - روحانی غذا  ِ 162 - رشتہ کی تلاش  ِ 163 - روشن مستقبل  ِ 164 - روح اور اسلام  ِ 165 - رات بھر روتی ہوں  ِ 166 - زنانی آواز  ِ 167 - زندگی کا ساتھی  ِ 168 - زبان ساتھ نہیں دیتی  ِ 169 - زبان کھل جائے گی  ِ 170 - سکون کی تلاش  ِ 171 - سر اور معدہ  ِ 172 - سوتے میں پیشاب نکل جاتا ہے  ِ 173 - سایہ  ِ 174 - سیپ کی پوٹلی  ِ 175 - سر کے بال گر رہے ہیں  ِ 176 - سانس کی بیماری  ِ 177 - سینے میں درد  ِ 178 - سانس رک جاتا ہے  ِ 179 - سانولا رنگ  ِ 180 - سردی میں پسینہ  ِ 181 - سوچ میں ڈوبے رہنا  ِ 182 - سیاہ رنگ چہرہ  ِ 183 - سائیکالوجی  ِ 184 - سیلاب اور سیمنٹ  ِ 185 - سکون  ِ 186 - سیرت طیبہؐ  ِ 187 - شادی کے مسائل  ِ 188 - شادی  ِ 189 - شوہر لندن میں ہیں  ِ 190 - شباب آمیز کہانیاں  ِ 191 - شوہر شکل نہیں دیکھتا  ِ 192 - شفا ء دینا اللہ کا کام ہے  ِ 193 - شیطانی وسوسے  ِ 194 - شادی اور شرم  ِ 195 - شوہر کا مزاج  ِ 196 - شوہر نے آنکھیں بدل لیں  ِ 197 - شکی شوہر  ِ 198 - شادی روکنے کیلئے  ِ 199 - شوہر کی محبت  ِ 200 - شریعت اور طریقت  ِ 201 - شجر ممنوعہ کی روحانی تفسیر  ِ 202 - شکوہ  ِ 203 - ضدی بچہ  ِ 204 - طلبہ متوجہ ہوں  ِ 205 - طلسمی سانپ  ِ 206 - عقیدہ کی خرابی  ِ 207 - عشق کا سمندر  ِ 208 - علوم اور صلاحیت  ِ 209 - علاج کی ضرورت نہیں ہے  ِ 210 - عملیات کا شوق  ِ 211 - غلطی کا اعتراف  ِ 212 - فریج میں رکھا ہوا کھانا  ِ 213 - فحش خیالات  ِ 214 - فالج  ِ 215 - قلب کی سیاہی  ِ 216 - قوت ارادی  ِ 217 - قبض اور گیس  ِ 218 - قرض  ِ 219 - کر بھلا ہو بھلا  ِ 220 - کنجوس سسرال  ِ 221 - کرایہ دار  ِ 222 - کلر تھراپی  ِ 223 - کشف القبور  ِ 224 - کثرت اولاد سے پریشانی  ِ 225 - کانوں میں سیٹیاں  ِ 226 - گھر کا فساد  ِ 227 - گوشت  ِ 228 - گردوں میں پتھری  ِ 229 - گیس کا مرض  ِ 230 - لانبے بال  ِ 231 - لکنت  ِ 232 - لنگڑی کا درد  ِ 233 - ملازمت میں ترقی  ِ 234 - مستقل خارش  ِ 235 - مالی پریشانیاں  ِ 236 - مردے نظر آنا  ِ 237 - موت کے خوف سے نجات  ِ 238 - مراقبہ کی شرائط  ِ 239 - مرض کا علاج شادی  ِ 240 - منگیتر کی نفرت  ِ 241 - موت کا خیال  ِ 242 - نیند میں جھٹکے لگنا  ِ 243 - نفسیاتی بیماری  ِ 244 - نماز پڑھنے کو دل نہیں چاہتا  ِ 245 - نعمت یا زحمت  ِ 246 - نیند نہیں آتی  ِ 247 - وظیفہ کی رجعت  ِ 248 - وٹّہ سٹّہ کی شادی  ِ 249 - ہرجائی شوہر  ِ 250 - ہڈیوں کی بیماری  ِ 251 - ہمزاد اور جنات  ِ 252 - ہاتھ لگائے کھجلی ہوتی ہے  ِ 253 - ہیروئن  ِ 254 - ہڈیوں کا پنجر  ِ 255 - ہمنوا دل  ِ 256 - ہونٹوں پر داغ  ِ 257 - یہ مست اور ملنگ بندے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message