پتے کیڑے بن گئے

کتاب : تذکرہ بابا تاج الدینؒ

مصنف : قلندر بابا اولیاءؒ

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=14815

شکردرہ میں نانا تاج الدینؒ ایک درخت کے نیچے بیٹھا کرتے تھے۔ گھنٹوں چپ رہتے، نگاہ نیچی کئے، گھٹنوں میں سر دیئے اسی طرح جیسے کوئی مراقبہ کرتاہو۔ لوگ ان کے ارد گرد جمع ہوجاتے۔ اور انتظار کرتے رہتے کہ وہ متوجہ ہوں۔ لیکن بعض دفعہ صبح سے شام ہوجاتی مگر ان کے سراپا میں کوئی حرکت نہ ہوتی۔ حاضرین بالآخر مایوس ہوکر واپس چلے جاتے ۔

نانا علیہ الرحمتہ کی اس بے خودی کو حیات خاں چائے کی پیالی دے کر یا دوپہر کا کھانا پیش کرکے دور کرنے کی کوشش کرتا۔ لیکن بارہا ناکام ہوکر بی مریم کے پاس پہنچ جاتا اوراپنے افسردہ لہجہ میں اپنی ناکامی کا تذکرہ کرتا۔ ’’باباصاحبؒ نے صبح سے چائے نہیں پی۔ میرا تو بس نہیں چلتا۔ اب تم ہی بتاؤمیں کیا کروں۔ معلوم نہیں کہ آج وہ کھانا بھی کھائیں گے یانہیں۔‘‘

اسکی بات سن کر بی مریم بھی دم بخود رہ جاتیں۔ دیر سوچتی رہتیں، پھر کہتیں ’’یہ استغراق ہے۔ کمبخت باباصاحبؒ کے پیچھے پڑگیاہے۔‘‘

وہ دونوں انتظار کرتے رہتے ۔ دودوتین تین دن گزرجاتے ا ور بے خودی ٹس سے مس نہ ہوتی۔ کھانا یا چائے تو ایک طرف پانی کا ایک قطرہ بھی ہونٹوں تک نہ جاتا۔ دودراز سے سفر کرکے آئے مسافر پھونس کے مہمان خانے میں پڑے رہتے۔ گرمی، سردی، بارش کی شدت برداشت کرتے۔ لیکن بغیر حاضری کے جانے کا نام نہ لیتے۔

حیات خاں کا خیال تھا کہ باباصاحبؒ کے استغراق کی کشش لوگوں کے ذہن میں انبساط کی لہریں پیدا کرتی رہتی ہے۔ اس کو یقینِ کامل تھا کہ لوگوں کی خوشی کا ایک مرکز ضرور ہوتاہے۔ جو ان کی اپنی ذات سے باہر خدا سے یا کسی شخص سے وابستگی رکھتاہے۔ دراصل حیات خاں عقیدت مندی کی مسرتوں سے بہت زیادہ مانوس تھا۔ اسی باعث وہ بطور خاص اس تاثر کو تلاش کرتا اور لوگوں کے انتظار سے لطف اندوز ہوتا۔

حالتِ استغراق میں نانا تاج الدینؒ کی آنکھیں کچھ کھلیں رہتی تھیں۔ حیات خاں اکثر ان کی نیم باز آنکھیں عجیب ذوق وشوق سے دیکھتا۔ ایک مرتبہ استغراق کی حالت میں حیات خاں نے مجھے اشارہ سے بلایا۔ کہنے لگا کہ اس پتہ کودیکھو۔ میری نظریکے بعد دیگرے کئی پتوں پر گئی۔ جس پتے کی طرف اس نے اشارہ کیا تھا۔ اس میں سے ٹانگیں، چہرے کے خدوخال اورچھوٹی چھوٹی آنکھیں رونما ہورہی تھیں۔ یہ پتہ تقریباً تین انچ لمباہوگا۔ یکایک میری نظریں برابر والے پتے پر جا پڑیں۔ اس میں بھی ویسا ہی تغیر ہو رہاتھا۔ یہ دونوں پتے ایک دوسرے کے پیچھے چلنے لگے۔ ایک دو منٹ میں ان کی ہیئت اتنی بدلی  کہ پتوں کی کوئی شباہت ان میں باقی نہیں تھی۔ وہ درخت کے تنے کی طرف چلے جا رہے تھے اور نانا تاج الدینؒ کی نیم وا آنکھیں ان پر جمی ہوئی تھیں۔ اس واقع کے بعد حیات خاں کئی دن تک ایک بھجن گنگناتا رہا۔ جو اس بول سے شروع ہوتاہے۔

       پربھو دھن دھن قدرت تیری

کئی مہینے بعدمیں نے نانا سے اس کی علمی توجیح معلوم کی ۔ فرمایا۔’’ارے تو سمجھ بھی سکے گا۔ دیکھ یہ درخت ہے ۔ اس کے اندر زندگی کے سارے ٹکڑے جڑے ہوئے ہیں۔ دیکھنا، سننا، سمجھنا، جنبش کرنا، یہ سب ٹکڑے اس درخت کے اندر جھانکنے سے نظر آتے ہیں۔ اس کے ہر پتے میں سچ مچ کا منہ ہے، سچ مچ کے ہاتھ پیر ہیں۔ فرق اتناہے کہ جب تک پتہ دوسری زندگی سے ٹکراتا نہیں اسکے اندر عام لوگ یہ نیرنگ دیکھ نہیں سکتے اور جب کوئی پتہ میری زندگی سے گلے ملتاہے تو جیتا جاگتا کیڑا بن جاتاہے۔ یہ سمجھ کہ آنکھ سے گلے ملتے ہیں۔ یاد رکھ زندگی سے زندگی بنتی ہے۔ اور زندگی زندگی میں سماتی ہے۔ ‘‘

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 217 تا 219

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)