پاک باطن لوگ

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد اوّل

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=332

ایک دن جب کچھ لوگ ابوجہل کے اکسانے پر سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف پتھر پھینک رہے تھے تو اس منظر کو دیکھنے والا ایک شخص حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے چچا ”حمزہؓ” کے پاس پہنچا جو اپنے وقت کے مشہور پہلوان سمجھے جاتے تھے۔ حمزہؓ شکار سے واپس اۤرہے تھے۔ اس شخص نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ”اے حمزہؓ! تیری غیرت اور حمیت یہ کیونکر گوارہ کرتی ہے کہ لوگ تیرے بھتیجے کو سنگسار کریں، برا بھلا کہیں اور تو جو دلیروں اور بہادروں میں شمار ہوتا ہے اس کی کوئی مدد نہ کرے؟” حضرت حمزہؓ کو اس دن تک حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے دین میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ لیکن جب انہوں نے یہ سنا کہ لوگ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو پتھروں سے مارتے ہیں، انہیں زدوکوب کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ لوگ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو دشنام بھی دیتے ہیں تو ان کی حالت دگرگوں ہوگئی اور انہوں نے اس شخص سے پوچھا کہ میرے بھتیجے کو جو دشنام دئے جاتے ہیں وہ کیا ہیں؟ اس شخص نے جب چند ایسے الفاظ کو دہرایا جنہیں حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے دشمن ان کے لئے استعمال کرتے تھے تو حضرت حمزہؓ کا چہرہ غصہ کی شدت سے سرخ ہوگیا۔ عرب زبان سے نکلی ہوئی ہر بات کو انتہائی اہمیت اور وقعت دیتے تھے۔ عرب قبائل میں دشنام گوئی کرتے وقت کسی قریبی رشتہ دار کا نام لینا ایک ناقابلِ معافی جرم سمجھا جاتا تھا۔ کسی قبیلے کے کسی بھی فرد کو برا بھلا کہنا ایسا تھا جیسے پورے قبیلے کو توہین کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کسی قبیلے کے تمام ارکان اۤپس میں خون کے رشتے میں منسلک ہوتے تھے۔ حضرت حمزہؓ اسی حالت میں ابوجہل کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام پر پتھر پھینکنے والوں اور انہیں دشنام دینے والوں کا سرغنہ ابوجہل ہی ہے۔ وہاں پہنچ کر ابوجہل کی بری طرح پٹائی کردی اور کہا ”اے ابوجہل! تو سمجھتا ہے کہ محمدؐ بے اۤسرا ہے اور اس کا کوئی نہیں اورا سی لئے تو اس پر پتھر برساتا ہے اور اسے دشنام دیتا ہے؟ لیکن اب جان لے کہ میں اۤج سے محمدؐ کے دین میں داخل ہوگیا ہوں اور اۤج کے بعد جو کوئی بھی محمدؐ کو دشنام دے گا تو اس کا واسطہ مجھ سے ہوگا۔ ”

حضرت حمزہؓ کا مسلمان ہوجانا اسلام کے لئے بڑا خوش اۤئند تھا کیونکہ حضرت حمزہؓ کا شمار مکہ کے نامور دلیروں میں ہوتا تھا۔

حضورؐ کے چچا حضرت حمزہؓ کے مسلمان ہوجانے کے بعد کچھ اور لوگ بھی مسلمان ہوگئے اور یوں مسلمانوں کی تعداد تیس سے زیادہ ہوگئی۔ مکہ کے رہنے والے اور خاص طور پر قبیلہ قریش کے افراد اسلام کو پھیلتا دیکھ کر مزید تشویش میں مبتلا ہوگئے اور انہوں نے ”دارالندوہ” میں جمع ہوکر مشورہ کرنا شروع کردیا کہ محمدؐ کے دین کو کس طرح نابود کیا جاسکتا ہے۔ لیکن وہ لوگ اپنے مزاکرات سے کوئی خاص نتیجہ اخذ نہیں کرسکے۔ جب دارالندوہ کا اجلاس ختم ہوا تو عمر بن خطاب نے یہ اعلان کردیا کہ میں خود ہی محمدؐ کو قتل کرکے اہلِ مکہ کو اس مشکل سے نجات دلادوں گا۔ راستے میں نعیم بن عبداللہؓ نے عمر کو تیز تیز قدموں سے جاتے دیکھا تو پوچھا، اے عمر! کہاں جارہے ہو؟ عمر نے کہا ”کسی نے ہمارے اجداد کی اتنی توہین نہیں کی جتنی محمدؐ کرتا ہے۔ اس شخص نے اپنے نئے دین کی وجہ سے تمام اہلِ مکہ کا چین و اۤرام ختم کردیا ہے۔ ہمارے بزرگوں کے دین کو باطل قرار دیتا ہے، کہتا ہے کہ ہمیں اپنے خداوئں کی پرستش چھوڑ دینی چاہئے۔ میں جارہا ہوں کہ اسے موت کے گھاٹ اتار دوں”۔ نعیمؓ نے کہا یا عمر! تمہارے دو قریبی عزیز بھی مسلمان ہیں۔ ان میں سے ایک تمہاری بہن فاطمہ اور دوسرا اس کا شوہر سعید بن زید ہے۔ جب عمر گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی بہن فاطمہؓ ان کے شوہر سعید بن زیدؓ اور ایک دوسرے مسلمان حضرت خبابؓ قراۤن کی تلاوت کر رہے ہیں۔ عمر غصہ میں لال بھبوک ہوگئے اور اپنی بہن اور ان کے خاوند پر اتنے کوڑے برسائے کہ جسم میں جگہ جگہ سے خون بہنے لگا۔ عمر نے اپنی بہن کو حکم دیا کہ محمدؐ کا دین چھوڑ دے۔ فاطمہؓ نے جواب دیا کہ اگر کہ تم مجھ پر اتنے کوڑے برساؤ کہ میری جان نکل جأے تو بھی میں محمدؐ کے دین کو نہیں چھوڑوں گی اور اگر تم بھی قراۤن کی تلاوت کرو تو جان جاؤ گے کہ یہ دین سچا اور برحق ہے۔ عمرؓ نے اپنی بہن کے خاوند کو کہا کہ وہ قراۤن سنائیں۔ سورۃ طٰہٰ کی چند اۤیات تلاوت کی گئیں۔

ترجمہ:

” طٰہٰ

اس واسطے نہیں اتارا ہم نے تجھ پر قراۤن کہ تو محنت میں پڑے۔

مگر نصیحت کے واسطے جس کو ڈر ہے۔

اتارا ہے اس کا جس نے بنائی زمین اور اۤسمان اونچے۔

وہ بڑی مہر والا تخت کے اوپر قائم ہوا۔

اس کا ہے جو کچھ ہے اۤسمانوں اور زمین میں اور ان کے بیچ اور نیچے سیلی زمین کے۔

اور اگر تو بات کہے پکار کر تو اس کو خبر ہے چھپے کی اور اس سے چھپے کی۔

اللہ ہے جس کے سوا بندگی نہیں کسی کی، اس کے ہیں سب نام خاصے۔

اور پہنچی ہے تجھ کو بات موسیٰؑ کی۔

جب اس نے دیکھی ایک اۤگ، تو کہا اپنے گھر والوں کو، ٹھہرو! میں نے دیکھی ہے ایک اۤگ شاید لے اۤؤں تم پاس اس میں سے سلگا کر، یا پاؤں اس اۤگ پر راہ کا پتا۔

پھر جب پہنچا اۤگ پاس، اۤواز اۤئی اے موسیٰؑ!

میں ہوں تیرا رب سو اتار اپنی پاپوشیں تو ہے پاک میدانِ طویٰ میں۔

اور جس نے تجھے پسند کیا سو تو سنتا رہ جو حکم ہو۔

میں جو ہوں، میں اللہ ہوں کسی کی بندگی نہیں سوا میرے سو میری بندگی کر، اور نماز قائم رکھ میری یاد کو۔ ” (اۤیت ۔۱۔۱۴ )

حضرت عمرؓ قراۤن سن کر غور و فکر میں ڈوب گئے۔ پھر گویا ہوئے مجھے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو میں بھی مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ حضرت خبابؓ جو اس مار پیٹ کے دوران چھپ گئے تھے، سامنے اۤگئے اور کہنے لگے، اے عمر! خوش ہوجاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تمہارے حق میں قبول ہوگئی ہے۔ سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعا فرمائی تھی:

”اے قادرِ مطلق! میرا کام کوشش کرنا اور کامیابی دینا تیرا کام ہے۔ اسلام کے دو بد ترین دشمنوں عمر بن ہشام(ابوجہل) یا عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کو نورِ ایمان عطا فرما کہ کمزور مسلمانوں کو ہمت حاصل ہو۔ ”

دار ارقم(دار ارقم کوہِ صفا پر واقع ارقم بن ابی الارقم مخزومی کا مکان تھا۔ جسے نبوت کے پانچویں سال میں سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے الگ تھلگ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے اجتماع اور تبلیغ کی سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر استعمال کیا) کے دروازے پر دستک ہوئی۔ ایک صحابیؓ نے جھانک کر دیکھا تو حضرت عمر بن خطابؓ تلوار حمائل کئے نظر اۤئے۔

سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اطلاع دی گئی۔ امیر حمزہؓ نے جو تین دن قبل ایمان لائے تھے کہا ”دروازہ کھول دو اگر وہ خیر کی نیت سے اۤیا ہے تو ہم اسے خیر عطا کریں گے اور اگر کوئی برا رادہ لے کر اۤیا ہے تو ہم اسی کی تلوار سے اس کا کام تمام کردیں گے”۔حضرت عمرؓ کے قبولِ اسلام کی خوشی میں صحابۂ کرامؓ نے اس زور سے نعرۂ تکبیر بلند کیا کہ مسجد الحرام میں موجود لوگوں نے بھی صداۓ حق سن لی۔

حضرت عمرؓ نے صحابۂ کرام کو دو صفوں میں ترتیب دیا ایک میں حضرت حمزہؓ اور ایک میں حضرت عمرؓ تھے۔ سب سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زیرِ سایہ مسجد الحرام کی جانب روانہ ہوئے۔ عمر و حمزہ کے جلو میں پیغمبرِ اسلامؐ اور ان کے ساتھیوں کو جرأت مندی سے اۤتا دیکھ کر قریش مکہ میں کہرام مچ گیا۔ اس موقع پر سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عمرؓ کو ”فاروق” کے لقب سے نوازا۔

حضرت عمرؓ اس کے بعد دشمنِ اسلام ابوجہل کے مکان پر پہنچ گئے۔ ابوجہل باہر اۤیا اور خوش خبری سننے کے اشتیاق میں کہنے لگا۔ ”خوش اۤمدید، خوش اۤمدید کیسے اۤنا ہوا؟” حضرت عمرؓ نے کہا، میں تمہیں یہ بتانے اۤیا ہوں کہ میں اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاچکا ہوں، اور محمد الرّسول اللہ ﷺ جو کچھ لے کر اۤئے ہیں اس کی تصدیق کرچکا ہوں۔ ابوجہل کی امیدوں پر پانی پھر گیا اور دروازہ بند کرتے ہوئے بولا، اللہ تیرا برا کرے اور جو کچھ تو طے کر اۤیا ہے اس کا بھی برا کرے۔

حضرت عمرؓ نے جب اپنے اسلام قبول کرنے کی خبر جمیل بن معمر حمجی کو دی جو کسی بات کا ڈھنڈورا پیٹنے میں ممتاز تھا تو اس نے چیخ چیخ کر لوگوں کو بتانا شروع کردیا کہ خطاب کا بیٹا بے دین ہوگیا ہے۔ حضرت عمرؓ اس کے پیچھے پیچھے چلے اۤرہے تھے۔ بولے یہ جھوٹ بولتا ہے میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ لوگ اگرچہ حضرت عمرؓ کی عزت و قوت، شرف اور زورِ بازو سے خائف رہتے تھے۔ لیکن اس وقت بہت بڑی تعداد نے مل کرانہیں مارنا اور پیٹنا شروع کردیا۔ حضرت عمرؓ بھی لوگوں کو مار رہے تھے یہاں تک کہ سورج سر پر اۤگیا اور حضرت عمرؓ تھک کر بیٹھ گئے۔ حضرت عمرؓ نے لوگوں سے کہا جو بن پڑے کرلو۔ خدا کی قسم اگر ہم لوگ تین سو کی تعداد میں ہوتے تو پھر مکہ میں تم رہتے یا ہم رہتے۔

حضرت عمرؓ کے خلاف انفرادی سطح پر کوئی اقدام اٹھانے سے مشرکین گھبراتے تھے۔ وہ جمِ غفیر کی صورت میں اکٹھے ہوئے اور حضرت عمرؓ کے گھر پر ہلّہ بول دیا تاکہ انہیں جان سے مار ڈالیں۔ اس دوران قبیلہ سہم جو حضرت عمرؓ کا حلیف قبیلہ تھا، سے تعلق رکھنے والے ابو عمرو عاص بن وائل سہمی اۤگئے۔ حضرت عمرؓ نے اپنے قبولِ اسلام اور قوم کے دشمن بن جانے کا تذکرہ کیا۔ ابو عمرو بن عاص یہ سن کر باہر نکلے اور لوگوں کی بھیڑ سے پوچھا کیا ارادہ ہے؟ لوگوں نے کہا کہ خطاب کا بیٹا مطلوب ہے جو بے دین ہوگیا ہے۔ ابو عمرو نے کہا کہ تم لوگ اس تک نہیں پہنچ سکتے وہ میری پناہ میں ہے۔ لوگ یہ سن کر مایوس ہوئے اور واپس چلے گئے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 69 تا 77

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)