وَحدت الوجود اور وَحدت الشُہود

کتاب : روح کی پکار

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=12786

سوال: اہل تصوّف میں وَحدت الوجود اور وَحدت الشُہود کی دو اصطلاحات عام طور پر استعمال ہوتی ہیں اور ان کے بارے میں بہت لکھا گیا ہے۔ ازراہ کرم سادہ اور مختصر پیرائے میں ان دونوں کی وضاحت فرمائیں۔

جواب: کائنات کی بنیاد اور حقیقت ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کا ذہن علمِ واجِب کہلاتا ہے۔ علمِ واجِب میں کائنات کا وجود اللہ تعالیٰ کے ارادے کے تحت موجود تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کا مظاہرہ پسند فرمایا تو حکم دیا ’’کُن‘‘ یعنی حرکت میں آ۔ چنانچہ بہ شکل کائنات، واجب میں جو کچھ موجود تھا اس نے پہلی کروٹ بدلی اور حرکت شروع ہو گئی۔ پہلی حرکت تو یہ تھی کہ موجودات کے ہر فرد کو اپنا ادراک ہو گیا۔ موجودات کے ہر فرد کی فکر میں یہ بات آئی کہ میں ہوں۔ یہ انداز فکر ایک گم شدگی اور محویت کا عالم تھا۔ ہر فرد ناپیدا کنار دریائے توحید کے اندر غوطہ زن تھا۔ ہر فرد کو صرف اتنا احساس تھا کہ میں ہوں۔ کہاں ہوں، کیا ہوں اور کس طرح ہوں اس کا کوئی احساس اسے نہیں تھا۔ اس ہی عالَم کو عالَمِ وَحدت الوجود کہتے ہیں۔ اس عالَم کو اہل تصوّف وَحدت کا نام بھی دیتے ہیں۔ یہ وَحدت، وَحدت باری تعالیٰ ہرگز نہیں ہے کیونکہ باری تعالیٰ کی کسی صفَت کو لفظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ یہ وَحدت ذہنِ انسانی کی اپنی ایک اختراع ہے جو صرف انسان کے محدود دائرہ فکر کا مظاہرہ کرتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے کسی لامحدود وصف کو صحیح طور پر بتانے سے قطعی کوتاہ اور قاصر ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ کسی لفظ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی صفَت کا مکمل اظہار ہو سکے۔
اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ’’وَحدت‘‘ فکرِ انسانی کی اپنی ایک اختراع ہونے کی حیثیت میں زیادہ سے زیادہ فکرِ انسانی کے علوم کی وسعت کو بیان کرتی ہے۔ جب کوئی انسان لفظ ’’وَحدت‘‘ استعمال کرتا ہے تو اس کے معنی بس یہی نکلتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی یکتائی کو یہاں تک سمجھا ہے۔ بالفاظ دیگر لفظ ’’وَحدت‘‘ کا مفہوم انسان کی اپنی حدِّ فکر تک محدود ہے۔ اس محدودیت ہی کو انسان لامحدودیت کا نام دیتا ہے۔ فی الواقع اللہ تعالیٰ اس قسم کی توصیفی حدوں سے بہت ارفع و اعلیٰ ہے۔ جب ہم ’’وَحدت‘‘ کہتے ہیں تو فی الحقیقت اپنی ہی وَحدت فکر کو تذکرہ کرتے ہیں۔
اس ہی مقام سے عالمِ وَحدت الوُجود کے بعد عالمِ وَحدت الشُہود کا آغاز ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ روحوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ:
کیا میں نہیں ہوں تمہارا رب؟ (سورۃ الاعراف)
یہاں سے انسان یا امرِ ربّی کی نگاہ وجود میں آجاتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ کسی نے مجھے مخاطب کیا اور مخاطب پر اس کی نگاہ پڑتی ہے۔ وہ کہتا ہے:
’’جی ہاں!‘‘ مجھے آپ کی ربّانیت کا اعتراف ہے اور میں آپ کو پہچانتا ہوں۔ (سورۃ الاعراف)
یہ ہے وہ مقام جہاں امرِ ربّی نے دوسری حرکت کی۔ اس ہی مقام پر وہ کثرت سے متعارف ہوا۔ اس نے دیکھا کہ میرے سِوا اور بھی مخلوقات ہیں کیونکہ مخلوق کے ہجوم کا شُہود اسے حاصل ہو چکا تھا، اسے دیکھنے والی نگاہ مل چکی تھی۔ یہ علمِ واجِب کا دوسرا تنزل ہوا۔ اس تنزل کی حدود میں انسان نے اپنے وجود کی گہرائی کا احساس اور دوسری مخلوق کی موجودگی کا شُہود پیدا کیا۔ پہلے تنزل کی حیثیت علم اور علیم کی تھی یعنی انسان کو صرف اپنے ہونے کا ادراک ہوا تھا۔ میں ہوں۔ ’’میں‘‘ علیم اور ’’ہوں‘‘ علم ہے۔ دوسری منزل میں گم شدگی کی حد سے آگے بڑھا تو اس نے خود کو دیکھا اور دوسروں کو بھی دیکھا۔ اس ہی کو عالمِ وَحدت الشُہود کہتے ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 188 تا 189

روح کی پکار کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - زمان و مکان کیا ہے؟  ِ 3 - لوحِ محفوظ  ِ 4 - خالقِ خدا  ِ 5 - اللہ تعالیٰ نظر کیوں نہیں آتے؟  ِ 6 - اللہ تعالیٰ کی امانت کے حصول کے بعد ظالم اور جاہل کیسے؟  ِ 7 - کونسی طرزِ فکر اللہ کے قریب کرتی ہے؟  ِ 8 - روحانی طرزِ فکر کا تجزیہ  ِ 9 - روحانیت میں سب سے پہلے کیا ضروری ہے؟  ِ 10 - طرزِ فکر کی منتقلی کس قانون سے ہوتی ہے؟  ِ 11 - زمان (Time) کی حدود  ِ 12 - نفس کیا ہے؟  ِ 13 - درست طرزِ فکر کونسی ہے؟  ِ 14 - مرشد کو ظاہری آنکھ سے نہ دیکھا ہو  ِ 15 - کیا مراقبہ خواب کا تسلسل ہے؟  ِ 16 - اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب  ِ 17 - اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہیں  ِ 18 - اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہیں  ِ 19 - اللہ تعالیٰ کے علم کا عکس  ِ 20 - کائنات کے تخلیقی خدوخال  ِ 21 - کسی چیز کو سمجھنے کے لئے بنیادی عمل نظر ہے  ِ 22 - اللہ تعالیٰ کی صفات  ِ 23 - علم استدراج اور علم نوری میں فرق  ِ 24 - روحانی تصرّف کیا ہے؟  ِ 25 - اختیاری اور غیر اختیاری طرزِ فکر  ِ 26 - بخیلی اور سخاوت  ِ 27 - زندگی کی بنیاد  ِ 28 - حقیقت مُطلَقہ کیا ہے؟  ِ 29 - یقین کے کیا عوامل ہیں؟  ِ 30 - کیا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان سب مسخر کر دیا؟  ِ 31 - شُہود کی قسمیں  ِ 32 - سائنسی ایجادات  ِ 33 - علم کی حیثیت  ِ 34 - کیا قرآنی آیات پڑھنی چاہئیں؟  ِ 35 - تعویذ کے اندر کونسی طاقت ہے؟  ِ 36 - فِقہی علم کیا ہے؟  ِ 37 - سلطان کیا ہے؟  ِ 38 - مٹھاس یا نمک  ِ 39 - خیالی اور حقیقی خواب  ِ 40 - دعا آسمان سے کیوں پھینکی جاتی ہے؟  ِ 41 - مرشد کس طرح فیض منتقل کرتا ہے؟  ِ 42 - کتنی نیند کرنی چاہئے؟  ِ 43 - کیا رنگین روشنیاں غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں؟  ِ 44 - طریقت اور شریعت  ِ 45 - روح کا عرفان  ِ 46 - عام آدمی اور مؤمن میں فرق  ِ 47 - حساب کتاب کیا ہوتا ہے؟  ِ 48 - استغنائی طرزِ فکر  ِ 49 - خود ترغیبی کیا ہے؟  ِ 50 - کیفیت اور خیال میں فرق  ِ 51 - حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد  ِ 52 - تدلّیٰ اور علم الاسماء  ِ 53 - ارتقائی منازل  ِ 54 - نورِ باطن  ِ 55 - ذہن بیمار یا جسم بیمار  ِ 56 - روح کہاں جاتی ہے؟  ِ 57 - علم الغیب کیا ہے؟  ِ 58 - اللہ کا پسندیدہ بندہ  ِ 59 - فنا و بقا کیا ہے؟  ِ 60 - رنج و غم کیوں جمع ہوتے ہیں؟  ِ 61 - وَحدت الوجود اور وَحدت الشُہود  ِ 62 - دماغ میں دو کھرب خانے  ِ 63 - قلم خشک ہو گیا  ِ 64 - ترقی کا فسوں  ِ 65 - کون سا رنگ کون سا پتھر؟  ِ 66 - نماز میں حضورِقلب پیدا ہو  ِ 67 - روحانی تفسیر  ِ 68 - روح سے وُقوف حاصل کرنا  ِ 69 - نظر کا قانون  ِ 70 - زمان و مکان (Time And Space)  ِ 71 - شجرِ ممنوعہ کیا ہے؟  ِ 72 - کائنات کا بنیادی مسالہ  ِ 73 - اِرتکازِ توجّہ  ِ 74 - جسم میں لطیفے  ِ 75 - مادری زبان میں خیالات  ِ 76 - تصوّرِ شیخ  ِ 77 - کشش کیوں ہوتی ہے؟  ِ 78 - معجزہ، کرامت، اِستدراج کیا ہے؟  ِ 79 - قوّت ارادی کیا ہے؟  ِ 80 - تخلیقی اختیارات  ِ 81 - بغیر استاد کیا نقصان ہوتا ہے؟  ِ 82 - سورج بینی کا کیا فائدہ ہے؟  ِ 83 - رَحمۃَ لِّلعالمین  ِ 84 - وہاں کی زبان کو سمجھنا  ِ 85 - مراقبہ کا حکم  ِ 86 - انسانی کوشش کا عمل دخل  ِ 87 - اسفل زندگی سے نکلنا  ِ 88 - اسمِ اعظم کیا ہے؟  ِ 89 - ہر شئے دو رخوں پر ہے  ِ 90 - مؤکل کیا ہوتے ہیں؟  ِ 91 - مذہب کی حقیقت کیا ہے؟  ِ 92 - حواس کہاں سے آتے ہیں؟  ِ 93 - شرحِ صدر کیا ہے؟  ِ 94 - تفکر کی صلاحیت  ِ 95 - عشاء کا وقت افضل کیوں ہے؟  ِ 96 - سعید روح اور شَقی روح کیا ہے؟  ِ 97 - حافظے کی سطح  ِ 98 - حسبِ خواہش نتیجہ نہ ملنا  ِ 99 - نیگیٹیو بینی کیا ہے؟  ِ 100 - اس کتاب میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے  ِ 101 - یاحي یاقیوم کا کیا مطلب ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message