یہ تحریر العربية (عربی) میں بھی دستیاب ہے۔

نیکی کیا ہے؟

کتاب : تجلیات

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2989

اللہ رب العزت سارے جہانوں کا پرورش کرنے والا ، سب کی ضروریات کا کفیل اور سب کا نگہبان ہے۔ چنانچہ جب ہم انسانوں سے بھلائی سے پیش آتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ قرآن پاک نے ہم پر حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق پورا کرنا لازم و ملزوم کر دیا ہے اور اس کی بہت تاکید کی ہے۔
حقوق العباد کی ادائیگی رشتہ داروں سے شروع ہوتی ہے جن میں والدین سب سے پہلے مستحق ہیں۔ ماں باپ کی خدمت اور ان کی اطاعت اولین فریضہ ہے۔ اہل و عیال کے لئے حلال رزق کا حصول اور بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت بھی حقوق العباد میں سے ہے۔ اس کے بعد دوسرے رشتہ داروں اور پڑوسی کا نمبر آتا ہے۔ آخر میں تمام انسان حقوق العباد کے دائرۂ کار میں آتے ہیں۔
حقوق العباد میں مالی حق بھی ہے اور اخلاقی حق بھی۔ قرآن پاک نے جا بجااس کی حدود بیان کی ہیں اور اس کو ایمان کا جزو قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنا منہ مشرق اور مغرب کی طرف کر لو لیکن نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور آسمانی کتابوں پر اور نبیوں پر اور مال دیتا ہو اللہ کی محبت میں رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور مسکینوں کو اور مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور گردن چھڑانے میں۔ (البقرہ)
اگر ہم اس پوزیشن میں نہ ہوں کہ مالی لحاظ سے کسی کی مدد کر سکیں تو خدمت کے اور بھی ذرائع ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ ہم ان کو لوگوں کے فائدے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔
دین کا بنیادی جذبہ خیر خواہی ہے چنانچہ اگر ہم کسی کے لئے اچھائی نہیں کر سکتے تو اس کے لئے برائی کے مرتکب بھی نہ ہوں۔ خیر خواہی کے لئے محض مالی حالت کا اچھا ہونا ضروری نہیں ہے۔ لوگوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا، سلام میں پہل کرنا، کسی کی غیبت نہ کرنا اور نہ سننا، اللہ کی مخلوق سے حسن ظن رکھنا، لوگوں کے چھوٹے موٹے کام کر دینا، کسی ضعیف یا بیمار کو سڑک پار کرا دینا، بیمار کی مزاج پرسی کرنا، سڑک پر پڑے ہوئے پتھر یا کانٹوں کو راہ سے ہٹا دینا حقوق العباد کے زمرے میں آتے ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 91 تا 93

یہ تحریر العربية (عربی) میں بھی دستیاب ہے۔

تجلیات کے مضامین :

ِ 1 - قرآن  ِ 2 - زمین پر اندھیرا  ِ 3 - آسمانوں میں اعلان  ِ 4 - ہماری تصویر  ِ 5 - تسخیرِ کائنات  ِ 6 - دولت کی محبت بت پرستی ہے  ِ 7 - ترقی کا محرم غیر مسلم؟  ِ 8 - کفن دفن  ِ 9 - آگ کا سمندر  ِ 10 - روح کی آنکھیں  ِ 11 - سوکھی ٹہنی  ِ 12 - پرخلوص دل  ِ 13 - تبلیغ  ِ 14 - مشعل راہ  ِ 15 - تخلیقی فارمولے  ِ 16 - توبہ  ِ 17 - بھلائی کا سرچشمہ  ِ 18 - عظیم احسان  ِ 19 - طرزِ فکر  ِ 20 - حج  ِ 21 - شیریں آواز  ِ 22 - دو بیویاں  ِ 23 - صراط مستقیم  ِ 24 - ماں باپ  ِ 25 - محبت  ِ 26 - خود داری  ِ 27 - بیداری  ِ 28 - قطرۂ آب  ِ 29 - خدا کی تعریف  ِ 30 - زندگی کے دو رُخ  ِ 31 - علم و آگہی  ِ 32 - جھاڑو کے تنکے  ِ 33 - رزق  ِ 34 - مُردہ قوم  ِ 35 - پیغمبر کے نقوشِ قدم  ِ 36 - نیکی کیا ہے؟  ِ 37 - ضدی لوگ  ِ 38 - سعید روحیں  ِ 39 - توفیق  ِ 40 - سورج کی روشنی  ِ 41 - رب کی مرضی  ِ 42 - دُنیا اور آخرت  ِ 43 - بیوی کی اہمیت  ِ 44 - خود شناسی  ِ 45 - دماغ میں چُھپا ڈر  ِ 46 - روزہ  ِ 47 - مناظر  ِ 48 - دُعا  ِ 48 - مساجد  ِ 50 - علیم و خبیر اللہ  ِ 51 - مایوسی  ِ 52 - ذخیرہ اندوزی  ِ 53 - بھائی بھائی  ِ 54 - اللہ کی کتاب  ِ 55 - اونگھ  ِ 56 - انسان کے اندر خزانے  ِ 57 - اللہ کی صناعی  ِ 58 - ناشکری  ِ 59 - آئینہ  ِ 60 - مُردہ دلی  ِ 61 - خدا کی راہ  ِ 62 - غرور  ِ 63 - رمضان  ِ 64 - قبرستان  ِ 65 - قرآن اور تسخیری فارمولے  ِ 66 - اچھا دوست  ِ 67 - موت سے نفرت  ِ 68 - خطاکار انسان  ِ 69 - دوزخی لوگوں کی خیرات  ِ 70 - معاشیایات  ِ 71 - آدابِ مجلس  ِ 72 - السلامُ علیکُم  ِ 73 - گانا بجانا  ِ 74 - مخلوق کی خدمت  ِ 75 - نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ِ 76 - صبر و استقامات  ِ 77 - مہمان نوازی  ِ 78 - مسکراہٹ  ِ 79 - بلیک مارکیٹنگ  ِ 80 - دوست  ِ 81 - مذہب اور نئی نسل  ِ 82 - معراج  ِ 83 - انسانی شُماریات  ِ 84 - جائیداد میں لڑکی کا حصہ  ِ 85 - دعوتِ دین  ِ 86 - فرشتے نے پوچھا  ِ 87 - سونے کا پہاڑ  ِ 88 - مچھلی کے پیٹ میں  ِ 89 - بچوں کے نام  ِ 90 - صدقہ و خیرات  ِ 91 - اپنا گھر  ِ 92 - غیب کا شہُود  ِ 93 - حقوق العباد  ِ 94 - فقیر دوست  ِ 95 - بے عمل داعی  ِ 96 - عید  ِ 97 - جذب وشوق  ِ 98 - موت کا خوف  ِ 99 - فرشتوں کی جماعت  ِ 100 - اعتدال  ِ 101 - مشن میں کامیابی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message