نقطہ کھلتا ہے

کتاب : پیرا سائیکالوجی

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=7846

جب کوئی بندہ کسی ایک نقطہ پر اپنی پوری صلاحیتیں مرکوز کر کے غور کرتا ہے تو اس کی نظر میں اتنی وسعت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ اس نقطے کو جس کے اوپر تمام صلاحیتیں مرکوز ہو گئی ہیں پڑھ لیتا ہے۔ پڑھنے سے منشا یہ ہے کہ:
① نقطے کے اندر موجود اوصاف، اور
② نقطے کے اندر موجود خفیہ صلاحیتیں، اور
③ صلاحیتوں کے اندر مخفی صلاحیتیں اس کے سامنے آ جاتی ہیں۔
④ جب اور زیادہ گہرائی میں دیکھتا ہے تو نقطہ اس کو اپنا استعمال بتا دیتا ہے۔
نقطے کے اندر موجود مخفی قوتیں اس بات کا مشاہدہ بن جاتی ہیں کہ پوری پوری کہکشائیں ہمارے ساتھ سفر کر رہی ہیں۔ ہم جان لیتے ہیں کہ دنیا میں موجود ہر شئے لہروں پر قائم ہے۔ ہم اور پوری کائنات لہروں کے تانے بانے سے مرکب ہے۔ دنیا کی ہر چیز چاہے وہ پانی ہو، درخت ہو، پتھر ہو، انسان ہو، چرندہ ہو، پرندہ ہو، درندہ ہو، انرجی ہو، آکسیجن ہو یا ایٹم یا مالیکیول… سب روشنیوں کے ہالے میں بند ہے۔ یعنی ہر چیز کے اوپر روشنی کا ایک غلاف ہے۔ تفکر کرنے کے بعد اس بند غلاف کو کھول کر اس چیز کے اوپر نظر مرکوز کر دی جائے تو:
① نظر کے سامنے پہلا انکشاف طاقت کا ہوتا ہے۔
② نظر میں جب گہرائی پیدا ہوتی ہے تو دوسرا انکشاف اس طاقت کے استعمال کا ہوتا ہے۔
③ مزید گہرائی واقع ہو جانے سے تیسرا انکشاف یہ ہوتا ہے کہ طاقت مظہر بن کر سامنے آ جاتی ہے۔
ہیروشیما اور ناگا ساکی کے اوپر ایٹم بم گرایا گیا تو ایٹم کی طاقت کا مظاہرہ ہوا۔ مظاہرہ اس شکل میں ہوا کہ جن پہاڑیوں پر بم گرایا گیا تھا وہ پہاڑیاں دھواں بن گئیں۔ لوگوں نے دیکھا کہ پہاڑ کھڑے ہیں جب پہاڑ کو چھوا گیا تو دھوئیں کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ طاقت کا کھوج کس نے لگایا؟ طاقت کا استعمال کس نے کیا؟ اور طاقت کے مظاہرے سے کون متأثر ہوا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ایٹم کی طاقت کا کھوج انسانوں نے لگایا، اس کی طاقت کو استعمال انسانوں نے کیا اور اس طاقت کے تخریبی اور تعمیری پہلو سے بھی انسان ہی متأثر ہوا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ایٹم کے اندر موجود طاقت اللہ کریم کی تخلیق ہے اور اس طاقت کو استعمال کرنے کا طریقہ اللہ نے انسان کو سکھا دیا۔
لاشعور بتاتا ہے کہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے اتنی سکت اور صلاحیت منتقل کر دی ہے کہ وہ ایٹم کی طاقت کو اپنے ارادے اور اپنی منشا کے مطابق استعمال کر سکتا ہے۔ یہ کہنا ہرگز بے جا نہ ہو گا کہ خالق ہر حال میں تخلیق سے زیادہ باصلاحیت باوصف اور باہمت ہے۔
ایٹم کی طاقت کے خالق کی حیثیت سے جب ہم انسانی کردار پر نظر ڈالتے ہیں تو دراصل ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسی مخفی صلاحیتیں اور قوتیں عطا کر دی ہیں جس کے سامنے ایٹم کی قوت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ فرق صرف ایٹم کے استعمال کا ہے۔ ہم ایٹم کے اندر ان لہروں کو تلاش کرتے ہیں جو تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ہیں یا ان صلاحیتوں کو تلاش کرتے ہیں جو نوعِ انسانی کی تعمیر میں کام آتی ہیں۔
جب ہر چیز لہروں پر قائم ہے تو انسانی وجود بھی لہروں سے بنا ہوا ہے۔ لہروں میں قائم وجود میں تفکر انسان کے اوپر منکشف کر دیتا ہے کہ انسان میں تخلیقی صلاحیت موجود ہے۔ جس طرح ایٹم ایک نقطہ ہے اور اس نقطہ کے اندر ایسی طاقت محفوظ ہے کہ اگر انہیں تخریبی ذہن سے استعمال کیا جائے تو زمین الٹ پلٹ جاتی ہے۔ پورے پورے شہر آناً فاناً تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ اس ہی ایٹم کو اگر تعمیر میں استعمال کیا جائے تو بجلی ایجاد ہو جاتی ہے… وہ بجلی جو ہر سائنسی ترقی میں کسی نہ کسی طرح موجود ہے۔
انسان کے اندر بھی ایک ایٹم ہے۔ اس ایٹم یا نقطے کے اندر بھی بے شمار طاقتیں ذخیرہ ہیں۔ جب یہ ایٹم کھلتا ہے تو آدمی مادی وسائل سے بے نیاز ہو کر روحانی طور پر ان فارمولوں کا مشاہدہ کر لیتا ہے جن فارمولوں سے سورج بنتے ہیں، چاند وجود میں آتے ہیں۔ جن فارمولوں پر ستارے قائم ہیں، جن فارمولوں پر آسمان قائم ہیں۔ جن فارمولوں اور کلیوں کے اوپر زمین گردش کر رہی ہے۔
مثال:
ہم شربت بناتے ہیں۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ پانی میں چینی گھول دی جائے تو شربت بن جاتا ہے اور اس شربت میں خوشبو ملا دی جائے تو شربت خوشبودار اور مفرح ہو جاتا ہے۔ اسی شربت میں رنگ آمیز کر دیا جائے تو شربت خوش شکل ہو جاتا ہے۔ اسی شربت میں اگر کوئی ایسی ٹھنڈی دوا شامل کر دی جائے جو خون کو ٹھنڈا کر دے تو یہ شربت گرمی سے پیدا ہونے والے امراض کا علاج بن جاتا ہے۔
روٹی پکانا ایک فارمولے کے اوپر قائم ہے۔ جب ہم روٹی کا تذکرہ کرتے ہیں تو روٹی سے متعلق جتنے اعمال ہیں وہ خود بخود زیر بحث آ جاتے ہیں۔ روٹی کا مطلب ہے زمین کے اندر گیہوں ڈالنا، زمین کی کوکھ میں دَور کرنے والی روشنیوں اور لہروں کا گیہوں کے بیج پر اثر انداز ہونا، گیہوں کے بیج کے اندر موجود روشنیوں اور لہروں کا زمین کی لہروں اور روشنیوں سے باہم مل کر ایک دوسرے کا تأثر قبول کرنا۔ ایک دوسرے کے اندر لہروں کا جذب ہونے کے بعد گیہوں کے بیج میں کَلّہ پھوٹنا، بیج کی پیدائش کے بعد زمین کی کوکھ سے باہر آنا، سورج کی تپش سے پکنا، چاند کی چاندنی سے گیہوں کے اندر مٹھاس پیدا ہونا، گیہوں کے بیج کا جوان ہونا اور پھر اس کا چکی میں پسنا۔ آٹا بننا۔ آٹے اور پانی کے ملاپ سے ایک نئی شکل اختیار کرنا۔ آٹا اور پانی کے ملاپ سے جو مرکب بنا ہے اس مرکب کا آگ پر پکنا۔ ان تمام عوامل سے گزر کر روٹی پکتی ہے۔ ایک عام آدمی کہتا ہے روٹی کھاؤ…. بات ختم ہو گئی…. لیکن تفکر کرنے والا بندہ یہ تلاش کرتا ہے کہ روٹی کیا ہے؟ اور کیسے وجود میں آئی؟ اس ہی طرح انسان بھی ایک نقطہ ہے۔
نقطے کو توڑا جائے بالکل اس طرح جس طرح ایٹم کو توڑ دیا گیا ہو تو اس کے اندر وہ عجائبات نظر آتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے کائنات کہا ہے۔ انسان کی پوری نسل، انسان کی پوری نوع، جنّات اور جنّات کی پوری نوع، فرشتے، آسمان، جنّت، دوزخ، عرش اور انتہا یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ اس نقطے کے اندر موجود ہے جب یہ نقطہ کھلتا ہے تو انسان مشاہداتی طرزوں میں قدم قدم سفر کر کے منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے اور مقصود اور منظور و مطلوب اللہ تعالیٰ ہے۔ تصوّف میں اس نقطے کا نام ‘‘فؤاد’’ ہے۔ جس کا ترجمہ دل ہے۔ یہ وہی دل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا مسکن اور اپنا گھر قرار دیا ہے۔ یہ وہی دل ہے جو کبھی غلط بیانی نہیں کرتا، کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ جو کچھ دیکھتا ہے حقیقت دیکھتا ہے۔ دل خالقِ کائنات کو دیکھتا ہے اور خالقِ کائنات دل کو دیکھتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 26 تا 30

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)