نجاشی بادشاہ کا دربار

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد اوّل

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=335

اسلام کے ابتدائی دور میں دو ہستیاں ایسی ہیں جنہوں نے مالی لحاظ سے بہت قربانیاں دیں ان میں سے ایک حضرت خدیجہؓ اور دوسرے حضرت ابوبکرؓ تھے۔ اسلام سے پہلے یہ دونوں افراد مکہ کے تونگروں میں شمار ہوتے تھے۔ لیکن جب یہ دونوں اس دنیا سے رخصت ہوئے تو بالکل تہی دست تھے کیونکہ انہوں نے اپنی ساری دولت اسلام کی راہ میں قربان کردی تھی۔ جب حضرت عمرؓ بن خطاب مسلمان ہوئے تو انہوں نے اپنے اہلِ خاندان کو دعوت دی۔ ان کے قبیلہ ”بنی عدی” کے متعدد افراد بھی مسلمان ہوگئے۔ قریش نے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتے دیکھا تو انہیں بہت تشویش ہوئی۔ وہ جانتے تھے کے حضرت حمزہؓ اور حضرت عمرؓ بن خطاب حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی حمایت کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ انہیں گذشتہ کی طرح گزند بھی نہیں پہنچا سکتے تھے۔ اسی بات کے پیشِ نظر انہوں نے یہ فیصلہ کیا کے مسلمانوں کا سوشل بائیکاٹ(Social Boycott) کرکے ان پر عرصۂ حیات تنگ کردیا جائے۔ کفّار نے یہ پابندی لگادی کہ مسلمانوں سے نہ تو کوئی چیز خریدی جائے اور نہ ہی انہیں کوئی چیز بیچی جائے اور کوئی انہیں لڑکی دے نہ ہی ان سے لڑکی لے۔ مکہ کی سرزمین میں جہاں لوگوں کا ذریعہ معاش تجارت اور سوداگری تھا، یہ پابندی مسلمانوں کی زندگی کو مفلوج کرنے لگی کچھ لوگ جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے وہ گوناگوں مصائب اور مشکلات کا مقابلہ نہ کرسکے۔ اسی بناأ پر حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فیصلہ کیا کہ وہ خود مکہ میں ٹھہرے رہیں لیکن مسلمانوں کو ایک دوسرے ملک حبشہ کی طرف روانہ کردیں۔ حبشہ کا حکمراں کسی بھی مذہب کو ماننے والوں کو ایذا نہیں پہنچاتا تھا وہاں مذہب کی مکمل اۤزادی تھی۔ جن لوگوں نے پہلی مرتبہ مکہ سے حبشہ کی جانب ہجرت کی ان کی تفصیل یہ ہے۔

۱۔جعفر بن ابی طالبؓ اور ان کی بیوی اسماؓ۔ ابو طالب کے دو بیٹے تھے ایک حضرت علیؓ جن کی پرورش حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی نگرانی میں کی اور دوسرے حضرت جعفرؓ جنہیں حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے چچا عباسؓ نے اپنے فرزندی میں لے لیا تھا۔

۲۔عثمانؓ بن عفّان حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے داماد اور حضرت رقیّہؓ کے شوہر تھے۔ حضرت رقیّہؓ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی صاحبزادی تھیں۔ جب ابولہب کے بیٹے نے انہیں طلاق دی تو وہ حضرت عثمانؓ کے نکاح میں اۤگئیں۔

۳۔زبیر بن العوام، عبد اﷲ بن مسعود، عبد الرحمٰن بن عوف، ابو حذیفہ سہلہ دختر سہیل بن عمر، عامر بن ربیعہ اور ان کی زوجہ لیلیٰ بنت ابو خیثہ، حاطب بن عمر، سہیل بن بیضا، معصب بن عمر، ابو مسلمہ اور ان کی بیوی اُمِ سلمہ بنتِ امیّہ، عثمان بن مظعون۔

یہ لوگ چھوٹے چھوٹے گروہوں کی صورت میں مکہ سے نکل کر سمندر کے کنارے پہنچے اور کشتی پر سوار ہوکر حبشہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ یہ مسلمانوں کا پہلا دستہ تھا جو حبشہ کی طرف روانہ ہوا۔ جب مسلمان حبشہ کے دارالخلافہ پہنچے تو حضرت جعفرؓ کی زوجہ حضرت اسماءؓ نے اپنی اۤمد کے پہلے ہی دن ایک لڑکے کو جنم دیا۔ اسی دن حبشہ کے حکمراں نجاشی کے یہاں بھی لڑکے کی ولادت ہوئی۔ اسماءؓ نے رضاکارانہ طور پر بادشاہ کے بیٹے کو دودھ پلانے کی تجویز پیش کی جو منظور ہوگئی۔ اس طرح عربوں کے رواج کے مطابق حضرت جعفرؓ بن ابی طالب کا بیٹا اور حبشہ کے بادشاہ کا فرزند اۤپس میں رضاعی بھائی بن گئے۔

ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی پہلی جماعت کے بعد دوسرے مسلمان گروہ بھی مکہ سے حبشہ کی طرف روانہ ہوگئے اور مجموعی طور پر ایک سو نو (۱۰۹) مسلمان حبشہ میں جمع ہوگئے۔ یہ سب لوگ کشتی کے ذریعے حبشہ پہنچے تھے۔ اۤخر الامر قریش کو یہ علم ہوگیا کہ کچھ مسلمان حبشہ کی طرف نکل گئے ہیں لہٰذا انہوں نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید نامی دو افراد کو یہ مہم سونپی کہ وہ حبشہ جائیں اور وہاں کے بادشاہ سے کہیں کہ وہ مسلمانوں کو ان کے حوالے کردے تاکہ انہیں واپس مکہ لایا جاسکے۔

کفّار کے ایلچیوں نے بادشاہ کے دربار میں پہنچ کر کہا، ”اے حبشہ کے بادشاہ! جن لوگوں کو تو نے پناہ دے رکھی ہے انہوں نے اۤباؤ اجداد کے دین کو ترک کردیا ہے۔ وہ ہمارے اجداد پر تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا دین جھوٹا تھا اور ہمارے بزرگ باطل کی پیروی کرتے تھے۔ اے شاہِ حبشہ! جو لوگ اۤج تیری پناہ میں ہیں وہ کل تیری رعیت کے دین کو بھی بدل دیں گے لہٰذا تیری بہتری اس ہی میں ہے کہ انہیں ہمارے سپرد کردے تاکہ ہم انہیں مکہ واپس لے جائیں”۔ حبشہ کے بادشاہ نے مسلمانوں کو دربار میں طلب کیا اور کہا یہ دو افراد مکہ سے اۤئے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم لوگ خطاکار ہو لہٰذا تم سب کو مکہ واپس بھیج دینا چاہیئے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ تمہارے اہلِ خاندان تمہاری واپسی کے منتظر ہیں۔ تم لوگ اپنی صفائی میں کیا کہنا چاہتے ہو۔

حضرت جعفرؓ بن ابی طالب نے کہا، ”اے بادشاہ! ہم لوگ بت پرست تھے کوئی برا کام کرنے سے ہم شرمسار نہیں ہوتے تھے۔ کمزوروں اور تنگ دستوں پر ظلم روا رکھنا ہماری عادت بن چکا تھا۔ ہم اندھیروں میں بھٹک رہے تھے کہ ہمارے درمیان ایک پیغمبر محمدؐ بن عبد اﷲ پیدا ہوا اور اس نے ہمیں خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کرنے کا راستہ دکھایا اور ہمیں یہ درس دیا کہ ہم پتھر سے بنی ہوئی مورتوں کی پوجا نہ کریں۔ برے کاموں سے توبہ کرلیں اور مسکینوں پر ظلم و ستم روا نہ رکھیں۔ ہم لوگ اس پر ایمان لے اۤئے۔ اے بادشاہ! یہ لوگ پتھر اور لکڑی کی بنی ہوئی مورتوں کو خدا کہتے ہیں اور ان کی پوجا کرتے ہیں، معاشرے کے ناتواں لوگوں پر ستم ڈھاتے ہیں۔ یہ لوگ پیغمبرؐ کو ایذاء پہنچانے، پتھر مارنے اور دشنام دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔ ”

صورتِ حال واضع ہونے کے بعد حبشہ کے بادشاہ نے حکم دیا کہ عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کے لائے ہوئے تحائف واپس کر دئے جائیں اور قریش کے نمائندے نامراد واپس لوٹ گئے۔

نجاشی نے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیمات کے بارے میں مزید دریافت کیا۔ حضرت جعفرؓ نے حبشہ کے بادشاہ اور اس کے دربار میں حاضر دوسرے لوگوں کے سامنے سورۃ مریم کی اۤیات تلاوت کیں۔ نجاشی یہ کلام سن کر بے اختیار رو پڑا اور اس کے دربار میں موجود دوسرے لوگ بھی رونے لگے۔ نجاشی نے کہا کہ تمہارا پیغمبرؐ ایک عظیم اور سچا انسان ہے۔ تم لوگ جب تک چاہو میرے ملک میں اۤزادی سے رہو کوئی تمہیں اس ملک سے نہیں نکالے گا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 78 تا 83

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)