مٹی کا شیر

کتاب : پیرا سائیکالوجی

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=7885

جس طرح روح کے لباس یعنی رگوں، پٹھوں، ہڈیوں اور گوشت سے مرکب آدمی کو انسان سمجھا جاتا ہے اور اس آدمی میں طرح طرح کے خدوخال ہمیں نظر آتے ہیں بالکل اسی طرح روح کے اندر بھی خدوخال موجود ہیں۔ جسم انسانی کے لئے جب لباس بنایا جاتا ہے تو یہ بات ہماری پیش نظر رہتی ہے کہ جسم کے زیادہ سے زیادہ حصے ڈھک جائیں جیسے قمیض شلوار۔ اس کے برعکس روح جب لباس بناتی ہے تو وہ لباس مکمل ہوتا ہے۔ مکمل ہونے سے مراد یہ ہے کہ روح کی شکل جس طرح کے خدوخال میں موجود ہے انہی مکمل خدوخال کے ساتھ لباس بنتا ہے۔
مثال:
مٹی کے شیر پر رنگ کر دیا جائے تو ہم اسے شیر ہی کہتے ہیں۔ ایک مٹی کا شیر رنگ کے بغیر ہے اور یہی مٹی کا شیر رنگین ہے۔ لیکن شیر کے اوپر رنگ کیا جاتا ہے تو یہ رنگ شیر کے اوپر غالب آ جاتا ہے مثلاً کان پر، آنکھوں پر، پیروں پر، پیٹ پر، پینٹ شدہ شیر کو بھی ہم شیر کہتے ہیں۔ روح جب لباس بناتی ہے تو اپنے خدوخال اور نقش و نگار کے مطابق پورا لباس تیار کرتی ہے۔ خدوخال میں جس طرح کی ناک ہو گی، جس طرح کے کان ہوں گے، جس طرح کے پیر ہوں گے، جس طرح کا سر ہو گا، اسی مناسبت سے جسمانی لباس تخلیق ہوتا رہتا ہے۔ اب ہم یوں کہیں گے کہ گوشت کا جسم روح کا اِختراع کردہ ایک رنگ ہے یعنی روح جو مکمل خدوخال اور نقش و نگار کے ساتھ قائم ہے اس کے اوپر ایک رنگ آ گیا یعنی رنگ روح کا لباس ہے۔ یہی رنگ روح کے اوپر مختلف پرت ہیں۔ یہاں ایک بات بتا دینا ضروری ہے کہ جس طرح جسمِ انسانی پرت در پرت موجود ہے اس طرح روح بھی بے شمار پرتوں کا مجموعہ ہے۔ روح کا ہر پرت مجسم نقش و نگار کے ساتھ متحرّک ہے۔ ایک لمحے کا کھربواں حصّہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں حرکت ساکت ہو جاتی ہے۔ اگر لمحے کے کھربویں حصے میں بھی روح ساکت ہو جائے تو سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
کائنات میں جتنی اشیاء موجود ہیں وہ زمین کے اوپر ہوں، زمین کے اندر ہوں، آسمانی مخلوق ہو، سات آسمان ہوں، عرش و کرسی ہو، ہر شئے میں روح موجود ہے۔ اور جو چیز ہمیں ظاہر آنکھوں سے یا صفاتی آنکھوں سے نظر آتی ہے وہ سب روح کا لباس ہے۔ جب ہم کبوتر کو دیکھتے ہیں تو کبوتر کی پوزیشن بھی وہی ہے جو آدمی کی ہے۔ جس طرح روح آدمی کے خدوخال کے مطابق لباس بنا کر اپنا مظاہرہ کرتی ہے، جس طرح روح نکلنے کے بعد آدمی کی کوئی حیثیت برقرار نہیں رہتی، اسی طرح کبوتر کے اندر سے روح نکلنے کے بعد کبوتر کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ جسم انسانی سے روح اگر اپنا رشتہ منقطع کر لے تو یہ جسم منتشر ہو جاتا ہے اور منتشر ہو کر مٹی کے ذرّات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جس جسم کو ہم کبوتر، بھیڑیا یا بندر کے نام سے جانتے ہیں وہ انسانی جسم سے مختلف نہیں ہوتا۔ انسان کی طرح ہر جسم منتشر ہو کر مٹی کے ذرّات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
قانون:
روح ایک ایسا مادہ ہے جس کے اندر پورے پورے خدوخال موجود ہیں۔ خدوخال کی یہ موجودگی دراصل روح کی صلاحیت کی نشان دہی ہے۔ روح ایک مشین ہے یا ایک ایسا کمپیوٹر ہے جس کی بے شمار ڈائیاں ہیں۔ مختلف ڈائیوں میں جب مسالہ پڑتا ہے تو ڈائی کے مطابق نئے نئے لباس میں نئی نئی صورتیں مظہر بن کر ہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔ کبوتر کی شکل و صورت کی ڈائی میں پلاسٹک کا مسالہ ڈالا جائے تو کبوتر بنے گا۔ پھول کی ڈائی میں مسالہ ڈالا جائے تو پھول بنے گا، علیٰ ہذالقیاس ڈائیاں مختلف ہیں مسالہ ایک ہے۔ لیکن اس مسالے کی بنیاد پر ہر شکل مختلف بن رہی ہے۔ ڈائی کے اوپر اگر غور کیا جائے تو یہ بات بالکل سامنے کی ہے کہ کبوتر کی ڈائی میں اور بلی کی ڈائی میں ایک نمایاں فرق ہے۔ اس نمایاں فرق کو قرآن ‘‘مقداروں’’ کا نام دیتا ہے (سورۃ الأعلیٰ – آیت نمبر 3) …. یعنی ہر ڈائی مختلف اور معیّن مقداروں سے بنی ہوئی ہے اور یہ معیّن مقداریں باوجود ایک ہونے کے الگ الگ ہیں۔ اس کے لئے شکل و صورت میں اختلاف واقع ہوتا رہتا ہے۔ ڈائی جس چیز یا مسالے سے بنی ہے وہ بھی ایک ہے اور ڈائی کے اندر جو مسالہ ڈالا گیا ہے وہ بھی ایک ہے لیکن ڈائی بذات خود مختلف ہے۔ یہ اختلاف ہی مختلف شکل و صورت کا سبب بنتا ہے۔ ایک طرح کی مقداروں سے ایک نوع تخلیق ہو جاتی ہے۔ اس نوع کے اندر معیّن مقداروں میں جب ردّ و بدل ہوتا ہے تو افراد وجود میں آتے ہیں۔ نوع کی معیّن مقداریں جب آدم کے رنگ میں جلوہ افروز ہوتی ہیں تو آدم کی صورت سامنے آ جاتی ہے۔ آدم جن مقداروں کا نام ہے جب ان مقداروں میں پہچان پیدا ہو اور ہیجان کی وجہ سے مقداروں میں ٹوٹ پھوٹ واقع ہوئی تو مقداروں کا توازن بدل گیا۔ مقداروں کا توازن بدلنا یہ معنی رکھتا ہے کہ نئی مقداریں وجود میں آ گئیں جیسے ہی مقداروں میں ہیجان پیدا ہوا اور اس ہیجان سے مقداروں میں ردّ و بدل ہوا نتیجے میں حوّا کا وجود ابّا آدم کے سامنے آ گیا۔
اب مقداروں کے دو رخ متعیّن ہو گئے۔ باوجود اس کے کہ مقداروں میں ردّ و بدل واقع ہوا جب اس ردّ و بدل کے نتیجے میں کوئی صورت وجود میں آئی تو اس صورت کے اندر بھی مقداریں معیّن ہو گئیں۔ مقداریں معیّن ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ڈائی کے اندر مخصوص طاقت مخصوص وزن مخصوص رنگ کی مقداریں جمع ہو جائیں تو ایک خوبصورت تصویر بنتی ہے جس کا نام آدم ہے اور اگر اس ڈائی میں ایسی مقداریں جمع ہو جائیں جس کا رنگ قدرے مختلف ہو، وزن دو گنا پھر وزن کم یا قدرے زیادہ ہو اس صورت کا نام عورت ہے۔ ڈائی کے اندر جو مسالہ ڈالا جاتا ہے وہ بھی ایک ہے لیکن مقداروں میں ردّ و بدل ہوتا رہتا ہے اور مقداروں کے ردّ و بدل سے نئی نئی شکلیں وجود میں آتی رہتی ہیں۔اللہ کریم نے ارشاد فرمایا ہے کہ پاک اور بلند مرتّبہ ہے وہ ذات جس نے تخلیق کیا معیّن مقداروں سے اور پھر ان مقداروں سے مرکب مخلوق کو زینت بخشی اور اس مخلوق کو ایک رنگ دیا۔ زمین پر رنگ رنگ کی مخلوق کے اندر ایک معیّن چیز ڈالی جو مَیٹر (Matter)ہے اور جو چیز الگ الگ کرتی ہے وہ مقداریں ہیں اور ان مقداروں کو ہم رنگ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ رنگوں میں ردّ و بدل شکل و صورت کا باعث بنتا ہے۔ جس طرح معیّن مقداروں سے صورت بنتی ہے اور مختلف شکلیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ اسی طرح معیّن مقداروں سے ہمارے اندر حواس بنتے ہیں جب تک حواس معیّن مقداروں پر قائم ہیں۔ صحت مند ہیں اور حواس کے اندر مقداریں کم یا زیادہ ہوں تو حواس غیر صحت مند ہو جاتے ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 64 تا 69

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)