مغربی حاجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=13058

عیسائیوں نے سازش کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمِ اطہر کو قبر سے نکال کر لے جائیں۔ نور الدین زِنگی تہجد گزار بادشاہ تھا۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دو سرخ فام اشخاص کی طرف اشارہ کر کے فرما رہے ہیں، ’’نور الدین مجھے ان دونوں سے بچا۔‘‘

سلطان نے بیدار ہوکر وضو کیا، نوافل اد ا کرکے سوگیا۔ دوسری بار پھر اس نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہی دو سرخ رنگ اشخاص کی طرف اشارہ کر کے فرما رہے ہیں، ’’ نور الدین مجھے ان دو کتوں سے بچا۔‘‘

سلطان نے نوافل ادا کئے پھر سوگیا۔ تیسری بار اس نے پھر وہی خواب دیکھا۔ ایک ہی رات تین بار حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے ایک کام کا حکم دیا تھا۔ سلطان نے اپنے وزیر مردِ صالح جمال الدین موصلی کو طلب کیا اور اس سے مشورہ کیا۔ جمال الدین موصلی نے کہا، ’’ آپ یہاں کیسے بیٹھے ہیں۔ آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب فرمایا ہے۔ فوراً روانہ ہوجائیے۔ یقیناً مدینہ میں کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے۔ جس کے لئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے آپ کو بلایا گیا ہے۔‘‘

سلطان نور الدین تیز رفتار سواریوں پر بیس آدمیوں کے ساتھ مدینہ روانہ ہوا۔ جمال الدین موصلی ایک ہزار اونٹ اور گھوڑے مال سے لاد کر لے گیا۔ سولہ دن سفر کرکے سلطان مدینہ پہنچا۔ اس نے اعلان کرایا کہ سلطان حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کے ارادے سے آیا ہے اور اہل مدینہ میں تقسیم کرنے کے لئے بہت سارا سامان لایا ہے۔ تمام اہلِ مدینہ دعوت میں شریک ہوں۔

لوگ جوق در جوق دعوت میں شریک ہوئے۔ جو شخص آتا سلطان اسے غور سے دیکھتا تھا۔

اہلِ مدینہ آگئے تو سلطان نے پوچھا۔

’’کیا کوئی باقی رہ گیا ہے؟‘‘

لوگوں نے بتایا کہ اہلِ مدینہ میں کوئی باقی نہیں رہا البتہ دو مغربی حاجی نہیں آئے۔ یہ گوشہ نشین حاجی دن رات اپنے حجرے میں عبادت کرتے ہیں۔ محتاجوں کو اکثر صدقہ ریتے رہتے ہیں۔ محفل میں شریک نہیں ہوئے۔‘‘

سلطان نے حکم دیا کہ دونوں کو حاضر کیا جائے۔

سلطان نے انہیں دیکھتے ہی پہچان لیا۔ سلطان نے پوچھا:

’’ تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟‘‘

انہوں نے جواب دیا ’’ ہم حج کرنے کے لئے آئے ہیں۔‘‘

سلطان نے دریافت کیا کہ یہ لوگ کہاں ٹہرے ہوئے ہیں؟ لوگوں نے بتایا حجرہ شریف کے قریب رباط میں رہتے ہیں۔

سلطان نے دونوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور جہاں وہ رہتے تھے اس جگہ کی تلاشی لی، مگر وہاں صدقہ، خیرات کے لئے بہت سا مال، قرآن مجید اور وعظ و نصیحت کی کتابوں اور مال و اسباب کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ لوگوں نے ان کی پارسائی کی شہادت دی، تعریف کی اور بتایا کہ یہ دونوں حاجی بڑے سخی اور فیاض ہیں۔ سارا دن روزہ رکھتے ہیں، روضہ شریف پر حاضر ہو کر درود و سلام پڑھتے ہیں، ہر صبح جنت البقیع کی زیارت کرتے ہیں اور ہر شنبہ کو زیارت کے لئے قباء جاتے ہیں۔ کسی سائل کا سوال رد نہیں کرتے، ان کی فیاضی کی وجہ سے مدینے میں کوئی محتاج نہیں رہا۔ سلطان نے زیادہ توجہ سے تلاشی لی تو مصلہ کے نیچے تہہ خانہ نظر آیا۔ جہاں سے سرنگ حجرہ شریف کی طرف کھودی گئی تھی۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ حاجیوں کے بھیس میں وہ شیطان کے نمائندے تھے اور جسم اطہر کو نکال کر لے جانا چاہتے تھے۔ وہ شیطان صفت لوگ رات کو سرنگ کھودتے تھے۔ سرنگ کھودنے سے جو مٹی نکلتی تھی وہ چمڑے کی تھیلیوں میں بھر کر علی الصبح جنت البقیع میں قبروں پر ڈال آتے تھے۔ کھدائی مکمل ہوچکی تھی اور حجرہ کے قریب پہچ چکے تھے۔ اگلی صبح سلطان نور الدین زنگی نے انہیں گرفتار کرلیا۔ سلطان نے ان دونوں کو قتل کرادیا۔ سلطان نور الدین زنگی اس عظیم مقصد کے لئے اپنے انتخاب پر سجدے میں گرکر خوب رویا۔ سلطان نےحجرہ شریف کے گرد پانی کی تہہ تک خندق کھدوائی اور اس خندق کو پگھلے ہوئے سیسہ سے بھروا دیا ۔ روایت کے مطابق یہ واقعہ ۵۵۵ ہجری میں پیش آیا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 209 تا 212

محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم کے مضامین :

ِ یا صاحب الجمال  ِ دیباچہ  ِ 1 - قرآن اور آسمانی کتابیں  ِ 2.1 - ستارے قریب آئے  ِ 2.2 - پنگوڑے میں چاند  ِ 2.3 - مائی حلیمہ  ِ 2.4 - دو اجنبی  ِ 3.1 - بادلوں کا سایہ  ِ 3.2 - بارش کا وسیلہ  ِ 3.3 - درخت، پتھر سجدے میں گر گئے  ِ 3.4 - نبیوں کا درخت  ِ 4 - تبت یدا  ِ 5 - دو کمانوں سے کم فاصلہ  ِ 6 - ہجرت کی رات  ِ 7.1 - دو سردار  ِ 7.2 - نگاہ مرد حق آگاہ  ِ 8.1 - جب چاند دو ٹکڑے ہوا  ِ 8.2 - تابع فرمان سورج  ِ 9 - پہاڑ نے حکم مانا  ِ 10 - پتھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موم ہو گئے  ِ 11 - سنگریزوں نے کلمہ پڑھا  ِ 12 - باطل مٹ گیا  ِ 13 - درخت کی گواہی  ِ 14 - حنین جذع کا واقعہ  ِ 15.1 - کھجور کی تلوار  ِ 15.2 - لاٹھی قندیل بن گئی  ِ 15.3 - لکڑی میں روشنی  ِ 16.1 - اونٹ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھا  ِ 16.2 - اونٹ نے شکایت کی  ِ 16.3 - ہرنی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی  ِ 17 - اور آپؐ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک  ِ 18.1 - مستجاب الدعٰوۃ  ِ 18.2 - شیر آیا  ِ 18.3 - پانی برسا  ِ 18.4 - ابو ہریرہؓ کی ماں  ِ 18.5 - اندھی آنکھ میں بینائی  ِ 18.6 - کھانے میں برکت  ِ 19 - جنگ خندق  ِ 20 - حضرت عائشہؓ کی برأت  ِ 21 - حدیبیہ میں کنواں  ِ 22.1 - کعبہ کی کنجی  ِ 22.2 - بائیکاٹ  ِ 22.3 - سراقہ اور کنگن  ِ 23 - دست رحمت  ِ 24 - جن نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلدی چلو  ِ 25.1 - بچانے والا اللہ ہے  ِ 25.2 - مغربی حاجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message