یہ تحریر العربية (عربی) میں بھی دستیاب ہے۔

معراج

کتاب : تجلیات

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=3034

اسلام کے ابتدائی دور کے بعد وہ گھڑی بھی آئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ہادئ عالم نبئ کریم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے سیر ملکوت معین کی تھی۔ اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میرے حبیب خاص کے لئے افلاک کے راستوں کو سجائیں۔ رضوان جنت کو ہدایت کی کہ آنے والے نبئ کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی عظمت کے مطابق خلد بریں کو مزین کریں۔ جبرئیل امین کو حکم صادر فرمایا کہ وہ محبوبِ کبریا رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے وہ سواری لے جائیں جو برق سے زیادہ تیز رفتار اور شعاعِ مہر سے زیادہ سبک خرام ہو۔ اس شان سے نبئ کریم صلی اللہ علیہ و سلم معراج میں تشریف لے گئے اور وحی الٰہی کی صدا سے خطہ لا ہوتی گونجنے لگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا۔
سُبْحٰنَ الَّذِيْ اَسْرٰی بِعَبْدِه لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰـرَکْنَا حَوْلَه لِنُرِيَه مِنْ اٰيٰـتِنَا (سورۂ بنی اسرائیل)
ترجمہ: اللہ تبارک و تعالیٰ وہ ذات پاک ہے جو راتوں رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے گرد ہم نے برکت رکھی تا کہ ہم اسے اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائیں۔
السلام عليك أيها النبي
یہ واقعہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی بیان فرمایا جس کو امانتوں اور سچائی پر کسی قوم کو شک و شبہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس سرعت رفتار کی بہت سی مثالیں سامنے ہیں۔ آواز کی رفتار، روشنی کی رفتار، سیاروں کی رفتار اور خود انسان کے نور نگاہ کی رفتار وغیرہ۔
معراج کا واقعہ سائنس دانوں کے لئے ایک مشعل راہ ہے۔ کیا چودہ سو سال قبل راکٹ اور خلائی شٹل کی رفتار کا کسی انسان کو تصور بھی ممکن تھا؟ ذرا غور فرمایئے انسان کے نور نگاہ کی سرعت رفتار کا کیا حال ہے۔ اِدھر آنکھ کھلی اُدھر آنکھ کی ننھی سی پُتلی میں وسیع کائنات سمانے لگی۔ معراج کا واقعہ انسانی عقل اور فکر بشری کے لئے قیامت تک سائنس دانوں اور عام انسانوں کے فضائے کائنات اور خلا کی لا محدود مقامات کی ریسرچ اور تسخیر کے لئے ایک نمونہ، فلسفہ اور کلیہ ہے جو کہ ہیلی کاپٹر، ہوائی جہاز، راکٹ اور خلائی شٹل کے لئے گائڈ لائن ہے۔
نبئ کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کی اصل نوعیت دعوت و تبلیغ ہے۔ آپ نے تمام اقوام عالم کو دعوت دی ہے اور ہمیشہ کے لئے اعلان کر دیا ہے کہ یہ عالم وجود اور سلسلۂ کون و مکاں جو تاحدِّ نظر پھیلا ہوا ہے نہ ہمیشہ سے ہے اور نہ ہمیشہ رہے گا۔
مگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے قائم بالذات اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ ہر اعتبار سے تنہا اور اکیلا ہے۔ چنانچہ نہ تو اس کی ذات میں کوئی شریک ہے اور نہ صفات میں، نہ حقوق میں نہ اختیارات میں۔ دعوت و تبلیغ میں اس بات کا واضح اور کھلا انکشاف ہے کہ آخرت پر ایمان عقیدۂ اسلام کا اساسی جزو ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 186 تا 187

یہ تحریر العربية (عربی) میں بھی دستیاب ہے۔

تجلیات کے مضامین :

ِ 1 - قرآن  ِ 2 - زمین پر اندھیرا  ِ 3 - آسمانوں میں اعلان  ِ 4 - ہماری تصویر  ِ 5 - تسخیرِ کائنات  ِ 6 - دولت کی محبت بت پرستی ہے  ِ 7 - ترقی کا محرم غیر مسلم؟  ِ 8 - کفن دفن  ِ 9 - آگ کا سمندر  ِ 10 - روح کی آنکھیں  ِ 11 - سوکھی ٹہنی  ِ 12 - پرخلوص دل  ِ 13 - تبلیغ  ِ 14 - مشعل راہ  ِ 15 - تخلیقی فارمولے  ِ 16 - توبہ  ِ 17 - بھلائی کا سرچشمہ  ِ 18 - عظیم احسان  ِ 19 - طرزِ فکر  ِ 20 - حج  ِ 21 - شیریں آواز  ِ 22 - دو بیویاں  ِ 23 - صراط مستقیم  ِ 24 - ماں باپ  ِ 25 - محبت  ِ 26 - خود داری  ِ 27 - بیداری  ِ 28 - قطرۂ آب  ِ 29 - خدا کی تعریف  ِ 30 - زندگی کے دو رُخ  ِ 31 - علم و آگہی  ِ 32 - جھاڑو کے تنکے  ِ 33 - رزق  ِ 34 - مُردہ قوم  ِ 35 - پیغمبر کے نقوشِ قدم  ِ 36 - نیکی کیا ہے؟  ِ 37 - ضدی لوگ  ِ 38 - سعید روحیں  ِ 39 - توفیق  ِ 40 - سورج کی روشنی  ِ 41 - رب کی مرضی  ِ 42 - دُنیا اور آخرت  ِ 43 - بیوی کی اہمیت  ِ 44 - خود شناسی  ِ 45 - دماغ میں چُھپا ڈر  ِ 46 - روزہ  ِ 47 - مناظر  ِ 48 - دُعا  ِ 48 - مساجد  ِ 50 - علیم و خبیر اللہ  ِ 51 - مایوسی  ِ 52 - ذخیرہ اندوزی  ِ 53 - بھائی بھائی  ِ 54 - اللہ کی کتاب  ِ 55 - اونگھ  ِ 56 - انسان کے اندر خزانے  ِ 57 - اللہ کی صناعی  ِ 58 - ناشکری  ِ 59 - آئینہ  ِ 60 - مُردہ دلی  ِ 61 - خدا کی راہ  ِ 62 - غرور  ِ 63 - رمضان  ِ 64 - قبرستان  ِ 65 - قرآن اور تسخیری فارمولے  ِ 66 - اچھا دوست  ِ 67 - موت سے نفرت  ِ 68 - خطاکار انسان  ِ 69 - دوزخی لوگوں کی خیرات  ِ 70 - معاشیایات  ِ 71 - آدابِ مجلس  ِ 72 - السلامُ علیکُم  ِ 73 - گانا بجانا  ِ 74 - مخلوق کی خدمت  ِ 75 - نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ِ 76 - صبر و استقامات  ِ 77 - مہمان نوازی  ِ 78 - مسکراہٹ  ِ 79 - بلیک مارکیٹنگ  ِ 80 - دوست  ِ 81 - مذہب اور نئی نسل  ِ 82 - معراج  ِ 83 - انسانی شُماریات  ِ 84 - جائیداد میں لڑکی کا حصہ  ِ 85 - دعوتِ دین  ِ 86 - فرشتے نے پوچھا  ِ 87 - سونے کا پہاڑ  ِ 88 - مچھلی کے پیٹ میں  ِ 89 - بچوں کے نام  ِ 90 - صدقہ و خیرات  ِ 91 - اپنا گھر  ِ 92 - غیب کا شہُود  ِ 93 - حقوق العباد  ِ 94 - فقیر دوست  ِ 95 - بے عمل داعی  ِ 96 - عید  ِ 97 - جذب وشوق  ِ 98 - موت کا خوف  ِ 99 - فرشتوں کی جماعت  ِ 100 - اعتدال  ِ 101 - مشن میں کامیابی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message