مشاہداتی نظر

کتاب : آگہی

مصنف : خواجہ شمس الدۤین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=11292

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورہ بقرہ کی ابتدائی آیتوں میں فرمایا ہے کہ
“اس کتاب میں شک نہیں ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کیلئے ہدایت ہے جو متقی ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں جو غیب پر یقین رکھتے ہیں۔”
(سورۃ البقرہ۔ آیت۱)

غیب پر یقین رکھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ مشاہداتی نظر کے حامل ہوں۔ ان کے اندر غیب بین نظر کام کرتی ہو۔ جب تک انسان کے اندر مشاہداتی نظر کام نہیں کرے گی اس کے لئے کائنات تسخیر نہیں ہو گی۔
تسخیر یہ بھی ہے کہ زمین ایک قاعدے اور ضابطے کے تحت ہمیں رزق فراہم کر رہی ہے۔ ہم زمین پر مکان بناتے ہیں تو زمین مکان بنانے میں حائل نہیں ہوتی۔ زمین اتنی سنگلاخ اور سخت جان نہیں بن جاتی کہ ہم اس میں کھیتیاں نہ اُگا سکیں، اتنی نرم نہیں بن جاتی کہ ہم زمین کے اوپر چلیں تو ہمارے پیر دھنس جائیں۔
سورج اور چاند ہماری خدمت گزاری میں مصروف ہیں۔ ایک قاعدے اور ضابطے میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں جو ان کے اوپر فرض کر دی گئی ہے۔ چاند کی چاندنی سے پھلوں میں مٹھاس پیدا ہوتی ہے اور سورج کی گرمی سے میوے پکتے ہیں۔ الغرض کائنات کا ہر جزو اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور اس عمل سے ہمیں اختیاری یا غیر اختیاری فائدہ پہنچ رہا ہے۔
ایک تسخیر یہ ہے کہ آپ اپنے اختیار کے تحت زمین سے، سمندر سے، دریاؤں سے، پہاڑوں سے، چاند سے، سورج سے اور دیگر اجزائے کائنات سے کام لے سکیں۔۔۔۔۔۔اور اعلیٰ تسخیر یہ ہے کہ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام انگلی سے اشارہ کر دیں تو چاند دو ٹکڑے ہو جائے۔
حضرت عمر فاروقؓ دریائے نیل کو خط لکھ دیں۔ “اگر تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے چل رہا ہے تو سرکشی سے باز آ جا ورنہ عمر کا کوڑا تیرے لئے کافی ہے۔”
ایک شخص نے حضرت عمرؓ سے شکایت کی! “یا امیرالمومنین! میں زمین پر محنت کرتا ہوں، بیج ڈالتا ہوں اور جو کچھ زمین کی ضروریات ہیں انہیں پورا کرتا ہوں لیکن بیج جل جاتا ہے۔”
حضرت عمرؓ نے فرمایا۔ “جب میرا اس طرف سے گزر ہو تو بتانا۔”
حضرت عمرؓ جب ادھر سے گزرے تو ان صاحب نے زمین کی نشاندہی کی۔ حضرت عمرؓ تشریف لے گئے اور زمین پر کوڑا مار کر فرمایا کہ
“تو اللہ تعالیٰ کے بندے کی محنت ضائع کرتی ہے جب کہ وہ تیری ضروریات پوری کرتا ہے۔”
اور اس کے بعد زمین لہلہاتے کھیت میں تبدیل ہو گئی۔
ہم جانتے ہیں کہ ساری کائنات اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے تخلیق کی ہے۔ کائنات کے تمام اجزاء بشمول انسان اور انسان کے اندر کام کرنے والی تمام صلاحیتیں ایک مرکزیت پر قائم ہیں۔
آیئے! انسان کے اندر کام کرنے والی صلاحیتوں کا سراغ لگائیں۔ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ ہمارے تصورات اور احساسات گوشت پوست کے ڈھانچے کے تابع نہیں ہیں بلکہ روح کے تابع ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق روح کا علم قلیل دیا گیا ہے مگر لامحدود کا قلیل جزو بھی لامحدود ہوتا ہے۔ روح لامحدود ہے اس علم کے جاننے والے حضرات نے اس علم کو سمجھنے کے لئے اس کی درجہ بندی کی ہے اور فارمولے بنائے ہیں اور ان فارمولوں سے اپنے شاگردوں کو روشناس کیا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 49 تا 50

آگہی کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ 1 - روحانی اسکول میں تربیت  ِ 2 - با اختیار بے اختیار زندگی  ِ 3 - تین سال کا بچہ  ِ 4 - مرید کی تربیت  ِ 5 - دس سال۔۔۔؟  ِ 6 - قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ  ِ 7 - موت حفاظت کرتی ہے  ِ 8 - باہر نہیں ہم اندر دیکھتے ہیں  ِ 9 - اطلاع کہاں سے آتی ہے؟  ِ 10 - نیند اور شعور  ِ 11 - قانون  ِ 12 - لازمانیت اور زمانیت  ِ 13 - مثال  ِ 14 - وقت۔۔۔؟  ِ 15 - زمین پر پہلا انسان  ِ 16 - خالق اور مخلوق  ِ 17 - مٹی خلاء ہے۔۔۔  ِ 18 - عورت کے دو رُخ  ِ 19 - قانون  ِ 20 - ہابیل و قابیل  ِ 21 - آگ اور قربانی  ِ 22 - آدم زاد کی پہلی موت  ِ 23 - روشنی اور جسم  ِ 24 - مشاہداتی نظر  ِ 25 - نیند اور بیداری  ِ 26 - جسمِ مثالی  ِ 27 - گیارہ ہزار صلاحیتیں  ِ 28 - خواتین اور فرشتے  ِ 29 - روح کا لباس؟  ِ 30 - ملت حنیف  ِ 31 - بڑی بیگمؓ، چھوٹی بیگمؓ  ِ 32 - زم زم  ِ 33 - خواتین کے فرائض  ِ 34 - تیس سال پہلے  ِ 36 - کہکشانی نظام  ِ 37 - پانچ حواس  ِ 38 - قانون  ِ 39 - قدرِ مشترک  ِ 40 - قانون  ِ 41 - پچاس سال  ِ 42 - زندگی کا فلسفہ  ِ 43 - انسانی مشین  ِ 44 - راضی برضا  ِ 45 - زمانے کو بُرا نہ کہو، زمانہ اللہ تعالیٰ ہے(حدیث)  ِ 46 - مثال  ِ 47 - سائنس اور روحانیت  ِ 48 - مادی دنیا اور ماورائی دنیا  ِ 49 - چاند گاڑی  ِ 50 - تین ارب سال  ِ 51 - کائناتی نظام  ِ 52 - تخلیق کا قانون  ِ 53 - تکوین  ِ 54 - دو علوم۔۔۔  ِ 55 - قانون  ِ 56 - ذات کا عرفان  ِ 57 - روحانی شاگرد  ِ 58 - ذات کی نفی  ِ 59 - پانچ کھرب بائیس کروڑ!  ِ 60 - زندگی کا تجزیہ  ِ 61 - عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ  ِ 62 - دین فطرت  ِ 63 - عید  ِ 64 - ملائکہ اعلان کرتے ہیں  ِ 65 - بچے اور رسول اللہﷺ  ِ 66 - افکار کی دنیا  ِ 67 - مثال  ِ 68 - تحقیق و تلاش  ِ 69 - Kirlian Photography  ِ 70 - قرآن علوم کا سرچشمہ ہے  ِ 71 - روشنی سے علاج  ِ 72 - روشنی کا عمل  ِ 73 - چھ نقطے  ِ 74 - قانون  ِ 75 - امراض کا روحانی علاج  ِ 76 - مشق کا طریقہ  ِ 77 - نور کا دریا  ِ 78 - ہر مخلوق عقل مند ہے  ِ 79 - موازنہ  ِ 80 - حضرت جبرائیل ؑ  ِ 81 - ڈائری  ِ 82 - ماں کی محبت  ِ 83 - حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانیؒ  ِ 84 - اکیڈمی میں ورکشاپ  ِ 85 - زمین اور آسمان  ِ 86 - ورد اور وظائف  ِ 87 - آواز روشنی ہے  ِ 88 - مثال  ِ 89 - نگینوں سے علاج  ِ 90 - تقدیر کیا ہے؟  ِ 91 - مثال  ِ 92 - حضرت علیؓ کا ارشاد  ِ 93 - فرشتے، جنات اور آدم ؑ  ِ 94 - انسان اور موالید ثلاثہ  ِ 95 - سلطان  ِ 96 - مثال  ِ 97 - دو رخ  ِ 98 - سیاہ نقطہ  ِ 99 - قانون  ِ 100 - کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالی۔۔۔  ِ 101 - تین کمزوریاں  ِ 102 - عفو و درگذر  ِ 103 - عام معافی  ِ 104 - توازن  ِ 105 - شکر کیا ہے؟  ِ 106 - قافلہ سالار  ِ 107 - ٹیم ورک  ِ 108 - سلسلہ عظیمیہ کے ارکان کی ذمہ داری  ِ 109 - چھوٹوں کی اصلاح  ِ 110 - ایک نصیحت  ِ 111 - صبحِ بہاراں  ِ 112 - دنیا مسافر خانہ ہے  ِ 113 - روح کیا ہے؟  ِ 114 - سانس کی مشقیں  ِ 115 - من کی دنیا  ِ 116 - بے سکونی کیوں ہے؟  ِ 117 - غور و فکر  ِ 118 - روحانی علوم  ِ 119 - ہمارے بچے  ِ 120 - اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں  ِ 121 - اللہ ھُو  ِ 122 - اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگو  ِ 123 - قربت  ِ 124 - ہر مخلوق باشعور ہے  ِ 125 - کامیاب زندگی  ِ 126 - انا کی لہریں  ِ 127 - صدقۂ جاریہ  ِ 128 - ادراک یا حواس
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message