محفلِ میلاد سے خطاب بمقام جامع عظیمیہ لاہور

کتاب : خطباتِ لاہور

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=25379

مورخہ ۱۶ مئی ۲۰۰۴ء  بروز جمعۃ المبارک مراقبہ ہال جامعہ آہلو روڈ، کاہنہ نَو لاہور میں جشن ِ عید میلاد النبیؐ کے سلسلے میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں لاہور کے علاوہ دوسرے شہروں سے بھی خواتین و حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں سلسلۂِ عظیمیہؔ کے خانوادہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے خصوصی طور پر شرکت فرمائی۔ تقریب کے اختتام پر نگران مراقبہ ہال لاہور، میاں مشتاق احمد عظیمی صاحب نے شرکاء محفل خصوصاً دوسرے شہروں سے آئے ہوئے لوگوں کی آمد پر ان کا اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔

مرشدِ کریم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا!

آج کا دن بہت مبارک ہے اور با سعادت ہے کہ ہم حضور نبی کریم ﷺ کی یاد میں آپ علیہ الصّلوٰۃ و السّلام کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی ذاتوں کو حضور نبی کریم ﷺ کے نُور سے منور کرنے کیلئے آج یہاں اکھٹے ہوئے ہیں۔ آپ سب خواتین و حضرات کو بہت مبارک ہو۔

 

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں:

الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۝

سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جو عالَمین کا ربّ ہے، یعنی ربّ کی تشریح یہ ہے کہ ایسی ہستی جو عالَمین کو زندہ رکھنے کیلئے وسائل پیدا کرتی ہے۔

الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۝

نہایت مہربان اور رحم کرنے والا۔ جو وسائل میں نے پیدا کئے ہیں ان وسائل کی تقسیم ایثار، محبت اور رحمت کے ساتھ کی جاتی ہے۔

مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ۝

یوم جزا کا مالک، یعنی ان وسائل کی تقسیم میں عدل و انصاف اور توازن برقرار رہتا ہے۔

 

اللہ تعالیٰ کی صفتِ ربوبیت پر غور کیا جائے تو وسائل کی پیدائش سامنے آتی ہے کیونکہ انسان اور زمین کے اوپر مَوجود تمام مخلوقات وسائل کی محتاج ہیں۔ اگر مخلوق کے لئے وسائل مہیانہ کئے جائیں تو مخلوق کی زندگی موت میں تبدیل ہوجائے۔ وسائل سے مراد زمین، پانی، آسمان، بارش، ہوا، دھوپ، پھل، اناج، فضا، مختلف گیسز، معدنیات، جمادات، نباتات ہیں۔ آکسیجن یا ہَوا کے بغیر نہ تو زندگی کا تصور قائم ہوتا ہے اور نہ ہی زندگی قائم رہ سکتی ہے۔

بے شک سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے عالَمین کیلئے وسائل پیدا کئے اور صفتِ رحمت کے ساتھ ان وسائل کو عدل و توازن کے ساتھ قائم رکھا ہوا ہے۔ نوعِ انسانی اور زمین پر آباد تمام مخلوقات ان وسائل سے فیضیاب ہوتی ہیں۔ ان وسائل کے بغیر زندگی کا تصور قائم نہیں ہوتا۔

انسانی زندگی کی بقاء اور تقاضوں کی تکمیل کیلئے جو وسائل ہمیں میسر ہیں ان وسائل کی ایک خاص تقسیم ہے۔ مثلاً ہم ہَوا استعمال کرتے ہیں اگر ہَوا میں توازن نہ رہے اور ہَوا کے طوفان آجائیں تو ہماری زندگی تہس نہس ہو جائے گی۔ ہوا میں اگر آکسیجن کی مِقدار کم و بیش ہوجائے تو ہم زندہ نہیں رہیں گے۔ اسی طرح اگر پانی کی تقسیم میں توازن برقرار نہ رہے تو پانی کا طوفان آجائے گا، سیلاب میں انسان کی زندگی قائم نہیں رہتی بلکہ دنیا تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ پتہ چلا کہ وسائل کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان میں توازن ہو، تاکہ زندگی تباہ و بربادنہ ہو اور وسائل مخلوق کیلئے راحت و عافیت کا سبب بنیں۔ مخلوق کو آرام و آسائش مہیا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ان وسائل کو رحمت کے ساتھ تقسیم کیا جائے۔

 

ہر مخلوق اللہ کی محتاج ہے صرف اللہ وسائل کی احتیاج سے ماوراء ہے۔

ربّ العالَمین نے جب کائنات بنائی اور اس کائنات کیلئے وسائل پیدا کئے تو پھر ربّ کائنات نے یہ چاہا کہ وسائل تقسیم کرنے والی ہستی مخلوق میں سے منتخب کی جائے۔ اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نہ کھاتے ہیں۔ نہ پیتے ہیں۔ نہ انہیں گھر کی ضرورت ہے۔ نہ ان کا کوئی باپ ہے۔ نہ ان کی کوئی ماں ہے۔ نہ ان کی کوئی اولاد ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے لئے  *** الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ *** کی صفت بیان فرمائی ہے جو عالَمین کے لئے وسائل پیدا کرتا ہے۔ عالَمین سے وسائل کی احتیاج ختم ہوجائے تو تغیّر بھی ختم ہوجائے اور کائنات ختم ہوجائے۔ وسائل کی تقسیم میں یہ بات بنیادی ہے کہ وسائل کی تقسیم وہ کرے جو وسائل کی احتیاج سے آشنائی رکھتا ہو اور جو وسائل کی ضرورت، حصول و استعمال کی صفات رکھتا ہو۔ وسائل کی تقسیم کیلئے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی ہستی پیدا فرمائی جس کے اَندر وسائل کی حاجت رکھ دی اور جس کے اَندر تقاضے پیدا کر دیئے کہ وہ وسائل کو استعمال بھی کرے۔

 

اللہ تعالیٰ نے وسائل تقسیم کرنے والی اس ہستی کیلئے فرمایا!

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ (سورۃ الأنبیاء – 107)

  • اللہ نے اپنے نُور سے کائنات کے نقش و نگار بنائے۔
  • ضروریات اور احتیاجات پیدا کیں اور وسائل پیدا فرمائے۔
  • ان وسائل کی تقسیم کیلئے آپ ﷺ کو رحمت للعالَمین بنایا اور
  • اپنے محبوب بندے ﷺ کے اَندر وسائل کی احتیاج رکھی کیونکہ اللہ تعالیٰ ․․․․․ خالقِ اکبر کسی قسم کی احتیاج نہیں رکھتے۔

 

سورۃ اخلاص میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

اللّٰہُ الصَّمَدُ

اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ احتیاج سے ماوراء ہے۔

اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم و کریم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو رحمت کے ساتھ بنایا۔ اس نے مخلوق کو پیار، محبت اور چاہت کے ساتھ تخلیق کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اے محبوب ﷺ ہم نے آپ ؐ کو عالَمین کے لئے سراپا رحمت بنایا ہے اور آپ ؐ اس رحمت کے ساتھ وسائل تقسیم فرمائیں۔

 

اس طرح اللہ تعالیٰ نے نظامِ کائنات میں رسول اللہ ﷺ کو اپنے اور مخلوق کے درمیان واسطہ بنایا۔ رسول اللہ ﷺ خاتم النبیینؑ  ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مسلمان خوش نصیب ہیں کہ مسلمانوں کو جو در ملا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے بڑی ہستی حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کا در ہے۔

 

یاد رکھیں ! اللہ تعالیٰ ربّ العالَمین ہے۔ اس نسبت سے کوئی بندہ ربّ تو نہیں ہو سکتا البتہ….

رسول اللہ ﷺ رَحمتَ لِّلعالمين ہیں…. لہٰذا اس نسبت سے….  جب مسلمان رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آتا ہے اور کلمہ پڑھ کر اپنی نسبت رسول اللہ ﷺ سے قائم کر لیتا ہے تو….. مسلمان کو آپ ﷺ کی “نسبتِ رحمت”منتقل ہوجاتی ہے۔ ہر مسلمان چونکہ رسول اللہ ﷺ سے ایک رُوحانی، قلبی اور ظاہری رشتہ رکھتا ہے اس لئے اس کے اَندر یہ صفات منتقل ہوجاتی ہیں۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ عالَمین کیلئے رحمت ہیں اسی طرح ہر مسلمان کو پوری نوعِ انسانی کیلئے رحمت کا ایک چلتا پھرتا کردار ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو کافر کیلئے بھی رحمت بنایا ہے تاکہ وہ کافروں کے ساتھ اخلاقِ حسنہ سے پیش آئے اور کافر مسلمانوں کے حسنِ اخلاق اور کردار کو دیکھ کر ایمان قبول کریں جبکہ صورتحال یہ ہے کہ آج مسلمان خود مسلمانوں  کیلئے زحمت کا باعث بن گیا ہے۔

 

مقامِ فکر ہے کہ…. کیا ربّ العالَمین اور رحمت للعالَمین نے تفرقہ کی اجازت دی ہے؟ عالَمین سے کیا مراد ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے ربّ العالَمین اور رسول اللہ ﷺ کیلئے رحمت للعالَمین فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کیلئے رحمت للمسلمین نہیں فرمایا۔ کیا حضور پاک ﷺ کافروں کیلئے رحمت نہیں ہیں؟ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات یہ ہیں کہ کافر کو بھی کافر نہ کہو۔ رسول اللہ ﷺ نے کافر و غیر مسلم کے حقوق متعیّن فرمائے ہیں۔ یہ سوال کہ اگر رسول اللہ ﷺ رحمت للعالَمین ہیں، رحمت للمسلمین نہیں تو مسلمان اور غیر مسلم میں اور اسلام اور کفر میں کیا فرق ہوا؟ فرق یہ ہے کہ جب بندہ مسلمان ہو جاتا ہے تو اسے رحمت للعالَمین کی صفتِ رحمت منتقل ہوجاتی ہے اور کافر کو یہ صفت منتقل نہیں ہوتی۔ مسلمان اگر اپنے مسلمان بھائیوں کیلئے ہی رحمت نہیں ہے تو اسے سوائے محرومی اور بد نصیبی کے کیا ملے گا؟

میرے بزرگو، بھائیو، بیٹو اور میری بیٹیو، یاد رکھیں! رسول اللہ ﷺ کی سیرت ِ طیبہ کے مطالعے سے یہ بنیادی بات سمجھ میں آتی ہے کہ:

  • حضور پاک ﷺ رحمت للعالَمین ہیں۔
  • آپ ؐ کے ماننے والوں کو حضور ؐ کی “نسبتِ رحمت”منتقل ہوجاتی ہے۔
  • جب انسان کے اَندر رحمت ہوتی ہے تو اس کے اَندر اخلاقِ حسَنہ پیدا ہو جاتے ہیں۔
  • غصہ ختم ہوجاتا ہے۔
  • نفرت سے پاک ہوجاتا ہے
  • حسد، کینہ، بغض اور غرور و تکبر کی جگہ محبت پیدا ہوجاتی ہے۔
  • یہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہیں اور یہی آپ ﷺ کا اسوۂ حسنہ ہے۔
  • اس اسوۂ حسنہ کی بنیاد اللہ کی قربت اور نسبت ہے۔

 

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں”میرا کھانا، میرا پینا، میرا اٹھنا، میرا بیٹھنا، میرا سونا، میرا جاگنا، میرا لڑنا سب کچھ اللہ کیلئے ہیں” ….  یعنی رسول اللہ ﷺ ہمیشہ اللہ کی معرفت سوچتے ہیں۔ ہر چیز سے پہلے ذہن میں اللہ تعالیٰ آتا ہے اور پھر شے آتی ہے۔

اللہ تعالیٰ اُمّتِ مسلمہ کو اور ہم سب کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر عمل کریں اور میرا خیال ہے کہ یہ ایسا مشکل کام نہیں ہے کہ ہم نہ کر سکیں۔

 

اُمّت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے نبی ؐ کی طرزِ فکر کی حامل ہوتی ہے۔ ہم سب کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ:

“ہمارے اَندر رحمت یا غصہ ہے ؟”

محاسبہ کرنے کے بعد نظر آتا ہے کہ مسلمان میں غصہ، نفرت اور تکبر تو بہت آ گیا ہے لیکن رحمت کہیں نظر نہیں آتی…. اور مسلمانوں کے اَندر پانچ فیصد بھی ایسی خوبیاں نہیں ملتیں، جنہیں رسول اللہ ﷺ کی نسبت دی جاسکے بلکہ سچی بات تو یہ ہے اور دل یہ کہہ رہا ہے کہ مسلمان ایک فیصد بھی اسوۂ رسول اللہ ﷺ پر کار بند نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ غصہ روکنے والے افراد کے بارے میں فرماتے ہیں جو لوگ غصہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے محبت نہیں کرتا (سورۃ آلِ عمران – 134)

غصہ، نفرت اور کبر سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اسی سے عبارت ہے۔

آپ ؐ نے کبھی کسی پر غصہ نہیں کیا۔ بلکہ سب کو معاف فرمایا ہے۔ اپنے خاندان کے جھگڑے۔ قرضے، حتیٰ کہ قتل تک معاف فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو رحمت للعالَمین ؐ فرمایا ہے۔ حضرت ابو سفیان کی بیوی ہندہ نے حضور ؐ کے چچا کا کلیجہ چبایا اور بے حرمتی کی لیکن جب وہ مسلمان ہوگئی تو آپ ؐ نے اسے بھی معاف کردیا۔ اس کے بر عکس اگر ہم اپنی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو سوائے غصہ، نفرت، حقارت، تکبر، غیبت، دکھ اور پریشانی کے کچھ نظر نہیں آتا۔

 

سیدنا حضور علیہ الصّلوٰۃ و السّلام کی سیرت طیبہ ؐ  کا عملی مظاہرہ ہمارے سامنے ہے۔

  • حضور پاک ؐ سرا پا رحمت تھے
  • ہمیں بھی حضور پاک ﷺ کی طرزِ فکر پر عمل کرتے ہوئے اپنے بھائیوں، بچوں اور خاندان کیلئے رحمت بن کر رہنا چاہئے۔
  • جب ہم رحمت بن کر جئیں گے تو ہماری مشکلات پریشانیاں اور بے سکونی کی کیفیات ختم ہوجائیں گی۔

 

ایک دفعہ تفکر کرنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اطلاع ذہن میں انسپائر ہوئی کہ اصل عید تو عید میلاد النبی ﷺ ہے…. کیونکہ عید الفطر اور عید الاضحی تو حضور پاک ﷺ کی اس دنیا میں ولادت با سعادت کے بعد شروع ہوئیں۔ ارض سمٰوات، مخلوقات اور اُمّتِ مسلمہ کیلئے رسول اللہ ﷺ کی ولادت اصل عید ہے۔ اور عید الفطر و عید الاضحیٰ رسول اللہ ﷺ کی ولادت با سعادت اور حیاتِ طیبہ کے تابع ہیں۔ عید میلاد، آپ ؐ کی ولادت کی خوشی میں اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہونے کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو نہ معلوم کب سے تخلیق کر کے چھپا رکھا تھا۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے کو عالَمِ ناسوت میں بھیجا یہ اللہ تعالیٰ کا انعام اور مقامِ شکر ہے۔

اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے حضور پاک ﷺ کا ارشاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرا نُور تخلیق کیا۔ اور اس نُور سے ساری کائنات بنائی۔ یہ تمام کائنات، اس کے اَندر کی حرکت اور زندگی حضور پاک ﷺ کے نُور کے تابع ہے۔ غور فرمائیں کہ کائنات میں کیا کیا چیزیں مَوجود ہیں۔

عرش، کرسی، سمٰوات، ارض، فرشتے، انبیاء یعنی اللہ تعالیٰ کے ماسِوا جو کچھ بھی ہے، وہ سب کائنات ہے اور سب کچھ رسول اللہ ﷺ کے نُور سے تخلیق ہوا…. تو رسول اللہ ﷺ کی ولادت با سعادت سے بڑھ کر اور کون سی عید ہو سکتی ہے اور اس خوشی کو محسوس کرنا بڑی سعادت ہے اور ان کیلئے خوش نصیبی کا اشارہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کی اُمّت میں شامل ہیں اور ان کے پیروکار ہیں۔

یہ دن ہر سال آتا ہے چَودہ سو سال سے لوگ اس روز جمع ہوتے ہیں نعت خوانی ہوتی ہے مقالہ جات پڑھے جاتے ہیں اور سیرت طیبہ کا تذکرہ ہوتا ہے لیکن اس سب اہتمام کے بر عکس جب اُمّتِ مسلمہ کی زندگی اور اعمال کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو بہت افسوس ہوتا ہے کہ چَودہ سو سال سے رسول اللہ ﷺ کے اس حکم کو دہرایا جارہا ہے اور آپ ؐ کے اس مشن کا پرچار کیا جا رہاہے کہ: سب مسلمان بھائی بھائی ہیں۔

لیکن اس کے باوجود عمل مفقود ہے۔

خطبہ الوداع میں آپ ؐ نے فرمایا ہے کہ کوئی چھوٹا یا بڑا نہیں بلکہ بڑے یا چھوٹے ہونے کا معیار یہ ہے کہ مسلمان اللہ اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ کے احکامات پر کتنا عمل پَیرا ہے۔ جو بندہ اللہ اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ کے احکامات پر جتنا عمل کرتا ہے اسی مناسبت سے وہ متقی، پرہیز گار اور بزرگ ہے۔

امتِ مسلمہ کی بدنصیبی ہے کہ چَودہ سو سال سے ہزار یا تقاریر کو سننے، لاکھوں کلمات کا مطالعہ کرنے اور کروڑ ہا بار رسول اللہ ﷺ پر درود شریف بھیجنے کے باوجود تفرقہ کا شکار ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے اس حکم اور مشن ․․․․․”سب مسلمان بھائی بھائی ہیں” کے باوجود مسلمان کے پہچان یہ بن گئی ہے کہ وہ فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ جب تک فرقہ بندی اور آپس میں گروہ بندی کا تقابلی تذکرہ نہ کیا جائے….مسلمان کی شناخت نہیں ہوتی۔

چَودہ سو سال میں رسول اللہ ﷺ کے اس حکم کی اتنی خلاف ورزی ہوئی ہے جس کی کوئی مثال نہیں۔ آج مسلمانوں کی پہچان ہی یہ رہ گئی ہے کہ وہ دیوبندی، بریلوی، مقلد، غیر مقلد اور نہ معلوم کیا کیا ہیں…. بس نہیں ہیں تو صرف ایک اُمّت واحدہ نہیں ہیں۔

ہر سال محافلِ میلاد منعقد کرنا اور ان میں لوگوں کا ذوق و شوق سے شریک ہونا صرف نشستند، گفتند و برخاستند ہو کر رہ گیا ہے۔ صد افسوس کہ چَودہ سو سال میں علماء و مشائخ کا کائی ایسا گروہ پیدا نہ ہوا جس نے یہ کوشش کی ہے کہ۔ مسلمان صرف مسلمان ہیں اور کچھ نہیں !

اس کے بر عکس قوم تفرقہ میں بٹ گئی اور اس گروہ بندی کی وجہ سے قوم کا شیرازہ منتشر ہوگیا۔ وحدت اور اخوّت کی تعلیمات پردے میں چھپ گئی ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کیلئے جو انفرادی اور اجتماعی پروگرام مرتّب فرمایا ہے اس میں اجتماعیت کے سوا کوئی چیز نظر نہیں آتی۔

روزہ، باجماعت نماز، حج…. اجتماعی اعمال ہیں۔ ماحول اور معاشرہ کو صاف ستھرا رکھنا…. بے ایمانی سے بچنا…. اپنے بھائیوں کے حقوق غصب نہ کرنا…. یہ سب بھی اجتماعی اعمال ہیں۔

ایک اورایک گیارہ اور گیارہ اور گیارہ بائیس ہوتے ہیں۔

  • مسلمان تھوڑے سے ہی سہی لیکن اگر وہ آج یہ طے کرلیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے مشن کیلئے زبانی جمع تفریق کی بجائے زندگی میں عملی قدم بھی اُٹھائیں گے تو مسلمان اس دنیا کی سب سے بڑی قوت بن سکتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے اپنے مشن کیلئے بڑی بڑی تکالیف برداشت کیں اور پریشانیوں کا سامنا کیا۔ آپ ؐ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے۔ آپ ﷺ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اپنا آبائی شہر مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینہ منورہ ہجرت کرنی پڑی۔ غزوات و لڑائیوں میں حصہ لیا اور پھر صلہ رحمی سے ان سب تکالیف اور عزیز و اقرباء کا خون بہامعاف بھی فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ ساری تکالیف اس لئے برداشت کیں کہ وہ اُمّت کیلئے یہ مثال چھوڑکر جا رہے تھے کہ مسلمان ایک ہیں اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مضبوط ہیں۔

 

مسلمان اللہ کو ربّ اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول ؐ اور قرآن پاک کو اللہ کی کتاب جان کر اِن پر ایمان رکھتے ہیں پس جب اللہ ایک ہے۔ رسول اللہ ﷺ بھی ایک ہیں۔ کتاب بھی ایک ہے۔ اور مسلمان بھی رسول اللہ ﷺ کی ایک ہی اُمّت ہیں۔ تو یہ درمیان میں تفرقہ کہاں سے آ گیا؟

اس فرقہ بندی کی بنیاد پر کسی فرد کی رسائی نہ تو اللہ تعالیٰ تک ہوسکتی ہے نہ کوئی رسول اللہ ﷺ کو خوش کر سکتا ہے اور نہ ہی وہ کسی حال میں جنّت کا مستحق بن سکتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا واضح ارشاد ہے کہ میری اُمّت میں سے جو بندہ تعصب پر جیا وہ جنّت میں داخل نہیں ہوگا اور اس کو میری شفاعت نصیب نہیں ہوگی۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے:

اللہ کی رسی کو متحد ہو کر مضبوطی کے ساتھ پکڑو․․․․․ اور آپ میں تفرقہ نہ ڈالو (سورۃ آلِ عمران – 103)

رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے بر عکس جو آدمی تعصب پرجیا اور جس نے مسلمان کو اپنا بھائی نہ سمجھا اور تفرقہ بازی اختیار کرتے ہوئے کبر و غرور کیا وہ خسارے میں ہے۔ تفرقہ بازی کے نتیجے میں آدمی دیدہ و دانستہ کِبر اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں ہر فرقہ یہ سمجھتا ہے کہ صرف وہ سیدھے راستے پر ہے اور جنّت میں جائے گا۔ جبکہ حقیقت تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کون جنّت میں جائے گا۔ جب کوئی فرقہ یہ کہتا ہے کہ صرف وہ جنّتی ہے تو لا محالہ شیطان یہ وسوسہ اور خناس دل میں ڈال دیتا ہے کہ دوسرے دوزخی ہیں۔

زبان سے تو کہا نہیں جا سکتا لیکن جب اپنے آپ کو جنّتی قرار دے دیا جائے تو اس کا مفہوم یہی نکلتا ہے اور شیطانی وسوسہ ذہن کو اسی طرف لے جاتا ہے کہ دیگر لوگ جنّتی نہیں ہیں۔

 

ایک فرقہ جو اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرارا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا کلمہ پڑھ رہا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا رسول ؐ مان رہا ہے۔ قرآن پاک پر ایمان رکھتا ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ادا کر رہا ہے تو ایسے بندہ کیلئے یہ گمان کرنا کہ یہ جنّتی نہیں ہے اس سے بڑھ کر کوئی گمراہی نہیں ہوسکتی۔ تفرقہ بازی گمراہی ہے اور آدمی کو صراطِ مستقیم سے دُور کر دیتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ یہ کوشش فرمائی ہے کہ:

سارے مسلمان بھائی بھائی بن کر رہیں اور آپس میں نہ لڑیں۔ ایک دوسرے کی حق تلفی نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت سے رہیں اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کا یہی مشن ہے۔

بھائی کو بھائی سے لڑانا، مسلمانوں کو آپس میں دست وگریبان کر کے فساد و خون خرابہ کرانا شیطان کا مشن ہے۔ اگر کوئی شیطانی خصلتوں یعنی تعصب، نفرت، حقارت اور تفرقہ کو اپناتا ہے تو وہ ایسے راستے پر چل پڑتا ہے جو شیطان کا پسندیدہ ہے۔

 

اللہ تعالیٰ کا مشن توحید ہے اور اللہ تعالیٰ وحدت کی دعوت دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اُمّتِ مسلمہ کیلئے یہ حکم ہے کہ جس طرح تم مجھے ایک مانتے ہو اسی طرح مسلمان ایک قوم کی طرح متحد ہوں۔ اگر ساری مسلمان اُمّت ایک قوم بن جائے تو پھر یہ اللہ تعالیٰ کی دوست ہے اور اللہ تعالیٰ کی دوست قوم ذلیل و خوار نہیں ہوتی۔

آج اس کے بر عکس صورتحال یہ ہے کہ مسلمان سب سے زیادہ ذلیل، پریشان اور مفلوک الحال ہیں۔ اس دنیا میں اس وقت جتنی بڑی طاقتیں ہیں ان کی کوشش یہ ہے کہ مسلمانوں کے اَندر زیادہ سے زیادہ فرقے پیدا کردئیے جائیں۔ غیر مسلم اقوام اس پروگرام پر عمل پَیرا ہیں اور زیادہ سے زیادہ فرقے پیداہو رہے ہیں۔ نتیجاً مسلمان ذلیل و خوار ہیں۔ غیر مسلم حاکم اور مسلمان ہر جگہ محکوم ہیں۔

امتِ مسلمہ کا انتشار، زبوں حالی، بے عزتی، بر بادی اور ہلاکت صرف اس وجہ سے ہے کہ اسلام دشمنوں نے سازشوں کے ذریعے ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا ہے اور مسلمان تقسیم ہو کر فرقوں میں بٹ گئے ہیں۔ ۷۲ سال کی عمر میں میرا تجربہ اور عقل یہ بتاتی ہے کہ اگر مسلمانوں کے اَندر سے انتشار ختم نہ ہوا اور عالَمِ اسلام میں مزید فرقے بنے اور مسلمانوں نے متحد ہو کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے نہیں پکڑا تو یہ قوم برباد اور ختم ہوجائے گی اور کوئی اس کا نام لیوا نہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ربّ العالَمین ہیں۔ ربّ المسلمین نہیں۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے:

جو قومیں اپنی تبدیلی نہیں چاہتیں اللہ ایسی قوم کو اُن کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ (سورۃ الرعد – 11)

جب کوئی قوم خود اپنی تباہی اور بربادی چاہتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے منظور کر لیتا ہے اور جب کوئی قوم اپنا عروج چاہتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی قبول کرلیتا ہے۔ اور اللہ ان دونوں باتوں سے بے نیاز ہے۔

سیدنا حضور علیہ الصّلوٰۃ و السّلام کا فرمان ہے مومن ایک دوسرے کا بھائی ہے اس کے بر عکس یہاں صورتحال یہ ہے کہ بھائی ہونا تو درکنار ہم ایک دوسرے کو کافر کہتے نہیں چوکتے۔ آج جو پریشانی و اَدبار ہے…. اور مسلمان تمام دنیا میں ذلیل و خوار ہے…. اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان نے تعمیری پہلو چھوڑ کر تخرینی رخ اختیار کر لیا ہے۔

تخریبی رخ یہ ہے کہ:

  • آپس میں تفرقہ ڈالا جائے…. اور
  • ایک دوسرے کو برا سمجھ کر نفرت کی جائے….

 

رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس تفرقہ بازی سے باہر نکلیں۔ رسول اللہ ﷺ کے ارشادات ہیں کہ اگر مسلمان فوج فاتح بن کر کسی ملک میں داخل ہو تو عبادت خانوں کو نہ گرایا جائے، منبر نہ توڑے جائیں ان کے مذہبی پیشوا کو قتل نہ کیا جائے۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات یہ ہیں کہ دیگر مذاہب کے عبادت خانوں اور مذہبی پیشوا کا احترام کیاجائے لیکن آج مسلمان…. مسلمان نمازی کو قتل کر رہا ہے….!!!

مسلمان بے شمار مسالک، طبقات اور فرقہ جات میں منقسم ہیں۔ انتہا یہ ہے کہ ایک مسلک کا پیرو کار دوسرے مسلک کے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا….!!!

 

آئیے! عزم کریں کہ ہم نوعِ انسانی کیلئے رحمت بننے کی کوشش کریں گے اور تفرقہ بازی سے بچیں گے کیونکہ تفرقہ بازی مسلمانوں کیلئے زہرِ قاتل ہے۔ سب کلمہ گو مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور مسلمان تفرقہ سے اجتناب کرتے ہوئے دوسرے مسلمان کو برا نہیں کہے گا۔ خود کو جنّتی اور دوسرے کو دوزخی گمان نہیں کرے گا۔ جب اس جذبہ سے عمل کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ عمل اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی کا باعث ہوگا۔

 

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اُمّتِ مسلمہ میں پیدا کیا اور رسول اللہ ﷺ کی اُمّت سے سرفراز فرمایا۔ ہمیں کلمہ اور نماز کی توفیق دی اور رسول اللہ ﷺ سے عشق و محبت ہمارے دلوں میں پیدا کی۔ ہمیں چاہئے کہ :

  • رسول اللہ ﷺ کی سیرت مبارکہ کا بار بار مطالعہ کریں….
  • آپ ﷺ کی تعلیمات اور اعمال کو اپنانے کی کوشش کریں….

جب ہم رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کریں گے تو اَنور نبوت سے ہمارے قلوب اور اَرواح منور ہوجائیں گی اور ہمیں دنیاجہاں پر عروج حاصل ہوجائے گا․․․․․

اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے۔ آمین…. السّلام علیکم!

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 241 تا 251

خطباتِ لاہور کے مضامین :

ِ 0.01 - اِنتساب  ِ 0.02 - ترتیب و پیشکش  ِ 1 - شہرِِ لاہور  ِ 2 - لاہور کے اولیاء اللہ  ِ 3 - مرشدِ کریم کی لاہور میں پہلی آمد  ِ 4 - مراقبہ ھال مزنگ کے افتتاح پر خطاب  ِ 5 - محمد حسین میموریل ہال مزنگ میں عظیمی صاحب کا خطاب  ِ 6 - جامعہ عظیمیہؔ کاہنہ نَو کے افتتاح سے خطاب  ِ 7 - دوسری بین الاقوامی رُوحانی کانفرنس سے خطاب  ِ 8 - جامعہ مسجد عظیمیہؔ کے افتتاح سے خطاب  ِ 9 - سہہ ماہی میٹنگ سے خطاب  ِ 10 - قلندر شعور  ِ 11 - شعور اور لاشعور  ِ 12 - کُن فیکُون  ِ 13 - تقریبِ رُونمائی کتاب”مراقبہ”سے خطاب  ِ 14 - مراقبہ ہال برائے خواتین کے افتتاح پر خطاب  ِ 15 - کتاب “محمدؐ رسول اللّٰہ ﷺ”کی تقریب ِ رُونمائی سے خطاب  ِ 16 - روحانی سیمینار سے خطاب  ِ 17 - حضرت ابو الفیض قلندر علی سہر وردیؒ کے مزار پر حاضری  ِ 18 - لاہور بار ایسوسی ایشن سے خطاب  ِ 19 - کتاب “ہمارے بچے “کی تقریب ِ رُونمائی سے خطاب  ِ 20 - لاہور ہائیکورٹ بار سے خطاب  ِ 21 - اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور میں خطاب  ِ 22 - محفلِ میلاد سے خطاب بمقام جامع عظیمیہ لاہور  ِ 23 - ایوانِ اقبال میں پہلی سیرت کانفرنس سے خطاب  ِ 24 - سیرتِ طَیّبہؐ پر اَیوانِ اِقبال میں خطاب  ِ 25 - اراکینِ سلسلۂِ عظیمیہ لاہور سے خطاب  ِ 26 - سیشن برائے رُوحانی سوال و جواب
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)