مثال

کتاب : آگہی

مصنف : خواجہ شمس الدۤین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=11590

ایک سرجن دل کا آپریشن کرتا ہے، دوسرا سرجن دماغ کا آپریشن کرتا ہے، تیسرا معالج بیماریوں کا علاج کرتا ہے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب آدمی زندہ ہو اور جسم کو سلطان نا صرف یہ کہ سنبھالے رکھے بلکہ اس کی حفاظت بھی کرے۔

کتاب لوح و قلم میں حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے فرمایا ہے

’’اگر ہمیں کسی چیز کا خیال آتا ہے تو وہ چیز ہمارے لے موجود ہے اور اگر ہمیں اپنے اندر کسی چیز کے بارے میں اطلاع نہیں ملتی یا کسی چیز کے بارے میں خیال نہیں آتا تو وہ چیز ہمارے لئے موجود نہیں۔‘‘

ایک فرد واحد بھی خیال آئے بغیر کوئی کام نہیں کرتا اگر کوئی شخص مصور ہے تو مصور بننے سے پہلے لازماً اس کے دماغ میں یہ خیال بار بار آتا ہے کہ مجھے تصویر بنانی ہے۔دنیا میں بے شمار شعبے ہیں مثلاً درزی کا شعبہ ہے، برتن بنانے کا شعبہ ہے، ہوائی جہاز بنانے کا شعبہ ہے، موبائل، سٹیلائٹ کا شعبہ ہے۔ جتنے بھی شعبے ہیں وہ اس وقت تک قائم ہیں جب تک ان شعبوں کی اطلاع کوئی فرد قبول کرتا ہے۔ خیال آئے بغیر انسان یا حیوان کوئی عمل نہیں کر سکتا جس طرح انسانوں کو پیاس لگتی ہے۔ پیاس لگنے سے مراد یہ ہے کہ جسمانی اعضاء سیراب ہونا چاہتے ہیں تو انسان پانی کی طرف دوڑتا ہے اور یہ عمل صرف انسان کیلئے مخصوص نہیں ہے زمین پر موجود مخلوق میں مشترک ہے۔

انسان کو بھوک لگتی ہے یعنی مخلوق بشمول انسان کے اندر یہ تقاضہ پیدا ہوتا ہے کہ کچھ کھانا ہے، کچھ پینا ہے تا کہ زندگی رواں دواں رہے۔ جتنے بھی انسانی یا حیوانی تقاضے ہیں وہ سب زمین پر مخلوق میں موجود اور متحرک ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا مادی وجود ذاتی کوئی حرکت نہیں رکھتا۔ خیال آتا ہے اس پر عمل ہو جاتا ہے۔ خیال نہیں آتا عمل نہیں ہوتا۔ نیند آتی ہے آدمی سو جاتا ہے، نیند پوری ہوتی ہے آدمی بیدار ہو جاتا ہے، نیند نہیں آتی آدمی نہیں سوتا۔ جسمانی تقاضے پورے کرنے کیلئے جس قدر عوامل ہیں وہ اسی وقت تک متحرک ہیں جب تک آدمی زندہ ہے۔ زندگی کے اعمال و افعال میں تمام مخلوق مشترک عمل کرتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ سلطان کے بغیر آدمی حرکت نہیں کرتا۔ مثلاً سلطان نہ ہو تو اسے بھوک نہیں لگتی، پیاس نہیں لگتی، راحت اور تکلیف کا احساس نہیں ہوتا، قوت مدافعت نہیں ہوتی تو پھر کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ آدمی صرف جسمانی وجود کا نام ہے۔ جسمانی وجود کو جب تک سلطان نے سنبھالا ہوا ہے تو مخلوق کو چیونٹی کاٹنے کا بھی احساس ہے لیکن سلطان کے بغیر وہ جل کر راکھ ہو جاتا ہے لیکن اس کی طرف سے کوئی مزاحمت نہیں ہوتی۔

ہم آدمی کو کس طرح جانتے ہیں؟ اس طرح جانتے ہیں کہ ’’ہڈیوں کے ڈھانچے پر رگ، پٹھے، گوشت اور کھال سے بنا ہوا ایک مجسمہ ہے۔‘‘

واضح الفاظ میں اس طرح سمجھئے کے ہڈیوں کے اوپر رگ پٹھے ایک قسم کی پٹیاں ہیں۔ پٹیوں کے اوپر روئی رکھی ہوئی ہے اور روئی کے اوپر پلاسٹر چڑھا دیا گیا ہے۔ پٹیاں رگ پٹھے ہیں، روئی گوشت ہے اور کھال پلاسٹر ہے۔ لیکن ہڈیوں اور پٹھوں سے بنے اس پتلے کو حرکت دیتا ہے۔ سلطان اگر جسم سے رشتہ توڑ لے تو حرکت ختم ہو جاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جسم سلطان کے بغیر کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

حضور قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں:

جسم کے اوپر جب تک لباس ہے، لباس کی حرکت جسم کے تابع ہے اور جب لباس اتار دیا جاتا ہے تو لباس میں کوئی حرکت نہیں رہتی۔ قمیض، شلوار اور ٹوپی کو ایک جگہ اس طرح رکھ دیا جائے کہ یہ گمان ہو کہ کوئی آدمی لیٹا ہوا ہے اور اسے یہ کہا جائے کہ وہ حرکت کرے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ اس کے برعکس اگر قمیض زندہ آدمی کے جسم پر ہے تو جسم کی ہر حرکت کے ساتھ قمیض میں حرکت واقع ہوتی ہے۔ یہی صورت حال گوشت پوست کے جسم کی ہے۔ جب سلطان لباس کو اتار دیتا ہے تو اس کی حیثیت ایسے لباس کی ہو جاتی ہے جو لباس جسم کے اوپر نہیں ہے۔

روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے اندر کوئی مدافعت باقی نہیں رہتی۔ مرنے کا مطلب یہ ہے کہ سلطان نے گوشت پوست کے لباس سے قطع تعلق کر لیا ہے۔ لباس کا یہ معاملہ عالم ناسوت (عالم دنیا) تک محدود نہیں ہے۔ سلطان ہر عالم۔۔۔ہر مقام اور ہر تنزل کے وقت اپنا ایک نیا لباس بناتا ہے اور اس لباس کے ذریعے اپنی حرکات و سکنات کا اظہار کرتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ حرکات و سکنات کا لباس کے ذریعے اظہار کرتا ہے بلکہ اس لباس کی حفاظت بھی کرتا ہے۔ اس لباس کو نشوونما بھی دیتا ہے۔ کہیں یہ لباس تعفن اور سرانڈ سے بنتا ہے، کسی Zoneمیں یہ لباس روشنیوں کے تانے بانے سے بنا جاتا ہے۔ اور یہی لباس نور سے وجود میں آتا ہے۔ سلطان جب لباس کو تخلیط (Matter) سے بناتا ہے تو مادے کی اپنی خصوصیت کے تحت لباس (جسم) کے اوپر زمان و مکاں کی پابندیاں لاحق رہتی ہیں۔

 

 

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 194 تا 197

آگہی کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ 1 - روحانی اسکول میں تربیت  ِ 2 - با اختیار بے اختیار زندگی  ِ 3 - تین سال کا بچہ  ِ 4 - مرید کی تربیت  ِ 5 - دس سال۔۔۔؟  ِ 6 - قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ  ِ 7 - موت حفاظت کرتی ہے  ِ 8 - باہر نہیں ہم اندر دیکھتے ہیں  ِ 9 - اطلاع کہاں سے آتی ہے؟  ِ 10 - نیند اور شعور  ِ 11 - قانون  ِ 12 - لازمانیت اور زمانیت  ِ 13 - مثال  ِ 14 - وقت۔۔۔؟  ِ 15 - زمین پر پہلا انسان  ِ 16 - خالق اور مخلوق  ِ 17 - مٹی خلاء ہے۔۔۔  ِ 18 - عورت کے دو رُخ  ِ 19 - قانون  ِ 20 - ہابیل و قابیل  ِ 21 - آگ اور قربانی  ِ 22 - آدم زاد کی پہلی موت  ِ 23 - روشنی اور جسم  ِ 24 - مشاہداتی نظر  ِ 25 - نیند اور بیداری  ِ 26 - جسمِ مثالی  ِ 27 - گیارہ ہزار صلاحیتیں  ِ 28 - خواتین اور فرشتے  ِ 29 - روح کا لباس؟  ِ 30 - ملت حنیف  ِ 31 - بڑی بیگمؓ، چھوٹی بیگمؓ  ِ 32 - زم زم  ِ 33 - خواتین کے فرائض  ِ 34 - تیس سال پہلے  ِ 36 - کہکشانی نظام  ِ 37 - پانچ حواس  ِ 38 - قانون  ِ 39 - قدرِ مشترک  ِ 40 - قانون  ِ 41 - پچاس سال  ِ 42 - زندگی کا فلسفہ  ِ 43 - انسانی مشین  ِ 44 - راضی برضا  ِ 45 - زمانے کو بُرا نہ کہو، زمانہ اللہ تعالیٰ ہے(حدیث)  ِ 46 - مثال  ِ 47 - سائنس اور روحانیت  ِ 48 - مادی دنیا اور ماورائی دنیا  ِ 49 - چاند گاڑی  ِ 50 - تین ارب سال  ِ 51 - کائناتی نظام  ِ 52 - تخلیق کا قانون  ِ 53 - تکوین  ِ 54 - دو علوم۔۔۔  ِ 55 - قانون  ِ 56 - ذات کا عرفان  ِ 57 - روحانی شاگرد  ِ 58 - ذات کی نفی  ِ 59 - پانچ کھرب بائیس کروڑ!  ِ 60 - زندگی کا تجزیہ  ِ 61 - عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ  ِ 62 - دین فطرت  ِ 63 - عید  ِ 64 - ملائکہ اعلان کرتے ہیں  ِ 65 - بچے اور رسول اللہﷺ  ِ 66 - افکار کی دنیا  ِ 67 - مثال  ِ 68 - تحقیق و تلاش  ِ 69 - Kirlian Photography  ِ 70 - قرآن علوم کا سرچشمہ ہے  ِ 71 - روشنی سے علاج  ِ 72 - روشنی کا عمل  ِ 73 - چھ نقطے  ِ 74 - قانون  ِ 75 - امراض کا روحانی علاج  ِ 76 - مشق کا طریقہ  ِ 77 - نور کا دریا  ِ 78 - ہر مخلوق عقل مند ہے  ِ 79 - موازنہ  ِ 80 - حضرت جبرائیل ؑ  ِ 81 - ڈائری  ِ 82 - ماں کی محبت  ِ 83 - حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانیؒ  ِ 84 - اکیڈمی میں ورکشاپ  ِ 85 - زمین اور آسمان  ِ 86 - ورد اور وظائف  ِ 87 - آواز روشنی ہے  ِ 88 - مثال  ِ 89 - نگینوں سے علاج  ِ 90 - تقدیر کیا ہے؟  ِ 91 - مثال  ِ 92 - حضرت علیؓ کا ارشاد  ِ 93 - فرشتے، جنات اور آدم ؑ  ِ 94 - انسان اور موالید ثلاثہ  ِ 95 - سلطان  ِ 96 - مثال  ِ 97 - دو رخ  ِ 98 - سیاہ نقطہ  ِ 99 - قانون  ِ 100 - کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالی۔۔۔  ِ 101 - تین کمزوریاں  ِ 102 - عفو و درگذر  ِ 103 - عام معافی  ِ 104 - توازن  ِ 105 - شکر کیا ہے؟  ِ 106 - قافلہ سالار  ِ 107 - ٹیم ورک  ِ 108 - سلسلہ عظیمیہ کے ارکان کی ذمہ داری  ِ 109 - چھوٹوں کی اصلاح  ِ 110 - ایک نصیحت  ِ 111 - صبحِ بہاراں  ِ 112 - دنیا مسافر خانہ ہے  ِ 113 - روح کیا ہے؟  ِ 114 - سانس کی مشقیں  ِ 115 - من کی دنیا  ِ 116 - بے سکونی کیوں ہے؟  ِ 117 - غور و فکر  ِ 118 - روحانی علوم  ِ 119 - ہمارے بچے  ِ 120 - اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں  ِ 121 - اللہ ھُو  ِ 122 - اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگو  ِ 123 - قربت  ِ 124 - ہر مخلوق باشعور ہے  ِ 125 - کامیاب زندگی  ِ 126 - انا کی لہریں  ِ 127 - صدقۂ جاریہ  ِ 128 - ادراک یا حواس
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message