مثال

کتاب : آگہی

مصنف : خواجہ شمس الدۤین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=11548

مقدار میں اگر توازن نہ ہو تو دوا فائدہ پہنچاتی ہے اس سے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ وظیفہ میں چونکہ روشنیوں کا عمل دخل ہوتا ہے اور روشنیاں مقداروں پر قائم ہیں۔ مقدار میں توازن ضروری ہے آتش بازی کا تعلق بھی مقداروں سے ہے۔ ایک قسم کا توازن پھلجڑی کی صورت میں نمایاں ہوتا ہے اور دوسری قسم کا توازن جسے ہم ایٹم بم کہتے ہیں اس کا مظاہرہ ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔
یہ سمجھے بغیر کہ انسان میں روشنیاں قبول کرنے کی کتنی صلاحیت ہے۔ اس کے لئے کوئی عمل یا وظیفہ تجویز کر دیا جائے تو یہ عمل نقصان کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

غور فرمایئے! ذہن انسانی پر اگر اتنا وزن ڈال دیا جائے کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں متاثر ہو جائیں، ایسی حالت میں وسائل کے حصول میں جتنی بھی کوششیں ہوں گی اس کا نتیجہ برعکس ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ قانون کے تحت ہر وظیفہ میں الگ الگ مخصوص قسم کی لہریں کام کرتی ہیں اور یہ لہریں انسانی ذہن میں ایسے تاثرات قائم کرتی ہیں جو وسائل کے حصول اور بیماریوں سے نجات دلاتے ہیں۔ لیکن اگر اس میں عدم توازن پیدا ہو جائے تو صورتحال بدل جاتی ہے۔

مسلسل اور بہت سارے وظائف پڑھنے سے ذہن میں روشنیوں کا ذخیرہ ہو جاتا ہے اور اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وسائل اور صحت کے حصول میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ میں جب کسی سائل کے لئے وظیفہ یا کوئی عمل تجویز کرتا ہوں تو دیہ دیکھتا ہوں کہ وظیفے کے الفاظ میں روشنی کی کتنی مقدار کام کر رہی ہے اور مریض میں ان کو برداشت کرنے کی کتنی صلاحیت ہے۔ فقیر اپنی تحریر میں اس بات کو ہمیشہ اولیت دیتا ہے کہ قانون قدرت سے علاج اور مشورہ ہم رشتہ ہو۔

اللہ تعالیٰ کے کلام کا سہارا لینا ہمارا دین ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ ہم بغیر جانے بوجھے معاشی وسائل کے حصول اور بیماریوں سے نجات پانے کے لئے جو چاہیں پڑھتے رہیں۔ ہمارے لئے یہی صراط مستقیم ہے کہ ہم اپنی زندگی قانون فطرت کے مطابق بسر کریں۔ ارکان اسلام کو پورا کریں اور دماغی صلاحیتوں کے مطابق ہاتھ پیروں کے عمل کے ساتھ ساتھ قادر مطلق اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں۔ نماز کی پابندی کریں۔ قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھیں اور اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق وظیفۂ اعضاء پورا کریں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 181 تا 182

آگہی کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ 1 - روحانی اسکول میں تربیت  ِ 2 - با اختیار بے اختیار زندگی  ِ 3 - تین سال کا بچہ  ِ 4 - مرید کی تربیت  ِ 5 - دس سال۔۔۔؟  ِ 6 - قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ  ِ 7 - موت حفاظت کرتی ہے  ِ 8 - باہر نہیں ہم اندر دیکھتے ہیں  ِ 9 - اطلاع کہاں سے آتی ہے؟  ِ 10 - نیند اور شعور  ِ 11 - قانون  ِ 12 - لازمانیت اور زمانیت  ِ 13 - مثال  ِ 14 - وقت۔۔۔؟  ِ 15 - زمین پر پہلا انسان  ِ 16 - خالق اور مخلوق  ِ 17 - مٹی خلاء ہے۔۔۔  ِ 18 - عورت کے دو رُخ  ِ 19 - قانون  ِ 20 - ہابیل و قابیل  ِ 21 - آگ اور قربانی  ِ 22 - آدم زاد کی پہلی موت  ِ 23 - روشنی اور جسم  ِ 24 - مشاہداتی نظر  ِ 25 - نیند اور بیداری  ِ 26 - جسمِ مثالی  ِ 27 - گیارہ ہزار صلاحیتیں  ِ 28 - خواتین اور فرشتے  ِ 29 - روح کا لباس؟  ِ 30 - ملت حنیف  ِ 31 - بڑی بیگمؓ، چھوٹی بیگمؓ  ِ 32 - زم زم  ِ 33 - خواتین کے فرائض  ِ 34 - تیس سال پہلے  ِ 36 - کہکشانی نظام  ِ 37 - پانچ حواس  ِ 38 - قانون  ِ 39 - قدرِ مشترک  ِ 40 - قانون  ِ 41 - پچاس سال  ِ 42 - زندگی کا فلسفہ  ِ 43 - انسانی مشین  ِ 44 - راضی برضا  ِ 45 - زمانے کو بُرا نہ کہو، زمانہ اللہ تعالیٰ ہے(حدیث)  ِ 46 - مثال  ِ 47 - سائنس اور روحانیت  ِ 48 - مادی دنیا اور ماورائی دنیا  ِ 49 - چاند گاڑی  ِ 50 - تین ارب سال  ِ 51 - کائناتی نظام  ِ 52 - تخلیق کا قانون  ِ 53 - تکوین  ِ 54 - دو علوم۔۔۔  ِ 55 - قانون  ِ 56 - ذات کا عرفان  ِ 57 - روحانی شاگرد  ِ 58 - ذات کی نفی  ِ 59 - پانچ کھرب بائیس کروڑ!  ِ 60 - زندگی کا تجزیہ  ِ 61 - عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ  ِ 62 - دین فطرت  ِ 63 - عید  ِ 64 - ملائکہ اعلان کرتے ہیں  ِ 65 - بچے اور رسول اللہﷺ  ِ 66 - افکار کی دنیا  ِ 67 - مثال  ِ 68 - تحقیق و تلاش  ِ 69 - Kirlian Photography  ِ 70 - قرآن علوم کا سرچشمہ ہے  ِ 71 - روشنی سے علاج  ِ 72 - روشنی کا عمل  ِ 73 - چھ نقطے  ِ 74 - قانون  ِ 75 - امراض کا روحانی علاج  ِ 76 - مشق کا طریقہ  ِ 77 - نور کا دریا  ِ 78 - ہر مخلوق عقل مند ہے  ِ 79 - موازنہ  ِ 80 - حضرت جبرائیل ؑ  ِ 81 - ڈائری  ِ 82 - ماں کی محبت  ِ 83 - حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانیؒ  ِ 84 - اکیڈمی میں ورکشاپ  ِ 85 - زمین اور آسمان  ِ 86 - ورد اور وظائف  ِ 87 - آواز روشنی ہے  ِ 88 - مثال  ِ 89 - نگینوں سے علاج  ِ 90 - تقدیر کیا ہے؟  ِ 91 - مثال  ِ 92 - حضرت علیؓ کا ارشاد  ِ 93 - فرشتے، جنات اور آدم ؑ  ِ 94 - انسان اور موالید ثلاثہ  ِ 95 - سلطان  ِ 96 - مثال  ِ 97 - دو رخ  ِ 98 - سیاہ نقطہ  ِ 99 - قانون  ِ 100 - کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالی۔۔۔  ِ 101 - تین کمزوریاں  ِ 102 - عفو و درگذر  ِ 103 - عام معافی  ِ 104 - توازن  ِ 105 - شکر کیا ہے؟  ِ 106 - قافلہ سالار  ِ 107 - ٹیم ورک  ِ 108 - سلسلہ عظیمیہ کے ارکان کی ذمہ داری  ِ 109 - چھوٹوں کی اصلاح  ِ 110 - ایک نصیحت  ِ 111 - صبحِ بہاراں  ِ 112 - دنیا مسافر خانہ ہے  ِ 113 - روح کیا ہے؟  ِ 114 - سانس کی مشقیں  ِ 115 - من کی دنیا  ِ 116 - بے سکونی کیوں ہے؟  ِ 117 - غور و فکر  ِ 118 - روحانی علوم  ِ 119 - ہمارے بچے  ِ 120 - اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں  ِ 121 - اللہ ھُو  ِ 122 - اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگو  ِ 123 - قربت  ِ 124 - ہر مخلوق باشعور ہے  ِ 125 - کامیاب زندگی  ِ 126 - انا کی لہریں  ِ 127 - صدقۂ جاریہ  ِ 128 - ادراک یا حواس
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message