ماورائی ڈوریاں

کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=6249

تصوف کی تاریخ میں یہ مسئلہ متنازعہ فیہ رہا ہے کہ انسان کے اندر جب اُس کی رُوحانی قوتیں متحرک اور کار فرما ہوتی ہیں تو کیسے سمجھآجائے کہ ان حالتوں میں حقیقت کی رنگینی ہے یا شیطان کی کار فرمائی۔ مذہب میں بھی اس مسئلہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ رُوحانی واردات و کیفیات اگر حقیقت پر مبنی نہ ہوں تو اس بات کا گمان یقین بن جاتا ہے کہ شیطانی الہام آدم زاد کو نچلے گھڑھے میں پھینک دیتا ہے۔ جہاں تک مرشد اور گرو کی تعلیمات کا تعلق ہے اس میں یہ بات قابل اعتراض رہی ہے کہ ایک مرشد سینکڑوں یا ہزاروں میل دور بیٹھ کر مرید کی کس طرح تربیت کر سکتا ہے۔ اور اگر وہ رُوحانی طور پر تربیت کر بھی سکتا ہے تو وہ کون سا یقینی امر ہے جس کے بارے میں کہا جائے کہ مرشد کی رُوح شیطانی الہام سے مبرّا ہے۔ مرشد بہرحال ہماری طرح کا ایک انسان ہے۔
انسانی زندگی کے بارے میں دانشوروں کا تجزیہ ہے کہ زندگی دراصل خیالات کی ایک فلم ہے اور یہ فلم دماغی سکرین پرتسلسل اور تواتر کے ساتھ ڈسپلے (DISPLAY) ہو رہی ہے۔ خیالات کے بارے میں غور و فکر ہمیں اس حقیقت سے آشنا کرتا ہے کہ ایک ہی خیال کو مختلف معانی پہنانے کا نام تکمیل ہے۔ جب ہم بھُوک کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو پیٹ بھرنے کے ایک مخصوص عمل کو اچھا قرار دیتے ہیں اور پیٹ بھرنے کے اسی عمل کو برائی سے منسوب کرتے ہیں۔ شادی ایک عمل ہے جس کے اوپر نوعِ انسانی کی بقاء کا انحصار ہے۔ اگر اس عمل کی انسان کے اپنے بنائے ہوئے قاعدوں اور ضابطوں کے ساتھ تکمیل ہوتی ہے تو یہ عمل خیر ہے اور یہی عمل متعیّن قاعدوں اور ضابطوں کے خلاف کیا جائے تو برائی ہے حالانکہ نتائج کے اعتبار سے عمل کے دونوں رخوں کا ایک ہی نتیجہ مرتب ہوتا ہے۔
عمل کی پہچان یہ ہے کہ ایک عمل کرنے سے ضمیر خوش ہوتا ہے اس کے اندر سکون اور اطمینان کی لہریں موج زن ہوتی ہیں اور عمل کی دوسری پہچان یہ ہے کہ ضمیر نا خوش ہوتا ہے۔ اور انسان یہ عمل کر کے ندامت محسوس کرتا ہے۔
انسان دراصل ایک درخت ہے اور اس کی زندگی کے اعمال و کردار اس درخت کے پھل ہیں۔ یہ بات بھی ہم سب کے سامنے ہے کہ درخت اپنی جڑ سے نہیں اپنے پھل سے پہچانآ جاتا ہے۔ یہی صورتِ حال انسانی اعمال کی ہے۔ صداقت کا فیصلہ ماخذ سے نہیں اس کے نتائج سے مرتب ہوتا ہے۔ کسی شخص کے اندر نیکی کے تصورات یا برائی کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ انسان کا خود اپنا عمل اس کا یقین دلا سکتا ہے کہ وہ سچاہے یآجھوٹا ہے۔ کسی عمل کو پرکھنے کے لیئے یہ ضروری ہے کہ یہ دیکھآجائے کہ یہ عمل معاشرہ پر کس طرح اثرانداز ہو رہا ہے۔ اگر اس عمل میں سچائی، گہرائی اور فطرت موجود ہے تو یہ عمل صحیح اور سچاہے۔
جن لوگوں کے جسمانی تقاضے رُوحانی کیفیات سے ہم رشتہ رہتے ہیں ان کا طرزِ تکلم اور طرزِ تعلیم اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ یہ بندہ جسم و جان کے رشتے سے واقف ہے۔ رُوح اور جسم کے مشترک نظام میں جب حرکت پیدا ہو جاتی ہے تو انسان خود کو خوشی اور ایثار کے جذبے میں ڈوبا ہوا محسوس کرتا ہے۔ وہ نوعِ انسانی کے ہر فرد کو اور کائنات کے تمام افراد کو اس نظر سے دیکھتا ہے جس نظر سے ایک ماں اپنے بچّوں کو دیکھتی ہے۔ اس کی سرشت میں یہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ میرا رشتہ کائنات کے تمام افراد سے قائم ہے۔ جس طرح کائنات میرے اندر بسی ہوئی ہے اسی طرح کائنات کا ہر فرد میرے دل کے آئینے پر اپنا عکس ڈال رہا ہے۔ وہ جب چاہے اپنے اندر اس عکس سے پیغام و سلام کر سکتا ہے۔
شیطانی تفکر ابلیسی طرزِ فکر اور برائی کے تشخص ہستی کی سوچ یہ ہے کہ وہ اپنا عرفان اس طرح رکھتی ہے کہ اس جیسا کوئی نہیں ہے۔ کبر و نخوت اس کی گردن کے پٹھوں کو تشنج میں مبتلا کر دیتی ہے۔ چہرہ پر ملاحت، صباحت اور معصومیت کی جگہ بدصورتی اور خشکی اپنا تسلّط جما لیتی ہے۔
ایک اپنے ہی جیسے انسان کے پاس بیٹھنے سے سروُر ملتا ہے اور اپنے ہی جیسے دوسرے انسان کی قربت تکدّر اور بھاری پن میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ہر انسان پیدائِش سے لے کر بڑھاپے تک تجربات کی ایک دستاویز ہے۔ دستاویز میں بھلائی سرائیت کر گئی ہے تو دستاویز قیمتی اور فائدہ مند ہے۔ رگ و پے میں اگر برائی رچ بس گئی ہے تو دستاویز بھیانک اور بھونڈی ہے۔ بہترین دستاویز انسان کے لیئے خود آگہی کا ذریعہ ہے ۔ خود آگہی ایک لامتناہی راستہ ہے جس راستے پر چل کر کوئی انسان ایسا درخت بن جاتا ہے جس کے پھل میٹھے اور شیریں ہوتے ہیں۔ ایک عالم اس سے سیراب ہوتا ہے۔ اس کی ٹھنڈی چھاؤں سے سکون اٹھاتا ہے۔ بھونڈی دستاویز انسان کے اندر بے حسی اور خود غرضی اور لالچ پیدا کرتی ہے۔ یہ انسان کانٹوں بھر ایسا درخت ہوتا ہے جس کے نیچے ایک دو گھڑی بھی کوئی بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔
اگر انسان کے اندر خود سکون ہے وہ دوسروں کے لیئے طمانیتِ قلب کا ذریعہ ہے۔ اس کا سایہ ٹھنڈا اور عطربیز ہے۔ اس کی رُوحانی کیفیات حقیقی ہیں اور اگر انسان خود سکوں سے دُور ہے، اس کے اوپر غم کے بادل چھائے رہتے ہیں۔ وہ خوف اور ڈر کے خشک اور بے آب و گیاہ پہاڑوں کےدامن میں کراہ رہا ہے۔ یہ کیفیت شیطانی الہام ہے اور اس کی ساری زندگی دھوکاہے۔
زندگی کی اچھی دستاویز رکھنے والا انسان خدا کے ساتھ قریبی تعلق رکھتا ہے۔ اور خدا کی قربت سے لطف اٹھاتا ہے۔ خدا کا ملاپ اُسے بے طلب اور بے توقع ملتا ہے۔ وہ زندگی کی ہر سانس میں خدا سے قربت محسوس کرتا ہے۔ خدا کو اپنے اندر جلوہ گر دیکھتا ہے، جو خدا کہتا ہے وہ سنتا ہے اور جو خود کہتا ہے خدا اسے خود قبول کر لیتا ہے۔ خدا سے ہم کلامی میں زندگی کے ماہ سال، مفروضہ حواس اور عادات و اطوار اس سے عارضی طور پر محور ہو جاتے ہیں۔ پھر اس پر زندگی کے وہ راز منکشف ہوتے ہیں جو عالمین کو معلوم نہیں ہوتے۔ اس احساس کی بدولت انسان اپنی اصل کو پہچان لیتا ہے اور وہ یہ جان لیتا ہے کہ اس کآجینا مرنا اور ایک عالم سے دوسرے عالم میں زندگی گزارنے میں کیا اسرار ہیں۔ ایسا بندہ ہر آن اور ہر لمحہ خدا کے وجود کو اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ جسمانی طور پر یہ بندہ عام انسانوں کی طرح ہوتا ہے لیکن اس کے اندر واحد نقطہ الہیٰ تجلّی سے روشن اور چارج (CHARGE) ہوتا رہتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جس نقطہ کے ساتھ ساری کائنات لہروں کی ماورائی ڈوریوں میں بندھی ہوئی ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 219 تا 222

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)