مائی صاحبہؒ

کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=6242

سروقد، لالہ رخسار، غزال چشم، غنچہ دہن، کتابی چہرہ، صراحی گردن، بال ایسے جیسے چاندی کے تار، معطّر معطّر، خراماں خراماں ایک مائی صاحبہ تشریف لائیں۔ کمرے میں قدم رکھا تو جھمکاکہ ہوا اور آنکھوں کے سامنے قوس و قزح کے رنگ بکھر گئے۔ مائی صاحبہ نے مخمور نگاہوں سے مجھے دیکھا اور بولیں: “بیٹا ! تجھے دیکھنے کی تمنّا تھی سو پوری ہو گئی۔”
حیرت زدہ آنکھوں اور کھوئے کھوئے دماغ سے میں نے پوچھا۔ ” آپ کا نام کیا ہے، کون ہیں آپ اور کہا ں سے آئی ہیں؟
ملکوتی تبسّم کے ساتھ گویا ہوئیں۔ “میرے دو نام ہیں۔ ایک نام مفروضہ اور فکشن ہے اور دوسرا نام مفروضہ اور فکشن حواس کے برعکس ہے۔”
میں نے نام کی ایسی تعریف کبھی سنی نہ تھی۔ حیرت اور استعجاب سے پوچھا۔ ” کیا نام بھی غیر حقیقی ہوتے ہیں؟ نام تو پہچان کا ایک ذریعہ ہے۔”
کچھ عجیب انداز سے خلاء میں گھورتے ہوئے بولیں ” تمہارا نام کب رکھا گیا تھا؟”
میں نے مؤدبانہ لہجے میں عرض کیا “جب میں پیدا ہوا تھا۔”
ہنستے ہوئے کہا ۔ ” کیا تم وہی ہو جو پیدا ہوئے تھے؟ کیا تمہارا ایک ایک عضو بدل نہیں گیا؟ کیا تم پنگوڑے سے باہر آ کر زمین پر دندناتے نہیں پھرتے ہو؟ جب تم پیدا ہوئے تو تمہارے ہاتھ اتنے ہی بڑے تھے جتنے اب ہیں؟ اور اپنے قد کاٹھ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟”
خفّت اور ندامت کے ساتھ میں خاموش ہو گیا۔ تجسّس نے مجبور کیا تو پھر پوچھا۔ “آپ کون ہیں؟”
کہنے لگیں۔ ” میرے دو وجود ہیں۔ ایک وجود پر ہر لمحہ، ہر آن موت وارد ہوتی رہتی ہے۔ جس لمحہ موت وارد ہوتی ہے اس ہی لمحہ ایک نیا وجود تشکیل پآ جاتا ہے۔ میرا یہ وجود لمحہ بہ لمحہ موت اور لمحہ بہ لمحہ حیات ہے۔ میرا دوسرا وجود وہ ہے جس پر لمحات، گھنٹے، دن اور ماہ و سال اثر انداز ہی نہیں ہوتے۔ نہ تو وہ پیدا ہوتا ہے اور نہ مرتا ہے۔”
مائی صاحبہ کی زبانی یہ اسرار و رموز کی باتیں سُن کر میرے ذہن میں خیال آیا کہ یہ کوئی بہت بڑی عالم فاضل عورت ہیں یا مظہرالعجائب ! میرے دماغ میں جیسے ہی یہ خیال وارد ہوا، مائی صاحبہ بولیں۔ ” نہیں بیٹا نہیں۔ میں عالم فاضل نہیں ہوں۔ مجھے تو خط بھی لکھنا نہیں آتا۔ میں خواجہ غریب نوازؒ کی داسی ہوں۔”
“آپ خواجہ غریب نوازؒ کی داسی ہیں ! آپ کا قیام کہا ں ہے؟”
“بیٹا ! قیام مقام سے ہوتا ہے، میرے دو مقام ہیں۔ ایک مقام ٹائم اسپیس میں بند ہے۔ میں اس مقام میں خود کو پابند اور مقید محسوس کرتی ہوں۔ چند میل بھی اگر سفر کرنا پڑے تو وسائل کی محتاجی ہے۔ میرا دوسرا مقام وہ ہے جہاں میں وسائل کی محتاج نہیں ہوں، وسائل میرے پابند ہیں۔”
قیام اور مقام کی یہ فکر انگیز گفتگو سُن کر میری کیفیت کچھ ایسی ہو گئی جیسے کسی ساٹھ سالہ کسان کے سامنے ایٹمی فارمولا بیان کیا جا رہا ہو۔
مائی صاحبہؒ نے جب دیکھا کہ بچّہ نروَس ہو گیا ہے تو دو قدم آگے بڑھیں اور میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا، ابھی ان کا شفقت بھرا ہاتھ میرے سر پر ہی تھا کہ بچّوں نے شور مچا دیا ۔ دادی آ گئیں، دادی آ گئیں، دادی نے بھی اپنے معصوم پوتوں اور پوتیوں کو کلیجے سے لگایا اور ڈھیروں دعائیں دیں۔
بڑی بیٹی نے گلے میں ہاتھ ڈال کر کہا ۔ “دادی کچھ اپنی زندگی کے بارے میں بتائیں؟” مائی صاحبہ تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گئیں۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور انہوں نے اپنی آپ بیتی اس طرح بیان کی۔
“میرا نام جیوتی تھا۔ عمر ہو گی کچھ چودہ سال۔ ماں باپ نے پھیرے کرا دیئے۔ ابھی دلہن کے خواب پورے بھی نہیں ہوئے تھے کہ پتی روٹھ گیا۔ سسرال والوں نے مجھے ستی کرنے کے مشورے شروع کر دیئے۔ میرے کانوں میں بھنک پڑ گئی۔ میں گُھپ اندھیری رات میں سسرال کے گھر سے میکے پہنچی۔ ماتآجی نے مجھے سینے سے لگایا۔ لیکن میرا باپ مذہبی آدمی تھا۔ اس نے اس طرح گھر آنا پسند نہیں کیا ۔ جب تین پہر رات ڈھل گئی تو ماں نے گھر کے پچھلے دروازے سے مجھے باہر کردیا ۔ میں دوڑتی رہی، دوڑتی رہی یہاں تک کہ اُفق سے سُورج نمودار ہوا۔ درختوں کے ایک جھنڈ میں دن بھر پڑی روتی سسکتی رہی اور اپنے مقدّر کو کوستی رہی۔ سورج نے جیسے ہی رات کے پردے میں اپنا چہرہ چھپایا، میں منزل کا تعین کئے بغیر پھر دوڑنے لگی۔ لہو لہان پیروں، نحیف و نزار جسم اور خشک حلق کے ساتھ نہ معلوم کس طرح خواجہ غریب نوازؒ کے دربار میں جا پہنچی۔ ڈر اور خوف کا غلبہ اتنا تھا کہ مزار کے اندر جا کر میں نے اندر سے کنڈی لگا لی اور خواجہ صاحبؒ کی لحد سے لپٹ کر لیٹ گئی۔ ایسا سکون ملا کہ لگتا تھا میں دو تین سال کی بچّی ہوں اور خواجہ غریب نوازؒ کی قبر ماں کی گود ہے۔ اِدھر میں سرُور کی کیفیت میں سرشار تھی، اُدھر باہر کہرام مچ گیا کہ کوئی دیوانی اندر گھُس گئی ہے۔ لوگ چیختے رہے، چلّاتے رہے، دروازہ پیٹتے رہے مگر میں سکون کی وادی میں تھی۔ مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ بالآخر قرار آیا اور میں نے دروازہ کھول دیا ۔ اور پھر وہاں جھاڑو دینے کی خدمت پر مامور کر دی گئی۔ پاکستان بنا تو میں اپنی ہی جیسی ایک عورت پر عاشق ہو گئی اور اس خاتون کے ساتھ پاکستان آ گئی۔”
چھوٹی بیٹی نے پوچھا ” دادی امّاں ! ہمارے گھر کا پتا آپ کو کس نے بتایا؟”
مائی صاحبہ نے بہت زور کا قہقہہ لگایا اور فرمایا ” بیٹی ! جس بندہ کو اپنے اصلی مالک کا پتہ مل جاتا ہے اس کے لئے کوئی پتہ، کوئی ٹھکانہ، کوئی مقام ڈھونڈنا مشکل نہیں ہوتا۔”
سبحان اللہ ! کیسا سعید دن تھا کہ سارے دن انوار کی بارش برستی رہی، در و دیوار سے رنگ رنگ روشنیاں پھوٹتی رہیں۔ ایسا سماں تھآجس کو صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، بیان نہیں کیا جا سکتا۔ رات کو رخصت ہوتے وقت میں نے مائی صاحبہ کی قدم بوسی کی، ان کے نرم اور جھاگ سے ملائم خوبصورت ہاتھوں کو چوما، آنکھوں سے چھُوا اور بے قرار دل کے ساتھ کہا ۔ ” مائی صاحبہ ! کوئی نصیحت کریں۔”
مائی صاحبہ ایک دم آسمان کی طرف دیکھنے لگیں اس طرح کہ پلکوں کا ارتعاش رُک گیا، ڈھیلوں کی حرکت ساکت ہو گئی۔ لگتا تھا ذہن و دماغ دونوں کسی نادیدہ نقطے پر مرکوز ہیں۔ ہم سب خود امّاں کے استغراق اور تجلّی سے معمُور چہرے کو تکتے رہے۔ ایک بلند آواز گونجی۔ “بیٹا—–!
انگشت شہادت کھلی، ہاتھ آسمان کی طرف بلند ہوا اور زبان سے یہ الفاظ نکلے—–
“بیٹا—–! رب راضی سب راضی”

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 193 تا 196

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)