لکڑی میں روشنی

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=12986

ایک اندھیری رات میں جب بارش خوب زوروں پر تھی۔ حضرت قتاوہ بن لقمان انصاریؓ نماز باجماعت کے لئے مسجد میں آئے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت قتاوہؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھجور کی ایک شاخ دی اور فرمایا، ’’یہ شاخ دس ہاتھ تمہارے آگے اور دس ہاتھ تمہارے پیچھے روشنی کرے گی۔‘‘

حضرت قتاوہؓ کھجورکی شاخ لے کر گھر کی طرف چلے تو یہ شاخ مشعل کی طرف روشن ہوگئی۔

**********************

اللہ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے:

’’ ہم نے ہر چیز معین مقداروں سے تخلیق کی ہے۔‘

یہ معین مقداریں ہی ہیں جن سے زمین پر مختلف چیزیں تخلیق پاتی ہیں۔ مثلاً لوہا اس کے اندر معین مقداریں کام کررہی ہیں۔ لکڑی اس کے اندر معین مقداریں کام کررہی ہیں۔ اگر لوہے اور لکڑی میں معین مقداریں کام نہ کریں تو لکڑی لکڑی نہیں رہے گی اور لوہا لوہا نہیں رہے گا۔ معین مقداروں سے مراد یہ نہیں ہے کہ جو مقداریں لوہے کے اندر کام کررہی ہیں وہ لکڑی کے اندر کام نہیں کرتیں۔ تخلیق کرنے والی معین مقداروں کا فارمولہ یہ ہے کہ لوہے کے لئے آٹھ مقداریں معین ہیں اور لکڑی کے لئے سات مقداروں کا تعین ہے تو لکڑی کی معین مقداروں میں اگر لوہے کی اضافی ایک مقدار شامل کردی جائے تو لکڑی لوہا بن جائے گی۔

سونے (Gold) کے لئے پانچ معین مقداریں ہیں اور گیرو کے لئے چار مقداریں معین ہیں۔ سونے کو گیرو بنانے کا فارمولہ یہ ہے کہ سونے کی مقداروں میں سے ایک مقدار کم کردی جائے۔ گلاب کے پھول میں چھ معین مقداریں کام کرتی ہیں۔ جبکہ سیب کے پھول میں نو (۹) معین مقداریں کام کرتی ہیں۔ اگر سیب کے پھول کی معین مقداروں میں سے تین کم کر دی جائیں تو سیب کا پھول گلاب کا پھول بن جاتا ہے اور اگر گلاب کے پھول میں تین مقداروں کا اضافہ کردیا جائے تو گلاب کا پھول سیب کا پھول بن جاتا ہے۔ یہ ایک پورا تخلیقی نظام ہے جو اللہ نے ان لوگوں کو سکھایا ہے جو لوگ سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے وارث اور صاحبِ تکوین ہیں۔ جس وقت سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے کھجور کی لکڑی حضرت عکاشہ بن محضؓ ، حضرت مسلمہ بن اسلمؓ ، حضرت عبداللہ بن حجشؓ اور حضرت فتاوہؓ کو دی تو تخلیقی فارمولوں کے تحت مقداروں میں ردو بدل ہوگیا اور یہ رودو بدل قرآن پاک کے ارشاد کے مطابق ہے۔

ترجمہ :

’’ہم نے تمہارے لئے مسخر کردیا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کا سب۔‘‘ (الجاثیہ۔۱۳)

’’آسمانوں اور زمین میں ہے‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب کا سب رائی سے بھی چھوٹا ذرہ اور پہاڑ کے برابر ذرہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تصرف میں ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 109 تا 111

محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم کے مضامین :

ِ یا صاحب الجمال  ِ دیباچہ  ِ 1 - قرآن اور آسمانی کتابیں  ِ 2.1 - ستارے قریب آئے  ِ 2.2 - پنگوڑے میں چاند  ِ 2.3 - مائی حلیمہ  ِ 2.4 - دو اجنبی  ِ 3.1 - بادلوں کا سایہ  ِ 3.2 - بارش کا وسیلہ  ِ 3.3 - درخت، پتھر سجدے میں گر گئے  ِ 3.4 - نبیوں کا درخت  ِ 4 - تبت یدا  ِ 5 - دو کمانوں سے کم فاصلہ  ِ 6 - ہجرت کی رات  ِ 7.1 - دو سردار  ِ 7.2 - نگاہ مرد حق آگاہ  ِ 8.1 - جب چاند دو ٹکڑے ہوا  ِ 8.2 - تابع فرمان سورج  ِ 9 - پہاڑ نے حکم مانا  ِ 10 - پتھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موم ہو گئے  ِ 11 - سنگریزوں نے کلمہ پڑھا  ِ 12 - باطل مٹ گیا  ِ 13 - درخت کی گواہی  ِ 14 - حنین جذع کا واقعہ  ِ 15.1 - کھجور کی تلوار  ِ 15.2 - لاٹھی قندیل بن گئی  ِ 15.3 - لکڑی میں روشنی  ِ 16.1 - اونٹ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھا  ِ 16.2 - اونٹ نے شکایت کی  ِ 16.3 - ہرنی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی  ِ 17 - اور آپؐ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک  ِ 18.1 - مستجاب الدعٰوۃ  ِ 18.2 - شیر آیا  ِ 18.3 - پانی برسا  ِ 18.4 - ابو ہریرہؓ کی ماں  ِ 18.5 - اندھی آنکھ میں بینائی  ِ 18.6 - کھانے میں برکت  ِ 19 - جنگ خندق  ِ 20 - حضرت عائشہؓ کی برأت  ِ 21 - حدیبیہ میں کنواں  ِ 22.1 - کعبہ کی کنجی  ِ 22.2 - بائیکاٹ  ِ 22.3 - سراقہ اور کنگن  ِ 23 - دست رحمت  ِ 24 - جن نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلدی چلو  ِ 25.1 - بچانے والا اللہ ہے  ِ 25.2 - مغربی حاجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)