لوحِ محفوظ اور مراقبہ

کتاب : لوح و قلم

مصنف : حضور قلندر بابا اولیاءؒ

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2883

ازل سے ابد تک جو کچھ ہونے والا ہے وہ سارے کا سارا اجتماعی طور پر لوحِ محفوظ پر نقش ہے۔ اگر ہم ازل سے قیامت تک کا تمام پروگرام مطالعہ کرنا چاہیں تو لوحِ محفوظ میں اس کی تَمثالیں دیکھ سکتے ہیں۔ گویا لوحِ محفوظ پوری مَوجودات کا یکجائی پروگرام ہے۔ اگر ہم کسی ایک فردِ واحد کی حیات کا پروگرام مطالعہ کرنا چاہیں تو لوحِ محفوظ کے علاوہ اس کا نقش فرد کے اَعیان میں دیکھ سکتے ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ واجب یا علمِ قلم ازل سے ابد تک کائنات کے علمِ غیب کا ریکارڈ ہے۔ کلیات یا لوحِ محفوظ ازل سے حشر تک کے اَحکامات کا ریکارڈ ہے۔
‘‘جُو’’ ازل سے ابد تک مَوجودات کے اعمال کا ریکارڈ ہے لیکن فرد کے ثابِتہ میں صرف فرد کے اپنے بارے میں علمُ الغیب کا اِندراج ہے۔ فرد کے اَعیان میں صرف اس کے اپنے متعلّق اَحکامات ہیں اور فرد کے جَویَّہ میں صرف اس کے اپنے اعمال کا ریکارڈ ہے۔

تشریح:

علمِ الٰہی کی تجلّی کا جو عکس انسان کے ثابِتہ میں ہے وہ شکل وصورت یعنی تمثُّلات کی زبان میں منقُوش ہوتا ہے۔ یہ تمثُّلات اللہ تعالیٰ کی مصلحتوں اور رُموز کی تشریح ہوتے ہیں۔ یہ تشریحات لطیفۂِ خَفی کی روشنیوں میں مطالعہ کی جا سکتی ہیں۔ اگر لطیفۂِ خَفی کی روشنیاں استعمال نہ ہوں تو یہ تشریحات نگاہ اور ذہنِ انسانی پر مُنکشِف نہیں ہو سکتیں۔ تفہیم میں مسلسل بیدار رہنے کی وجہ سے لطیفۂِ خَفی کی روشنی بتدریج بڑھتی جاتی ہے۔ اس ہی روشنی میں غیب کے تمام نُقوش نظر آنے لگتے ہیں کیونکہ یہی روشنیاں لطیفۂِ اخَفیٰ سے لطیفۂِ نفسی تک پھیل جاتی ہیں۔ ہم پیشتر ثابتہ کا تذکرہ کر چکے ہیں۔ ورق اور نقطہ کی وہی حیثیت اَعیان اور جَویَّہ کی بھی ہے۔
صاحب اَسرار لطیفۂِ خَفی کی روشنی میں ثابِتہ کی تجلّیات کو، صاحب تفصیل لطیفۂِ روحی کی روشنی میں اَعیان کے اَحکام کو اور صاحب اَجمال لطیفۂِ نفسی کی روشنی میں جَویَّہ کے اعمال کو پڑھ سکتا ہے۔ جو تعلّق لطیفۂِ خَفی کا اخَفیٰ کی تجلّیات سے ہے وہی تعلّق لطیفۂِ روحی کا لطیفۂِ سری کے اَحکامات سے ہے اور وہی تعلّق لطیفۂِ نفسی کا لطیفۂِ قلبی کے اعمال سے ہے۔
ہم بتا چکے ہیں کہ لطیفۂِ سری میں کسی فرد کے متعلّق اَحکام لوحِ محفوظ کے تمثُّلات کی شکل میں محفوظ ہوتے ہیں۔ یہ اَحکام لطیفۂِ روحی کی روشنی میں مطالعہ کئے جا سکتے ہیں۔ مراقبہ سے لطیفۂِ روحی کی روشنیاں اتنی تیز ہو جاتی ہیں کہ ان کے ذریعے لوحِ محفوظ کے اَحکامات پڑھے جا سکتے ہیں۔
لطیفۂِ قلبی میں انسان کے تمام اعمال کا ریکارڈ رہتا ہے۔ اس ریکارڈ کو لطیفۂِ نفسی کی روشنی میں پڑھا جا سکتا ہے۔ مراقبہ کے ذریعے لطیفۂِ نفسی کی روشنی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس کے ذریعے عالمِ تَمثال یعنی ‘‘جُو’’ کے اندر گزرے ہوئے اور ہونے والے تمام اعمال کی تَمثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 47 تا 49

لوح و قلم کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 0.02 - عرضِ احوال  ِ 1 - بسمِ اللہِ الرّحمٰن الرّحیم  ِ 2 - عالمِ رُؤیا سے انسان کا تعلق  ِ 3 - رُؤیا کی صلاحیّتوں کے مَدارِج  ِ 4 - لوحِ اوّل یا لوحِ محفوظ  ِ 5 - لوحِ دوئم  ِ 6 - عالمِ جُو  ِ 7 - کثرت کا اَجمال  ِ 8 - ‘‘جُو’’ کا واسطہ  ِ 9 - احساس کی درجہ بندی  ِ 10 - وَحدتُ الوُجود اور وَحدتُ الشُہود  ِ 11 - روحِ اعظم، روحِ انسانی، روحِ حیوانی اور لطائفِ ستّہ  ِ 12 - اسماءِ الٰہیہ  ِ 13 - اسماءِ الٰہیہ کی تعداد گیارہ ہزار ہے  ِ 14 - خواب اور بیداری  ِ 15 - لوحِ محفوظ اور مراقبہ  ِ 16 - تدلّٰی  ِ 17 - کُن فیَکون  ِ 18 - علمِ لدُنّی  ِ 19 - ہر اسم تین تجلّیوں کا مجموعہ ہے  ِ 20 - اسمِ ذات  ِ 21 - روح کی مرکزیّتیں اور تحریکات  ِ 22 - لطیفۂِ نفسی کی حرکت  ِ 23 - باصرہ اور شُہود نفسی  ِ 24 - عملِ اِسترخاء  ِ 25 - علم ‘‘لا’’ اور علم ‘‘اِلّا’’  ِ 26 - ‘‘لا’’ کا مراقبہ  ِ 27 - قوّتِ اَلقاء  ِ 28 - سالک مجذوب، مجذوب سالک  ِ 29 - نسبت کا بیان  ِ 30 - ٹائم اسپیس کا قانون  ِ 31 - زمانیت اور مکانیت کا راز  ِ 32 - کائنات کی ساخت  ِ 33 - نیابت کیا ہے؟  ِ 34 - لوحِ محفوظ کا قانون  ِ 35 - اَنا یا انسانی ذہن کی ساخت  ِ 36 - علمُ الیقین، عینُ الیقین، حقُ الیقین  ِ 37 - تخلیق کا قانون  ِ 38 - انبیاء کے مقامات  ِ 39 - تخلیق کا فارمولا  ِ 40 - ماضی اور مستقبل  ِ 41 - زمان و مکان کی حقیقت  ِ 42 - اِدراک کیا ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)