لوحِ اوّل یا لوحِ محفوظ

کتاب : لوح و قلم

مصنف : حضور قلندر بابا اولیاءؒ

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=242

اب یہ مُسلّمہ مُنکشِف ہو گیا کہ انسان کسی غیر جانب دار زاویہ سے حقائق کو سمجھنے کی کوشش کرے تو قانونِ لوحِ محفوظ کے تحت انسانی شعور، لاشعور اور تحتِ لاشعور کا اِنطباعیہ نقش معلوم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اِنطباع وہ نقش ہے جو بصورت حکم اور بشکل تَمثال لوحِ محفوظ (سطحِ کلیات) پرکَندہ ہے۔ اس ہی کی تعمیل مِن و عَن اپنے وقت پر ظُہور میں آتی ہے۔
شعور کا یہ قانون ہے کہ اس دنیا میں انسان جتنا ہوش سنبھالتا جاتا ہے اتنا ہی اپنے ماحول کی چیزوں میں اِنہماک پیدا کرتا جاتا ہے۔ اس کے ذہن میں ماحول کی تمام چیزیں اپنی اپنی تعریف اور نوعیت کے ساتھ اس طرح محفوظ رہتی ہیں کہ جب اسے ان چیزوں میں سے کسی چیز کی ضرورت پیش آتی ہے تو بہت آسانی سے اپنی مفید مطلب چیز تلاش کر لیتا ہے۔
معلوم ہوا کہ انسانی شعور میں ترتیب کے ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے استعمال کی چیزیں اور حرکات موجود رہتی ہیں۔ گویا ماحول کا ہُجوم انسانی ذہن میں پیوست ہے۔ ذہن کو اتنی مہلت نہیں ملتی کہ شعور کی حد سے نکل کر لاشعور کی حد میں قدم رکھ سکے۔
یہاں ایک اُصول وضع ہوتا ہے کہ جب انسان یہ چاہے کہ میرا ذہن لاشعور کی حدوں میں داخل ہو جائے تو اس ہُجوم کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش کرے۔ انسانی ذہن ماحول سے آزادی حاصل کر لینے کے بعد، شعور کی دنیا سے ہٹ کر لاشعور کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔
ذہن کے اس عمل کا نام اِستغناء ہے۔ یہ اِستغناء اللہ تعالیٰ کی صفَت صمَدیّت کا عکس ہے جس کو عرفِ عام میں اِنخلاءِ ذہنی کہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اس کی مشق کرنا چاہے تو اس کے لئے کتنے ہی ذرائع اور طریقے ایسے موجود ہیں جو مذہبی فرائض کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان فرائض کو ادا کر کے انسان خالئُ الذّہن ہونے کی مہارت حاصل کر سکتا ہے۔
سلوک کی راہوں میں جتنے اسباق پڑھائے جاتے ہیں ان سب کا مقصد بھی انسان کو خالئُ الذّہن بنانا ہے۔ وہ کسی وقت بھی ارادہ کر کے خالئُ الذّہن ہونے کا مراقبہ کر سکتا ہے۔
مراقبہ ایک ایسے تصوّر کا نام ہے جو آنکھیں بند کر کے کیا جاتا ہے۔ مثلاً انسان جب اپنی فنا کا مراقبہ کرنا چاہے تو یہ تصوّر کرے گا کہ میری زندگی کے تمام آثار فنا ہو چکے ہیں اور اب میں ایک نقطۂِ روشنی کی صورت میں موجود ہوں۔ یعنی آنکھیں بند کر کے یہ تصوّر کرے کہ اب میں اپنی ذات کی دنیا سے بالکل آزاد ہوں۔ صرف اس دنیا سے میرا تعلق باقی ہے جس کے احاطہ میں ازل سے ابد تک کی تمام سرگرمیاں موجود ہیں۔ چنانچہ کوئی انسان جتنی مشق کرتا جاتا ہے۔ اتنی ہی لوحِ محفوظ کی اِنطباعیت اس کے ذہن پر مُنکشِف ہوتی جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ غیب کے نُقوش اِس اِس طرح واقع ہیں اور اُن نُقوش کا مفہوم اُس کے شعور میں منتقل ہونے لگتا ہے۔ اِنطباعیت کا مطالعہ کرنے کے لئے صرف چند روزہ مراقبہ کافی ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 17 تا 19

لوح و قلم کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 0.02 - عرضِ احوال  ِ 1 - بسمِ اللہِ الرّحمٰن الرّحیم  ِ 2 - عالمِ رُؤیا سے انسان کا تعلق  ِ 3 - رُؤیا کی صلاحیّتوں کے مَدارِج  ِ 4 - لوحِ اوّل یا لوحِ محفوظ  ِ 5 - لوحِ دوئم  ِ 6 - عالمِ جُو  ِ 7 - کثرت کا اَجمال  ِ 8 - ‘‘جُو’’ کا واسطہ  ِ 9 - احساس کی درجہ بندی  ِ 10 - وَحدتُ الوُجود اور وَحدتُ الشُہود  ِ 11 - روحِ اعظم، روحِ انسانی، روحِ حیوانی اور لطائفِ ستّہ  ِ 12 - اسماءِ الٰہیہ  ِ 13 - اسماءِ الٰہیہ کی تعداد گیارہ ہزار ہے  ِ 14 - خواب اور بیداری  ِ 15 - لوحِ محفوظ اور مراقبہ  ِ 16 - تدلّٰی  ِ 17 - کُن فیَکون  ِ 18 - علمِ لدُنّی  ِ 19 - ہر اسم تین تجلّیوں کا مجموعہ ہے  ِ 20 - اسمِ ذات  ِ 21 - روح کی مرکزیّتیں اور تحریکات  ِ 22 - لطیفۂِ نفسی کی حرکت  ِ 23 - باصرہ اور شُہود نفسی  ِ 24 - عملِ اِسترخاء  ِ 25 - علم ‘‘لا’’ اور علم ‘‘اِلّا’’  ِ 26 - ‘‘لا’’ کا مراقبہ  ِ 27 - قوّتِ اَلقاء  ِ 28 - سالک مجذوب، مجذوب سالک  ِ 29 - نسبت کا بیان  ِ 30 - ٹائم اسپیس کا قانون  ِ 31 - زمانیت اور مکانیت کا راز  ِ 32 - کائنات کی ساخت  ِ 33 - نیابت کیا ہے؟  ِ 34 - لوحِ محفوظ کا قانون  ِ 35 - اَنا یا انسانی ذہن کی ساخت  ِ 36 - علمُ الیقین، عینُ الیقین، حقُ الیقین  ِ 37 - تخلیق کا قانون  ِ 38 - انبیاء کے مقامات  ِ 39 - تخلیق کا فارمولا  ِ 40 - ماضی اور مستقبل  ِ 41 - زمان و مکان کی حقیقت  ِ 42 - اِدراک کیا ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)