لاٹھی قندیل بن گئی

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=12985

حضرت طفیل بن عمرو معروف شاعر تھے۔ جب وہ مکہ آئے تو سردارانِ قریش نے بڑی گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا اور کہا، اے طفیل ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ ہماری قوم کے ایک نوجوان محمد بن عبداللہ بن عبدالطلب نے ہمارے مذہب میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ اس کے کلام نے باپ، بیٹے، بھائی بہن اور میاں بیوی کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ یہ مصیبت تم پر بھی نازل نہ ہوجائے۔ ہم تمہیں مشورہ دیتے ہیں کہ اس کی کوئی بات نہ سننا۔ طفیل بن عمرو بیت اللہ جاتے وقت اپنے کانوں میں روئی رکھ لیتے تھے کہ غیر اختیاری طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کان میں نہ پڑجائے۔ ایک روز وہ علی الصبح بیت اللہ شریف گئے تو انہوں نے دیکھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پاس قرآن پاک کی تلاوت کررہے ہیں۔ نہ چاہنے کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ ان کے کانوں میں پہنچ گئے۔ الفاظ انہیں بہت اچھے لگے۔ انہوں نے اپنے آپ سے کہا۔ طفیل تیری ماں تجھے روئے تو نے یہ کیا طرز عمل اختیار کررکھا ہے ۔ تجھے اللہ نے عقل دی ہے، تو شاعر ہے۔ تو برے بھلے میں تمیز کرسکتا ہے پھر تجھے اس شخص کی باتیں سننے سے کون سی چیز مانع ہے؟ اچھی باتیں ہوں تو قبول کرلینا اچھی باتیں نہ ہوں تو قبول نہ کرنا۔ یہ سوچ کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر کی طرف چلے تو طفیل بھی ان کے پیچھے ہولئے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوگئے تو طفیل نے دروازہ پر دستک دی اور گھر میں داخل ہوکر سارا واقعہ سنایا اور کہا، ’’خدا کی قسم میں نے اس سے بہتر کوئی بات سنی ہے نہ ہی اس سے اچھا کوئی کلام مجھ تک پہنچا ہے۔‘‘ انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور عرض کیا، ’’محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنی قوم میں معزز ہوں اور قوم کے سبھی فرد میری بات مانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالٰی مجھے ایسی نشانی عطا فرما دے جو دعوتِ اسلام میں میری معاون ہو۔‘‘ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی۔ جب وہ پہاڑی سے اپنے قبیلے کی طرف اتر رہے تھے تو ان کی لاٹھی کے سرے پر روشنی نمودار ہوگئی۔ وہ روشنی یوں نظر آتی تھی جیسے قندیل ہوا میں معلق ہو۔ انہوں نے اندھیری رات میں قندیل کی روشنی میں سفر طے کیا اور اپنے گھر پہنچ گئے۔ گھر والے جب ان سے ملنے آئے تو انہوں نے کہا، مجھ سے دور رہو نہ میں تمہارا ہوں نہ تم میرے ہو۔ میں مسلمان ہوگیا ہوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا پیروکار بن گیا ہوں۔ سب نے اقرار کیا کہ تمہارا دین ہمارا دین ہے اور ہم سب مسلمان ہیں۔

حضرت طفیلؓ بن عمرو نے قبیلہ دوس کو اسلام کی دعوت دی۔ مگر وہ اپنے عقائد چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے۔ دل گرفتہ ہوکر حضرت طفیلؓ مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ۔ ’’محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی پوری کوشش کرکے دیکھ چکا ہوں مگر میرے قبیلے والے ایمان نہیں لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے دعا فرما ئیے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور بارگاہ الہی میں التجا کی، ’’اے اللہ! قبیلۂ دوس کو ہدایت دے۔‘‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طفیلؓ سے فرمایا، ’’تم اپنی قوم میں واپس جاؤ اور انہیں نرمی سے اسلام کی دعوت دو ۔‘‘

حضرت طفیلؓ واپس گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق تبلیغ دین شروع کردی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ خندق کے بعد خیبر میں تشریف فرما تھے تو حضرت طفیلؓ قبیلہ دوس کے ستّر اسّی گھرانوں کو لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

**********************

ہر شئے دو رخوں پر پیدا کی گئی ہے ایک رخ مادیت ہے اور دوسرا رخ باطن ہے۔ یہ دونوں رخ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ لیکن مادی رخ ہمیشہ باطنی رخ کے تابع ہوتا ہے۔ صلاحیت باطنی رخ میں ہوتی ہے۔ باطنی رخ سے اگر صلاحیت مادیت میں منتقل نہ ہو تو حرکت نہیں ہوتی۔ حرکت صلاحیت کا مظہر ہے اور ہر شئے کی صلاحیت الگ الگ بھی ہے اور اجتماعی بھی۔ لکڑی کی صفت جلنا یا روشن ہونا ہے۔ جب لکڑی کا باطن رخ متحرک ہوا تو لکڑی روشن ہو کر مشعل بن گئی۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 106 تا 109

محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم کے مضامین :

ِ یا صاحب الجمال  ِ دیباچہ  ِ 1 - قرآن اور آسمانی کتابیں  ِ 2.1 - ستارے قریب آئے  ِ 2.2 - پنگوڑے میں چاند  ِ 2.3 - مائی حلیمہ  ِ 2.4 - دو اجنبی  ِ 3.1 - بادلوں کا سایہ  ِ 3.2 - بارش کا وسیلہ  ِ 3.3 - درخت، پتھر سجدے میں گر گئے  ِ 3.4 - نبیوں کا درخت  ِ 4 - تبت یدا  ِ 5 - دو کمانوں سے کم فاصلہ  ِ 6 - ہجرت کی رات  ِ 7.1 - دو سردار  ِ 7.2 - نگاہ مرد حق آگاہ  ِ 8.1 - جب چاند دو ٹکڑے ہوا  ِ 8.2 - تابع فرمان سورج  ِ 9 - پہاڑ نے حکم مانا  ِ 10 - پتھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موم ہو گئے  ِ 11 - سنگریزوں نے کلمہ پڑھا  ِ 12 - باطل مٹ گیا  ِ 13 - درخت کی گواہی  ِ 14 - حنین جذع کا واقعہ  ِ 15.1 - کھجور کی تلوار  ِ 15.2 - لاٹھی قندیل بن گئی  ِ 15.3 - لکڑی میں روشنی  ِ 16.1 - اونٹ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھا  ِ 16.2 - اونٹ نے شکایت کی  ِ 16.3 - ہرنی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی  ِ 17 - اور آپؐ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک  ِ 18.1 - مستجاب الدعٰوۃ  ِ 18.2 - شیر آیا  ِ 18.3 - پانی برسا  ِ 18.4 - ابو ہریرہؓ کی ماں  ِ 18.5 - اندھی آنکھ میں بینائی  ِ 18.6 - کھانے میں برکت  ِ 19 - جنگ خندق  ِ 20 - حضرت عائشہؓ کی برأت  ِ 21 - حدیبیہ میں کنواں  ِ 22.1 - کعبہ کی کنجی  ِ 22.2 - بائیکاٹ  ِ 22.3 - سراقہ اور کنگن  ِ 23 - دست رحمت  ِ 24 - جن نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلدی چلو  ِ 25.1 - بچانے والا اللہ ہے  ِ 25.2 - مغربی حاجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)