قیامت

کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=6218

رات کے دو بج کر دو منٹ دو سیکنڈ گزرنے پر شعور کی سطح پر یہ خیال ابھرا ۔۔۔۔۔۔ کہ گھنٹے ، دن، مہینے ،سال اور صدیا ں کیا ہیں؟ اگر ان کی کوئی حقیقت ہے تو گزارا ہوا وقت کہا ں چلآ جاتا ہے؟
عام مشاہدہ بھی یہ ہے کہ جب کوئی مر جاتا ہے تو واپس نہیں آتا۔ مرنے کا مفہوم یہ لیآ جاتا ہے کہ وقت کی زنجیروں میں سے ایک کڑی نکل گئی، اس طرح نکل گئی کہ پھر اُسے زنجیر قبول نہیں کرتی یا وہ کڑی وقت کی زنجیر سے اپنا رشتہ منقطع کر لیتی ہے۔
خاندان کے افراد کی طرح شب و روز اور مہ و سال کو وقت کی زریّت سمجھ لیاجائے تو ا س کے علاوہ ہر گز کوئی بات اپنے اندر وزن نہیں رکھتی کہ لمحات پر موت وارد ہوتی ہے تو منٹ کی تخلیق ہوتی ہے اور جب منٹ اور گھنٹے موت کی وادی میں سفر کرتے ہیں تو شب روز کا وجود ظاہر ہوتا ہے۔ رات اور دن جب لقمۂ اجل بن جاتے ہیں تو وقت کی کوکھ مہ و سال کو جنم دیتی ہے۔ مہینے اور سال عمرِ طبعی کو پہنچے ہیں تو صدیوں کی پیدائش عمل میں آتی ہے ۔۔۔۔۔ ایک آدمی کے مرنے کے بعد جس طرح ہمیں کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہا ں گیا؟ وقت کے بارے میں بھی ہمارے لبوں پر مُہر سکوت لگی ہوئی ہے۔
شماریات کا تعلق بھی وقت کے ساتھ براہ راست ہے اس لیئے کہ زندگی بجائے خود شماریات کے تانے بانے پر رواں دواں ہے۔ پیدائش سے مرتے دم تک ہم شماریات کے مختلف خانوں میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ اس وقت تک ہم گو نگے بہرے ہیں جب تک ایک اور دو (۲) کے مفروضہ تعیّن کو تسلیم نہ کریں۔ ایک اس لیئے ایک ہے کہ ہمیں بتا دیا گیا ہے کہ ایک ہے۔ دو (۲) اس لیئے دو (۲) ہے کہ خبرِ متواتر کی حیثیت سے ہمارے لیے یہ لازم کر دیا گیا ہے کہ ہم دو (۲) کو دو (۲) کہیں۔ نوع انسانی اس مفروضہ ورثے کے جوئے کو اپنے کاندھوں سے اتار کر پھینک دے تو حساب و کتاب کے سارے فارمولے زمیں دوز ہو جائیں گے۔
آدم زاد کی ذاتی اور صفاتی حیثیت کا تعیّن اس کے نام سے ہوتا ہے ۔نام بھی جب اپنی جگہ ہمیں منجمد نظر آتا ہے تو ہمارے اوپر حیرت کے باب کھل جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں کی جان کآجو نام رکھ دیا جاتا ہے وہ زندگی بھر ہر ہر لمحہ بدلتے ہوئے اعضائے جسمانی کے ساتھ اس طرح چپکا رہتا ہے کہ کسی طرح ا س سے فرار ممکن نہیں۔ یہ کیسی نادانی، کم فہمی اور بے عقلی ہے ایک دن کا بچہّ وقت اور زمانے کی چکیّ میں پس کر ساٹھ سال میں سر سے پیر تک تبدیل ہو جاتا ہے مگر نام وہی رہتا ہے جو پیدائش کے وقت رکھا گیا تھا۔
بات اختیار کی آتی ہے تو مجبوری کا یہ عالم کہ آدم زاد کو خود پیدائش پر اختیار نہیں ہے۔ سونا، جا گنا، کھانا ، پینا، بڑھنا، گھٹنا آدمی کا اپنا اختیاری نہیں ہے مگر آدم زاد پھر بھی بااختیار ہے ! کوئی فرد واحد مرنا نہیں چاہتا لیکن مرنا ایک لازم امرہے، كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِْ
ایک مخصوص نظام کے تحت سورج نکلتا ہے، غروب ہو جاتا ہے۔ دھوپ دھرتی کو انرجی (ENERGY) فراہم کرتی ہے، ہوا تیز اور سبک چلتی ہے اور چلتی رہتی ہے۔ تخلیق کے اندر آٹومیٹک میشن (AUTOMATIC MACHINE) کے ذریعے ہوآجسم میں دوڑنے والے خون کو زندگی عطا کرتی ہے لیکن اس پر بھی ہمیں کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس لیئے کہ سانس بھی ہمارا اختیاری نہیں ہے۔
آئیے اس مسئلے کو الہامی طرزوں میں سمجھنے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“جہاں تم ایک ہو وہاں دوسرا اللہ ہے، جہاں تم دو (۲) ہو وہاں تیسرا اللہ ہے۔ اللہ تعالیٰ رگ جان سے زیادہ قریب ہے۔ اللہ ابتدا ہے، اللہ انتہاء ہے، اللہ ظا ہر ہے، اللہ باطن ہے، اللہ ہر چیز پر محیط ہے۔”
شعور ہمیں بتا تا ہے کہ پہاڑ انتہائی درجہ سخت، ٹھوس اور جمی ہوئی شئے کا نام ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“تم گمان کرتے ہو کہ پہاڑ جمے ہوئے ہیں حالاں کہ یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہیں ۔”
جب ہم قیامت کا تذکرہ کرتے ہیں تو لاکھوں کروڑوں سال کا ماضی اس کے ساتھ ہمیں چپکا نظر آتا ہے کہ مگر قرآن فرماتا ہے:
“جتنی دیر پلک جھپکنے میں لگتی ہے، قیامت کا وقفہ اس سے بھی کم ہے۔”
اے میرے بھائیو، میرے بزرگو، میری ما ؤ، بہنواور بیٹیو ! کیا ہم یہ سوچنے پرمجبور نہیں ہیں کہ یہ سب کیا ہے، کیوں ہے؟

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 114 تا 116

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)