قرآن علوم کا سرچشمہ ہے

کتاب : آگہی

مصنف : خواجہ شمس الدۤین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=11498

قرآن پاک کائنات کے تمام قوانین اور علوم کا سرچشمہ ہے۔ قرآن پاک کے مضامین معنویت کے اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کئے جاتے ہیں۔

ایک حصہ ان اصول و قوانین اور شریعت پر مشتمل ہے جو ایک فلاحی معاشرے کے لئے ضروری ہے اور اسی حصہ میں اخلاقی اقدار اور قوموں کے عروج و زوال کے اسباب بھی بیان کئے گئے ہیں۔

دوسرا حصہ تاریخ اور حالات تیسرا حصہ جو قرآن کا ایک بڑا حصہ ہے۔ ان فارمولوں اور قوانین سے بحث کرتا ہے جن کے اوپر اللہ تعالیٰ نے کائنات کو تخلیق کیا ہے۔ اس حصہ میں موت کے بعد کی زندگی کے حالات بھی شامل ہیں اور اسی حصہ کو معاد کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ کائناتی قوانین ناقابل تغیر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق یہ ازل سے ایک ہیں اور ابد تک ایک ہی رہیں گے۔

قرآن پاک میں انہیں ’’فطرت اللہ‘‘ اور ’’اللہ تعالیٰ کا امر‘‘ بھی کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یا اللہ تعالیٰ کا امر ان قوانین اور فارمولوں کا مجموعہ ہے جن کے تحت ہر آن اور ہر لمحہ کائنات کو حیات نو مل رہی ہے۔ کائنات ایک مربوط اور منظم پروگرام ہے جس میں ’’اتفاق‘‘ کا کوئی دخل نہیں ہے۔ سب کچھ ’’الٰہی قانون‘‘ کے تحت واقع ہوتا ہے۔

علماء باطن اور محققین نے پہلے دو حصوں پر تو توجہ دی ہے اور تیسرے حصے کی وضاحت اس لئے نہیں ہوئی کہ اس کو سمجھنے کے لئے شعوری مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے کہ اس علم کا تعلق عقل و شعور کے ساتھ روحانی کیفیات سے ہے۔

روحانی علوم اس وقت حاصل ہوتے ہیں۔ جب طالب علم شعوری طور پر واردات و کیفیات سے آگاہ اور باخبر ہو۔ ورائے لاشعور (روحانی) علوم کو سمجھنے کے لئے یہ امر لازم ہے کہ ہم اپنی نفسانی خواہشات اور زندگی کے ظاہری عوامل پر ضرب لگا کر دنیاوی دلچسپیاں کم سے کم کر دیں۔

قرآن پاک میں اس علم کو ’’کتاب کا علم‘‘ سے متعارف کرایا گیا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعہ میں مذکور ہے کہ انہوں نے اپنے درباریوں سے فرمایا:

’’میں چاہتا ہوں کہ ملکہ سبا کے پہنچنے سے پہلے اس کا تخت شاہی دربار میں آ جائے۔‘‘(سورۃ النمل۔ آیت۳۸)

عفریت نے کہا جو قوم جنات میں سے تھا۔۔۔

’’اس سے پہلے کہ آپ دربار برخاست کریں میں یہ تخت لا سکتا ہوں۔‘‘(سورۃ النمل۔ آیت ۳۹)

جن کا دعویٰ سن کر ایک انسان نے کہا جس کے پاس کتاب کا علم تھا۔

’’اس سے پہلے کہ آپ کی پلک جھپکے تخت دربار میں موجود ہو گا۔‘‘(سورۃ النمل۔ آیت ۴۰)

حضرت سلیمان علیہ السلام نے دیکھا تو ملکہ سبا کا تخت دربار میں موجود تھا۔ حالانکہ یمن سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریباً پندرہ سو میل ہے۔

کتاب کا یہ علم ان کائناتی قوانین اور فارمولوں پر قائم ہے جن پر کائنات چل رہی ہے۔ زمین کی گردش، آسمان سے پانی برسنا، نباتات کا اُگنا، زمین پر موجود حیوانات اور جمادات کی پیدائش اور موت، ان کی زندگی کی تحریکات، سیاروں کی گردشیں، ان میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں غرض کہ ہر حرکت قانون کی پابند ہے۔ یہی علم آدم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور خاص ودیعت ہوا ہے۔ جسے قرآن پاک میں ’’علم الاسماء‘‘ کہا گیا ہے اور اسی علم نے آدم کو فرشتوں پر فضیلت بخشی ہے۔ یہی علم مومن کی میراث ہے اس علم سے کوئی انسان جس کو اللہ تعالیٰ چاہے تسخیر کائنات کے فارمولوں سے واقف ہو جاتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 144 تا 146

آگہی کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ 1 - روحانی اسکول میں تربیت  ِ 2 - با اختیار بے اختیار زندگی  ِ 3 - تین سال کا بچہ  ِ 4 - مرید کی تربیت  ِ 5 - دس سال۔۔۔؟  ِ 6 - قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ  ِ 7 - موت حفاظت کرتی ہے  ِ 8 - باہر نہیں ہم اندر دیکھتے ہیں  ِ 9 - اطلاع کہاں سے آتی ہے؟  ِ 10 - نیند اور شعور  ِ 11 - قانون  ِ 12 - لازمانیت اور زمانیت  ِ 13 - مثال  ِ 14 - وقت۔۔۔؟  ِ 15 - زمین پر پہلا انسان  ِ 16 - خالق اور مخلوق  ِ 17 - مٹی خلاء ہے۔۔۔  ِ 18 - عورت کے دو رُخ  ِ 19 - قانون  ِ 20 - ہابیل و قابیل  ِ 21 - آگ اور قربانی  ِ 22 - آدم زاد کی پہلی موت  ِ 23 - روشنی اور جسم  ِ 24 - مشاہداتی نظر  ِ 25 - نیند اور بیداری  ِ 26 - جسمِ مثالی  ِ 27 - گیارہ ہزار صلاحیتیں  ِ 28 - خواتین اور فرشتے  ِ 29 - روح کا لباس؟  ِ 30 - ملت حنیف  ِ 31 - بڑی بیگمؓ، چھوٹی بیگمؓ  ِ 32 - زم زم  ِ 33 - خواتین کے فرائض  ِ 34 - تیس سال پہلے  ِ 36 - کہکشانی نظام  ِ 37 - پانچ حواس  ِ 38 - قانون  ِ 39 - قدرِ مشترک  ِ 40 - قانون  ِ 41 - پچاس سال  ِ 42 - زندگی کا فلسفہ  ِ 43 - انسانی مشین  ِ 44 - راضی برضا  ِ 45 - زمانے کو بُرا نہ کہو، زمانہ اللہ تعالیٰ ہے(حدیث)  ِ 46 - مثال  ِ 47 - سائنس اور روحانیت  ِ 48 - مادی دنیا اور ماورائی دنیا  ِ 49 - چاند گاڑی  ِ 50 - تین ارب سال  ِ 51 - کائناتی نظام  ِ 52 - تخلیق کا قانون  ِ 53 - تکوین  ِ 54 - دو علوم۔۔۔  ِ 55 - قانون  ِ 56 - ذات کا عرفان  ِ 57 - روحانی شاگرد  ِ 58 - ذات کی نفی  ِ 59 - پانچ کھرب بائیس کروڑ!  ِ 60 - زندگی کا تجزیہ  ِ 61 - عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ  ِ 62 - دین فطرت  ِ 63 - عید  ِ 64 - ملائکہ اعلان کرتے ہیں  ِ 65 - بچے اور رسول اللہﷺ  ِ 66 - افکار کی دنیا  ِ 67 - مثال  ِ 68 - تحقیق و تلاش  ِ 69 - Kirlian Photography  ِ 70 - قرآن علوم کا سرچشمہ ہے  ِ 71 - روشنی سے علاج  ِ 72 - روشنی کا عمل  ِ 73 - چھ نقطے  ِ 74 - قانون  ِ 75 - امراض کا روحانی علاج  ِ 76 - مشق کا طریقہ  ِ 77 - نور کا دریا  ِ 78 - ہر مخلوق عقل مند ہے  ِ 79 - موازنہ  ِ 80 - حضرت جبرائیل ؑ  ِ 81 - ڈائری  ِ 82 - ماں کی محبت  ِ 83 - حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانیؒ  ِ 84 - اکیڈمی میں ورکشاپ  ِ 85 - زمین اور آسمان  ِ 86 - ورد اور وظائف  ِ 87 - آواز روشنی ہے  ِ 88 - مثال  ِ 89 - نگینوں سے علاج  ِ 90 - تقدیر کیا ہے؟  ِ 91 - مثال  ِ 92 - حضرت علیؓ کا ارشاد  ِ 93 - فرشتے، جنات اور آدم ؑ  ِ 94 - انسان اور موالید ثلاثہ  ِ 95 - سلطان  ِ 96 - مثال  ِ 97 - دو رخ  ِ 98 - سیاہ نقطہ  ِ 99 - قانون  ِ 100 - کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالی۔۔۔  ِ 101 - تین کمزوریاں  ِ 102 - عفو و درگذر  ِ 103 - عام معافی  ِ 104 - توازن  ِ 105 - شکر کیا ہے؟  ِ 106 - قافلہ سالار  ِ 107 - ٹیم ورک  ِ 108 - سلسلہ عظیمیہ کے ارکان کی ذمہ داری  ِ 109 - چھوٹوں کی اصلاح  ِ 110 - ایک نصیحت  ِ 111 - صبحِ بہاراں  ِ 112 - دنیا مسافر خانہ ہے  ِ 113 - روح کیا ہے؟  ِ 114 - سانس کی مشقیں  ِ 115 - من کی دنیا  ِ 116 - بے سکونی کیوں ہے؟  ِ 117 - غور و فکر  ِ 118 - روحانی علوم  ِ 119 - ہمارے بچے  ِ 120 - اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں  ِ 121 - اللہ ھُو  ِ 122 - اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگو  ِ 123 - قربت  ِ 124 - ہر مخلوق باشعور ہے  ِ 125 - کامیاب زندگی  ِ 126 - انا کی لہریں  ِ 127 - صدقۂ جاریہ  ِ 128 - ادراک یا حواس
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message