قرآن اور آسمانی کتابیں

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=7120

محمد رسول اللہ ، سیّدنا علیہ الصّلوٰة والسّلام کی ذات اقدس سراپا اعجاز ہے ۔ انبیائے سابقین کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف ذرائع سے آپؐ کو ہدایت ملتی رہتی تھی۔ چودہ سوسال پہلے حضرت جبرائیل ؑ جو احکامات لے کر زمین پر اترے وہ آج بھی من و عن موجود ہیں ۔قرآن اپنی اصل حالت میں اس ہی طرح ہے جیسے ۱۴۰۰ سال پہلے تھا ۔ اس میں نقطہ اور زیر و زبر کا بھی فرق نہیں ہے ۔ اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لی ہے۔

دوسری آسمانی کتابیں زمانے کے ردّ و بدل کے ساتھ تحریف اور قطع برید سے محفوظ نہ رہ سکیں جبکہ کتنے ہی انبیاءپر نازل ہونے والے صحائف محفوظ نہیں ہیں۔
سیّدنا علیہ الصّلوٰة والسّلام جس زمانے میں معبوث ہوئے اس وقت عرب فصاحت و بلاغت میں بام عروج پر تھا ۔ مکہ کے باشندوں نے سیّدنا علیہ الصّلوٰة والسّلام پر نازل ہونے والے احکامات میں جب شک و شبہ کیا ا ور اس کو کلام الٰہی ماننے میں پس و پیش کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

ترجمہ : ’’کہتے ہیں کہ یہ بات بنا لایا ؟ کوئی نہیں ! پر ان کو یقین نہیں ۔ پھر چاہے کہ لے آویں کوئی بات اسی طرح کی ، اگر وہ سچے ہیں’’ ( الطور ۳۳۔ ۳۷)

قرآن پاک کی بے مثل فصاحت و بلاغت ، رسول اللہ کا دوسرا بڑا اعجاز ہے ۔ عرب کے بڑے بڑے نامور دانشور ، جب قرآن کی نظیر پیش کرنے سے قاصر رہے تو کفارِ مکہ نے لوگوں سے کہنا شروع کر دیا کہ محمدؐ کے پاس نہ جاؤ ان کا کلام نہ سنو ورنہ تم پر بھی ان کی فصاحت و بلاغت کا جادو چل جائے گا ۔ حلیم الطبع لوگ جب سیّدنا علیہ الصّلوٰة والسّلام کی زبانِ مبارک سے یا پھر کسی اور ذریعہ سے قرآنی آیات سنتے تو کہتے کہ ہم نے شاعروں، کاہنوں اور جادوگروں کا کلام سنا ہے لیکن محمدؐ جو کچھ کہتے ہیں وہ ان سب سے اعلی اور ماوراءہے ۔ حضرت عمر ؓ کا قبول اسلام ، سرداروں کا حلقہ بگوش اسلام ہونا ۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کا محمد رسول اللہؐ کو نبی برحق تسلیم کرنا مخبرِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے۔

صادق ، امین ،درِ یتیم ، باعثِ تخلیقِ کائنات ، بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر ۔ محمد رسول اللہؐ کی پوری زندگی ، معجزات سے معمور ہے ۔ روح کی گہرائیوں میں تفکر کیا جائے تو حضور پاکؐ کی پوری حیات طیّبہ معجزہ ہے ۔ رسول اللہؐ کا دنیا میں تشریف لانا اور نبوت کے مقام پر سرفراز ہونا ، حق کا پیغام عام کرنے کے لئے نا قابلِ برداشت تکالیف اور صعوبتیں برداشت کرنا بھی معجزے کے دائرے سے باہر نہیں ہے۔

حضورِ پاکؐ کی زندگی میں جو معجزات رونما ہوئے وہ سب تاریخ کے صفحات پر موجود ہیں اور قرآنِ پاک نے بھی ان کی شہادت فراہم کی ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 19 تا 21

محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد دوئم کے مضامین :

ِ یا صاحب الجمال  ِ دیباچہ  ِ 1 - قرآن اور آسمانی کتابیں  ِ 2.1 - ستارے قریب آئے  ِ 2.2 - پنگوڑے میں چاند  ِ 2.3 - مائی حلیمہ  ِ 2.4 - دو اجنبی  ِ 3.1 - بادلوں کا سایہ  ِ 3.2 - بارش کا وسیلہ  ِ 3.3 - درخت، پتھر سجدے میں گر گئے  ِ 3.4 - نبیوں کا درخت  ِ 4 - تبت یدا  ِ 5 - دو کمانوں سے کم فاصلہ  ِ 6 - ہجرت کی رات  ِ 7.1 - دو سردار  ِ 7.2 - نگاہ مرد حق آگاہ  ِ 8.1 - جب چاند دو ٹکڑے ہوا  ِ 8.2 - تابع فرمان سورج  ِ 9 - پہاڑ نے حکم مانا  ِ 10 - پتھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موم ہو گئے  ِ 11 - سنگریزوں نے کلمہ پڑھا  ِ 12 - باطل مٹ گیا  ِ 13 - درخت کی گواہی  ِ 14 - حنین جذع کا واقعہ  ِ 15.1 - کھجور کی تلوار  ِ 15.2 - لاٹھی قندیل بن گئی  ِ 15.3 - لکڑی میں روشنی  ِ 16.1 - اونٹ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھا  ِ 16.2 - اونٹ نے شکایت کی  ِ 16.3 - ہرنی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی  ِ 17 - اور آپؐ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک  ِ 18.1 - مستجاب الدعٰوۃ  ِ 18.2 - شیر آیا  ِ 18.3 - پانی برسا  ِ 18.4 - ابو ہریرہؓ کی ماں  ِ 18.5 - اندھی آنکھ میں بینائی  ِ 18.6 - کھانے میں برکت  ِ 19 - جنگ خندق  ِ 20 - حضرت عائشہؓ کی برأت  ِ 21 - حدیبیہ میں کنواں  ِ 22.1 - کعبہ کی کنجی  ِ 22.2 - بائیکاٹ  ِ 22.3 - سراقہ اور کنگن  ِ 23 - دست رحمت  ِ 24 - جن نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلدی چلو  ِ 25.1 - بچانے والا اللہ ہے  ِ 25.2 - مغربی حاجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message