فنا و بقا کیا ہے؟

کتاب : روح کی پکار

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=13463

سوال: فنا و بقا کیا ہے؟ اس میں کیا حکمت ہے؟ قائم بالذّات اللہ کے جو بندے کائنات میں تصرّف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہیں یہ وصف کس طرح حاصل ہوتا ہے؟

جواب: انسان کے وجود میں ایک وجود (مادّی جسم) پر ہر لمحہ اور ہر آن موت وارِد ہوتی رہتی ہے۔ جس لمحہ موت وارِد ہوتی ہے اس ہی لمحہ ایک نیا وجود تشکیل پا جاتا ہے۔ یہ وجود لمحہ بہ لمحہ حیات ہے۔ دوسرا وجود (روح) وہ ہے جس پر لمحات، گھنٹے، دن اور ماہ و سال اثر انداز نہیں ہوتے۔ ہمیں پوری سنجیدگی کے ساتھ دیانت اور بردباری کے ساتھ یہ سوچنا ہو گا کہ مرنے جینے اور جسم کی نت نئی تبدیلیوں کے پیچھے کیا عوامل کام کر رہے ہیں۔
کیا ہم بار بار تبدلیِٔ جسم کے سلسلہ کو ختم نہیں کر سکتے اور کیا ہم بقاءِ دوام پا سکتے ہیں اور کیا ہم ہر آن اور ہر لمحہ جسمانی، ذہنی، شعوری تبدیلی سے نجات پا سکتے ہیں؟ ہمیں سوچنا ہو گا کہ اختلافِ لیل و نہار کے ساتھ ہم بھی کیوں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ جاننے کے لئے ہمیں اپنے دوست کو پہچاننا ہو گا اور جب ہم اپنے سچے، پاک اور ایثار کرنے والے دوست سے واقف ہو جائیں گے تو ردّ و بدل کا یہ لامتناہی سلسلہ ایک نقطہ پر ٹھہر جائے گا۔ ہمارا یہ دوست اللہ ہے۔
اللہ کے جو بندے روحانی آگہی کے ناپیدا کنار سمندر میں اتر جاتے ہیں ان کے اوپر سے Time&Space کی گرفت ٹوٹ جاتی ہے اور زمان سے پیدا شدہ تمام عوامل رنج و غم، پریشانی و اِضمحلال، فکر و تَردّد سے اپنا رشتہ منقطع کر لیتے ہیں۔ جب کوئی بندہ اس دائرہ کار میں منتقل ہو جاتا ہے تو اس کے اوپر انعام و اکرام کی بارش ہونے لگتی ہے ایسے ہی بندوں کے لئے کائنات مسخر کر دی گئی ہے۔
’’اور مسخر کر دیا تمہارے لئے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔‘‘ (قرآن)
عالَمِ انسانی کے قدسی نفس حضرات وہ ہیں جو اپنے اندر کام کرنے والے کہکشانی نظام سے باخبر ہوتے ہیں۔ جب کوئی بندہ اپنے Inner سے واقف ہو جاتا ہے اور آنکھوں کے سامنے سے مکان اور زمان کا پردہ اٹھ جاتا ہے تو وہ دیکھ لیتا ہے کہ سب کچھ انسان کے اندر ہے۔ انسان کے اندر ایک نقطہ ہے اور یہ نقطہ کائنات کی مائیکروفلم ہے۔ اس نقطہ کو جب پھیلنے اور نشر ہونے کا موقع دیا جاتا ہے تو ساری کائنات دماغ کی اسکرین پر فلم بن کر متحرّک ہو جاتی ہے۔
قدرت کا چلن یہ ہے کہ کوئی غیر معمولی طاقت اسی کو ملتی ہے جو اس کا موزوں استعمال جانتا ہے اور جو لوگ اس قسم کی طاقت حاصل کرنے کے بعد بے جا فخر اور گھمنڈ کے نشے میں غیر اخلاقی اور غیر انسانی حرکات شروع کر دیتے ہیں ان سے یہ طاقت چھین لی جاتی ہے۔ اس لئے یاد رکھئے کہ سب سے پہلے آپ کے دل میں اپنی شخصی تعمیر اور پھر تعمیرِ کائنات کا عزم ہونا چاہئے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 184 تا 185

روح کی پکار کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - زمان و مکان کیا ہے؟  ِ 3 - لوحِ محفوظ  ِ 4 - خالقِ خدا  ِ 5 - اللہ تعالیٰ نظر کیوں نہیں آتے؟  ِ 6 - اللہ تعالیٰ کی امانت کے حصول کے بعد ظالم اور جاہل کیسے؟  ِ 7 - کونسی طرزِ فکر اللہ کے قریب کرتی ہے؟  ِ 8 - روحانی طرزِ فکر کا تجزیہ  ِ 9 - روحانیت میں سب سے پہلے کیا ضروری ہے؟  ِ 10 - طرزِ فکر کی منتقلی کس قانون سے ہوتی ہے؟  ِ 11 - زمان (Time) کی حدود  ِ 12 - نفس کیا ہے؟  ِ 13 - درست طرزِ فکر کونسی ہے؟  ِ 14 - مرشد کو ظاہری آنکھ سے نہ دیکھا ہو  ِ 15 - کیا مراقبہ خواب کا تسلسل ہے؟  ِ 16 - اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب  ِ 17 - اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہیں  ِ 18 - اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہیں  ِ 19 - اللہ تعالیٰ کے علم کا عکس  ِ 20 - کائنات کے تخلیقی خدوخال  ِ 21 - کسی چیز کو سمجھنے کے لئے بنیادی عمل نظر ہے  ِ 22 - اللہ تعالیٰ کی صفات  ِ 23 - علم استدراج اور علم نوری میں فرق  ِ 24 - روحانی تصرّف کیا ہے؟  ِ 25 - اختیاری اور غیر اختیاری طرزِ فکر  ِ 26 - بخیلی اور سخاوت  ِ 27 - زندگی کی بنیاد  ِ 28 - حقیقت مُطلَقہ کیا ہے؟  ِ 29 - یقین کے کیا عوامل ہیں؟  ِ 30 - کیا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان سب مسخر کر دیا؟  ِ 31 - شُہود کی قسمیں  ِ 32 - سائنسی ایجادات  ِ 33 - علم کی حیثیت  ِ 34 - کیا قرآنی آیات پڑھنی چاہئیں؟  ِ 35 - تعویذ کے اندر کونسی طاقت ہے؟  ِ 36 - فِقہی علم کیا ہے؟  ِ 37 - سلطان کیا ہے؟  ِ 38 - مٹھاس یا نمک  ِ 39 - خیالی اور حقیقی خواب  ِ 40 - دعا آسمان سے کیوں پھینکی جاتی ہے؟  ِ 41 - مرشد کس طرح فیض منتقل کرتا ہے؟  ِ 42 - کتنی نیند کرنی چاہئے؟  ِ 43 - کیا رنگین روشنیاں غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں؟  ِ 44 - طریقت اور شریعت  ِ 45 - روح کا عرفان  ِ 46 - عام آدمی اور مؤمن میں فرق  ِ 47 - حساب کتاب کیا ہوتا ہے؟  ِ 48 - استغنائی طرزِ فکر  ِ 49 - خود ترغیبی کیا ہے؟  ِ 50 - کیفیت اور خیال میں فرق  ِ 51 - حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد  ِ 52 - تدلّیٰ اور علم الاسماء  ِ 53 - ارتقائی منازل  ِ 54 - نورِ باطن  ِ 55 - ذہن بیمار یا جسم بیمار  ِ 56 - روح کہاں جاتی ہے؟  ِ 57 - علم الغیب کیا ہے؟  ِ 58 - اللہ کا پسندیدہ بندہ  ِ 59 - فنا و بقا کیا ہے؟  ِ 60 - رنج و غم کیوں جمع ہوتے ہیں؟  ِ 61 - وَحدت الوجود اور وَحدت الشُہود  ِ 62 - دماغ میں دو کھرب خانے  ِ 63 - قلم خشک ہو گیا  ِ 64 - ترقی کا فسوں  ِ 65 - کون سا رنگ کون سا پتھر؟  ِ 66 - نماز میں حضورِقلب پیدا ہو  ِ 67 - روحانی تفسیر  ِ 68 - روح سے وُقوف حاصل کرنا  ِ 69 - نظر کا قانون  ِ 70 - زمان و مکان (Time And Space)  ِ 71 - شجرِ ممنوعہ کیا ہے؟  ِ 72 - کائنات کا بنیادی مسالہ  ِ 73 - اِرتکازِ توجّہ  ِ 74 - جسم میں لطیفے  ِ 75 - مادری زبان میں خیالات  ِ 76 - تصوّرِ شیخ  ِ 77 - کشش کیوں ہوتی ہے؟  ِ 78 - معجزہ، کرامت، اِستدراج کیا ہے؟  ِ 79 - قوّت ارادی کیا ہے؟  ِ 80 - تخلیقی اختیارات  ِ 81 - بغیر استاد کیا نقصان ہوتا ہے؟  ِ 82 - سورج بینی کا کیا فائدہ ہے؟  ِ 83 - رَحمۃَ لِّلعالمین  ِ 84 - وہاں کی زبان کو سمجھنا  ِ 85 - مراقبہ کا حکم  ِ 86 - انسانی کوشش کا عمل دخل  ِ 87 - اسفل زندگی سے نکلنا  ِ 88 - اسمِ اعظم کیا ہے؟  ِ 89 - ہر شئے دو رخوں پر ہے  ِ 90 - مؤکل کیا ہوتے ہیں؟  ِ 91 - مذہب کی حقیقت کیا ہے؟  ِ 92 - حواس کہاں سے آتے ہیں؟  ِ 93 - شرحِ صدر کیا ہے؟  ِ 94 - تفکر کی صلاحیت  ِ 95 - عشاء کا وقت افضل کیوں ہے؟  ِ 96 - سعید روح اور شَقی روح کیا ہے؟  ِ 97 - حافظے کی سطح  ِ 98 - حسبِ خواہش نتیجہ نہ ملنا  ِ 99 - نیگیٹیو بینی کیا ہے؟  ِ 100 - اس کتاب میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے  ِ 101 - یاحي یاقیوم کا کیا مطلب ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message