فطرت اور جبلت

کتاب : خطبات ملتان

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=13135

بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج کے لیکچر میں فطرت اور جبلت کی تشریح کی جائے گی۔
آدمی اور حیوانات میں امتیاز کرنے والی ایجنسی انسان کے اندر علوم سیکھنے کی صلاحیت ہے۔ حیوانات میں بھی علم ہوتا ہے۔ مثلاً کھانا، پینا، بچوں کی پرورش کرنا، روزی تلاش کرنا، اس بات کا ادراک ہونا کہ ہمیں کون سی چیز کھانی ہے اور کون سی چیز نہیں کھانی چاہئے۔ یہ سب علم ہے لیکن جب آدمی اور حیوانات کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو دو باتیں بطور خاص نظر آتی ہیں۔ ایک فطرت اور ایک جبلت۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ:
“فطرت میں تبدیلی نہیں ہوتی۔”
جبلت میں معاشرتی، معاشی، اخلاقی، غیر اخلاقی، ایثار و خلوص اور خود غرضی جیسے وہ تمام اعمال آ جاتے ہیں جن میں آدمی اور حیوان زندہ رہتے ہیں۔ جبلت میں حیوانات اور آدمیوں میں ہمیں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ اگر جبلی طور پر انسانی ماں میں بچے کی پرورش کرنے کے لئے مامتا کے جذبات ہیں تو ایک بلی میں بھی وہ تمام جذبات و احساسات موجود ہیں جو ایک انسان کی ماں میں ہوتے ہیں۔
آدمی سوتا ہے، سونے کے بعد جاگتا ہے، جاگنے کے بعد سوتا ہے۔ یہ سونے جاگنے کا عمل حیوانات میں بھی ہے۔ آدمی کو بھوک لگتی ہے وہ کچھ کھاتا ہے۔ حیوانوں کو بھی بھوک لگتی ہے۔ آدمی کو پیاس لگتی ہے، وہ پانی پیتا ہے اور حیوانات بھی پانی پیتے ہیں۔ اس میں کوئی تخصیص نہیں کہ وہ چوپائے ہوں، پرندے ہوں یعنی انسان اور حیوانات جبلی طور پر ایک ہی کنبے کے افراد ہیں۔ صورت شکلیں الگ الگ ہیں لیکن سب ایک ہی کنبے کے افراد ہیں۔
فطرت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق میں جو فارمولے یا Equationsمتعین کر دیئے ہیں ان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ دماغ سب کا ہے، ہاتھ پیر سب کے ہیں۔
پرندوں کے دو پر ہوتے ہیں، دو پنجے ہوتے ہیں۔ آدمی کے دو ہاتھ ہوتے ہیں، دو پیر ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“ہم نے پُتلا بنایا، گارے سے بنایا، مٹی سے بنایا، کھنکھناتی، بجنی مٹی سے بنایا۔”
کھنکھناتی، بجنی مٹی سے مراد خلا ہے۔۔۔۔۔۔بجنے والی چیز میں خلا ہوتا ہے۔
ایک ڈھول ہے۔ ڈھول کے دونوں طرف چمڑا منڈھا ہوا ہوتا ہے۔ بیچ میں خلا ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ خلا ہوتا ہے اتنی زیادہ آواز ہوتی ہے۔ اسی طرح بانسری ہے۔ بانسری میں اگر خلا نہ ہو اور سوراخ نہ ہوں تو آواز نہیں نکلتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“ہم نے انسان کو بجنی مٹی سے بنایا۔ خلا سے بنایا۔”
اگر خلا نہیں ہو گا تو اس کے اندر کوئی دوسری چیز داخل نہیں ہو گی۔
ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گارے سے بنایا۔ بجنی مٹی سے بنایا اور اس کے اندر ہم نے اپنی روح پھونک دی، اپنی جان ڈال دی۔ یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ اس مخلوق سے جو کام لینا چاہتے تھے اس کی مناسبت سے صلاحیتیں ودیعت کر دیں۔
جب آدم علیہ السلام کی تخلیق ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے پتلا میں روح ڈال دی تو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔ فرشتوں نے کہا کہ یہ خون خرابہ کرے گا اور فساد برپا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو علم الاسماء سکھایا اور آدم علیہ السلام سے کہا کہ جو کچھ ہم نے تمہیں سکھایا ہے وہ تم فرشتوں کے سامنے بیان کرو۔ آدم علیہ السلام نے فرشتوں کے سامنے ۔۔۔۔۔۔علم الاسماء بیان کیا تو فرشتوں نے کہاکہ ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا آپ نے ہمیں سکھا دیا ہے۔ یعنی انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ آدم علیہ السلام ہم سے زیادہ علم جانتا ہے۔
فطری لحاظ سے آدم کی تخلیق میں جو اہم عنصر ہے وہ خصوصی علم ہے۔ جو علم فرشتے بھی نہیں جانتے، ایسا علم جو جنات بھی نہیں جانتے۔ آدم علیہ السلام کی خصوصیت یہ ہوئی کہ آدم علیہ السلام وہ علم جانتے ہیں جو کائنات میں کوئی دوسری مخلوق نہیں جانتی۔ اگرچہ کائنات میں ہر مخلوق علم جانتی ہے لیکن علم الاسماء اللہ تعالیٰ نے صرف آدم علیہ السلام کو سکھایا ہے۔
اس علم کی افادیت کے پیش نظر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو کائنات نہیں جانتی ہے وہ آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے سکھا دیا ہے۔ جس وقت آدم علیہ السلام کو یہ علم سکھایا گیا اس وقت سیاق و سباق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے سامنے تھے۔ یعنی آدم علیہ السلام نے اللہ کو دیکھا اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیمات کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ کے سکھائے ہوئے علم کو سیکھا۔ وہاں فرشتے بھی موجود تھے۔ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آدم علیہ السلام نے فرشتوں کو بھی دیکھا۔
تیسری بات یہ ہے کہ جب فرشتوں نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا اور ابلیس نے آدمؑ کو سجدہ نہیں کیا تو اس وقت آدم علیہ السلام کے سامنے جنات بھی تھے۔
یعنی آدم علیہ السلام نے جنات کو بھی دیکھا، طلبا و طالبات آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کو بھی دیکھا اور آدم علیہ السلام نے فرشتوں کو بھی دیکھا۔
عزیز طلبا و طالبات!
آدم کی فطری صلاحیت یہ ہوئی کہ حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کو دیکھ چکے ہیں، فرشتوں اور جنات کو بھی دیکھ چکے ہیں۔
اللہ تعالیٰ، فرشتے اور جنات غیب ہیں۔ اب اس کا مطلب یہ ہوا کہ آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم غیب عطا ہوا ہے۔ غور کیجئے!
فرشتے غیب ہیں۔ جنات غیب ہیں اور اللہ تعالیٰ ماوراء غیب الغیب ہیں۔ اب سمری یہ بنی کہ روح میں غیب بینی یا فطرت بینی کی صلاحیت موجود ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ایسا Chipلگا دیا ہے جو غیب کا مشاہدہ کرتا ہے۔
بہت سارے تصوف کے بارے میں آپ نے سنا ہو گا۔ یہودی تصوف، عیسائی تصوف، ہندو تصوف، یوگا تصوف، بدھ تصوف۔ لوگوں نے تصوف کے نام رکھ دیئے ہیں لیکن ہر مذہب میں تصوف کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ تصوف سے تزکیۂ نفس ہوتا ہے۔ تزکیۂ نفس سے مراد یہ ہے کہ انسان کے اندر جو برائیاں ہیں ان سے بچ کر اچھائیوں کی طرف اس کا میلان ہو جاتا ہے۔ انسان جھوٹ نہیں بولتا، چوری نہیں کرتا، حق تلقی نہیں کرتا، ملاوٹ نہیں کرتا۔ حقوق العباد پورے کرتا ہے ۔ اللہ اور اس کے رسولوں کی تعلیمات پر صدق دل سے عمل کرتا ہے۔ تفرقے نہیں ڈالتا، نیک کاموں کی ترغیب دیتا ہے۔ نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، خیرات کرتا ہے۔
اب اگر ہم تصوف کا مطلب تزکیۂ نفس لیں۔ آپ عیسائی، یہودی، ہندو اور کسی بھی مذہبی پیروکار یا کافر سے بھی پوچھیں۔ بھائی! جھوٹ بولنا کیسا ہے؟ وہ کبھی یہ نہیں کہے گا کہ جھوٹ بولنا اچھی بات ہے۔ اگر آپ شرابی سے پوچھیں کہ شراب پینا کیسا ہے؟ وہ ہرگز یہ نہیں کہے گا، شراب پینا اچھی بات ہے۔ تو اگر تصوف کا مطلب یہ لیا جائے کہ تصوف سے انسان میں اچھی عادات شامل ہو جاتی ہیں اور برائیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے تو تصوف کی تعریف پوری نہیں ہوتی۔
تصوف کی اصل تعریف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو علم آدم علیہ السلام کو سکھایا ہے۔ بندہ وہ علم سیکھ لے اور جان لے۔ تصوف وہ علم ہے جس کی بنیاد پر آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا، فرشتوں کو دیکھا، جنات کو دیکھا اور جس علم کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی نیابت اور خلافت کے اختیارات عطا فرمائے ہیں۔
میرے نزدیک تصوف کی تعریف یہ یہ کہ تصوف وہ علم ہے۔ جو انسان کے باپ حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے سکھایا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کے حوالہ سے پوری نوع انسانی کا علمی ورثہ ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام دنیا میں آئے، نسل چلی۔ ہابیل قابیل کا واقعہ پیش آیا۔ میرے نزدیک ہابیل قابیل کے واقعے میں یہ حکمت ہے کہ اچھائی اور برائی کے تصور کا عملاً مظاہرہ ہو گیا۔ یعنی دو گروہ بن گئے۔ ایک ہابیل والا اور گروہ، دوسرا قابیل والا گروہ۔ ہابیل اور قابیل کے واقعے کے بعد نوع انسانی میں بنیادی تبدیلی یہ آئی کہ انسان کے اندر اچھائی اور برائی کا تصور واضح ہو گیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے ہابیل قابیل کے واقعے میں اچھائی کو پسند کیا اور قتل کو ناپسند کیا۔
حضرت آدم علیہ السلام سے پیغمبری کا سلسلہ شروع ہوا۔ روایت ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر تشریف لائے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زیادہ آئے ہوں یا کم تشریف لائے ہوں۔ یہ ایک روایت ہے۔
قرآن پاک میں جن پیغمبران علیہم السلام کا اللہ تعالیٰ نے تذکرہ فرمایا ہے ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
حضرت آدم ؑ ، حضرت نوح ؑ ، حضرت ادریس ؑ ، حضرت ہود ؑ ، حضرت صالح ؑ ، حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت اسماعیل ؑ ، حضرت اسحاق ؑ ، حضرت لوط ؑ ، حضرت یعقوب ؑ ، حضرت یوسف ؑ ، حضرت شعیب ؑ ، حضرت موسیٰ ؑ ، حضرت ہارون ؑ ، حضرت یوشع ؑ ، حضرت حزقیل ؑ ، حضرت الیاس ؑ ، حضرت الیسع ؑ ، حضرت شموئیل ؑ، حضرت داؤد ؑ ، حضرت ذوالکفل ؑ ، حضرت سلیمان ؑ ، حضرت ایوب ؑ ، حضرت یونس ؑ ، حضرت عزیر ؑ ، حضرت زکریا ؑ ، حضرت یحییٰ ؑ ، حضرت ذوالقرنین ؑ ، حضرت عیسیٰ ؑ ، آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم۔
پیغمبروں نے اچھائی اور برائی کے تصور کی تجدید کی۔ اچھائی اور برائی کی پہچان کرائی، اچھی باتوں پر عمل اور بری باتوں سے اجتناب سکھایا۔
دین حنیف کا پرچار کیا یعنی ایسا دین جس میں یہ دنیا بھی شامل ہے اور مرنے کے بعد کی دنیا بھی شامل ہے۔ دین حنیف یہ ہے کہ اگر ہم برائی کریں گے تو ہمیں اس دنیا میں برائی کا نتیجہ ملے گا اور آخرت میں بھی برائی ہی ملے گی۔ اگر ہم اچھائی کریں گے تو یہاں اجر ملے گا اور آخرت میں بھی اجر ملے گا۔
اچھائی برائی کے سلسلے کو قائم رکھنے کے لئے پیغمبروں نے جو تعلیمات دیں وہ یہ ہیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی پرستش کے لائق نہیں۔ آپ دیکھیں کہ جب آپ قرآن پاک پڑھیں، جہاں شرک کا تذکرہ آتا ہے، وہاں اللہ تعالیٰ کے مزاج میں جلال آ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو لوگ مشرک ہیں، اللہ کے علاوہ دوسرے معبودوں کو پوجتے ہیں، میں ان سے دوزخ بھر دوں گا۔
ہر پیغمبر نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ہمارے بعد ایک اور بندہ آئے گا اور وہ اس مشن کی تکمیل کرے گا۔
وید میں اس بات کا تذکرہ ہے، تورات میں تذکرہ ہے، انجیل میں تذکرہ ہے، صحائف میں تذکرہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی اس بات کی بشارت دی ہے کہ نجات دہندہ آئے گا۔ فارقلیط آئے گا اور آخری نبی سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تشریف لے آئے۔
حضور پاک ﷺ نے فرمایا کہ میں کوئی نئی بات نہیں کہہ رہا ہوں۔ میرے بھائی پیغمبر جو کہہ چکے ہیں میں اس کا اعادہ کر رہا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا۔۔۔۔۔۔شرک نہ کرو، اللہ وحدہٗ لا شریک ہے، اس ہی کی پرستش کرو اور معاشرتی قوانین پر عمل کرو۔ زمین پر فساد برپا نہ کرو۔ حق تلفی نہ کرو۔ خطبہ حجتہ الوداع میں پوری تفصیل بیان فرما دی ہے۔
جتنے معاشرتی قوانین ہیں۔۔۔۔۔۔اس میں کہیں بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ مثلاً اگر اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ جھوٹ نہ بولو تو اس میں اللہ کا کیا فائدہ ہے؟ اللہ تعالیٰ کہت ہیں چوری نہ کرو تو اس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی Benefitنہیں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ یہ کہتے ہیں کہ چوری نہ کرو تو اس کا مطلب ہے وہ مخلوق کو اذیت سے بچانا چاہتے ہیں۔ جب چوری ہو گی ہی نہیں تو ہر شخص کا گھر چوری سے محفوظ ہو جائے گا۔ آپس میں لڑو جھگڑو نہیں۔ غصہ نہ کرو۔ ہم غصہ کرتے ہیں۔ غصہ کرنے سے معدے کا نظام خراب ہوتا ہے، ہمارا اعصابی نظام کمزور ہوتا ہے۔
High Blood Pressureہو جاتا ہے، نئی نئی بیماریاں آ جاتی ہیں۔ غصہ کرنے کو اگر اللہ تعالیٰ منع کر رہے ہیں تو اس میں نوع انسانی کا ہی فائدہ ہے۔
تصوف کیا ہے؟ تصوف کے بارے میں، میں نے جتنا مطالعہ کیا ہے یا جو کچھ میرے مرشد کریم حضور قلندر بابا اولیاءؒ سے مجھے علم منتقل ہوا ہے، س کا لب لباب یہ ہے کہ کوئی آدمی اللہ سے کتنا واقف ہے۔ بندہ اللہ سے جتنا واقف ہے اس ہی اعتبار سے وہ صوفی ہے۔ اگر وہ اللہ سے واقف نہیں ہے تو کسی بھی طرح اسے روحانی آدمی یا صوفی نہیں کہا جا سکتا۔ محض زبانی واقفیت نہیں تصدیق بالقلب والی واقفیت ہو۔ سنی سنائی بات نہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ واقعتاً اس کا مشاہدہ ہو کہ “مجھے اللہ دیکھ رہا ہے۔”
جو علم بندے کو اللہ سے قریب کرے اور بندے کا اللہ سے رابطہ قائم ہو جائے۔ یہی تصوف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔۔۔۔۔۔کہ کسی بندے کی یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ اللہ سے ہم کلام ہو سکے لیکن وحی کے ذریعے، پردے کے پیچھے سے یا کسی قاصد کے ذریعے اور اس کے علاوہ جس طرح اللہ چاہے۔
بشر اللہ سے ہم کلام ہو سکتا ہے، وحی کے ذریعے سے۔ اس میں عورت اور مرد کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ نبوت اور رسالت بالکل الگ ہے۔ نبیوں کو اللہ تعالیٰ منتخب کرتے ہیں۔ وحی عورتوں پر بھی آئی ہے۔ فرشتے عورتوں کے پاس بھی آئے ہیں۔ حضرت مریم ؑ کی مثال ہمارے سامنے اور بھی خواتین کی مثالیں ہیں۔
اولیاء اللہ خواتین اور اولیاء اللہ مرد حضرات کی روحانی کیفیات ایک جیسی ہوتی ہیں۔ اگر مرد افلاک کی سیر کرتے ہیں، آسمانوں میں پرواز کرتے ہیں، فرشتوں سے ہم نشست ہوتے ہیں، عورتیں بھی افلاک کی سیر کرتی ہیں، فرشتوں سے ان کی بات ہوئی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی صفت اور تجلی کو دیکھتی ہیں۔
الحمدللہ عظیمیہ سلسلے میں بہت ساری خواتین ہیں جن کی کیفیات بہت اچھی ہوتی ہیں۔ کئی دفعہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرد بہت آگے ہیں اور عورتیں پیچھے ہیں اور کبھی یہ ہوتا ہے کہ خواتین کی روحانی کیفیات مردوں سے اچھی ہوتی ہیں۔
یہ کیوں ہوتا ہے؟
اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں کے پُتلے میں اللہ کی روح ہے۔ عورت بھی عبادت کرتی ہے اور مرد بھی عبادت کرتا ہے۔ عورت بھی کھانا کھاتی ہے، مرد بھی کھانا کھاتا ہے۔ عورت بھی سوتی ہے، خواب دیکھتی ہے۔ مرد بھی سوتا ہے، خواب دیکھتا ہے۔ عورت بھی روزہ رکھتی ہے، مرد بھی روزہ رکھتا ہے۔ عورت بھی حج کرتی ہے، مرد بھی حج کرتا ہے۔ مرد بھی اعتکاف کرتا ہے، عورت بھی اعتکاف کرتی ہے۔ مرد کے اندر بھی خون دوڑتا ہے، عورت کے اندر بھی خون دوڑتا ہے۔ مرد بھی خیرات کرتا ہے، عورت بھی خیرات کرتی ہے، مرد جہاد کرتا ہے تو عورت بھی جہاد میں شریک ہوتی ہے۔ دنیاوی اعتبار سے مرد اور عورت انجینئر ہوتے ہیں، مرد پائلٹ ہوتا ہے تو عورت بھی ہوائی جہاز اڑاتی ہے۔ مرد، ڈاکٹر، اسکول ٹیچر اور وزیراعظم ہوتا ہے تو عورت بھی ڈاکٹر، اسکول ٹیچر اور وزیراعظم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو علم سیکھنے کی صلاحیت دی ہے تو عورتوں میں بھی علم سیکھنے کی پوری پوری صلاحیت موجود ہے۔
حضور پاکﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر علم سیکھنا فرض ہے۔ اگر عورت کے اندر علم سیکھنے کی صلاحیت نہ ہوتی تو حضور پاکﷺ یہ نہ فرماتے کہ مرد عورت دونوں پر علم سیکھنا فرض ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا دونوں میں صلاحیت ہے۔
ایک بات بہت زور و شور سے کہی جاتی ہے۔ خواتین کے لئے خصوصاً توجہ طلب ہے، ہمارے دانشور کہتے ہیں کہ آدم ؑ جنت میں اکیلے تھے، انہیں پریشانی ہوئی کہ میرا کوئی ساتھی ہو تو آدم ؑ کی پسلی سے حوا پیدا ہوئیں۔ لیکن قرآن ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ آدم ؑ کو علم سکھانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔۔۔۔۔۔اے آدم تو اور تیری بیوی جنت میں رہو۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آدم ؑ کے ساتھ حوا کی تخلیق ہوئی تھی۔ آدم ؑ اور حوا دونوں موجود تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں سے فرمایا کہ تم دونوں جنت میں رہو۔
ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران علیہم السلام کی روایت کو اگر تسلیم کر لیا جائے تو آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہﷺ ہیں۔ تورات، انجیل اور وید کے کچھ حصے میں نے پڑھے ہیں کسی بھی کتاب میں دین کی تکمیل کا تذکرہ نہیں ہے۔ حضرت محمد رسول اللہﷺ تک انسانی ارتقا اتنا ہو چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دین کی تکمیل کر دی۔ فرمایا:
“آج کے دن دین کی تکمیل ہو گئی اور اللہ تعالیٰ حضور پاکﷺ سے راضی ہو گئے اور دین اسلام ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے پسند فرما لیا۔”اب چونکہ دین کی تکمیل ہو چکی ہے لہٰذا کسی پیغمبر کے آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ رسول اللہﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد آپﷺ کی تعلیمات کو صحابہ کرامؓ نے آگے بڑھایا پھر تابعین، پھر تبع تابعین نے آگے بڑھایا، ان کے بعد اولیاء اللہ نے اس مشن کو پھیلایا اور روز قیامت تک اولیاء اللہ اپنی یہ ڈیوٹی پوری کرتے رہیں گے۔
سوال: اللہ تعالیٰ سے کس طرح تعلق قائم ہو سکتا ہے؟
جواب: میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں میٹرک کرنا چاہتا ہوں، کس طرح کروں؟
جواب: اسکول میں جائیں۔
جواب: تصوف سیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اسکول میں داخلہ لیں۔ جس کلاس میں آپ اس وقت بیٹھے ہیں، یہ تصوف کا اسکول ہے۔
آپ یہاں آئے تصوف کے بارے میں سنا، کچھ علم حاصل ہوا۔ آپ میں شوق پیدا ہو گا آپ بار بار آئیں گے تو تصوف کا علم آپ سیکھ جائیں گے۔
سوال: موجودہ دور میں تصوف ہمیں کس طرح فائدہ دے سکتا ہے؟ کوئی ایسا طریقہ بتائیں جس سے ہم اس علم سے مستفید ہو سکیں؟
جواب: بہت آسان طریقہ ہے اور اس میں کوئی وقت بھی نہیں لگتا، اسکول بھی نہیں جانا پڑتا، کوئی یونیفارم بھی نہیں سلوانی پڑے گی۔ توجہ فرمائیں! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آنکھیں دی ہیں، سب کو پتہ ہے آنکھیں اللہ نے دی ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آنکھیں لے بھی سکتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں بہت سارے اندھے ہیں۔ آپ یہ کیجئے کہ سونے سے پہلے جو کچھ آپ نے دیکھا ہے اس کو دہرائیں۔ ہم نے گھر دیکھا ہے، اماں کو دیکھا ہے، بچے دیکھے ہیں، بازار دیکھا ہے، نکلتا ہوا سورج دیکھا ہے، رات کو چاندنی دیکھی ہے اور آسمان پر ستاروں کی کہکشاں دیکھی ہے اور آپ جب صبح کو اٹھیں تو یہ سوچیں کہ اگر ہم اندھے ہو کر اٹھتے تو کیا ہوتا؟
اس عمل سے کیا ہو گا؟۔۔۔۔۔۔
یہ ہو گا کہ آنکھ کی نعمت کی قدر ہو گی۔ اس نعمت کا پھیلاؤ آپ کے سامنے آئے گا اور آپ لازماً اللہ کا شکر ادا کریں گے اور جب آپ اللہ کا شکر ادا کریں گے تو چھوٹی بڑی پریشانیاں اور بے سکونیاں از خود ختم ہو جائیں گی۔ اگر اللہ کی ایک ایک نعمت پر آپ شکر ادا کرنے لگیں تو آپ کا تعلق اللہ سے قائم ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ شکر کرنیو الے بندے بہت کم ہیں، شکر کرو۔ شکر کا مطلب ہے جو نعمت اللہ تعالیٰ نے دی ہے، اس کو استعمال کرو اور استعمال کر کے اس کے نتائج تلاش کرو۔ سوچو کہ یہ نعمت نہ ہوتی تو کیا ہوتا۔ مثلاً آدمی کے کان نہ ہوتے تو وہ کیا کرتا۔
رات کو سونے لگو تو آنکھ کی نعمت یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے اندھے پن سے محفوظ رکھا ہوا ہے، اس کا شکر ادا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے معذور نہیں کیا، اس کا شکر ادا کرو۔ صبح کو اٹھ کر کلمہ پڑھو۔۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔۔۔۔۔۔ایک مہینہ آنکھ کی نعمت کو یاد کرو، ایک مہینہ کان کی نعمت کو یاد کرو، ایک مہینہ دماغ کی نعمت کو یاد کرو، اتنی چیزیں ہیں کہ یاد کر کے شکر ادا کرنے میں ایک سال آرام سے گزر جائے گا اور انشاء اللہ بارہ مہینے میں اللہ سے آپ کا رابطہ قائم ہو جائے گا۔بہت شکریہ!

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 107 تا 117

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)