یہ تحریر العربية (عربی) میں بھی دستیاب ہے۔

فرشتوں کی جماعت

کتاب : تجلیات

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=3051

خداوند قدوس و مکرم نے جب حضرت آدمؑ کو پیدا کیا تو ان کو فرشتوں کی ایک جماعت کے پاس جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جاؤ اور ان بیٹھے ہوئے فرشتوں کو سلام کرو۔ اور وہ سلام کے جواب میں جو دعا دیں اس کو غور سے سن کر حافظہ میں محفوظ کر لو، اس لئے کہ یہی تمہارے لئے اور تمہاری اولاد کے لئے دعا ہو گی۔ چنانچہ حضرت آدمؑ فرشتوں کے پاس پہنچے اور کہا۔ السلام علیکم
فرشتوں نے جواب میں کہا۔ السلام علیکم و رحمتہ اللّٰہ یعنی فرشتوں نے و رحمتہ اللہ کا اضافہ کر کے حضرت آدمؑ کے سلام کو جواب دیا۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ فرشتے جب مومنوں کی روح نکلاتے ہیں تو سلام علیک کہتے ہیں۔
’’ایسی ہی جزا دیتا ہے خدا متقی لوگوں کو جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں ہیں۔ جب فرشتے روح قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں سلام علیکم جاؤ، جنت میں داخل ہو جاؤ اپنے اعمال کے صلے میں‘‘ (النحل ۳۱۔۳۲)
جنت کے دروازے پر جب یہ متقی لوگ پہنچیں گے تو جنت کے ذمے دار بھی ان ہی الفاظ کے ساتھ ان کا شاندار استقبال کریں گے۔
’’اور جو لوگ پاکیزگی اور فرماں برداری کی زندگی گزارتے رہے، ان کے جتھے جنت کی طرف روانہ کر دیئے جائیں گے اور جب وہ وہاں پہنچیں گے تو اس کے دروازے پہلے سے کھلے ہوئے ہونگے۔ جنت کے کارندے ان سے کہیں گے سلام علیکم بہت ہی اچھی زندگی گزاری، داخل ہو جاؤ اس جنت میں ہمیشہ کے لئے۔‘‘ (الزمر ۷۳)
’’اور فرشتے ہر ہر دروازے سے ان کے خیر مقدم کے لئے آئینگے اور ان سے کہیں گے سلام علیکم یہ صلہ تمہارے صبر و ثبات کی روش کا ہے، پس کیا خوب ہے آخر کا گھر اور اہل جنت آپس میں خود بھی ایک دوسرے کا استقبال ان ہی کلمات کے ساتھ کرینگے۔‘‘
’’وہاں ان کی زبان پر یہ صدا ہو گی کہ اے خدا تو پاک و برتر ہے، ان کی باہمی دعا سلام ہو گی۔‘‘ یونس 10
دنیا کا ہر آدم زاد آپ کا بھائی ہے۔ میں آپ کا بھائی ہوں، آپ میرے بھائی ہیں، وہ میری بہن ہے، میں اس کا بھائی ہوں۔ ان سب بہن بھائیوں میں من حیث القوم پہلے قرابت داروں کا حق زیادہ ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ہمارے اوپر نوع انسانی کے حقوق عائد نہیں ہوتے۔ کنبہ، برادری، ملک و قوم اپنی جگہ ہر آدم زاد کا دوسرے آدم زاد پر حق ہے اور وہ حق یہ ہے کہ ایک باپ آدم اور ایک ماں حوا کے رشتے سے ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں کو دعوت حق دیں۔ دعوت حق قبول کرنے والا کسی علاقے کا ہو، کسی رنگ اور نسل کا ہو، وہ کوئی بھی زبان بولتا ہو، آپ کا اس سے تعارف ہو یا نہ ہو آپ اس کے ساتھ خلوص اور محبت کا اظہار کر کے سلام میں پہل کیجئے۔ آپ اپنے گھروں میں جب داخل ہوں تو گھر والوں کو بھی سلام کریں۔
جب دو افراد آپس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔ گفتگو کرنے سے پہلے اگر اس بارے میں سبقت کی جائے کہ مخاطب کے سامنے ایسے الفاظ دہرائے جائیں کہ جن لفظوں سے اسے خوشی ہو اور ان کے ذہن کے اندر بند سلامتی کے دروازے کھل جائیں تو اس شخص کے اوپر ایک پر سکون کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور وہ بات چیت کے وقت نرم خو اور خوش دل ہو جاتا ہے۔
نبئ مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے نوع انسانی کو یہ تعلیم دی ہے کہ جب بھی کوئی ایک دوسرے سے میل ملاقات کرے تو دونوں مسرت و محبت کے جذبات کا مظاہرہ کریں اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر دو ایک دوسرے کے لئے سلامتی، عافیت اور نیک خواہشات کا اظہار کریں۔
ایک بندہ کہے السلام علیکم تو دوسرا جواب دے وعلیکم السلام۔
اللہ تعالیٰ کے حضور بھائیوں کے لئے یہ دعا باہمی الفت و محبت کو استوار کرتی ہے۔ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے:
’’تم لوگ جنگ میں نہیں جا سکتے جب تک کہ مومن نہیں بنتے اور تم مومن نہیں بن سکتے جب تک کہ ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو۔ آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔‘‘
آپ جب اپنے بھائی ، اپنے عزیز، اپنے دوست سے ملاقات کے وقت السلام علیکم کہتے ہیں تو اس کے معانی یہ ہوتے ہیں کہ آپ نے اپنے بھائی کے لئے دل کی گہرائی سے دعا کی ہے کہ اے اللہ! اس کے جان و مال کو سلامت رکھ، اس کے گھر بار کی حفاظت فرما، میرے بھائی کے اہل و عیال اورمتعلقین کی سلامتی کے ساتھ حفاظت فرما، اس کی دنیا بھی اچھی ہو اور دین بھی روشن اور تابناک ہو۔ اے اللہ! میرے بھائی، میرے عزیز، میرے دوست اور میرے ہم جنس کو ان نوازشات سے نواز دے جو میرے علم میں ہیں اور ان انعامات سے مستفیض فرما جو میرے علم میں نہیں ہیں۔
جب ایک بھائی دوسرے بھائی کو سلام کرتا ہے تو دراصل وہ کہنا یہ چاہتا ہے ۔ ’’اے میرے بھائی! میرے دل میں تمہارے لئے خیر خواہی، محبت و خلوص، سلامتی اور عافیت کے انتہائی گہرے جذبات موجزن ہیں۔ تم بھی میری طرف سے اندیشہ نہ کرنا، انشاء اللہ میرے طرز عمل سے تمہیں بھی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ السلام علیکم کے معانی اور مفہوم کو اگر شعوری حواس کے ساتھ سوچ سمجھ کر زبان سے ادا کیا جائے تو مخاطب کے اندر یگانگت، قلبی تعلق اور وفاداری کے جذبات پیدا ہونگے۔ باعث تخلیق کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ السلام خدا کے ناموں میں سے ایک نام ہے جس کو خدا نے زمین پر نازل فرمایا ہے۔ پس سلام کو آپس میں خوب پھیلاؤ۔‘‘

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 226 تا 230

یہ تحریر العربية (عربی) میں بھی دستیاب ہے۔

تجلیات کے مضامین :

ِ 1 - قرآن  ِ 2 - زمین پر اندھیرا  ِ 3 - آسمانوں میں اعلان  ِ 4 - ہماری تصویر  ِ 5 - تسخیرِ کائنات  ِ 6 - دولت کی محبت بت پرستی ہے  ِ 7 - ترقی کا محرم غیر مسلم؟  ِ 8 - کفن دفن  ِ 9 - آگ کا سمندر  ِ 10 - روح کی آنکھیں  ِ 11 - سوکھی ٹہنی  ِ 12 - پرخلوص دل  ِ 13 - تبلیغ  ِ 14 - مشعل راہ  ِ 15 - تخلیقی فارمولے  ِ 16 - توبہ  ِ 17 - بھلائی کا سرچشمہ  ِ 18 - عظیم احسان  ِ 19 - طرزِ فکر  ِ 20 - حج  ِ 21 - شیریں آواز  ِ 22 - دو بیویاں  ِ 23 - صراط مستقیم  ِ 24 - ماں باپ  ِ 25 - محبت  ِ 26 - خود داری  ِ 27 - بیداری  ِ 28 - قطرۂ آب  ِ 29 - خدا کی تعریف  ِ 30 - زندگی کے دو رُخ  ِ 31 - علم و آگہی  ِ 32 - جھاڑو کے تنکے  ِ 33 - رزق  ِ 34 - مُردہ قوم  ِ 35 - پیغمبر کے نقوشِ قدم  ِ 36 - نیکی کیا ہے؟  ِ 37 - ضدی لوگ  ِ 38 - سعید روحیں  ِ 39 - توفیق  ِ 40 - سورج کی روشنی  ِ 41 - رب کی مرضی  ِ 42 - دُنیا اور آخرت  ِ 43 - بیوی کی اہمیت  ِ 44 - خود شناسی  ِ 45 - دماغ میں چُھپا ڈر  ِ 46 - روزہ  ِ 47 - مناظر  ِ 48 - دُعا  ِ 48 - مساجد  ِ 50 - علیم و خبیر اللہ  ِ 51 - مایوسی  ِ 52 - ذخیرہ اندوزی  ِ 53 - بھائی بھائی  ِ 54 - اللہ کی کتاب  ِ 55 - اونگھ  ِ 56 - انسان کے اندر خزانے  ِ 57 - اللہ کی صناعی  ِ 58 - ناشکری  ِ 59 - آئینہ  ِ 60 - مُردہ دلی  ِ 61 - خدا کی راہ  ِ 62 - غرور  ِ 63 - رمضان  ِ 64 - قبرستان  ِ 65 - قرآن اور تسخیری فارمولے  ِ 66 - اچھا دوست  ِ 67 - موت سے نفرت  ِ 68 - خطاکار انسان  ِ 69 - دوزخی لوگوں کی خیرات  ِ 70 - معاشیایات  ِ 71 - آدابِ مجلس  ِ 72 - السلامُ علیکُم  ِ 73 - گانا بجانا  ِ 74 - مخلوق کی خدمت  ِ 75 - نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ِ 76 - صبر و استقامات  ِ 77 - مہمان نوازی  ِ 78 - مسکراہٹ  ِ 79 - بلیک مارکیٹنگ  ِ 80 - دوست  ِ 81 - مذہب اور نئی نسل  ِ 82 - معراج  ِ 83 - انسانی شُماریات  ِ 84 - جائیداد میں لڑکی کا حصہ  ِ 85 - دعوتِ دین  ِ 86 - فرشتے نے پوچھا  ِ 87 - سونے کا پہاڑ  ِ 88 - مچھلی کے پیٹ میں  ِ 89 - بچوں کے نام  ِ 90 - صدقہ و خیرات  ِ 91 - اپنا گھر  ِ 92 - غیب کا شہُود  ِ 93 - حقوق العباد  ِ 94 - فقیر دوست  ِ 95 - بے عمل داعی  ِ 96 - عید  ِ 97 - جذب وشوق  ِ 98 - موت کا خوف  ِ 99 - فرشتوں کی جماعت  ِ 100 - اعتدال  ِ 101 - مشن میں کامیابی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message