غلام قومیں

کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=6229

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو قومیں اپنی حالت نہیں بدلنا چاہتیں، اللہ تعالیٰ ان کی حالت میں تبدیلی پیدا نہیں کرتے ۔ ہم نے من حیث القوم اللہ تعالےٰ کے بنائے ہوئے قوانین سے نظر ہٹا لی ہے اور اپنے آپ کوعذاب و ثواب کے چکّر میں محدود کر لیا ہے۔ اس قدر محدود کر لیا ہے کہ تخلیقی فارمولوں سے ہم بالکل بے بہرہ ہو گئے ہیں۔ قرآن ہمارا ہے۔ اللہ ہمارا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے زمین آسمان اور اس کے اندر جو کچھ ہے سب کا سب تمہارے تا بع فرمان کر دیا ہے، تمہارے لئیے چاند کو مسخر کر دیا ہے، تمہارے لیئے ستاروں کو مسخر کر دیا ہے۔ اور ہم ہیں کہ ہم نے اس تسخیری عمل کو کبھی آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ قرآن ہمارا ہے اور قرآن واشگاف الفاظ میں کہتا ہے کہ لوہے میں انسانوں کے لیئے بے شمار فائدے محفوظ ہیں۔ ظاہر ہے کہ قرآن پاک یہ کہہ رہا ہے کہ یہ فائدے جو اللہ تعالیٰ نے لوہے کے اندر محفوظ کر دیئے ہیں انہیں تلاش کرو اور جب تم ان فائدوں کو تلاش کر لو گے تو ان سے اللہ کی مخلوق کو فا ئدہ پہنچے گا اور اللہ کی مخلوق میں تمہاری عزت و توقیر ہو گی۔ اللہ کا قانون اپنی جگہ برحق ہے۔ جن لوگوں نے لوہے کی صلاحیتوں کو تلاش کیا وہ لوگ قومی اعتبار سے عزت دار ہو گئے اور ہم نے قرآن پاک کی تعلیمات کو نظر انداز کیا ، ہم ذلیل و خوار ہو گئے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اپنی جگہ اہم ہیں، فرض ہیں، ضروری ہیں۔ اس لیئے کہ ان ارکان کی ادائیگی سے رُوح کو تقویت ملتی ہے، رُوحانی صلاحیتیں متحرّک اور بیدار ہوتی ہیں۔ لیکن یہاں معاملہ بالکل الٹا اور برعکس ہے کہ یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ رُوح کی صلاحیتیں ہمارے اندر موجود بھی ہیں یا نہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہمارے اندر تفکر موجود نہیں ہے۔ ہم عمل تو کرتے ہیں، عمل کی حقیقت کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ جب کوئی بندہ جس کو اللہ تعالیٰ نے علم الیقین کی دولت سے نوازا ہے، قرآن پاک میں تفکر کرتا ہے تو اس کے سامنے قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ آجاتی ہے اور وہ اس بات کا مشاہدہ کر لیتا ہے کہ قوموں کا عروج و زوال اس بات پر منحصر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فرمائی ہوئی باتوں پر جن قوموں نے تفکر کیا وہ سرفراز ہوئیں اور جن قوموں نے تفکر کو رد کیا ، وہ قومیں غلام بن گئیں۔ بڑی ستم ظریفی ہے کہ ہم جب یہ دیکھتے ہیں کہ موجودہ سائنس کی ترقی میں وہ تمام فارمولے کام کر رہے ہیں جو ہمارے اسلاف نے چھوڑے ہیں اور جو فی الواقع ہمارا ورثہ تھے لیکن چوں کہ ہم نے اس ورثے کو کوئی اہمیت نہیں دی، اس لیئے دوسرے لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا اور ہم ایک پس ماندہ اور بھکاری قوم بن گئے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 145 تا 146

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)