غار حرا میں مراقبہ

کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=6225

انسانی شعور اور اس کے ارتقاء کا تزکرہ ہمیں لازماً اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ جس مقام یآجس حیثیت میں ہم آج موجود ہیں اس کا سہرہ ہمارے اسلاف کے سر بندھا ہوا ہے۔ نوع انسانی کے جدّ امجد آدمؑ کو جب اس دنیا میں پھینکا گیا تو وہ شعور کی اس منزل میں تھے جہاں آج کا ایک نو زائیدہ بچہ ہوتا ہے۔ اس بچہ (آدم) کی زندگی کے لمحات آن بنے۔ آن سیکنڈوں میں تبدیل ہوئی، سیکنڈ منٹ بنے، منٹ نے خود کو گھنٹوں میں گم کر دیا ۔ گھنٹوں نے رات دن کا لباس زیب تن کیا ۔ رات اور دن نے سالوں کا رُوپ دھارا۔ سال کی گھڑیاں صدیوں کی آغوش میں دَم توڑتی رہیں اور یوں قرن وجود میں آتے رہے۔
آدم نے شعور کا سانس لیا تو زندگی قائم رکھنے کے لیئے کچھ کرنے، کچھ کھا نے، کچھ پہننے کے لیئے تقاضا اُبھرا۔ تقاضے میں شدّت پیدا ہوئی تو گداز بنا۔ اور یہ گداز آنکھوں سے بَہ نکلا۔ اس سیلِ رواں پر بند باندھنے کے لیے جبریلؑ امین عرش سے فرش پر اترے اور آدم سے گویا ہوئے:
“اے بھولے بادشاہ ! رونے دھونے سے کام نہیں بنے گا۔ تم نے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ اس ظلم کی چکّی پیسنے کے لیئے کچھ دو، کچھ لو کے مصداق محنت کرو گے تو پاؤ گے۔ اٹھو اور نا فرمانی کی پاداش میں زمین پر مشقت کرو اور پیٹ کا ایندھن جمع کرو۔”
قلند ر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں۔ “میں نے یہ تمثالیں دیکھی ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔ حضرت جبرئیلؑ آگے آگے چل رہے تھے اور آدم اُن کے نقشِ پا پر آہستہ خرام پیچھے پیچھے۔ قطعۂ زمین کے ایک مربع پر حضرت جبرئیلؑ کھڑے ہو گئے اور کہا “یہ کھیت ہے۔ یہاں بیج ڈالو اور اس کو سینچ سنیچ کر پروان چڑھاؤ۔ کھاؤ اور پیؤ !”
آدم تیزی سے دو قدم آگے بڑھے اور کہا “یہاں تک حد مقرر کر دو۔”
حضرت جبرئیلؑ نے بہت ہی دکھ کے ساتھ کہا ۔ ہائے افسوس، صد افسوس! تم نے اپنی اولاد میں حرص کا بیج بو دیا ہے۔ یہ بات تمہاری عقل میں کیوں نہ آئی کہ یہ ساری زمین اللہ نے تمہاری مِلک قرار دے دی ہے۔”
نوع آدم کا پہلا ارتقا یہ ہوا کہ اس نے زمین میں بیج بونا سیکھا۔ زمین کی کوکھ سے کانٹوں نے جنم لیا تو آدم نے شعوری طور پر چبھن محسوس کی، پھول کھلے تو ذہن وارفتگی کے عالم میں آسمانوں کی رفعتوں کو چھونے لگا۔
شگوفے اور خار، پھول اور کانٹے اپنی ذات میں ایک محسوساتی ردّ ِعمل ہیں۔ ردّ ِعمل طرزِ فکر کی نشاندہی کرتا ہے۔ طرزِ فکر میں ایمان، یقین، مشاہدہ موجود ہے تو آدم کی اولاد سکوں آشنا ہے۔ طرزِ فکر میں بے یقینی، شک کور چشمی ہے تو زندگی کانٹوں بھری ایک سیج ہے، ہر کروٹ لہو لہو اور ہر سانس فنا ہے۔
نوع انسانی اپنے باپ آدم کے اس ورثہ پر رَواں دواں ہے۔ آدم نے نا فرمانی کی، اولاد کو نافرمانی کا ورثہ منتقل ہوا۔ آدم نے عجز و انکسار کے ساتھ عفو و درگزر کی درخواست ربّ ِ کائنات کے حضور پیش کی اور پکارا۔ “اے ہمارے رب ! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ اگر آپ نے ہمیں معاف نہیں کیا اور ہمارے اوپر رحم نہیں کیا تو ہم تیری نعمتوں سے محروم رہ جائیں گے۔ اور یہ نقصان ایسا نقصان ہے جس کی تلافی کسی طرح بھی ممکن نہیں۔”
ایک طرزِ فکر بندے کو خالق سے قریب کرتی ہے۔ دوسری طرزِ فکر بندے کو خالق سے دور کرتی ہے۔ ہم جس طرزِ فکر سے جس قدر قریب ہو جاتے ہیں اسی مناسبت سے ہمارے اوپر رحمتوں یا صعوبتوں کے دروازے کھلتے رہتے ہیں۔ انعام یافتہ شخص آلام و مصائب کی زندگی سے نا آشنا ہو جاتا ہے اور یہ دنیا اس کے لیئے جنّت کا گہوارہ بن جاتی ہے۔
ہم اس رحمت و عنایت کو رسول اللہ ﷺ کی پہلی سنت ادا کر کے نہایت آسانی کے ساتھ حاصل کر سکتے ہیں۔ محبوبؐ خدا کی اوّلین سنّت غارحرا میں مراقبہ ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 134 تا 136

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)