غارِ حرا

کتاب : پیرا سائیکالوجی

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=7873

مادی دنیا ایسی کھیتی ہے…. جس میں آخرت کی زندگی کے کانٹے یا پھولوں کے بیج ڈالے جاتے ہیں۔ اگر کسی بندے نے شیطانی وسوسوں کے تحت اس زمین میں کانٹوں کی کھیتی بوئی ہے تو آخرت میں بھی کانٹے چننا، کانٹے توڑنا اور کانٹے کھانا اس کا مقدر ہے۔ اور کسی بندے نے اگر اس مرزعۂِ آخرت میں رسول اللہﷺکےارشادکےمطابق اوراولیاءاللہ کی زندگی کےاعمال ووظائف کی روشنی میں ایسی کاشت کی ہےجس کاشت کےنتیجےمیں سدا بہار درخت پھولدارپودےاورخوشنماباغات وجودمیں آتےہیں تومرنےکےبعداسکااثاثہ یہی خوشنماباغات ہیں۔
بات سیدھی اور صاف ہے اس دنیا میں ہم جو کچھ کرتے ہیں اس کے مطابق ہم جزا کے مستحق ہوتے ہیں یا عذاب ناک زندگی ہمارے اوپر مسلط ہو جاتی ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حدیث کے مطابق:
‘‘مر جاؤ مرنے سے پہلے’’
اس بات کی تشریح ہے کہ اس دنیا میں رہتے ہوئے یعنی مٹی سے وجود میں آنے والے حواس کے ساتھ یہ بات ہم جان لیں اور سمجھ لیں کہ اس دنیا کے بعد دوسری زندگی کا دارومدار ہمارے اپنے ذاتی اختیار اور عمل پر ہے۔ قرآن پاک نے اسی بات کو بار بار ارشاد کیا ہے:
تفکر کرو…. عقل و شعور سے کام لو…. زمین پر پھیلی ہوئی اللہ کی نشانیوں کا کھوج لگاؤ…. اپنی تخلیق پر غور کرو کہ کس طرح وجود میں آئے…. کس طرح اللہ کریم نے حفاظت کے ساتھ تمہیں پرورش کیا، پروان چڑھایا…. تمہارے اوپر جوانی کا دور آیا… تمہیں اللہ نے طاقت عطا کی… ایسی طاقت کہ تم اپنے ارادے اور اختیار کے ساتھ زمین پر دوڑنے لگے…. اور اس ہی طاقت اور اختیار کے ساتھ زمین کی کوکھ میں سے تم نے اپنے لئے وسائل تلاش کئے… دریاؤں میں کشتیاں چلا دیں۔
علیٰ ہذا القیاس اللہ نے تم کو اتنی بڑی طاقت عطا کی کہ زمین پر پھیلے ہوئے وسائل تمہاری دسترس میں آ گئے۔ یہی بندہ جو ناقابل تذکرہ شئے تھا… پیدائش کے بعد اس قابل بھی نہ تھا کہ اپنے ارادے سے حرکت کر سکے۔ کروٹ بدل سکے یا بیٹھ سکے۔ مکھی اڑا سکے۔ اس گوشت پوست کے لوتھڑے کو اللہ نے اتنی سکت عطا کی کہ اس کے وجود سے اور اس کے اندر مخفی صلاحیتوں سے طرح طرح کی مصنوعات وجود میں آ گئیں۔
انسان جب بجلی کی تلاش میں لگ گیا اور اس نے بجلی کو تلاش کر لیا تو اللہ کی ایک تخلیق بجلی سے لاکھوں تخلیقات وجود میں آ گئیں۔
اگر بجلی کی ذَیلی تخلیقات کو شمار کیا جائے تو عقل گم ہو جاتی ہے۔ اللہ کریم نے فرمایا:
‘‘میں احسن الخالقین ہوں’’ (سورة المؤمنون – آیت نمبر 14)
یعنی تخلیق کرنے والوں میں بہترین خالق ہوں۔ اس کو آپ یوں سمجھ لیں کہ بجلی کا خالق اللہ ہے۔ بجلی کی تمام ذَیلی تخلیقات ریڈیو، ٹی وی، وائرلیس اور دوسری بے شمار چیزیں انسان کی تخلیق ہیں۔ جب تک انسان نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال نہیں کیا بجلی کے اندر طاقت چھپی رہی۔ اور جب انسان کے اندر جستجو نے کروٹ بدلی اور وہ ہمہ تن متوجہ ہو کر بجلی کی تلاش میں لگ گیا تو بجلی نے اپنے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں اس کے اوپر ظاہر کر دیں اور چھپی ہوئی ہر صلاحیت ایک تخلیق بن گئی۔
جب انسان مادّے کے اندر تفکر کرتا ہے تو اس مادّے کی طاقت اور توانائی کو اپنے لئے مفید بنا لیتا ہے یا ضرر رساں بنا لیتا ہے۔ مادی ترقی کے پس منظر میں ایک اور صلاحیت پوشیدہ ہے۔ جس کو روح کا نام دیا جاتا ہے۔ مادّے کے اندر سے جو صلاحیتیں آشکار ہو رہی ہیں وہ دراصل اسی روح کا ایک ہلکا سا عکس ہے۔ ابھی ہم نے عرض کیا تھا کہ انسان اپنی زندگی میں جو کچھ بوتا ہے وہی کاٹتا ہے۔ اس کی جو کمائی ہوتی ہے اس کے مطابق اس کو صلہ ملتا ہے۔ اگر انسانی ذہن تفکر کے ساتھ عظیم طاقت بجلی کو تلاش کر سکتا ہے تو انسان اپنے اندر اس آنکھ کو بھی تلاش کر لیتا ہے جو آنکھ زماں و مکاں سے ماوراء دیکھتی ہے۔ جس آنکھ کے سامنے اس زندگی اور مرنے کے بعد کی زندگی کے درمیان حائل پردے معدوم ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ آنکھ ہے جس سے اولیاء کرام باطنی وارِدات اور کیفیات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہی وہ آنکھ ہے جو کھل جائے تو کشفُ القبور ہو جاتا ہے۔ یعنی مرنے والوں کی روح سے آدمی اس طرح گفتگو کر سکتا ہے جس طرح عالم اسباب میں رہتے ہوئے جسمانی خدوخال سے مرکب دو آدمی گفتگو کرتے ہیں۔ یہی وہ آنکھ ہے کہ اگر اس آنکھ کی طاقت اور بڑھ جائے تو اس کے سامنے فرشتے آ جاتے ہیں۔ یہی وہ آنکھ ہے جس کی برکت سے اللہ کے دوست عرش پر اللہ تعالیٰ کا دیدار کرتے ہیں۔ اس باطنی آنکھ کا کھلنا اور اس باطنی آنکھ کے سامنے سب سے پہلے جو چیز آتی ہے یہ وہ عالَم ہے جس کو ہم عالمِ اَعراف یا موت کے بعد کی زندگی کہتے ہیں۔
یعنی گوشت پوست کے جسم سے رشتہ منقطع ہونے کے بعد آدمی جس دنیا میں قدم رکھتا ہے باطنی آنکھ اس دنیا کو دیکھ لیتی ہے۔
جنّت میں چلے جانا اس کے لئے معمول بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر جسمانی زندگی میں کسی بندے نے اپنی باطنی آنکھ نہیں کھولی تو اس کے اوپر محرومی مسلط ہو جاتی ہے۔ مرنے کے بعد بھی اس کی نظر محدود رہتی ہے۔ جس طرح بندہ اس دنیا میں دیوار کے پیچھے نہیں دیکھ سکتا اسی طرح اس دنیا میں بھی وہ کوتاہ نظر رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ باطنی نظر کس طرح کھلے اور اس نظر پر جو جالا اور پھوڑا بن گیا ہے اس کا آپریشن کس طرح ہو۔ اس کے لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وارث اولیاء اللہ نے اسباق بنائے ہیں۔ یہ سارے اسباق رسول اللہﷺکی غارِحرا میں تفکرکی پہلی سنت مراقبہ پر مبنی ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 50 تا 54

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)