عید

کتاب : آگہی

مصنف : خواجہ شمس الدۤین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=11476

عید خوشیوں کا گہوارہ ہے۔ عید کے روز اُجلے کپڑے پہننا خوشبو اور عطر لگانا، فطرہ دینا، دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر لذیذ کھانے کھانا اور اپنے مرحوم اعزا و اقرباء کی قبروں پر جا کر فاتحہ پڑھنا حضور اکرمﷺ کی سنت ہے۔

اس کا فلسفہ یہ ہے کہ مسلمان خوشی و مسرت اور فخر و انبساط کے موقعوں پر بھی ماضی اور مستقبل سے وابستہ رہے۔ اسے یہ یاد رہے کہ یہاں سے جانا ہے اور ماضی میں کئے ہوئے اعمال کا حساب دینا ہے۔ اس کے ذہن میں دوسروں کے لئے برادرانہ جذبات ہوں وہ مسکینوں، محتاجوں، بے کسوں، یتیموں، بیواؤں اور معذوروں کی طرح دست گیری کرے کہ انہیں اپنی کم مائیگی کا احساس نہ ہو۔ اسلامی معاشرے کا منشاء ہی یہ ہے کہ قابل رحم افراد اور ضعیف طبقہ کو اس بات کا یقین ہو جائے کہ وہ جس ماحول میں رہ رہے ہیں وہاں کے لوگ ان کے دکھ سکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

عیدالفطر جہاں عطر بیز ہواؤں سے مہکتا ہوا خوشی کا ایک دن ہے وہاں قوم کے ہر فرد کے لئے ایک آزمائش اور امتحان بھی ہے۔ ہم رمضان المبارک کا پورا مہینہ اتحاد و تنظیم اور یقین محکم کے پروگرام پر عمل کرکے اعلیٰ اخلاق اور روحانی تعلیم و تربیت حاصل کرتے ہیں اور جب یہ تعلیم و تربیت ہمارے اوپر غیب و شہود کی دنیا کو روشن کرتی ہے تو ہم انفرادی اور اجتماعی مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔
اسلام کا یہ تہوار جسے عید کہا جاتا ہے ایثار، قربانی، یتیموں اور مسکینوں کی دلجوئی، اجتماعیت، صلۂ رحمی، آپس میں الفت و یگانگت، احترام انسانیت اور عظمت دین کا آئینہ دار ہے۔ عید کے دن کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ مسلمان صبح بیدار ہونے کے بعد ہی ذکر الٰہی میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ جب کہ عید اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کا اقرار ہے۔ اسلام سے پہلے عرب اپنی تقریبات بازاروں میں منعقد کرتے تھے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس قوم کے بتوں کو توڑا تھا۔ وہ ہر سال ایک مقررہ دن شہر سے باہر چلے جاتے تھے۔ آج کی دنیا میں بھی اعلیٰ تہذیب یافتہ ہونے کا دعویٰ کرنے والی اقوام اپنے تہوار پارکوں، کلبوں، سڑکوں اور عیش و نشاط کی دیگر مخصوص جگہوں پر مناتی ہیں لیکن مسلمان اس بات کا پابند ہے کہ عید کی پرمسرت گھڑیوں کی ابتداء اور انتہاء عید گاہوں اور مساجد میں جمع ہو کر کرے اور اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ

’’روزہ میرے لئے ہے‘‘۔ (حدیث قدسی)

اس جملے کے بہت سے معنی نکلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ روزہ میرے لئے ہے۔ روزہ اللہ اور بندے کے درمیان معاہدہ ہے۔ جس پر بندہ عمل کرتا ہے۔ فکر طلب یہ بات ہے کہ روزے میں دکھاوا نہیں ہوتا۔

اب ذرا ان اصولوں کو سمجھ لیجئے جن اصولوں پر روزے کی بنیاد قائم ہے اور جن اصولوں سے روزے کا مقصد حاصل ہوتا ہے۔ انسان تین وقفوں میں زندگی گزارتا ہے۔

۱۔ حصول معاش میں آٹھ گھنٹے۔

۲۔ حقوق اللہ، حقوق العباد کو پورا کرنے میں آٹھ گھنٹے۔

۳۔ آرام کرنے اور زندگی کے لئے توانائی حاصل کرنے کے لئے آٹھ گھنٹے۔

ان حصوں میں سے ایک حصے میں کھانا پینا، کاروبار معاش اور زندگی کی تمام ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ ان سولہ گھنٹوں میں آٹھ گھنٹے میں ’’من عرفہ نفسہ فقد عرفہ ربہ‘‘ (جس نے خود کو پہچان لیا پس تحقیق اس نے اپنے رب کو پہچان لیا) کے زیر اثر آتے ہیں۔ یہ وہ عرصہ ہے جس عرصے میں انسان غور و فکر کرتا ہے کہ

میں کون ہوں؟

کہاں سے آیا ہوں؟

مجھے کس نے پیدا کیا ہے؟

کیوں پیدا کیا ہے اور میری تخلیق کا منشاء کیا ہے؟

اس طرح انسان کو آٹھ گھنٹے باطن کا تزکیہ کرنے کے لئے مل جاتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ توفیق عطا کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذات کو پہچان لے۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ

’’ہم تمہاری رگ جان سے زیادہ قریب ہیں۔‘‘

(سورۃ ق۔ آیت ۱۶)

انسان کے پاس آٹھ گھنٹے سونے آرام کرنے، صحت مند اور بیمار رہنے کے لئے باقی رہتے ہیں۔

عام زندگی کے برعکس رمضان المبارک کے مہینے میں غور و فکر کا وقفہ بڑھ جاتا ہے۔ نیند کا وقفہ کم ہو جاتا ہے۔ غذا کم ہو جاتی ہے۔ رمضان المبارک میں اللہ کے لئے بھوکے پیاسے رہنے سے اور عبادت سے دماغ میں آہستہ آہستہ بیس دن میں اتنی پاکیزگی آ جاتی ہے کہ اندرونی احوال کا دل پر عکس پڑنے لگتا ہے۔

آخری میں تیسرا عشرہ آتا ہے اس عشرے میں ہر رات زیادہ سے زیادہ جاگنا اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنا فضول باتوں اور خرافات سے محفوظ رہنا دل کو جلا بخشتا ہے اور یہ تمام اعمال انسان کو اتنا نورانی کر دیتے ہیں کہ وہ خود کو لطیف محسوس کرتا ہے اور جس نورانی کیفیت سے وہ عید کا چاند دیکھتا ہے یہ کیفیت اس کا احاطہ کر لیتی ہے۔

وہ اسی خوش کن کیفیت میں صبح بیدار ہوتا ہے، نہاتا ہے، کپڑے بدلتا ہے، خوشبو لگاتا ہے۔ شیر خرمہ کھاتا ہے اور عید گاہ کی طرف جاتا ہے تا کہ اس نورانی کیفیت کے شکرانے میں دو نفل ادا کرے۔

نمازی اللہ تعالیٰ کے حضور خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔ جب ضمیر کے مطابق عمل کرنے والا بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جاتا ہے تو وہ اس حالت میں خود کو اللہ کے قریب محسوس کرتا ہے۔ یہ عمل انفرادی طور پر نہیں اجتماعی طور پر ہوتا ہے۔ عید کی نماز ادا کرتے وقت تمام افراد اجتماعی طور پر خود کو ایک فرد محسوس کرتے ہیں اور یہی اہم بات ہے کہ پورا عالم اسلام اجتماعی طور پر اللہ سے قریب ہو جاتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 132 تا 135

آگہی کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ 1 - روحانی اسکول میں تربیت  ِ 2 - با اختیار بے اختیار زندگی  ِ 3 - تین سال کا بچہ  ِ 4 - مرید کی تربیت  ِ 5 - دس سال۔۔۔؟  ِ 6 - قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ  ِ 7 - موت حفاظت کرتی ہے  ِ 8 - باہر نہیں ہم اندر دیکھتے ہیں  ِ 9 - اطلاع کہاں سے آتی ہے؟  ِ 10 - نیند اور شعور  ِ 11 - قانون  ِ 12 - لازمانیت اور زمانیت  ِ 13 - مثال  ِ 14 - وقت۔۔۔؟  ِ 15 - زمین پر پہلا انسان  ِ 16 - خالق اور مخلوق  ِ 17 - مٹی خلاء ہے۔۔۔  ِ 18 - عورت کے دو رُخ  ِ 19 - قانون  ِ 20 - ہابیل و قابیل  ِ 21 - آگ اور قربانی  ِ 22 - آدم زاد کی پہلی موت  ِ 23 - روشنی اور جسم  ِ 24 - مشاہداتی نظر  ِ 25 - نیند اور بیداری  ِ 26 - جسمِ مثالی  ِ 27 - گیارہ ہزار صلاحیتیں  ِ 28 - خواتین اور فرشتے  ِ 29 - روح کا لباس؟  ِ 30 - ملت حنیف  ِ 31 - بڑی بیگمؓ، چھوٹی بیگمؓ  ِ 32 - زم زم  ِ 33 - خواتین کے فرائض  ِ 34 - تیس سال پہلے  ِ 36 - کہکشانی نظام  ِ 37 - پانچ حواس  ِ 38 - قانون  ِ 39 - قدرِ مشترک  ِ 40 - قانون  ِ 41 - پچاس سال  ِ 42 - زندگی کا فلسفہ  ِ 43 - انسانی مشین  ِ 44 - راضی برضا  ِ 45 - زمانے کو بُرا نہ کہو، زمانہ اللہ تعالیٰ ہے(حدیث)  ِ 46 - مثال  ِ 47 - سائنس اور روحانیت  ِ 48 - مادی دنیا اور ماورائی دنیا  ِ 49 - چاند گاڑی  ِ 50 - تین ارب سال  ِ 51 - کائناتی نظام  ِ 52 - تخلیق کا قانون  ِ 53 - تکوین  ِ 54 - دو علوم۔۔۔  ِ 55 - قانون  ِ 56 - ذات کا عرفان  ِ 57 - روحانی شاگرد  ِ 58 - ذات کی نفی  ِ 59 - پانچ کھرب بائیس کروڑ!  ِ 60 - زندگی کا تجزیہ  ِ 61 - عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ  ِ 62 - دین فطرت  ِ 63 - عید  ِ 64 - ملائکہ اعلان کرتے ہیں  ِ 65 - بچے اور رسول اللہﷺ  ِ 66 - افکار کی دنیا  ِ 67 - مثال  ِ 68 - تحقیق و تلاش  ِ 69 - Kirlian Photography  ِ 70 - قرآن علوم کا سرچشمہ ہے  ِ 71 - روشنی سے علاج  ِ 72 - روشنی کا عمل  ِ 73 - چھ نقطے  ِ 74 - قانون  ِ 75 - امراض کا روحانی علاج  ِ 76 - مشق کا طریقہ  ِ 77 - نور کا دریا  ِ 78 - ہر مخلوق عقل مند ہے  ِ 79 - موازنہ  ِ 80 - حضرت جبرائیل ؑ  ِ 81 - ڈائری  ِ 82 - ماں کی محبت  ِ 83 - حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانیؒ  ِ 84 - اکیڈمی میں ورکشاپ  ِ 85 - زمین اور آسمان  ِ 86 - ورد اور وظائف  ِ 87 - آواز روشنی ہے  ِ 88 - مثال  ِ 89 - نگینوں سے علاج  ِ 90 - تقدیر کیا ہے؟  ِ 91 - مثال  ِ 92 - حضرت علیؓ کا ارشاد  ِ 93 - فرشتے، جنات اور آدم ؑ  ِ 94 - انسان اور موالید ثلاثہ  ِ 95 - سلطان  ِ 96 - مثال  ِ 97 - دو رخ  ِ 98 - سیاہ نقطہ  ِ 99 - قانون  ِ 100 - کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالی۔۔۔  ِ 101 - تین کمزوریاں  ِ 102 - عفو و درگذر  ِ 103 - عام معافی  ِ 104 - توازن  ِ 105 - شکر کیا ہے؟  ِ 106 - قافلہ سالار  ِ 107 - ٹیم ورک  ِ 108 - سلسلہ عظیمیہ کے ارکان کی ذمہ داری  ِ 109 - چھوٹوں کی اصلاح  ِ 110 - ایک نصیحت  ِ 111 - صبحِ بہاراں  ِ 112 - دنیا مسافر خانہ ہے  ِ 113 - روح کیا ہے؟  ِ 114 - سانس کی مشقیں  ِ 115 - من کی دنیا  ِ 116 - بے سکونی کیوں ہے؟  ِ 117 - غور و فکر  ِ 118 - روحانی علوم  ِ 119 - ہمارے بچے  ِ 120 - اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں  ِ 121 - اللہ ھُو  ِ 122 - اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگو  ِ 123 - قربت  ِ 124 - ہر مخلوق باشعور ہے  ِ 125 - کامیاب زندگی  ِ 126 - انا کی لہریں  ِ 127 - صدقۂ جاریہ  ِ 128 - ادراک یا حواس
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message