یہ تحریر العربية (عربی) میں بھی دستیاب ہے۔

علم و آگہی

کتاب : تجلیات

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2984

اے اللہ تو جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے غلامی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ عزت و ذلت تیرے اختیار میں ہیں۔ دنیا کی تمام بلندیاں تیرے دست قدرت میں ہیں اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔ تو ہی وہ مالک ہے جو تہذیب و تمدن کے دن کو رات میں اور رات کو دن میں بدلتا رہتا ہے۔ مردہ اقوام کی خاکستر میں حیات پیدا کرتا ہے اور زندہ اقوام کو موت کی نیند سلانا تیری سنت ہے۔ (آل عمران)
جس طرح رات اور دن طلوع اور غروب ہوتے رہتے ہیں اسی طرح اقتدار بھی اقوام عالم میں رد و بدل ہوتا رہتا ہے۔ بابل اور مصر کی تہذیبیں اپنی پوری آن بان اور شان و شوکت کے باوجود زمیں دوز ہو گئیں۔ تہذیب کا آفتاب کبھی مشرق پر چمکتا تھا، پھر یونان علم و آگہی کا مرکز بن گیا۔ پھر یونان چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو کر ختم ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سلطنت روم وجود میں آ گئی۔ آفتاب تہذیب پھر پوری طرح مغرب پر چمکنے لگا کچھ عرصے بعد ایران نے زندگی کی ایک نئی انگڑائی لی۔ یہاں تک کہ ریگستان عرب سے علم و عرفان کے بادل اٹھے اور ان علم و عرفان کے بادلوں سے مشرق و مغرب دونوں ہی سیراب ہو گئے۔
اور پھر جب مسلم قوم نے اپنا تشخص کھو دیا، اپنا کردار گھناؤنا بنا لیا تو علم و آگہی کا سورج مغرب کی طرف لوٹ گیا۔ آج پست اقوام اعلیٰ اور بلند ہیں اور اعلیٰ اقوام سابقہ پست اقوام کے سامنے ذلت و رسوائی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ قوم کے افلاس کا یہ عالم ہے کہ علم و ہنر میں ہی نہیں، اپنی معاش میں بھی خود کفیل نہیں ہے۔ وہ قوم جو قرآن کو نافذ کرتی تھی معاشی اعتبار سے اتنی مفلوک الحال ہے کہ اس کی سوچ اور فکر پر بھی پردے پڑ گئے ہیں۔ سود جیسی لعنت نے اسلام نافذ کرنے والی قوم کو اس طرح بے بس و مجبور کر دیا ہے کہ حقیقت کا برملا اظہار بھی ایک لایحلڑ مسئلہ بن گیا ہے۔ اللہ کہتا ہے:
سود لینے والے، سود دینے والے اور سودی معیشت میں زندہ رہنے والے اللہ کے ایسے دشمن ہیں جو اللہ کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں۔
تمام مسلمان نمازیں بھی پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں، حج بھی کرتے ہیں، زکوٰۃ بھی دیتے ہیں۔ عقل دست بگریباں ہے کہ اللہ کے دشمنوں کی نماز، نماز کس طرح ہوئی۔ اللہ کے ساتھ حالت جنگ میں رہتے ہوئے روزے کی برکتیں اور سعادتیں کیسے حاصل ہونگی۔ جن لوگوں کو اللہ نے اپنا دشمن قرار دے دیا ہے وہ کس منہ سے خانۂ کعبہ کا طواف کر سکتے ہیں اور خانۂ کعبہ کے انوار و تجلیات سے اللہ کے دشمن کیونکر منور ہو سکتے ہیں؟
تاریخ ایک عظیم گواہ ہے کہ جس قوم نے اللہ کے بنائے ہوئے قانون کا مذاق اڑایا، اللہ نے اس قوم کو پست اور ذلیل کر دیا۔
کیا ہمارے لئے ابھی بھی لمحۂ فکریہ نہیں آیا کہ ہم اپنے ظاہر اور باطن کا محاسبہ کریں؟
پانی میں دو حصے ہائیڈروجن اور ایک حصہ آکسیجن ہے۔ اگر اس کی مقدار کو ذرہ بھر گھٹایا بڑھا دیا جائے تو ایک زہر تیار ہو گا۔ اگر یہ دونوں عناصر مساوی مقدار میں جمع کر دیئے جائیں تب بھی ایک مہلک مرکب بنے گا۔ آکسیجن اور ہائیڈروجن ہر دو قاتل اور مہلک گیس ہیں جن کے مختلف اوزان سے لاکھوں مرکبات تیار ہو سکتے ہیں اور ہر مرکب زہرہلاہل ہوتا ہے لیکن اگر دو حصے ہائیڈروجن اور ایک حصہ آکسیجن کو ایک جگہ کر دیا جائے تو ان دو زہروں سے جو پانی تیار ہو گا تمام عالمین کے لئے حیات و ممات کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’اورہم نے پانی سے ہر شے کو حیات عطا کی۔‘‘ (سورۂ انبیاء)
’’ہم نے ہر چیز کو معین مقدار سے پیدا کیا ہے۔‘‘(سورۂ قمر)
’’ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم معین مقدار میں ہر چیز کو نازل کرتے ہیں۔‘‘ (سورۂ حجر)
سبحان اللہ! کیا کیا نشانیاں اللہ تعالیٰ نے غور و فکر کرنے والوں کے لئے بتائی ہیں!
لیموں اور کالی مرچ دونوں چیزیں ہائیڈروجن دس حصے اور کاربن بیس حصے سے تیار ہوتے ہیں لیکن مقداروں کے تفاوت اور الگ الگ تعین سے دونوں کی شکل، رنگ، ذائقہ، حجم اور تاثیر بدل گئی۔ اسی طرح کوئلہ اور ہیرا کاربن سے وجود میں آتے ہیں۔ لیکن مقداروں کے الگ الگ تعین سے ایک کا رنگ کالا اور دوسرے کا رنگ سفید بن گیا ہے۔ ایک قابل شکست اور دوسرا ٹھوس ہے، ایک کم قیمت اور دوسرا نایاب ہے،
یک نوع انسانی کو حیات نو عطا کرتا ہے اور دوسرا انگشتری میں زینت و زیبائش کے کام آتا ہے۔
اللہ رب العالمین نے جس محبت اور یگانگت سے نوع انسانی کو پیدا کیا ہے، ویسی ہی محبت اور یگانگت کے ساتھ وہ چاہتا ہے کہ انسان کائنات میں حکمران بن کر اللہ کی بادشاہی میں شریک ہو تا کہ اللہ کی نیابت اور خلافت کا حق ادا کر سکے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 77 تا 80

یہ تحریر العربية (عربی) میں بھی دستیاب ہے۔

تجلیات کے مضامین :

ِ 1 - قرآن  ِ 2 - زمین پر اندھیرا  ِ 3 - آسمانوں میں اعلان  ِ 4 - ہماری تصویر  ِ 5 - تسخیرِ کائنات  ِ 6 - دولت کی محبت بت پرستی ہے  ِ 7 - ترقی کا محرم غیر مسلم؟  ِ 8 - کفن دفن  ِ 9 - آگ کا سمندر  ِ 10 - روح کی آنکھیں  ِ 11 - سوکھی ٹہنی  ِ 12 - پرخلوص دل  ِ 13 - تبلیغ  ِ 14 - مشعل راہ  ِ 15 - تخلیقی فارمولے  ِ 16 - توبہ  ِ 17 - بھلائی کا سرچشمہ  ِ 18 - عظیم احسان  ِ 19 - طرزِ فکر  ِ 20 - حج  ِ 21 - شیریں آواز  ِ 22 - دو بیویاں  ِ 23 - صراط مستقیم  ِ 24 - ماں باپ  ِ 25 - محبت  ِ 26 - خود داری  ِ 27 - بیداری  ِ 28 - قطرۂ آب  ِ 29 - خدا کی تعریف  ِ 30 - زندگی کے دو رُخ  ِ 31 - علم و آگہی  ِ 32 - جھاڑو کے تنکے  ِ 33 - رزق  ِ 34 - مُردہ قوم  ِ 35 - پیغمبر کے نقوشِ قدم  ِ 36 - نیکی کیا ہے؟  ِ 37 - ضدی لوگ  ِ 38 - سعید روحیں  ِ 39 - توفیق  ِ 40 - سورج کی روشنی  ِ 41 - رب کی مرضی  ِ 42 - دُنیا اور آخرت  ِ 43 - بیوی کی اہمیت  ِ 44 - خود شناسی  ِ 45 - دماغ میں چُھپا ڈر  ِ 46 - روزہ  ِ 47 - مناظر  ِ 48 - دُعا  ِ 48 - مساجد  ِ 50 - علیم و خبیر اللہ  ِ 51 - مایوسی  ِ 52 - ذخیرہ اندوزی  ِ 53 - بھائی بھائی  ِ 54 - اللہ کی کتاب  ِ 55 - اونگھ  ِ 56 - انسان کے اندر خزانے  ِ 57 - اللہ کی صناعی  ِ 58 - ناشکری  ِ 59 - آئینہ  ِ 60 - مُردہ دلی  ِ 61 - خدا کی راہ  ِ 62 - غرور  ِ 63 - رمضان  ِ 64 - قبرستان  ِ 65 - قرآن اور تسخیری فارمولے  ِ 66 - اچھا دوست  ِ 67 - موت سے نفرت  ِ 68 - خطاکار انسان  ِ 69 - دوزخی لوگوں کی خیرات  ِ 70 - معاشیایات  ِ 71 - آدابِ مجلس  ِ 72 - السلامُ علیکُم  ِ 73 - گانا بجانا  ِ 74 - مخلوق کی خدمت  ِ 75 - نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ِ 76 - صبر و استقامات  ِ 77 - مہمان نوازی  ِ 78 - مسکراہٹ  ِ 79 - بلیک مارکیٹنگ  ِ 80 - دوست  ِ 81 - مذہب اور نئی نسل  ِ 82 - معراج  ِ 83 - انسانی شُماریات  ِ 84 - جائیداد میں لڑکی کا حصہ  ِ 85 - دعوتِ دین  ِ 86 - فرشتے نے پوچھا  ِ 87 - سونے کا پہاڑ  ِ 88 - مچھلی کے پیٹ میں  ِ 89 - بچوں کے نام  ِ 90 - صدقہ و خیرات  ِ 91 - اپنا گھر  ِ 92 - غیب کا شہُود  ِ 93 - حقوق العباد  ِ 94 - فقیر دوست  ِ 95 - بے عمل داعی  ِ 96 - عید  ِ 97 - جذب وشوق  ِ 98 - موت کا خوف  ِ 99 - فرشتوں کی جماعت  ِ 100 - اعتدال  ِ 101 - مشن میں کامیابی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message