علمُ الیقین، عینُ الیقین، حقُ الیقین

کتاب : لوح و قلم

مصنف : حضور قلندر بابا اولیاءؒ

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2933

قرآن۔ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمرِ رَبّی۔ روح کو امر رب کہا گیا ہے۔ چنانچہ یہ بھی عالمِ امَر ہے لیکن یہ عالمِ امَر اس عالمِ امَر سے الگ ہے جو ‘‘کُن’’ کے زیر اثر ظُہور میں آیا۔ اگردونوں عالمِ امَر ایک ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ یہ ہرگز نہ فرماتے کہ میں نے آدم کے پتلے میں اپنی روح پھونکی۔ ان الفاظ سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ نمبر۲ ‘‘امر ِعام’’ ہے اور نمبر۳ ‘‘امرِخاص’’ ہے۔ یہاں سے علم اور ظُہورات کے دو مراتب ہو جاتے ہیں جس کو قرآنِ پاک میں علمِ لوح اور علمُ القلم یعنی لوح و قلم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ترتیب اس طرح ہوئی:
نمبر۱۔ ذاتِ باری تعالیٰ
نمبر۲۔ عالمِ امرِ خاص، تجلّیِٔ ذات، (واجبُ الوجود)
نمبر۳۔ عالمِ امَر، امرِ عام یا تجلّیِٔ صفات
ان تین مراتب کے بعد چوتھا مرتبہ عالمِ خلق کا ہے۔
پہلے لطائف ستہ کا ذکر آ چکا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو مستثنیٰ کر کے باقی تین مراتب چھ رخوں پر مشتمل ہیں۔
① اوّل عالمِ امرِ خاص یا تجلّیِٔ ذات یا واجبُ الوجود کا رخ ذات کی طرف ہے۔ دوسرا رخ عالمِ امرِ خاص کا عالمِ امرِ عام کی طرف۔ یہ دو لطائف ہوئے۔ پہلے رخ کا نام اخَفیٰ اور دوسرے رخ کا نام خَفی ہے۔
② عالمِ امرِ عام کا پہلا رخ عالمِ امرِ خاص کی طرف اور دوسرا رخ عالمِ خلق کی طرف۔ اس کا پہلا رخ سری اور دوسرا رخ روحی ہے۔
③ عالمِ خلق (عالمِ ناسُوت) کا پہلا رخ عالمِ امرِ عام کی طرف اور دوسرا رخ کائنات(مادّیت) کی طرف ہے۔ اس کا پہلا رخ قلب ہے، دوسرا رخ نفس ہے۔
ہم اس کی مثال ایک چادر سے دے سکتے ہیں جو نور کے تاروں سے بنی ہوئی ہے۔ یہ نور کے تار جس خلاء میں قائم ہیں اس خلاء کا نام عالمِ امرِ خاص ہے۔ اس چادر میں نور کے تار بطور ‘‘تانے’’ کے استعمال ہوئے ہیں وہ عالمِ امرِ عام ہیں۔ پھر اس چادر میں جو تار بطور ‘‘بانے’’ کے استعمال ہوئے ہیں وہ عالمِ نَسمہ کہلاتے ہیں۔ ان تینوں عالموں کے اوپر محسوسات کا ایک خول ہے جس کو جسم کہتے ہیں۔ تصوّف میں عالمِ نَسمہ کی معرفت کو علم الیقین کہا گیا ہے۔ عالمِ امرِ عام کی معرفت کو عین الیقین کہا گیا ہے اور عالمِ امرِ خاص کی معرفت کو حق الیقین کہا گیا ہے۔ یہی وہ مرتبہ ہے جو ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت ہے۔ باقی مراتب صفات کی معرفت ہیں۔
انسان کا جسم ایک خول ہے۔ اس خول کے دو رخ ہیں۔ جسم اور دماغ۔ دماغ کا رخ عالمِ امرِ عام کی طرف ہے۔ اِسی کو نَسمہ کہتے ہیں۔ لیکن یہ دماغ یا جسم انسان نہیں ہے۔ انسان ان دونوں کے اندر بستا ہے جس کو تجلّیِٔ ذات کا ایک نقطہ کہنا چاہئے۔ یہ نقطہ جو ذات انسانی ہے، اس نور کی چادر کا ایک ذرّہ ہے۔ یہ ذرّہ ایک خول رکھتا ہے جس کو جسم کہتے ہیں۔ یہی مظہر ہے۔

عالمِ تَمثال

① نقطۂِ ذات سے نَسمہ (ذہن) کی طرف اور نَسمہ سے مظہر (جسم) کی سمت میں نور کی ایک رَو بہتی ہے۔
② مظہر(جسم) سے نَسمہ کی طرف اور نَسمہ(ذہن) سے نقطۂِ ذات کی سمت میں روشنی کی ایک رَو بہتی ہے۔
جو نور کی رَو نقطۂِ ذات سے مظہر (جسم) کی طرف بہتی ہے اس کے اندر علومِ لدُنّیہ کا ذخیرہ ہوتا ہے لیکن جو روشنی کی رَو مظہر(جسم) سے نقطۂِ ذات کی طرف بہتی ہے، وہ علوم دنیا یعنی جسمانی تقاضوں اور خواہشات کا مجموعہ ہوتا ہے ۔ اگر نقطۂِ ذات سے نزول کرنے والے علوم لدُنّی شعور کے لئے قابل توجہ اور باعث دل چسپی ہیں تو ان کا رنگ آہستہ آہستہ مظہری خاکوں پر چڑھ جاتا ہے یعنی انسان کا لطیفۂِ نفسی ان علوم کی نورانیت سے معمور ہو کر حقیقت کا رنگ قبول کر لیتا ہے۔ یہ حقیقت کا رنگ ایسا نور ہے جس کے اندر سے کوئی کثیف روشنی یعنی تاریکی نہیں گزر سکتی بلکہ جسم کے تقاضے اور ساری خواہشات اس رنگ سے چھن کر لطیف نور کی شعاعوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور بجائے کثیف روشنیوں کے (یعنی تاریکیوں کے) مظہر کی سمت سے یہ چَھنی ہوئی لطیف نور کی شعاعیں نقطۂِ ذات کی طرف بہنے لگتی ہیں۔ نقطۂِ ذات سے مظہر کی طرف بہنے والی رَو اور مظہر سے نقطۂِ ذات کی طرف بہنے والی رَو جب مذکورہ بالا کیفیت تک پہنچ جاتی ہے تو ذہنِ انسانی میں ایک نور پیدا ہو جاتا ہے جس کو حضور علیہِ الصّلوٰۃ والسّلام نے نور فراست کہا ہے۔ یہ نور فراست پہلے عالمِ امرِ عام کے انکشافات کا باعث ہوتا ہے۔ پھر عالمِ امرِ خاص کے انکشاف کا۔ عالمِ امَر سے مظہر کی طرف نزول اور مظہر سے عالمِ امَر کی طرف صَعود کی حرکت مسلسل ہوتی رہتی ہے۔ عالمِ امَر سے مظہر کی طرف لدُنّیہ کا جو ذخیرہ نزول کرتا ہے اس کا عکس شعور پر پڑتا ہے۔ شعور اس عکس کو ضمیر کے نام سے تعبیر کرتا ہے۔ شعور ذہنِ انسانی کا ایسا آئینہ ہے جس میں علومِ لدُنّیہ کے انوار کا عکس پڑتا ہے۔ یہ علومِ لدُنّیہ ازل سے ابد تک کے حالات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان حالات کا تصویری عکس شعور کے اوپر پڑتا ہے۔ حالات کے اس تصویری عکس کو ‘‘عالمِ تَمثال’’ کہتے ہیں۔ اگر کسی شخص کا شعور (ذہن) مُجلّٰیٰ آئینہ ہے تو بند آنکھوں سے یا کھلی آنکھوں سے حالات کا تصویری عکس وضاحت کے ساتھ نظر آتا ہے۔ اگر لطیفۂِ نفسی کی طرف سے کثیف روشنی یعنی تاریکی رَو بن کر نقطۂِ ذات کی طرف بہتی ہے تو شعور کا آئینہ مُجلّٰیٰ نہیں رہتا اور علومِ لدُنّیہ کے تمام تصویری عکس نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔

مراقبہ

اگر انسان شعور کے آئینہ میں علومِ لدُنّیہ کے تصویری عکس دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو تو اس کی ایک بہت ہی سہل ترکیب ہے۔ وہ کسی تاریک گوشہ میں جہاں گرمی اور سردی معمول سے زیادہ نہ ہو بیٹھ جائے۔ ہاتھ، پیروں اور جسم کے تمام اعصاب کو ڈھیلا چھوڑ دے، اتنا ڈھیلا کہ محسوس نہ ہو کہ جسم موجود ہے۔ سانس کی رفتار کم سے کم کرنا ضروری ہے۔ سانس کی رفتار تیز نہیں ہونی چاہئے۔ آنکھیں بند کرلے اور اپنی ذات کے اندر جھانکنے کی کوشش کرے۔ اگر اس کے خیالات اور اس کا عمل پاکیزہ ہے تو اس عمل سے اس کا لطیفۂِ نفسی بہت جلد رنگین ہو جائے گا اور لطیفۂِ نفسی رنگین ہو جانے سے شعور کے اندر جِلا پیدا ہوتی جائے گی۔ تصوّف میں اس عمل کا نام مراقبہ ہے۔
سورۂ مزمل شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
وَذْکِرُاسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا o
ترجمہ: اور سب سے قطع کر کے اس ہی کی طرف متوجّہ رہو۔

مراقبہ میں اس حکم کی تعمیل ضروری ہے۔ جسم کو ڈھیلا چھوڑ دینا، سانس کو بہت ہلکا کر دینا لا تعلّقی پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے۔ جب جسم غیر محسوس ہو جاتا ہے اس وقت نقطۂِ ذات صَعود کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس حالت کے علاوہ نقطۂِ ذات صرف نزول کرتا ہے، صَعود نہیں کرتا۔ صَعود محض اس وقت کرتا ہے جب اسے جسم کے تقاضے آزاد چھوڑ دیں۔ اور ذہن دنیا کی باتیں یاد نہ دلائے۔ جب نقطۂِ ذات کو دنیا کی کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی تو ‘‘عالمِ امَر’’ کی سیر میں مصروف ہو جاتا ہے اور ‘‘عالمِ امَر’’ کی حدود میں چلتا پھرتا، کھاتا پیتا اور وہ سارے کام کرتا ہے جو اس کے نورانی مشاغل کہلا سکتے ہیں۔ یہاں وہ مکان کے قید و بند سے آزاد ہوتا ہے۔ اس کے قدم زمان کی إبتداء سے زمان کی انتہا تک ارادے کے مطابق اٹھتے ہیں۔ جب نقطۂِ ذات مراقبہ کے مشاغل میں پوری معلومات حاصل کر لیتا ہے تو اس میں اتنی وسعت پیدا ہو جاتی ہے کہ زمان کے دونوں کناروں ازل اور ابد کو چھو سکے۔ پھر ارادہ کے تحت اپنی قوّتوں کو استعمال کر سکتا ہے۔ وہ ہزاروں سال پہلے کے یا ہزاروں سال بعد کے واقعات دیکھنا چاہے تو دیکھ سکتا ہے کیونکہ ازل سے ابد تک درمیانی حدود میں جو کچھ پہلے موجود تھا اور آئندہ ہو گا اس وقت بھی موجود ہے۔ اس ہی کیفیت کو عارفوں کی اِصطلاح میں ‘‘سَیر’’ کہتے ہیں۔

شُہود

اگر کسی شخص کو اس حالت کا کمال میسر آ جائے تو پھر وہ ‘‘عالمِ امَر’’ کا نظارہ کرتے وقت آنکھیں بند نہیں رکھ سکتا بلکہ از خوداس کی آنکھوں پر ایسا وزن پڑتا ہے جس کو وہ برداشت نہیں کر سکتیں اور کھلی رہنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ آنکھوں کے غلاف ان روشنیوں کو جو نقطۂِ ذات سے منتشر ہوتی ہیں سنبھال نہیں سکتے اور بے ساختہ حرکت میں آ جاتے ہیں جس سے آنکھوں کے کھلنے اور بند ہونے یعنی پلک جھپکنے کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔ جب یہ سیر و سیاحت کھلی آنکھوں سے ہونے لگتی ہے تو اس کو ‘‘فتح’’ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اس اَجمال سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ جاتی ہے کہ جب تک ذات کے شانوں پر صرف دنیا کے تقاضے مسلط رہتے ہیں تو اس کی حرکت دنیاوی افکار و اعمال میں دَور کرتی رہتی ہے لیکن جب نقطۂِ ذات کے شانے دنیاوی محسوسات کے بوجھ سے آزاد ہو جاتے ہیں تو وہ غیبی دنیا کی طرف صَعود کر کے وہاں کی طرزِ حیات کا مشاہدہ کرتا ہے۔ عالمِ روحانی سے رُوشناس ہوتا ہے۔ اس دنیا کے نظامِ شمسی اور افلاک کے بہت سے نظاموں کو دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ فرشتوں سے متعارف ہوتا ہے ان باتوں سے آگاہ ہوتا ہے جو اس کی اپنی حقیقت میں چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔ ان صلاحیّتوں کو پہچانتا ہے جو اس کے اپنے احاطۂِ اِختیار میں ہیں۔ عالمِ امَر کے حقائق اس پر مُنکشِف ہوتے ہیں۔ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ کائنات کی ساخت میں کس قسم کی روشنیاں اور ان روشنیوں کو سنبھالنے کے لئے کیا کیا انوار استعمال ہوتے ہیں۔ پھر اس کے اِدراک پر وہ تجلّی بھی مُنکشِف ہو جاتی ہے جو روشنیوں کو سنبھالنے والے انوار کی اصل ہے۔
ایک مبتدی کو سمجھانے کے لئے عالمِ امَر کی مثال اس طرح دی جا سکتی ہے کہ چاندنی رات میں جب کہ چاندنی سے فضا معمور ہے، اس وقت آتش بازی چھوڑی جائے تو آتش بازی کی روشنیوں کو چاندنی محیط ہو گی اور آتش بازی کی روشنیوں میں بہت سے نقش و نگار، پھول پتیاں وغیرہ ابھری ہوئی معلوم ہوں گی۔ آتش بازی کے نقش و نگار روشنیوں پر قائم ہوں گے اور روشنیاں چاندنی پر۔ اگر چاندنی کو تجلّیات ذات یا عالمِ امرِ خاص فرض کر لیا جائے تو روشنیوں کو عالمِ امرِ عام اور صفات کہیں گے۔ اور جو نقش و نگار روشنیوں پر قائم ہیں وہ تنزّل کردہ تجلّیِٔ صفات یعنی عالمِ نَسمہ قرار پائیں گے۔ ان نقش و نگار کی حدود افرادِ کائنات کے نام سے پکاری جائیں گی۔ گویا تجلّیِٔ ذات پر تجلّیِٔ صفات اور تجلّیِٔ صفات پر نَسمہ قائم ہے۔ اس نَسمہ میں جب حرکت ہوتی ہے تو زمان و مکان کی مختلف شکلیں ’’إبعاد‘‘ کے دائرے اور نُقوش بناتی ہیں۔ یہ إبعاد کے نُقوش (کائنات) یعنی چاند، سورج، ستارے اور تمام دوسری مخلوق پر مشتمل ہیں۔ جب عارف کی سیر شروع ہوتی ہے تو وہ کائنات میں خارجی سمتوں سے داخل نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نقطۂِ ذات سے (جو مذکورہ بالا تین عالموں کا مجموعہ ہے) داخل ہوتا ہے، اِسی نقطے سے وَحدتُ الوُجود کی إبتداء ہوتی ہے۔ جب عارف اپنی نگاہ کو اس نقطہ میں جذب کر دیتا ہے تو ایک روشنی کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ وہ اس روشنی کے دروازے سے ایسی شاہراہ میں پہنچ جاتا ہے جس سے اور لاشمار راہیں کائنات کی تمام سمتوں میں کھل جاتی ہیں۔ اب وہ قدم قدم تمام نظام ہائے شمسی اور تمام نظام ہائے فلکی سے رُوشناس ہوتا ہے۔ لاشمار ستاروں اور سیاروں میں قیام کرتا ہے۔ اسے ہر طرح کی مخلوق کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ ہر نقش کے ظاہر و باطن سے متعارف ہونے کا موقع ملتا ہے۔ وہ رفتہ رفتہ کائنات کی اصلیتوں اور حقیقتوں سے واقف ہو جاتا ہے۔ اس پر تخلیق کے راز کھل جاتے ہیں اور اس کے ذہن پر قدرت کے قوانین مُنکشِف ہو جاتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ اپنے نفس کو سمجھتا ہے، پھر روحانیت کی طرزیں اس کی فہم میں سما جاتی ہیں۔ اسے تجلّیِٔ ذات اور صفات کا اِدراک حاصل ہو جاتا ہے۔ وہ اچھی طرح جان لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب کُن ارشاد فرمایا تو کس طرح یہ کائنات ظُہور میں آئی اور ظُہورات کس طرح وسعت در وسعت مرحلوں اور منزلوں میں سفر کر رہے ہیں۔ وہ خود کو بھی ان ہی ظُہورات کے قافلے کا ایک مسافر دیکھتا ہے۔ یہ واضح رہے کہ مذکورہ سیر کی راہیں خارج میں نہیں کھلتیں۔ دل کے مرکز میں جو روشنی ہے اس کی اتھاہ گہرائیوں میں اس کے نشانات ملتے ہیں۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ دنیا خیالات اور تصوّرات کی بے حقیقت دنیا ہے۔ ہرگز ایسا نہیں ہے۔ اس دنیا میں وہ تمام اصلیں اور حقیقتیں متشکل اور مجسم طور سے پائی جاتی ہیں جو اس دنیا میں پائی جاتی ہیں۔
ازروئے حقیقت ہر نقش کے تین وُجود ہوتے ہیں:
ایک وُجود تجلّیِٔ ذات میں،
دوسرا وُجود تجلّیِٔ صفات میں،
تیسرا وُجود عالمِ خلق میں۔

كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ (7) وَمَا أَدْرَاكَ مَا سِجِّينٌ (8) كِتَابٌ مَّرْقُومٌ (9) وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ (10) الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ (11) وَمَا يُكَذِّبُ بِهِ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ (12) إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (13) كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ (14) كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ (15) ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُو الْجَحِيمِ (16) ثُمَّ يُقَالُ هَٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ (17) كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ (18) وَمَا أَدْرَاكَ مَا عِلِّيُّونَ (19) كِتَابٌ مَّرْقُومٌ (20) يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ (21) إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ (22) عَلَى الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ (23) تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ (24) يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍ مَّخْتُومٍ (25) خِتَامُهُ مِسْكٌ ۚ وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ (26) وَمِزَاجُهُ مِن تَسْنِيمٍ (27) عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ (28)
(سورۃ المطفّفین: پارہ 30)

ترجمہ: کوئی نہیں، لکھا گنہگاروں کا پہنچنا بندی خانے میں۔ اور تجھ کو کیا خبر ہے کیسا بندی خانہ؟ ایک دفتر ہے لکھا ہوا۔ خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی، جو جھوٹ جانتے ہیں انصاف کا دن اور اس کا جھٹلانا وہی ہے جو بڑھ چلنے والا گنہگار ہے۔ جب سناتے اس کو آیتیں ہماری، کہتے نقلیں ہیں پہلوں کی۔ کوئی نہیں، پر زنگ پکڑ گیا ہے ان کے دلوں پر، وہ جو کچھ کماتے تھے۔ کوئی نہیں، وہ اپنے رب سے اس دن روکے جاویں گے، پھر مقرّر پہنچنے والے ہیں دوزخ میں۔ پھر کہے گا یہ ہے جس کو تم جھوٹ جانتے تھے۔ کوئی نہیں، لکھا نیکوں کا ہے اوپر والوں میں۔ اور تجھ کو کیاخبر ہے کیا ہیں اوپر والے۔ ایک دفتر ہے لکھا، اس کو دیکھتے ہیں نزدیک والے۔ بے شک نیک لوگ ہیں آرام میں۔ تختوں پر بیٹھے دیکھے۔ پہچانے تُو ان کے منہ پر تازگی آرام کی۔ ان کو پلائی جاتی ہے شراب مُہر میں دھری، جس کو مُہر جمتی ہے مُشک پر اور اس پر چاہیں رغبت کریں، رغبت کرنے والے اور اس شراب میں آمیزش تسنیم کی ہو گی، ایک چشمہ جس سے پیتے ہیں نزدیک والے۔ (ترجمہ شاہ عبدالقادر)

أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ (سورۃ اعراف: 54 – پارہ 8، رکوع 14)
ترجمہ: ہم نے پیدا کیا اور امر کیا۔

مذکورہ بالا آیات کی رُو سے یہ تینوں وُجود اپنی حرکات و سکنات میں اللہ کی طرف سے حکم کئے جاتے ہیں۔ اور یہ حکم کیا جانا خبر پر مبنی ہوتا ہے۔ ‘‘ہم نے خلق کیا اور حکم کیا۔’’ یہ دو رخوں پر مشتمل ہے۔ ایک رخ …اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ کے تحت اور دوسرا رخ حرکت کے تحت، جس کا اِصطلاحی نام نَسمہ ہے، عمل میں آتا ہے۔اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وہ اصل ہے جس پر پہلے ‘‘حکمِ کُن’’ کا قیام ہے۔ اس کُن کا ظُہور ایک ہیولاءِ نورانی کی صورت میں نازل ہوا۔ گویا یہ تخلیق کا اَجمال ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے علم و ارادہ کے زیر اثر(نَسمہ) حرکت کی تفصیل واقع ہوئی۔ ہیولاءِ نورانی ہر نقش کو محیط ہے اور ہر نقش کے اندر تفصیلی امور کی ایک معیّن سطح کا وُجود ہے جس کو اِصطلاح عام میں ماہیت کہا جاتاہے۔ یہ ماہیت ہیولاءِ نورانی کے اندر پارہ کے تمثُّلات ہیں۔ خلق کی شرح میں یہ دونوں واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ اوّل ہیولےٰ دوئم حرکت کی سطح۔ یعنی پارہ کے تمثُّلات۔ ہیولاءِ نورانی نقش ہے جس میں کوئی تغیّر نہیں ہوتا اور پارہ کی سطح کے تمثُّلات حرکت ہیں جو ہرلمحہ متغیّر ہیں۔ اس متغیّر سطح میں زمانیت، مکانیت اور امور کی تفصیل و تعمیل پائی جاتی ہے۔ اس سطح میں ایک طرح کی جِلا ہے جس میں اَحکامات کا مسلسل عکس پڑتا رہتا ہے۔ اس ہی عکس کا نام حرکت ہے۔ یہ حرکت وقفہ کے ذریعے نُقوش کے متنوّع دائرے بناتی ہے۔ ان ہی دائروں کو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں کتابُ المرقوم کے نام سے یاد کیا ہے۔ نُقوش کے ان دائروں کی تعمیر حرکت کے صَعود و نزول سے ہوتی ہے۔ حرکت کی یہ سطح جس کو ذہن کہتے ہیں، ایک طرف نفس یعنی نقطۂِ ذات تک صَعود کرتی ہے۔ دوسری طرف جِلا کی گہرائی میں پڑنے والے سائے تک نزول کرتی ہے۔ صَعود کی حالت کا نام انسانی اِصطلاح میں خواب ہے۔ صَعود اور نزول کی دونوں حرکتیں قدرت کے اشاروں سے عمل میں آتی ہیں۔ کائنات کا ہر فرد اس کا پابند ہے۔ چنانچہ کائنات کے تمام نُقوش سوتے ہیں اور جاگتے ہیں۔ صَعود کی حالت یعنی ربودگی (وِجدان) ذات سے قریب کرتی ہے اور نزول کی حالت یعنی بیداری(عقل) ذات سے دور کرتی ہے۔ مَوجوداتی زندگی کے یہ دو ضروری اَجزاء ہیں جن کو اِصطلاح میں زندگی کا تعیّن کہا جاتا ہے۔ کائنات کا ہر نقش اس تعیّن میں مُقیّد ہے۔ عارفوں کی دنیا میں ربودگی کے اندر سفر کا ذریعہ مراقبہ ہے اور مادہ پرستوں کی دنیا میں بیداری کے اندر سفر کرنے کا ذریعہ ہاتھ پیروں کی جنبش ہے۔ قرآنِ پاک کا پروگرام ان دونوں اَجزاء کی حفاظت پر زور دیتا ہے۔ یہاں قرآنِ پاک کے پروگرام کی بنیادوں کا تذکرہ ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ ارشاد فرمایا ہے:

اَقِیْمُوالصَّلوٰۃَ وَاٰتُوالزَّکوٰۃَ (قائم کرو نماز اور ادا کرو زکوٰۃ)۔

نماز اور زکوٰۃ کا پروگرام

قرآنی پروگرام کے دونوں اَجزاء، نماز اور زکوٰۃ، روح اور جسم کا وظیفہ ہیں۔ وظیفہ سے مراد وہ حرکت ہے جو زندگی کی حرکت کو قائم رکھنے کے لئے انسان پر لازم ہے۔ حضور علیہِ الصّلوٰۃ والسّلام کا ارشاد ہے:

جب تم نماز میں مشغول ہو تو یہ محسوس کرو کہ ہم اللہ کو دیکھ رہے ہیں۔ یا یہ محسوس کرو کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔

اس ارشاد کی تفصیل پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت مُنکشِف ہو جاتی ہے کہ ہر انسان کو اپنی زندگی میں وظیفۂ اعضا کی حرکت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رہنے کی عادت ہونی چاہئے۔ جب ایک شخص دس بارہ سال کی عمر سے اٹھارہ بیس سال کی عمر تک جو اس کے شعور کی تربیت کا زمانہ ہے اس طرح نماز قائم کرے گا تو اس کا ذہن اللہ کی طرف رہنے کا اور جسم قیام و رکوع، قومہ و سجود، قعدہ اور جلسہ ہر قسم کی حرکت کا عادی ہو جائے گا۔ ذہن کا اللہ کی طرف ہونا، روح کا وظیفہ ہے اور اعضاء کا حرکت میں رہنا جسم کا وظیفہ ہے۔ چنانچہ صرف نماز کے ذریعے کوئی فرد اس بات کا عادی ہو جاتا ہے کہ اس پر ربودگی اور بیداری کی صحیح کیفیت طاری رہے تا کہ زندگی کی دونوں صلاحیّتوں کا صحیح استعمال ہو سکے۔ جب وہ زندگی کے ہر شعبہ میں اللہ کی طرف متوجّہ رہنے اور ساری دنیا کے کام انجام دینے کا عادی ہوتا ہے تو ربودگی اور بیداری دونوں کیفیتوں سے یکساں طور پر رُوشناس رہتا ہے۔ یہی زندگی کی تکمیل ہے، یہی نماز کا پروگرام ہے۔ اور دوسرا زکوٰۃ کا پروگرام ہے جس کا منشاء مخلصانہ اور بے لوث خدمت خلق ہے۔ تصوّف میں اس ہی کیفیت کو ‘‘جمع’’ کہتے ہیں یعنی وہ کیفیت جس میں انسان ہر وقت اللہ اور اللہ کی مخلوق دونوں کے ساتھ رہتا ہے۔ ایک عارف کے لئے ’’جمع‘‘ پہلی منزل ہے۔
پوری کائنات ایک مرکزی نقطۂِ وحدانی رکھتی ہے۔ اس نقطۂِ وحدانی کی گہرائیوں میں روشنیوں کے سرچشموں کا سَوت مَخفی ہے۔ اس نقطۂِ وحدانی سے روشنیاں جوش کھاتی اور اُبلتی رہتی ہیں۔ کائنات کے اندر ہر لمحہ ان ہی روشنیوں سے ستاروں اور سیاروں کے لاشمار نظام تعمیر ہوتے رہتے ہیں اور تقریباً اس ہی تعداد میں مٹتے اور فنا ہوتے رہتے ہیں۔ یہ روشنیاں دَم بہ دَم کائنات کو وسعت دیتی رہتی ہیں۔ روشنیوں کی حرکات نئی صورتوں اور نئے نئے نُقوش کی طرزوں میں کائنات کی تفصیل کرتی رہتی ہیں۔ روشنیوں کی ان حرکات کے بھی دو رخ ہوتے ہیں۔ ایک رخ روشنیوں کے گہرائیوں میں سمٹنے اور ہُجوم کرنے پر مبنی ہے اور دوسرا رخ روشنیوں کے پھیلنے اور منتشر ہونے پر مشتمل ہے۔ گہرائیوں میں سمٹنے کو مَخفی حرکات سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ پھیلنے اور منتشر ہونے کو مثبت حرکت کہتے ہیں۔ حرکت کی یہی دو حالتیں کشش اور گریز کے نام سے تعبیر کی جاتی ہیں۔ تمام کائنات میں کشش اور گریز کے کروڑ ہا حلقے پائے جاتے ہیں۔ ان حلقوں میں ہر حلقہ ایک مرکزیّت رکھتا ہے لیکن ان تمام حلقوں کی مرکزیّتیں نقطۂِ وحدانی کی سمت میں متحرّک رہتی ہیں۔ بہ الفاظ دیگر نقطۂِ وحدانی سے حلقوں کی ان مرکزیّتوں میں نور کی شعاعوں کا ایک سلسلہ ازل سے ابد تک جاری اور قائم ہے۔

إِنَّ رَبَّكُمُ اللہ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ ۗ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللہ رَبُّ الْعَالَمِينَ (54) (سورۂ اعراف)

ترجمہ: بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا۔ پھر عرش پر قائم ہوا۔ چھپا دیتا ہے شب سے دن کو ایسے طور پر کہ وہ شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے اور سورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا اور ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں، یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا۔
اس آیت میں نقطۂِ وحدانی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو رَبّانیّت کی صفَت ہے۔ حضور علیہِ الصّلوٰۃ والسّلام کی حدیث: مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ میں بھی اس ہی طرف اشارہ ہے۔

اِنِّیْ اَنَارَبُّکَ (میں ہوں تیرا رب)

اِنِّیْ اَنَااللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْن (میں ہوں میں اللہ عالمین کا رب)۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو اللہ اور اپنی صفات کو ربّ فرمایا ہے۔

چنانچہ نقطۂِ وحدانی صفَت رَبّانیّت کا مرکز ہے۔ مذکورہ بالا حدیث میں اس بات کی وضاحت ہے کہ انسان پہلے اللہ تعالیٰ کی صفَتِ رَبّانیّت سے متعارف ہوتا ہے اور یہی صفَت مَوجودات سے زیادہ قریب ہے۔
کائنات کا ہر ایک نقش روشنی کی ایک الگ نَوع ہے۔ ہر نَوع روشنی کی ایسی مقداری حرکت رکھتی ہے جو مخصوص رنگوں کی ترتیب ہے اور ہر ترتیب کے تحت یکساں اور مَشابِہ شکلیں ظُہور میں آتی ہیں چنانچہ ہر نَوع کی مقداری حرکت اپنی الگ ایک مرکزیّت رکھتی ہے۔ یہ ساری مرکزیّتیں مل کر نقطۂِ وحدانی کی طرف صَعود کرتی ہیں۔ صَعود اور نزول کی مذکورہ بالا طرز ہی کسی شئے میں تغیّر پیدا کرتی ہے۔ اس ہی تغیّر کا نام حکم کی تفصیل ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ میں کیا ہے۔

خلق اور امر

خلق اور امر کو سمجھنے کے لئے کائناتی زندگی کی مرکزیّت اور ترتیب کا سمجھنا ضروری ہے۔ کائنات کا ہر نقش تین وُجود رکھتا ہے۔

 پہلے وُجود کا قیام لوحِ محفوظ میں ہے

دوسرے وُجود کا قیام عالمِ تَمثال میں ہے۔

 تیسرے وُجود کا قیام عالم رنگ میں ہے۔

عالم رنگ سے مراد کائنات کے وہ تمام مادّی اَجسام ہیں جو رنگوں کی اجتماعیت پر مشتمل ہیں۔ یہ اَجسام لاشمار رنگوں میں سے متعدد رنگوں کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ یہ رنگ نَسمہ کی مخصوص حرکات سے وُجود میں آتے ہیں۔ نَسمہ کی معیّن طوالت حرکت سے ایک رنگ بنتا ہے۔ دوسری طوالت حرکت سے دوسرا رنگ۔ اس طرح نَسمہ کی لاشمار طوالتوں سے لاشمار رنگ وُجود میں آتے ہیں۔ ان رنگوں کا عددی مجموعہ ہر نَوع کے لئے الگ الگ معیّن ہے۔ اگر گلاب کے لئے رنگوں کا الف عددی مجموعہ معیّن ہے تو اس الف عددی مجموعہ سے ہمیشہ گلاب ہی وُجود میں آئے گا۔کوئی اور شے وُجود میں نہیں آئے گی۔اگر آدمی کی تخلیق رنگوں کی جیم تعداد سے ہوتی ہے تو اس تعداد سے دوسرا کوئی حیوان نہیں بن سکتا۔ صرف نَوعِ انسانی ہی کے افراد وُجود میں آ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں اِس قانون کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔

فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ ۚ (سورۂ روم، آیت ۳۰)

یہاں فطرت سے مراد نَسمہ کی حرکت کا طول، رفتار اور اس کا ہُجوم ہے۔

عالم رنگ میں جتنی اشیاء پائی جاتی ہیں وہ سب رنگین روشنیوں کا مجموعہ ہیں۔ ان ہی رنگوں کے ہُجوم سے وہ شئے وُجود میں آتی ہے جس کو عُرفِ عام میں مادہ کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ سمجھا جاتا ہے یہ مادہ کوئی ٹھوس چیز نہیں ہے اگر اس کو شکست و ریخت کر کے انتہائی قدروں تک منتشر کر دیا جائے تو محض رنگوں کی جداگانہ شعاعیں باقی رہ جائیں گی۔ اگر بہت سے رنگ لے کر پانی میں تحلیل کر دیئے جائیں تو ایک خاکی مرکّب بن جائے گا جس کو ہم مٹی کہتے ہیں۔ گھاس، پودوں اور درختوں کی جڑیں پانی کی مدد سے مٹی کے ذرّات کی شکست و ریخت کر کے ان ہی رنگوں میں سے اپنی نَوع کے رنگ حاصل کر لیتے ہیں۔ وہ تمام رنگ پتی اور پھول میں نمایاں ہو جاتے ہیں۔ تمام مخلوقات اور مَوجودات کی مظہری زندگی اس ہی کیمیائی عمل پر قائم ہے۔ نَسمہ کی حرکت داخل کی زندگی سے خارج کی زندگی تک عمل کرتی اور خارج کی زندگی کو مظہر کی شکل و صورت دیتی ہے۔ فی الحقیقت یہ شکل و صورت صرف رنگوں کی اجتماعیت ہے۔ نَسمہ کے اندر دو قسم کی مظہریت ہوتی ہے۔
اوّل، حرکت کا طول۔
دوئم، حرکت کی رفتار
حرکت کا طول مکانیت اور حرکت کی رفتار زمانیت ہے۔ حرکت کی یہ دونوں طرزیں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں۔

تین عالم کیوں؟

جب مصوّر تصویر بناتا ہے یہ تصویر اس کے تصوّر کا عکس ہوتی ہے۔ تصوّر بذاتِ خود کاغذ پر منتقل نہیں ہوتا۔ اس ہی لئے وہ کسی شئے کی جتنی تصویریں بنانا چاہتا ہے بنا سکتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ تصوّر جُوں کا تُوں اس کے ذہن میں محفوظ ہے۔ یہاں سے تخلیق کا یہ قانون مُنکشِف ہو جاتا ہے کہ اصل اپنی جگہ محفوظ رہتی ہے۔ اور عکس منتقل ہوتا ہے۔ چنانچہ تمام مخلوق ظُہور میں آنے سے پہلے خالق کے ارادے میں جس طرح محفوظ تھی، اب بھی اُس ہی طرح محفوظ ہے۔ کائنات کا یہی مرکزِ محفوظیّت لوحِ محفوظ کہلاتا ہے۔ جس کو نقطۂِ وحدانی بھی کہہ سکتے ہیں۔
مَوجودات میں جس قدر نوعیں ہیں ان سب کی اصلیں نقطۂِ وحدانی میں محفوظ ہیں۔ نقطۂِ وحدانی کے عین مقابل ایک آئینہ ہے جس کو عالمِ مثال کہتے ہیں۔ اس آئینہ میں ہر نَوع کی الگ الگ مرکزیّت ہے۔ یہ مرکزیّت کسی نَوع کے تمام افراد کا ایک ایسا مجموعی ہیولیٰ ہے جس میں نَوع کی معیّن شکل وصورت نقش ہوتی ہے۔ چنانچہ نقطۂِ وحدانی کی لاشمار نوعیں اپنی روشنی سے لاشمار نوعوں کا مرکزی ہیولیٰ بناتی ہیں۔
جب نقطۂِ وحدانی کی شعاعیں عالمِ مثال کی طرف حرکت میں آتی ہیں تو زمان(Time) وقوع میں آتا ہے لیکن یہ حرکت اکہری ہوتی ہے۔ اس میں ایک تسلسل پایا جاتا ہے۔ اس حرکت کی طوالت ازل سے ابد تک ہے۔ زمان بھی ازل تا ابد ہے۔ اس ہی لئے اس حرکت کو زمان(Time) کہتے ہیں۔ یہ حرکت ازل سے ابد تک مسلسل سفر کرتی ہے جب یہ حرکت عالمِ مثال سے گزر جاتی ہے تو ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ عالمِ مثال کا آئینہ شعاعوں کو قبول کر کے اپنی فطرت کے مطابق ان شعاعوں کو واپس لوٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کوشش سے شعاعوں کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک طرف نقطۂِ وحدانی کی فطرت آگے بڑھانے پر مجبور کرتی ہے۔ دوسری طرف مثالی آئینہ کی فطرت شعاعوں کو واپس لوٹانے پر اپنی پوری کوشش صرف کر دیتی ہے۔ اس کشمکش میں یہ حرکت مرکّب(دوہری) ہو جاتی ہے۔ حرکت میں بھی دو رخ ہوتے ہیں: ایک کشش، دوسرا گریز۔
مُفرد حرکت(زمان) جو نقطۂِ وحدانی سے شروع ہوتی ہے، نزولی حرکت ہے۔ نقطۂِ وحدانی سے متضاد سمت میں سفر کرتی ہے۔ لہٰذا اس کو گریز کہا جاتا ہے۔
جب مثالی آئینہ عکس کو لوٹانے کی کوشش کرتا ہے تو مُفرد حرکت کی سمت بدل جاتی ہے۔ وہ اب تک نزول کر رہی تھی، لیکن حرکت کے متضاد ہونے سے صَعود کی طرف رجوع ہو جاتی ہے۔ یہ حرکت کشش کہلاتی ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 162 تا 178

لوح و قلم کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 0.02 - عرضِ احوال  ِ 1 - بسمِ اللہِ الرّحمٰن الرّحیم  ِ 2 - عالمِ رُؤیا سے انسان کا تعلق  ِ 3 - رُؤیا کی صلاحیّتوں کے مَدارِج  ِ 4 - لوحِ اوّل یا لوحِ محفوظ  ِ 5 - لوحِ دوئم  ِ 6 - عالمِ جُو  ِ 7 - کثرت کا اَجمال  ِ 8 - ‘‘جُو’’ کا واسطہ  ِ 9 - احساس کی درجہ بندی  ِ 10 - وَحدتُ الوُجود اور وَحدتُ الشُہود  ِ 11 - روحِ اعظم، روحِ انسانی، روحِ حیوانی اور لطائفِ ستّہ  ِ 12 - اسماءِ الٰہیہ  ِ 13 - اسماءِ الٰہیہ کی تعداد گیارہ ہزار ہے  ِ 14 - خواب اور بیداری  ِ 15 - لوحِ محفوظ اور مراقبہ  ِ 16 - تدلّٰی  ِ 17 - کُن فیَکون  ِ 18 - علمِ لدُنّی  ِ 19 - ہر اسم تین تجلّیوں کا مجموعہ ہے  ِ 20 - اسمِ ذات  ِ 21 - روح کی مرکزیّتیں اور تحریکات  ِ 22 - لطیفۂِ نفسی کی حرکت  ِ 23 - باصرہ اور شُہود نفسی  ِ 24 - عملِ اِسترخاء  ِ 25 - علم ‘‘لا’’ اور علم ‘‘اِلّا’’  ِ 26 - ‘‘لا’’ کا مراقبہ  ِ 27 - قوّتِ اَلقاء  ِ 28 - سالک مجذوب، مجذوب سالک  ِ 29 - نسبت کا بیان  ِ 30 - ٹائم اسپیس کا قانون  ِ 31 - زمانیت اور مکانیت کا راز  ِ 32 - کائنات کی ساخت  ِ 33 - نیابت کیا ہے؟  ِ 34 - لوحِ محفوظ کا قانون  ِ 35 - اَنا یا انسانی ذہن کی ساخت  ِ 36 - علمُ الیقین، عینُ الیقین، حقُ الیقین  ِ 37 - تخلیق کا قانون  ِ 38 - انبیاء کے مقامات  ِ 39 - تخلیق کا فارمولا  ِ 40 - ماضی اور مستقبل  ِ 41 - زمان و مکان کی حقیقت  ِ 42 - اِدراک کیا ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)