عاقل بی بیؒ

کتاب : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2770

قصبہ پاکپٹن کے قریب ایک بستی خوئرہ میں عاقل بی بیؒ رہتی تھیں ان کے والد میاں کمال کھیتی باڑی کرتے تھے۔ بی بی عاقلؒ کے بچپن کا واقعہ ہے کہ وہ ایک روز اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیت میں کھیل رہی تھیں۔ ایک گدڑی پوش فقیر وہاں سے گزرے بی بی صاحبہؒ کو دیکھتے ہی رک گئے اور دیر تک سبحان اللہ، سبحان اللہ کہتے رہے۔

حضرت شیخ فتح دریاؒ ایک صاحب کمال بزرگ تھے۔ ایک دفعہ وہ بستی خوئرہ سے گزرے شیخ کمال کے ہاں مہمان ٹھہرے۔ انہوں نے جب بی بی عاقلؒ کو دیکھا تو دیر تک گم صم رہے اور جب محویت ٹوٹی تو فرمایا:

“یہ اللہ کی دوست اور فقیر ہے اور اس کے پہلو سے ایک سعید روح دنیا میں آئے گی۔”

حضرت بی بی عاقلؒ کو ایک مرتبہ خواب میں ماضی کے مناظر نظر آئے۔ جوانی، لڑکپن، بچپن اور پھر شکم مادر میں خود کو دیکھا۔
بی بی عاقلؒ کی شادی ہندال خاندان کے ایک رئیس سے ہوئی، ہندال خاندان کا شجرہ نسب ایران کے بادشاہ نوشیرواں عادل سے ملتا ہے۔ ہندال خاندان میں ایک بہادر اور خدا ترس آدمی گڈن تھا۔

علاقہ بیکانیر کے ایک غیر مسلم تشدد پسند گروہ نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تھا۔ یہ گروہ لوٹ مار اور قتل و غارت کر کے روپوش ہو جاتا تھا۔ اس گروہ کو روکنے والا کوئی بھی نہیں تھا۔ ایک دن تباہ حال بستیوں کے لوگ رئیس گڈن کے پاس پہنچے اور روتے ہوئے اپنی تباہی کی داستان سنائی۔ گڈن نے لوگوں کو جمع کر کے ایک لشکر تیار کیا اور انہیں تلوار اور نیزے فراہم کئے۔ گڈن نے خود لشکر کی قیادت کی اور ظالم گروہ پر حملہ کر دیا۔ سخت لڑائی ہوئی۔ گڈن نے کمال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ دوران لڑائی تلوار کا ایک وار گڈن کی گردن پر پڑا اور سر تن سے جدا ہو گیا۔ لیکن لوگوں نے انتہائی حیرت سے یہ منظر دیکھا کہ بغیر سر کا دھڑ بہت دور تک دشمنوں کا پیچھا کرتا رہا۔ آخر دور جا کر ایک جگہ زمین بوس ہو گیا۔ امیر لشکر کی بہادری سے بالآخر مسلمان فتح یاب ہوئے۔ لوگوں نے جائے شہادت پر گڈن کا مزار تعمیر کیا جو آج بھی مرجع خلائق ہے۔ بی بی عاقل اسی خاندان کے فرد بندل خان سے رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئیں۔ شادی کے کچھ عرصے بعد کمالیہ کے ایک بزرگ میاں احمد عاقل بی بیؒ کے گھر تشریف لائے۔ بی بی صاحبہؒ سلام کے لئے حاضر ہوئیں تو میاں احمد تعظیماً کھڑے ہوئے۔ حاضرین سخت متعجب ہوئے۔ بی بی صاحبہؒ نے کہا:

“آپ اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں اس عاجز بندی کو کیوں شرمندہ کرتے ہیں۔”

میاں احمد صاحب نے فرمایا:

“بیٹی میں تو اس مہر منور کی تعظیم میں کھڑا ہوں جس کا نور تمہارے اندر چمک ریا ہے جو زمانے کا قطب ہو گا۔ کچھ عرصے کے بعد لوگوں کو یہ خوشخبری ملی کہ اللہ نے عاقل بی بی کو ایک فرزند عطا فرمایا ہے۔”

حکمت و دانائی

* آدمی صرف اس وقت مغلوب ہوتا ہے جب وہ خود کو شکست خوردہ سمجھ لیتا ہے۔

* اصل عزت وہی ہے جو اپنی ہمت و کوشش سے حاصل ہو۔

* راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دینا نیکی ہے۔

* نیک بخت وہ ہے جو دوسروں کو دیکھ کر نصیحت حاصل کرے۔

* مخاطب کو اچھی طرح بلانا بھی محبت ہے۔

* تلوار کا زخم جسم پر ہوتا ہے اور بری گفتار سے روح گھائل ہو جاتی ہے۔

* بے ہودہ بات میں ہاں میں ہاں ملانا منافقت ہے۔

* اچھے اعمال سے عقل میں نکھار پیدا ہو جاتا ہے۔

* کم گو آدمی زیادہ اچھی باتیں کرتا ہے۔

* الفاظ کی بہ نسبت لہجے کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔

* عیاری چھوٹی چادر کی طرح ہے سر چھپاؤ تو پیر ننگے ہو جاتے ہیں۔

* دوستی کو اگر مضبوط بنانا ہے تو تحائف کا تبادلہ کیجئے۔

* تمام رات عبادت کرنے سے اگر پڑوسی تنگ ہوتا ہے تو یہ عبادت نہیں ہے۔

* حکمت عملی قوت بازو سے زیادہ کام آتی ہے۔

* علم کی روشنی میں رات نہیں ہوتی۔

* بروں کی ہم نشینی سے تنہائی بہتر ہے۔

* قبر کو روشن رکھنے کے لئے حضور اکرمﷺ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجئے۔

* فقراء کی خدمت بہت بڑی سعادت ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 205 تا 208

ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - مرد اور عورت  ِ 2 - عورت اور نبوت  ِ 3 - نبی کی تعریف اور وحی  ِ 4 - وحی میں پیغام کے ذرائع  ِ 5 - گفتگو کے طریقے  ِ 6 - وحی کی قسمیں  ِ 7 - وحی کی ابتداء  ِ 8 - سچے خواب  ِ 10 - حضرت محمد رسول اللہﷺ  ِ 10 - زمین پر پہلا قتل  ِ 11 - آدم و حوا جنت میں  ِ 12 - ماں اور اولاد  ِ 13 - حضرت بی بی ہاجرہؑ  ِ 14 - حضرت عیسیٰ علیہ السلام  ِ 15 - نبی عورتیں  ِ 16 - روحانی عورت  ِ 17 - عورت اور مرد کے یکساں حقوق  ِ 18 - عارفہ خاتون ‘‘عرافہ’’  ِ 19 - تاریخی حقائق  ِ 20 - زندہ درگور  ِ 21 - ہمارے دانشور  ِ 22 - قلندر عورت  ِ 23 - عورت اور ولایت  ِ 24 - پردہ اور حکمرانی  ِ 25 - فرات سے عرفات تک  ِ 26 - ناقص العقل  ِ 27 - انگریزی زبان  ِ 29 - عورت کو بھینٹ چڑھانا  ِ 29 - بیوہ عورت  ِ 30 - شوہر کی چتا  ِ 31 - تین کروڑ پچاس لاکھ سال  ِ 32 - فریب کا مجسمہ  ِ 33 - لوہے کے جوتے  ِ 34 - چین کی عورت  ِ 35 - سقراط  ِ 36 - مکاری اور عیاری  ِ 37 - ہزار برس  ِ 38 - عرب عورتیں  ِ 39 - دختر کشی  ِ 40 - اسلام اور عورت  ِ 41 - چار نکاح  ِ 42 - تاریک ظلمتیں  ِ 43 - نسوانی حقوق  ِ 44 - ایک سے زیادہ شادی  ِ 45 - حق مہر  ِ 46 - مہر کی رقم کتنی ہونی چاہئے  ِ 47 - عورت کو زد و کوب کرنا  ِ 48 - بچوں کے حقوق  ِ 49 - ماں کے قدموں میں جنت  ِ 50 - ذہین خواتین  ِ 51 - علامہ خواتین  ِ 52 - بے خوف خواتین  ِ 53 - تعلیم نسواں  ِ 54 - امام عورت  ِ 55 - U.N.O  ِ 56 - توازن  ِ 57 - مادری نظام  ِ 58 - اسلام سے پہلے عورت کی حیثیت  ِ 59 - آٹھ لڑکیاں  ِ 60 - انسانی حقوق  ِ 61 - عورت کا کردار  ِ 62 - دو بیویوں کا شوہر  ِ 63 - بہترین امت  ِ 64 - بیوی کے حقوق  ِ 65 - بے سہارا خواتین  ِ 66 - عورت اور سائنسی دور  ِ 67 - بے روح معاشرہ  ِ 68 - احسنِ تقویم  ِ 69 - ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین  ِ 70 - ایک دوسرے کا لباس  ِ 71 - 2006ء کے بعد  ِ 72 - پیشین گوئی  ِ 73 - روح کا روپ  ِ 74 - حضرت رابعہ بصریؒ  ِ 75 - حضرت بی بی تحفہؒ  ِ 76 - ہمشیرہ حضرت حسین بن منصورؒ  ِ 77 - بی بی فاطمہ نیشاپوریؒ  ِ 78 - بی بی حکیمہؒ  ِ 79 - بی بی جوہربراثیہؒ  ِ 80 - حضرت اُم ابو سفیان ثوریؒ  ِ 81 - بی بی رابعہ عدویہؒ  ِ 82 - حضرت اُمّ ربیعۃ الرائےؒ  ِ 83 - حضرت عفیرہ العابدؒ  ِ 84 - حضرت عبقرہ عابدہؒ  ِ 85 - بی بی فضہؒ  ِ 86 - اُمّ زینب فاطمہ بنتِ عباسؒ  ِ 87 - بی بی کردیہؒ  ِ 88 - بی بی اُم طلقؒ  ِ 89 - حضرت نفیسہ بنتِ حسنؒ  ِ 90 - بی بی مریم بصریہؒ  ِ 91 - حضرت ام امام بخاریؒ  ِ 92 - بی بی اُم احسانؒ  ِ 93 - بی بی فاطمہ بنتِ المثنیٰ ؒ  ِ 94 - بی بی ست الملوکؒ  ِ 95 - حضرت فاطمہ خضرویہؒ  ِ 96 - جاریہ مجہولہؒ  ِ 97 - حبیبہ مصریہؒ  ِ 98 - جاریہ سوداؒ  ِ 99 - حضرت لبابہ متعبدہؒ  ِ 100 - حضرت ریحانہ والیہؒ  ِ 101 - بی بی امتہ الجیلؒ  ِ 102 - بی بی میمونہؒ  ِ 103 - فاطمہ بنتِ عبدالرحمٰنؒ  ِ 104 - کریمہ بنت محمد مروزیہؒ  ِ 105 - بی بی رابعہ شامیہؒ  ِ 106 - اُمّ محمد زینبؒ  ِ 107 - حضرت آمنہ رملیہؒ  ِ 108 - حضرت میمونہ سوداءؒ  ِ 109 - بی بی اُم ہارونؒ  ِ 110 - حضرت میمونہ واعظؒ  ِ 111 - حضرت شعدانہؒ  ِ 112 - بی بی عاطفہؒ  ِ 113 - کنیز فاطمہؒ  ِ 114 - بنت شاہ بن شجاع کرمانیؒ  ِ 115 - اُمّ الابرارؒ (صادقہ)  ِ 116 - بی بی صائمہؒ  ِ 117 - سیدہ فاطمہ ام الخیرؒ  ِ 118 - بی بی خدیجہ جیلانیؒ  ِ 119 - بی بی زلیخاؒ  ِ 120 - بی بی قرسم خاتونؒ  ِ 121 - حضرت ہاجرہ بی بیؒ  ِ 122 - بی بی سارہؒ  ِ 123 - حضرت اُم محمدؒ  ِ 124 - بی بی اُم علیؒ  ِ 125 - مریم بی اماںؒ  ِ 126 - بی اماں صاحبہؒ  ِ 127 - سَکّو بائیؒ  ِ 128 - عاقل بی بیؒ  ِ 129 - بی بی تاریؒ  ِ 130 - مائی نوریؒ  ِ 131 - بی بی معروفہؒ  ِ 132 - بی بی دمنؒ  ِ 133 - بی بی حفضہؒ  ِ 134 - بی بی حفصہؒ بنت شریں  ِ 135 - بی بی غریب نوازؒ (مائی لاڈو)  ِ 136 - بی بی یمامہ بتولؒ  ِ 137 - بی بی میمونہ حفیظؒ  ِ 138 - بی بی مریم فاطمہؒ  ِ 139 - امت الحفیظؒ (حفیظ آپا)  ِ 140 - شہزادی فاطمہ خانمؒ  ِ 141 - بی بی مائی فاطمہؒ  ِ 142 - بی بی راستیؒ  ِ 143 - بی بی پاک صابرہؒ  ِ 144 - بی بی جمال خاتونؒ  ِ 145 - بی بی فاطمہ خاتونؒ  ِ 146 - کوئل  ِ 147 - مائی رابوؒ  ِ 148 - زینب پھوپی جیؒ  ِ 149 - بی بی میراں ماںؒ  ِ 150 - بی بی رانیؒ  ِ 151 - بی بی حاجیانیؒ  ِ 152 - اماں جیؒ  ِ 153 - بی بی حورؒ  ِ 154 - مائی حمیدہؒ  ِ 155 - لل ماجیؒ  ِ 156 - بی بی سائرہؒ  ِ 157 - مائی صاحبہؒ  ِ 158 - حضرت بی بی پاک دامناںؒ  ِ 159 - بی بی الکنزہ تبریزؒ  ِ 160 - بی بی عنیزہؒ  ِ 161 - بی بی بنت کعبؒ  ِ 162 - بی بی ستارہؒ  ِ 163 - شمامہ بنت اسدؒ  ِ 164 - ملّانی جیؒ  ِ 165 - بی بی نور بھریؒ  ِ 166 - مائی جنتؒ  ِ 167 - بی بی سعیدہؒ  ِ 168 - بی بی وردہؒ  ِ 169 - بی بی عائشہ علیؒ  ِ 170 - بی بی علینہؒ  ِ 171 - اُمّ معاذؒ  ِ 172 - عرشیہ بنت شمسؒ  ِ 173 - آپا جیؒ  ِ 174 - حضرت سعیدہ بی بیؒ  ِ 175 - طلاق کے مسا ئل
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)