طرزِ فکر

کتاب : توجیہات

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=3061

سوال: انسان کسی بھی ڈھنگ سے زندگی گزارے اس کے پیچھے ایک سوچ، ایک طرز فکر کارفرما ہوتی ہے۔ کیا روحانیت ہمیں کوئی ایسی کسوٹی فراہم کرتی ہے جس پر پرکھا جا سکے کہ کون سی درست ہے؟
جواب: معاشرے کو سامنے رکھ کر تفکر کیا جائے تو یہ نظر آتا ہے کہ معاشرے میں موجود زندگی گزارنے اور زندگی میں سوچ بچار کی طرزیں ایک ہی طرح کام کرتی ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ آدمی کی سوچ بچار اور مخصوص طرز فکر کی بنیاد پر الگ الگ گروہ بنے ہوئے ہیں۔ ایک گروہ کی طرز فکر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اس گروہ پر اتنا ہی فضل ہو جائے وہ ناشکرا ضرور ہوتا ہے۔ ایک گروہ کی عادت یہ ہے کہ وہ فیاض ہے، سخی ہے۔ اس کے برعکس دوسرے گروہ کی جبلت یہ بن گئی ہے کہ وہ بخیل ہے، کنجوس ہے اور اس کے دل میں دولت کی محبت اس حد تک جاگزیں ہے کہ اس کے اوپر دولت کی پرستش کا گمان ہوتا ہے۔ ایک گروہ ایسا ہے کہ اسے اس بات میں خوشی ہوتی ہے کہ وقت ضائع کیا جائے، ایک گروہ وعظ و نصیحت سننے کا شوقین ہے، دوسرا گروہ سیاسی تقاریر سننے کا خواہش مند رہتا ہے۔ کچھ لوگوں کو ناچنے گانے کا شوق ہوتا ہے اور کچھ لوگوں کو پینے پلانے کا اور ان لوگوں کے برعکس ایک گروہ ان لوگوں کا ہے جو خوش عقیدہ ہیں اور اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری دینے میں لذت محسوس کرتے ہیں۔
مختصر یہ کہ زمین پر موجود نوع انسانی مختلف گروہوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ننانوے فی صد گروہوں کی زندگی اور ان کی طرز فکر کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ یہ ننانوے فیصد گروہ شک اور وسوسوں میں مبتلا ہیں۔ ہم بتا چکے ہیں کہ شک اور وسوسہ کی زندگی سے آدمی کے اوپر غم، خوف اور پریشانی مسلط ہو جاتی ہے۔
روحانیت ہمیں صحیح طرز فکر کی جو کسوٹی فراہم کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے اندر غم اور خوف موجود نہ ہو۔ دنیا کی چار ارب آبادی اپنا محاسبہ کر سکتی ہے۔ ننانوے فیصد افراد ایسے ملیں گے جن کی ساری زندگی خوف اور غم میں گزر گئی ہے۔
تخلیقی فارمولوں کے سلسلے میں ہم یہ بتا چکے ہیں کہ کوئی تخلیق دو رخ کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ اس تخلیقی قانون کے تحت جس بندے کے اندر شک اور وسوسہ موجود ہے اس بندے کے اندر یقین بھی موجود ہے۔ جب کوئی بندہ یقین کی طاقت حاصل کر لیتا ہے تو شک اور وسوسہ والا رخ مغلوب ہو جاتا ہے اور جب کسی بندے پر شک اور وسوسے کا رخ غالب ہو جاتا ہے تو یقین کا رخ مغلوب ہو جاتا ہے۔ بے یقینی کا دوسرا نام شک ہے، شک شیطنت ہے اور شیطنت غم اور خوف ہے۔
انبیاء علیہم السلام کے بتائے ہوئے قاعدوں اور ضابطوں پر اگر عمل کیا جائے تو شک اور وسوسے کا رخ مغلوب ہو جاتا ہے اور یقین کا رخ غالب آ جاتا ہے۔ روحانی طرز فکر یہی ہے کہ روحانی علوم سکھانے والا استاد ، شیخ یا مرشد قدم قدم چلا کر اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ شک اور وسوسہ کا رخ مغلوب ہو جائے اور یقین کا رخ غالب آ جائے اور بندہ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ کی زندگی تفسیر بن جائے۔ قرآن پاک کے ارشاد کے مطابق اللہ کے دوست ایسی طرز فکر میں زندگی گزارتے ہیں کہ ان کو نہ خوف ہوتا ہے،نہ غم۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 43 تا 44

توجیہات کے مضامین :

ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - صاحبِ صلاحیت  ِ 3 - صاحب خدمت  ِ 4 - عقل وشعور  ِ 5 - اللہ کا نور  ِ 6 - دوسرے سیاروں کی مخلوق  ِ 7 - پر عظمت ہستی  ِ 8 - طرزِ فکر  ِ 9 - علم حضوری  ِ 10 - حقیقتِ مذاہب  ِ 11 - غیب بینی  ِ 12 - خواب کی حالت  ِ 13 - ماوراء ذات  ِ 14 - تصرف  ِ 15 - علم کا مظاہرہ  ِ 16 - علمِ حصولی  ِ 17 - اعراف کیا ہے  ِ 18 - علم کی طرزیں  ِ 19 - جسمِ مثالی  ِ 20 - روشنیوں کا ہالہ  ِ 21 - Time & Space  ِ 22.1 - حقیقت پسندانہ طرز فکر – 1  ِ 22.2 - حقیقت پسندانہ طرز فکر – 2  ِ 23 - انعام یافتہ  ِ 24 - تصورِ شیخ  ِ 25 - اللہ کی مہر  ِ 26 - اللہ کے دوست  ِ 27 - استغناء، توکل اور بھروسہ  ِ 28 - وسائل کی فراہمی  ِ 29 - خرق عادت  ِ 30 - صلاحیتوں کا ذخیرہ  ِ 31 - راسخ العلم  ِ 32 - حصول یا منتقلی  ِ 33 - ترقی اور تنزلی  ِ 34 - علم الاسماء  ِ 35 - ذاتِ مطلق  ِ 36 - بیمار درخت  ِ 37 - نیابتِ الہی  ِ 38 - رنگین دُنیا  ِ 39 - بے جا اسراف  ِ 40 - نفسِ واحدہ  ِ 41 - کام اور آرام  ِ 42 - روشنیوں کا سیب  ِ 43 - راہِ سلوک کےآداب  ِ 44 - سلطان کیا ہے  ِ 45 - مٹھاس کا استعمال  ِ 46 - رویائے صادقہ  ِ 47 - دُعا کے آداب  ِ 48 - فیض کا حاصل ہونا  ِ 49 - نماز کی اقسام  ِ 50 - بیعت کا قانون  ِ 51 - نیگٹو بینی  ِ 52 - اعتکافِ رمضان
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)