صحرا میں اسلامی فوج

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد اوّل

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=404

عام مسلمان معاہدہ کے دیرپا اثرات کو نہ سمجھ سکے تھے۔جب وہ اپنے سر منڈوانے اور احرام سے نکلنے کے بعد سوئے مدینہ روانہ ہوئے تو بہت غمزدہ اور دل گرفتہ تھے۔ ایسی حالت میں جب کہ مسلمان دلوں میں درد چھپائے مدینہ کی جانب گامزن تھے راستے میں ایک اور مسلمان ابو بصیرؓ نے جو مکہ سے بھاگ نکلے تھے مسلمانوں سے پناہ کی درخواست کی۔ ابوبصیرؓ ابھی اطمینان کا سانس نہ لینے پائے تھے کہ قریش کے دو افراد بھی وہاں پہنچ گئے اور مطالبہ کیا، ” محمدؐ ! معاہدے کی رو سے ابوبصیرؓ کو ہمارے حوالے کیا جائے۔”

حضرت عمرؓ سے نہ رہا گیا وہ اۤگے بڑھ کر بولے، ” یارسول اللہ ؐ! اس مرتبہ اۤپ اس شخص کو واپس نہ بھیجیں ۔ یہ ہم سے پناہ مانگنے اۤیا ہے۔ اگر ہماری جان بھی چلی جائے تو اسے قریش کو نہ دیں گے”۔ سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام نے جواب دیا کہ ہم ایفائے عہد کے پابند ہیں۔ یہ جواب سن کر مکہ سے اۤنے والے دو اۤدمیوں نے مسلمانوں کے سامنے ابوبصیرؓ کو اونٹ کی پیٹھ پر باندھا اور روانہ ہوگئے۔

ابو بصیرؓ نے راستے میں اپنی رسیاں توڑ ڈالیں اور رہائی پانے میں کامیاب ہوگئے۔ ابو بصیرؓ نے دو میں سے ایک شخص کو موت کی نیند سلا دیا۔ جبکہ دوسرا جان بچا کر بھاگ گیا۔ ابو بصیرؓ دوبارہ مسلمانوں سے اۤ ملے اور ان سے پناہ کی درخواست کی۔ اگلے روز زندہ بچ جانے والا شخص مسلمانوں کے قافلے تک پہنچ گیا اور ابو بصیر ؓ کا مطالبہ کرنے لگا۔ سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام نے حکم دیا کہ ابو بصیرؓ کو اس شٰخص کے حوالے کر دیا جائے۔ لیکن اس سے پہلے کہ قریش کا نمائندہ اب بصیرؓ کو پکڑ کر اپنے ساتھ لے جائے وہ اس کے ہاتھوں سے نکل کر فرار ہوگئے۔ انہوں نے مکہ جانے کے بجائے ریگستان میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔

ابو بصیرؓ ذوالمروہ کے مقام پر پناہ گزین ہوگئے۔ کچھ دنوں کے بعد ابو جندلؓ بھی مکہ سے فرار ہوگئے اور ذوالمروہ پہنچ کر ابو بصیرؓ سے اۤملے اور پھر ایک اور مسلمان جن کا نام عتبہ بن اسد تھا مکہ سے بھاگ کر ذوالمروہ پہنچے۔ رفتہ رفتہ دوسرے مسلمان بھی مکہ سے نکل کر وہاں پہنچنا شروع ہوگئے اور ایک اسلامی گروہ تشکیل پا گیا۔

حدیبیہ کا معاہدہ ہوئے ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ ذوالمروہ میں مسلمانوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگئی کہ فوج بن گئی۔ وہ مکہ جانے والے کاروانوں کا راستہ روک کر ان سے مالِ غنیمت حاصل کرنے لگے۔ ذوالمروہ کے مسلمانوں نے کچھ اس طرح قریش کو ناک چنے چبوا دیئے کہ انہوں نے عاجزو لاچار ہوکر خود ہی پیغمبر السلامؐ سے درخواست کی کہ وہ مکہ سے بھاگ کر ذوالمروہ میں جمع ہونے والے مسلمانوں کو مدینہ بلوالیں۔

اس سال خشک سالی کی وجہ سے مکہ قحط سالی میں اۤگیا۔ قبیلہ یمامہ کی سرزمین اشیائے خورد و نوش کا انبار سمجھی جاتی تھی اورقبیلہ یمامہ کے سارے افراد مسلمان ہوچکے تھے۔ قبیلہ کے سربراہ نے مکہ والوں تجارت پر پابندی عائد کردی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ السلام نے یمامہ کے سربراہ کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اہل مکہ کو اشیائے خوردنی فروخت کرنے پر پابندی نہ لگائے۔ اس کے علاوہ پیغمبر السلامؐ نے پانچ سو سونے کے سکے مکہ بھجوائے تاکہ وہاں کے غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کردیئے جائیں۔

پانچ سو سکوں کے علاوہ بہت زیادہ وزن میں کھجوریں ابوسفیان کو بھجوائیں اور پیغام دیا کہ ان کھجوروں کی قیمت کے برابر چمڑے یا کھالوں کا تبادلہ کر سکتا ہے۔ ابو سفیان نے کوشش کی کہ کھجوریں واپس کردے لیکن وہ ایسا نہ کر سکا۔ کیونکہ اہل مکہ کو کھجوروں کی اۤمد کا علم ہوچکا تھا۔ وہ بھوک سے نڈھال تھے۔ ابو سفیان نے بادل نخواستہ کھجوریں قبول کرلیں اور ان کی جگہ چمڑا روانہ کردیا۔ دوسری طرف جب مکہ کے عام باشندوں کو پتہ چلا کہ یہ کھجوریں محمدؐ کی جانب سے بھیجی گئی ہیں تو پیغمبر السلامؐ کے بارے میں ان کے اندر نیک جذبات پیدا ہوئے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 155 تا 158

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)