صادق اور امین

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد اوّل

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=311

مکہ کے رہنے والے دو طریقوں سے اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرتے تھے۔ ایک تجارت اور دوسرے مویشیوں خاص طور پر اونٹوں کی پرورش کے ذریعے۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تجارت کو ذریعہ معاش بنانا پسند فرمایا۔ سوداگر قیس بن زید اپنا سامانِ تجارت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سپرد کردیتا تھا تاکہ وہ اسے فروخت کرنے کے لئے دوسرے شہروں میں لے جائیں۔ حساب کتاب میں کبھی کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ اۤپؐ اشیائے تجارت کی فروخت کے لئے جب بھی سفر پر روانہ ہوتے مکہ کے دوسرے تاجر یہ خواہش کرتے تھے کہ حضورؐ ان کا سامانِ تجارت بھی لے جائیں۔ انہی تاجروں میں سے ایک خاتون حضرت خدیجہؓ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ پیغام بھجوایا کہ اگر وہ چاہیں تو ان کے تجارتی قافلہ کے ہمراہ سفر پر روانہ ہوں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس پیش کش کو اپنے چچا کے مشورے سے قبول کرلیا۔ حضرت خدیجہؓ کے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا۔ ان کی خاندانی شرافت، عزت و توقیر اور اعلیٰ کردار کی بناء پر مکہ کے بڑے بڑے رئیس اور سردار ان سے شادی کے خواہاں تھے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجموعہ صفاتِ ذات نے حضرت خدیجہؓ کو بے حد متاثر کیا۔ انھوں نے اپنی سہیلی نفیسہ بن منبہ کے ذریعے شادی کا پیغام بھیجا۔ نکاح میں بنی ہاشم اور رؤسائے مکہ شریک ہوئے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پانچ سو درہم بطور حق مہر حضرت خدیجہؓ کو ادا کئے۔ یہ روایات بھی ملتی ہیں کہ حق مہر کے طور پر بیس اونٹ دیئے گئے تھے۔

سن۶۰۵ عیسوی میں جبکہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام پینتیس(۳۵) سال کے تھے مکہ میں دو ناگوار واقعات پیش آئے۔ پہلا یہ کہ خانہ کعبہ میں اۤگ لگ گئی اور دوسرا یہ کہ سیلاب اس کے کچھ حصوں کو بہا لے گیا۔ جس کی بناء پر خانہ کعبہ کو خاصا نقصان پہنچا۔ قریش کے دس قبیلوں نے یہ فیصلہ کیا کہ لوگوں سے چندہ جمع کیا جائے اور عوامی چندہ کی مدد سے خانہ کعبہ کی مرمت کی جائے۔ مرمت کا کام جس رومی معمار کو سونپا گیا اس نے مشورہ دیا کہ مرمت کہ بجائے خانہ کعبہ مکمل طور پر ڈھا دیا جائے اور از سرِ نو تعمیر کی جائے۔ قریش کے بزرگوں نے صلاح مشورہ کے بعد خانہ کعبہ کو ڈھانے کی منظوری دے دی اور رومی معمار نے بلا توقف اپنا کام شروع کردیا۔ تعمیرِ کعبہ میں تمام قبائل نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا لیکن جب حجرِ اسود کی تنصیب کا مرحلہ اۤیا تو قریش کے دس قبیلوں کے درمیان شدید اختلاف ہوگیا۔ کیونکہ ہر قبیلہ کی یہ خواہش تھی کہ حجرِ اسود کو خانہ کعبہ میں لگانے کا اعزاز صرف اسے حاصل ہونا چاہیئے۔ اس قضیئے کا حل حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ نکالا ایک ایک چادر منگواکر حجرِ اسود کو اس چادر پر رکھ دیا اور قریش کے سرکردہ لوگوں نے اس چادر کو چاروں طرف سے پکڑ کر اٹھایا اور خانہ کعبہ کی دیوار تک لے گئے۔ خود حضورؐ نے بھی اس چادر کا ایک کونہ اپنے ہاتھ میں تھاما اور قریش کے دوسرے لوگوں کی مدد سے حجرِ اسود کو خانہ کعبہ کی دیوار تک پہنچا کر نصب کردیا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 23 تا 25

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)