صاحبِ صلاحیت

کتاب : توجیہات

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=3055

سوال: مخلوق ایک دوسرے کو کیسے پہچانتی ہے؟اس کی وضاحت فرمائیں۔
جواب: کائنات کا یکجائی پروگرام لوحِ محفوظ پر ثبت ہے اور یہ پروگرام اللہ تعالیٰ کے ذہن کے مطابق مسلسل اور پیہم جاری و ساری ہے۔ لوح محفوظ پر جو کچھ ہے اس کی نشریات کا قانون یہ ہے کہ لوح محفوظ سے پورا پروگرام یکجا اور پیہم نزول کر کے لوحِ دوئم پر آجاتا ہے۔ لوحِ دوئم کو تصوف میں ‘‘عالمِ برزخ ’’ یا ‘‘عالمِ جو’’ کہتے ہیں۔ لوحِ دوئم سے یہی پروگرام انفرادی طور پر نشر ہوتا ہے اور لوحِ دوئم کی نشریات کا قانون یہ ہے کہ اس میں انسانی ارادے شامل ہوتے ہیں۔ یعنی لوحِ محفوظ سے یہ پروگرام نشر ہوا ، کسی آدمی کو ایک کام کرنا ہے، کام ذہنِ انسانی پر بالکل اسی طرح وارد ہوتا ہے ۔ اب اس اطلاع پر انسان اپنا ذاتی ارادہ استعمال کرتا ہے ۔ یہ ارادہ صعود کر کے لوحِ دوئم میں لوحِ محفوظ کے اس پروگرام کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے۔ لوحِ دوئم سے یہ مخلوط نشریہ دوبارہ نزول کر کے انسانی ذہن پر وارد ہوتا ہے اور وہ اس کام کو سر کر لیتا ہے۔ یہاں یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ لوحِ محفوظ سے نازل ہونے والے کسی پروگرام کے پورا ہونے کا دارومدار اگر انسانی ارادوں پر ہے تو انسان لوحِ محفوظ کا تابع نہیں ہوا بلکہ لوحِ محفوظ کا پروگرام انسان کے تابع ہوا۔ بات دراصل یہ ہے کہ لوحِ محفوظ کی نشریات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انسان کو نیت اور ارادہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس کی مزید تشریح یہ ہے کہ لوحِ محفوظ پوری کائنات بشمول فرشتے، جنات، سیارے، کہکشانی نظام، ہماری حرکات و سکنات اور ہماری پوری زندگی ریکارڈ ہے۔ یہ پوری کائنات نشر ہو کر جب لوحِ دوئم کی سکرین پر آتی ہے تو یہاں ایک اور فلم بن جاتی ہے اور جب یہ فلم نشر ہوتی ہے تو کائنات میں موجود ہر تخلیق الگ الگ ہو جاتی ہے۔ یعنی کہکشانی نظام الگ، نوعِ جنات الگ، نوعِ ملائکہ الگ، نوعِ انسانی الگ، نوعِ نباتات الگ اور نوعِ حیوانات الگ خدوخال میں ظاہر ہو جاتی ہے۔ یہ بات بہت ہی عجیب ہے کہ کائنات کی ہر تخلیق ایک دوسرے سے مخفی رشتہ کے ساتھ منسلک ہے یعنی جس طرح انسان کے اندر پوری کائنات موجود ہے اسی طرح فرشتہ کے اندر پوری کائنات موجود ہے اوربکری اور کبوتر کے اندر بھی پوری کائنات موجود ہے۔ اگرکائنات کی موجودگی اس طرح نہ ہو تو کوئی فرد دوسرے فرد کو پہچان نہیں سکتا۔ ہم ستاروں کو اس لئے پہچانتے ہیں کہ ستاروں سے ہمارا ایک مخفی رشتہ ہے۔ اَن دیکھی مخلوق ، ملائکہ اور جنات کا یقین کرنے پر ہم اس لئے مجبور ہیں۔ کہ ان کا تشخص اور تمثیل ہمارے اندر موجود ہے۔ کوئی صاحب اگر یہ اعتراض کریں کہ ایک مکتبہ فکر جنت کو مانتا ہی نہیں تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس لئے کہ انکار بجائے خود اس بات کا اقرار ہے کہ کوئی چیز موجود ہے۔ اگر کسی چیز کا وجود ہیں نہیں تو انکار یا اقرار دونوں زیرِ بحث نہیں آتے ۔
واضح یہ کرنا ہے کہ انسان کے اندر پوری کائنات تو موجود ہے لیکن چونکہ وہ اس بات سے واقف نہیں کہ وہ کائنات کاایک حصہ ہے یا پوری کائنات کے اجزائے ترکیبی میں سے ایک جزو ہے۔ اس لئے وہ اس بات کا مشاہدہ نہیں کر پاتا۔
شیخ یا مراد اس بات کو جانتا ہے کہ مرید کائنات کا ایک جزو ہے اور کائنات میں موجود ہر تخلیق کا ساتھ اس کا قریبی رشتہ قائم ہے۔ مراد، مرید کی شعوری صلاحیت کے پیشِ نظر ایسا پروگرام ترتیب دیتا ہے جس پر قدم بہ قدم مرید کو چلا کر اس بات سے واقف کر دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تخلیقی کُنبے کا ایک فرد ہے اور اس کا اس کے ساتھ ربط و ضبط ، اُٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنا، محسوس کرنا، دیکھنا، سننا اور سمجھنا سب مشترک ہے۔ یعنی تخلیقی اجزاٗ میں سے وہ ایک جزو ہے اور ظاہر ہے کہ اجزاٗ میں سے ایک جزو کو الگ کر دیا جائے تو تخلیق نا مکمل رہ جاتی ہے۔
کہنا یہ ہے کہ کائنات میں موجود ہر مخلوق ایک دوسرے سے رشتہ رکھتی ہے اور ایک دوسرے کو پہچانتی ہے۔ جاننا اور پہچاننا اس وقت ممکن ہے جب جاننے اور پہچاننے کی صلاحیت موجود ہو اور صلاحیت کا پیدا ہونا اس وقت ممکن ہے جب صاحبِ صلاحیت کی طرف سے جاننے اور پہچاننے کی صلاحیت منتقل ہو۔ صاحبِ صلاحیت دراصل اللہ تعالیٰ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفات ہی سننے ، دیکھنے، سمجھنے اور پہچاننے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کا ایک کنبہ بنایا اور اس کنبے میں کھربوں کہکشانی نظام اور ان نظاموں میں سنکھوں نوعیں اور ان نوعوں میں انسانی شماریات سے باہر مخلوقات پیدا کیں اور ان کے اندر سوچنے ، سمجھنے اور زندہ رہنے کی تحریکات عطا کیں۔ اصل میں پہچان کا ذریعہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور وہ اس لئے کہ تمام مخلوقات جُدا جُدا ہیں اور ان کا پیدایکتا واحد خدا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 25 تا 28

توجیہات کے مضامین :

ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - صاحبِ صلاحیت  ِ 3 - صاحب خدمت  ِ 4 - عقل وشعور  ِ 5 - اللہ کا نور  ِ 6 - دوسرے سیاروں کی مخلوق  ِ 7 - پر عظمت ہستی  ِ 8 - طرزِ فکر  ِ 9 - علم حضوری  ِ 10 - حقیقتِ مذاہب  ِ 11 - غیب بینی  ِ 12 - خواب کی حالت  ِ 13 - ماوراء ذات  ِ 14 - تصرف  ِ 15 - علم کا مظاہرہ  ِ 16 - علمِ حصولی  ِ 17 - اعراف کیا ہے  ِ 18 - علم کی طرزیں  ِ 19 - جسمِ مثالی  ِ 20 - روشنیوں کا ہالہ  ِ 21 - Time & Space  ِ 22.1 - حقیقت پسندانہ طرز فکر – 1  ِ 22.2 - حقیقت پسندانہ طرز فکر – 2  ِ 23 - انعام یافتہ  ِ 24 - تصورِ شیخ  ِ 25 - اللہ کی مہر  ِ 26 - اللہ کے دوست  ِ 27 - استغناء، توکل اور بھروسہ  ِ 28 - وسائل کی فراہمی  ِ 29 - خرق عادت  ِ 30 - صلاحیتوں کا ذخیرہ  ِ 31 - راسخ العلم  ِ 32 - حصول یا منتقلی  ِ 33 - ترقی اور تنزلی  ِ 34 - علم الاسماء  ِ 35 - ذاتِ مطلق  ِ 36 - بیمار درخت  ِ 37 - نیابتِ الہی  ِ 38 - رنگین دُنیا  ِ 39 - بے جا اسراف  ِ 40 - نفسِ واحدہ  ِ 41 - کام اور آرام  ِ 42 - روشنیوں کا سیب  ِ 43 - راہِ سلوک کےآداب  ِ 44 - سلطان کیا ہے  ِ 45 - مٹھاس کا استعمال  ِ 46 - رویائے صادقہ  ِ 47 - دُعا کے آداب  ِ 48 - فیض کا حاصل ہونا  ِ 49 - نماز کی اقسام  ِ 50 - بیعت کا قانون  ِ 51 - نیگٹو بینی  ِ 52 - اعتکافِ رمضان
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)