شیر کی عقیدت

کتاب : تذکرہ بابا تاج الدینؒ

مصنف : قلندر بابا اولیاءؒ

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=14814

ایک دن واکی شریف کے جنگل میں پہاڑی ٹبّے پر چند لوگوں کے ہمراہ چڑھتے چلے گئے۔ نانا رحمۃ االلہ علیہ مسکرا کر کہنے لگے۔’’میاں جس کو شیر کا ڈر ہو وہ چلاجائے، میں تو یہاں ذراسی دیر آرام کروں گا۔ خیال ہے کہ شیر ضروری آئے گا۔ جتنی دیر قیام کرے اس کی مرضی ۔ تم لوگ خواہ مخواہ انتظار میں مبتلا نہ رہو۔ جاؤ کھاؤ پیو اور مزہ کرو۔‘‘

بعض لوگ اِدھر اُدھر چھپ گئے اورزیادہ چلے گئے۔ میں حیات خاں سے کہا ۔ کیا ارادہ ہے۔ پہلے تو حیات خاں سو چتارہا۔ پھر زیرِ لب مسکرا کرخاموش ہوگیا۔ تھوڑی دیربعد میں نے پھر سوال کیا۔ ’’چلناہے یا تماشا دیکھناہے۔‘‘

’’بھلا باباصاحب کوچھوڑکے میں کہاں جاؤں گا !‘‘ حیات خاں بولا

گرمی کا موسم تھا۔ درختوں کا سایہ اور ٹھنڈی ہوا خمار کے طوفان اٹھا رہی تھی۔

تھوڑی دور ہٹ کر میں ایک گھنی جھاڑی کے نیچے لیٹ گیا۔ چند قدم کے فاصلے پر حیات خاں اس طرح بیٹھ گیا کہ نانا تاج الدینؒ کو کن انکھیوں سے دیکھتا رہے۔

اب وہ دبیز گھاس پر لیٹ چکے تھے۔ آنکھیں بندتھیں۔ فضا میں بالکل سنّاٹا چھایا ہواتھا۔

چند منٹ گزرے تھے کہ جنگل بھیانک محسوس ہونے لگا۔ آدھ گھنٹہ، پھر ایک گھنٹہ ۔ اس کے بعد بھی کچھ وقفہ ایسے گزر گیا جیسے شدید انتظار ہو۔ یہ انتظار کسی سادھو، کسی جوگی، کسی ولی، کسی انسان کا نہیں تھا بلکہ درندہ کا تھا جو کم ازکم میرے ذہن میں قدم بقدم حرکت کر رہاتھا۔ یکایک نانا رحمۃاللہ علیہ کی طرف نگاہیں متوجہ ہوگئیں۔ ان کے پیروں کی طرف ایک طویل القامت شیر ڈھلان سے اوپر چڑھ رہا تھا ۔ بڑی آہستہ خرامی سے، بڑے ادب کے ساتھ۔

شیر نیم واکی آنکھوں سے نانا تاج الدینؒ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ذرا دیر میں وہ پیروں کے بالکل قریب آگیا۔

نانا گہری نیند میں بے خبر تھے۔ شیر زبان سے تلوے چھورہاتھا۔ چند منٹ بعد اس کی آنکھیں مستانہ واری سے بند ہوگئیں۔ سرزمین پر رکھ دیا۔

نانا تاج الدینؒ ابھی تک سورہے تھے۔

شیر نے اب زیادہ جرأت کرکے تلوے چاٹنا شروع کردیئے۔ اس حرکت سے نانا کی آنکھ کھل گئی۔ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ شیر کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

کہنے لگے ’’توآگیا۔ اب تیری صحت بالکل ٹھیک ہے۔ میں تجھے تندرست دیکھ کر بہت خوش ہوں۔ اچھا اب جاؤ۔‘‘شیرنے بڑی ممنونیت سے دم ہلائی اور چلا گیا۔

میں نے ان واقعات پر بہت غور کیا۔ یہ بات کسی کو معلوم نہیں کہ شیر ان کے پاس آیا تھا۔ مجبوراً اس امر کا یقین کرنا پڑتاہے، نانا اور شیر پہلے سے ذہنی طور پر روشناس تھے۔ روشناسی کا طریقہ ایک ہی ہو سکتاہے۔ انا کی جو لہریں نانا او رشیر کے درمیان ردوبدل ہوتی تھیں وہ آپس کی اطلاعات کا باعث بنتی تھیں۔ عارفین میں کشف کی عام روش یہی ہوتی ہے۔ لیکن اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ جانور وں میں بھی کشف اسی طرح ہوتاہے۔ کشف کے معاملے میں انسان اور دوسری مخلوق یکساں ہیں۔

یہ قانون بہت فکر سے ذہن نشین کرنا چاہئے کہ جس قدر خیالات ہمارے ذہن میں دورکرتے رہتے ہیں، ان میں بہت زیادہ ہمارے معاملات سے غیر متعلق ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق قریب اور دور کی ایسی مخلوق سے ہوتاہے جو کائنات میں کہیں نہ کہیں موجود ہو۔ اس مخلوق کے تصورات لہروں کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں۔ جب ہم ان تصورات کا جوڑ اپنی زندگی سے ملانا چاہتے ہیں تو ہزار کوشش کے باوجود ناکام رہ جاتے ہیں۔ انا کی جن لہروں کا ابھی تذکرہ ہو چکاہے ان کے بارے میں بھی چند باتیں فکر طلب ہیں۔ سائنس دان روشنی کو زیادہ سے زیاد ہ تیز رفتار قرار دیتے ہیں۔ لیکن وہ اتنی تیز رفتار نہیں ہے کہ زمانی مکانی فاصلوں کو منقطع کردے۔ البتہ انا کی لہریں لامتناہیت میں بیک وقت ہر جگہ موجود ہیں۔ زمانی مکانی فاصلے ان کی گرفت میں رہتے ہیں ۔ باالفاظِ دیگر یوں کہہ سکتے ہیں ان لہروں کے لئے زمانی مکانی فاصلے موجود ہی نہیں ہیں۔ روشنی کی لہریں جن فاصلوں کو کم کرتی ہیں، انا کی لہریں ان ہی فاصلوں کو بجائے خود موجود نہیں جانتیں۔

انسانوں کے درمیان ابتدائے آفرنش سے بات کرنے کا طریقہ رائج ہے۔ آواز کی لہریں جن کے معنی معین کر لئے جاتے ہیں، سننے والوں کو مطلع کرتی ہیں ۔ یہ طریقہ اس ہی تبادلہ کی نقل ہے جو انا کی لہروں کے درمیان ہوتاہے۔ دیکھا گیا ہے کہ گونگا آدمی اپنے ہونٹوں کی خفیف جنبش سے سب کچھ کہہ دیتاہے۔ اورسمجھنے کے اہل سب کچھ سمجھ جاتے ہیں۔ یہ طریقہ بھی پہلے طریقہ کا عکس ہے جانور آواز کے بغیر ایک دوسرے کواپنے حال سے مطلع کر دیتے ہیں۔ یہاں بھی انا کی لہریں کام کرتی ہیں۔ درخت بھی آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔ یہ گفتگو صرف آمنے سامنے کے درختوں میں ہی نہیں ہوتی بلکہ دور دراز ایسے درختوں میں بھی ہوتی ہے جو ہزاروں میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی قانون جمادات میں بھی رائج ہے۔ کنکروں، پتھروں اور مٹی کے ذروں میں من وعن اسی طرح تبادلۂ خیال ہوتاہے۔

انبیاء اور روحانی طاقت رکھنے والے انسانوں کے کتنے ہی واقعات اس کے شاہد ہیں۔ ساری کائنات میں ایک لاشعور کار فرماہے۔ اس کے ذریعے غیب و شہود کی ہر لہر دوسری لہرکے معنی سمجھتی ہے، چاہے یہ لہریں کائنات کے دو کناروں پر واقع ہوں۔ غیب وشہود کی فراست اورمعنویت کائنات کی رگِ جاں ہے۔ ہم اس رگِ جاں میں جو خود ہماری اپنی رگِ جاں بھی ہے تفکر اور توجہ کر کے اپنے سیارے اور دوسرے سیاروں کے آثار و احوال کا انکشاف کر سکتے ہیں۔ انسانوں اور حیوانوں کے تصورات، جنات اور فرشتوں کی حرکات وسکنات، نباتات اور جمادات کی اندرونی تحریکات معلوم کرسکتے ہیں۔

مسلسل توجہ دینے سے ذہن کائناتی لاشعور میں تحلیل ہوجاتاہے اور ہمارے سراپا کا معین پرت انا کی گرفت سے آزاد ہوکر ضرورت کے مطابق ہر چیز دیکھتا، سمجھتا اور شعور میں محفوظ کردیتاہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 213 تا 217

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)