سیدہ فاطمہ ام الخیرؒ

کتاب : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2739

پیران پیر دستگیر سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی والدہ ماجدہ سیدہ فاطمہ ام الخیرؒ نہایت پاکباز، عابدہ، زاہدہ اور خدا رسیدہ خاتون تھیں۔ ان کی شادی سید ابو صالح جنگی دوستؒ سے ہوئی تھی جو متقی اور عارف باللہ بزرگ تھے۔ سید ابو صالحؒ لڑکپن سے ہی ریاضت اور مجاہدے میں مشغول رہتے تھے۔ ایک روز دریا کے کنارے عبادت کر رہے تھے کہ دریا میں بہتا ہوا ایک سیب دیکھا۔ بسم اللہ پڑھ کر سیب کھا لیا اور دل میں خیال آیا کہ پتا نہیں کس کا تھا؟ یہ سوچ کر پانی کے بہاؤ کے مخالف سمت سیب کے مالک کی تلاش میں چل پڑے۔ کافی فاصلہ کے بعد انہیں ایک باغ نظر آیا۔ سید ابو صالحؒ نے سیب کے مالک کا پتہ پوچھا تو معلوم ہوا کہ اس کے مالک جیلان کے ایک رئیس سید عبداللہ صومعی ہیں۔ ابو صالحؒ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بلا اجازت سیب کھانے کی معافی چاہی۔

سید عبداللہ صومعیؒ ولی اللہ تھے۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ نوجوان اللہ کا خاص بندہ ہے۔ فرمایا:

“دس سال تک اس باغ کی رکھوالی کرو پھر معاف کرنے کے بارے میں سوچوں گا۔”

سید ابو صالحؒ دس سال تک باغ کی رکھوالی کرتے رہے۔ دس سال بعد سید عبداللہ نے فرمایا:

“دو سال اور باغ کی رکھوالی کرو۔”

بارہ سال پورے ہونے کے بعد سید عبداللہ نے اپنی بیٹی کی شادی سید ابو صالحؒ سے کر دی۔ اس طرح دو پاکباز ہستیوں کی رفاقت کا آغاز ہوا۔ سیدہ فاطمہ ام الخیرؒ سے اسلام کی مایہ ناز ہستی عبدالقادر جیلانیؒ پیدا ہوئے۔ آپؒ ابھی کمسن ہی تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا۔

ماں نے بڑے صبر اور حوصلہ سے بیٹے کی تعلیم و تربیت کی۔ مدرسہ کی ابتدائی تعلیم پوری ہونے کے بعد مزید علوم سیکھنے کے لئے بغداد بھیج دیا۔ بیٹے کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور فرمایا:

“نور نظر! تمہاری جدائی ایک لمحہ کے لئے بھی مجھ سے برداشت نہیں ہوتی لیکن تم علم حاصل کرنے کے لئے بغداد جا رہے ہو۔

میں چاہتی ہوں کہ تم تمام علوم میں کمال حاصل کرو، تمہارے والد کے ترکہ میں سے اسیّ(۸۰) دینار میرے پاس ہیں، چالیس دینار تمہارے بھائی کے ہیں اور چالیس دینار تمہیں دے رہی ہوں۔ بیٹا! میری نصیحت ہے کہ جھوٹ نہ بولنا۔ اب تم جاؤ اللہ تمہاری حفاظت کرے۔ آمین”

دوران سفر جب ڈاکوؤں کے سردار نے آپؒ سے پوچھا کہ تم نے ہمیں کیوں بتایا کہ تمہاری گدڑی میں دینار ہیں؟ تو شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے فرمایا:

“میری ماں نے نصیحت کی تھی کہ جھوٹ نہ بولنا۔”

یہ سن کر سردار پر رقت طاری ہو گئی۔ اس نے کہا:

“تمہیں اپنی ماں سے کئے ہوئے عہد کا اتنا پاس ہے اور میں اتنے سالوں سے اللہ سے کیا ہوا عہد توڑ رہا ہوں۔”

سردار نے توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کر لی اور سردارڈاکو سے پرہیز گار انسان بن گیا۔

حکمت و دانائی

* رسولﷺ کا ارشاد ہے ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر علم سیکھنا فرض ہے۔

* انسان کا شرف یہ ہے کہ وہ علم سیکھ لیتا ہے، حیوانات کے سروں پر دستار فضیلت نہیں باندھی جاتی۔

* ایک جھوٹ کو ثابت کرنے کے لئے سو(۱۰۰) جھوٹ بولنے پڑتے ہیں پھر بھی جھوٹ جھوٹ ہی رہتا ہے۔

* ماں کی گود بچوں کی پہلی تربیت گاہ ہے۔

* ماں بچے کے ذہن پر جو نقوش بنا دیتی ہے۔ وہ پوری زندگی قائم رہتے ہیں۔

* ماں کی محبت اللہ کی محبت کا حصہ ہے۔

* اللہ تعالیٰ ستر(۷۰) ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔

* ماں کے قدموں میں جنت ہے ، اس کا مطلب ہے کہ ماں کی خدمت اور اسے خوش رکھنے سے اللہ تعالیٰ جنت عطا کر دیتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 173 تا 175

ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - مرد اور عورت  ِ 2 - عورت اور نبوت  ِ 3 - نبی کی تعریف اور وحی  ِ 4 - وحی میں پیغام کے ذرائع  ِ 5 - گفتگو کے طریقے  ِ 6 - وحی کی قسمیں  ِ 7 - وحی کی ابتداء  ِ 8 - سچے خواب  ِ 10 - حضرت محمد رسول اللہﷺ  ِ 10 - زمین پر پہلا قتل  ِ 11 - آدم و حوا جنت میں  ِ 12 - ماں اور اولاد  ِ 13 - حضرت بی بی ہاجرہؑ  ِ 14 - حضرت عیسیٰ علیہ السلام  ِ 15 - نبی عورتیں  ِ 16 - روحانی عورت  ِ 17 - عورت اور مرد کے یکساں حقوق  ِ 18 - عارفہ خاتون ‘‘عرافہ’’  ِ 19 - تاریخی حقائق  ِ 20 - زندہ درگور  ِ 21 - ہمارے دانشور  ِ 22 - قلندر عورت  ِ 23 - عورت اور ولایت  ِ 24 - پردہ اور حکمرانی  ِ 25 - فرات سے عرفات تک  ِ 26 - ناقص العقل  ِ 27 - انگریزی زبان  ِ 29 - عورت کو بھینٹ چڑھانا  ِ 29 - بیوہ عورت  ِ 30 - شوہر کی چتا  ِ 31 - تین کروڑ پچاس لاکھ سال  ِ 32 - فریب کا مجسمہ  ِ 33 - لوہے کے جوتے  ِ 34 - چین کی عورت  ِ 35 - سقراط  ِ 36 - مکاری اور عیاری  ِ 37 - ہزار برس  ِ 38 - عرب عورتیں  ِ 39 - دختر کشی  ِ 40 - اسلام اور عورت  ِ 41 - چار نکاح  ِ 42 - تاریک ظلمتیں  ِ 43 - نسوانی حقوق  ِ 44 - ایک سے زیادہ شادی  ِ 45 - حق مہر  ِ 46 - مہر کی رقم کتنی ہونی چاہئے  ِ 47 - عورت کو زد و کوب کرنا  ِ 48 - بچوں کے حقوق  ِ 49 - ماں کے قدموں میں جنت  ِ 50 - ذہین خواتین  ِ 51 - علامہ خواتین  ِ 52 - بے خوف خواتین  ِ 53 - تعلیم نسواں  ِ 54 - امام عورت  ِ 55 - U.N.O  ِ 56 - توازن  ِ 57 - مادری نظام  ِ 58 - اسلام سے پہلے عورت کی حیثیت  ِ 59 - آٹھ لڑکیاں  ِ 60 - انسانی حقوق  ِ 61 - عورت کا کردار  ِ 62 - دو بیویوں کا شوہر  ِ 63 - بہترین امت  ِ 64 - بیوی کے حقوق  ِ 65 - بے سہارا خواتین  ِ 66 - عورت اور سائنسی دور  ِ 67 - بے روح معاشرہ  ِ 68 - احسنِ تقویم  ِ 69 - ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین  ِ 70 - ایک دوسرے کا لباس  ِ 71 - 2006ء کے بعد  ِ 72 - پیشین گوئی  ِ 73 - روح کا روپ  ِ 74 - حضرت رابعہ بصریؒ  ِ 75 - حضرت بی بی تحفہؒ  ِ 76 - ہمشیرہ حضرت حسین بن منصورؒ  ِ 77 - بی بی فاطمہ نیشاپوریؒ  ِ 78 - بی بی حکیمہؒ  ِ 79 - بی بی جوہربراثیہؒ  ِ 80 - حضرت اُم ابو سفیان ثوریؒ  ِ 81 - بی بی رابعہ عدویہؒ  ِ 82 - حضرت اُمّ ربیعۃ الرائےؒ  ِ 83 - حضرت عفیرہ العابدؒ  ِ 84 - حضرت عبقرہ عابدہؒ  ِ 85 - بی بی فضہؒ  ِ 86 - اُمّ زینب فاطمہ بنتِ عباسؒ  ِ 87 - بی بی کردیہؒ  ِ 88 - بی بی اُم طلقؒ  ِ 89 - حضرت نفیسہ بنتِ حسنؒ  ِ 90 - بی بی مریم بصریہؒ  ِ 91 - حضرت ام امام بخاریؒ  ِ 92 - بی بی اُم احسانؒ  ِ 93 - بی بی فاطمہ بنتِ المثنیٰ ؒ  ِ 94 - بی بی ست الملوکؒ  ِ 95 - حضرت فاطمہ خضرویہؒ  ِ 96 - جاریہ مجہولہؒ  ِ 97 - حبیبہ مصریہؒ  ِ 98 - جاریہ سوداؒ  ِ 99 - حضرت لبابہ متعبدہؒ  ِ 100 - حضرت ریحانہ والیہؒ  ِ 101 - بی بی امتہ الجیلؒ  ِ 102 - بی بی میمونہؒ  ِ 103 - فاطمہ بنتِ عبدالرحمٰنؒ  ِ 104 - کریمہ بنت محمد مروزیہؒ  ِ 105 - بی بی رابعہ شامیہؒ  ِ 106 - اُمّ محمد زینبؒ  ِ 107 - حضرت آمنہ رملیہؒ  ِ 108 - حضرت میمونہ سوداءؒ  ِ 109 - بی بی اُم ہارونؒ  ِ 110 - حضرت میمونہ واعظؒ  ِ 111 - حضرت شعدانہؒ  ِ 112 - بی بی عاطفہؒ  ِ 113 - کنیز فاطمہؒ  ِ 114 - بنت شاہ بن شجاع کرمانیؒ  ِ 115 - اُمّ الابرارؒ (صادقہ)  ِ 116 - بی بی صائمہؒ  ِ 117 - سیدہ فاطمہ ام الخیرؒ  ِ 118 - بی بی خدیجہ جیلانیؒ  ِ 119 - بی بی زلیخاؒ  ِ 120 - بی بی قرسم خاتونؒ  ِ 121 - حضرت ہاجرہ بی بیؒ  ِ 122 - بی بی سارہؒ  ِ 123 - حضرت اُم محمدؒ  ِ 124 - بی بی اُم علیؒ  ِ 125 - مریم بی اماںؒ  ِ 126 - بی اماں صاحبہؒ  ِ 127 - سَکّو بائیؒ  ِ 128 - عاقل بی بیؒ  ِ 129 - بی بی تاریؒ  ِ 130 - مائی نوریؒ  ِ 131 - بی بی معروفہؒ  ِ 132 - بی بی دمنؒ  ِ 133 - بی بی حفضہؒ  ِ 134 - بی بی حفصہؒ بنت شریں  ِ 135 - بی بی غریب نوازؒ (مائی لاڈو)  ِ 136 - بی بی یمامہ بتولؒ  ِ 137 - بی بی میمونہ حفیظؒ  ِ 138 - بی بی مریم فاطمہؒ  ِ 139 - امت الحفیظؒ (حفیظ آپا)  ِ 140 - شہزادی فاطمہ خانمؒ  ِ 141 - بی بی مائی فاطمہؒ  ِ 142 - بی بی راستیؒ  ِ 143 - بی بی پاک صابرہؒ  ِ 144 - بی بی جمال خاتونؒ  ِ 145 - بی بی فاطمہ خاتونؒ  ِ 146 - کوئل  ِ 147 - مائی رابوؒ  ِ 148 - زینب پھوپی جیؒ  ِ 149 - بی بی میراں ماںؒ  ِ 150 - بی بی رانیؒ  ِ 151 - بی بی حاجیانیؒ  ِ 152 - اماں جیؒ  ِ 153 - بی بی حورؒ  ِ 154 - مائی حمیدہؒ  ِ 155 - لل ماجیؒ  ِ 156 - بی بی سائرہؒ  ِ 157 - مائی صاحبہؒ  ِ 158 - حضرت بی بی پاک دامناںؒ  ِ 159 - بی بی الکنزہ تبریزؒ  ِ 160 - بی بی عنیزہؒ  ِ 161 - بی بی بنت کعبؒ  ِ 162 - بی بی ستارہؒ  ِ 163 - شمامہ بنت اسدؒ  ِ 164 - ملّانی جیؒ  ِ 165 - بی بی نور بھریؒ  ِ 166 - مائی جنتؒ  ِ 167 - بی بی سعیدہؒ  ِ 168 - بی بی وردہؒ  ِ 169 - بی بی عائشہ علیؒ  ِ 170 - بی بی علینہؒ  ِ 171 - اُمّ معاذؒ  ِ 172 - عرشیہ بنت شمسؒ  ِ 173 - آپا جیؒ  ِ 174 - حضرت سعیدہ بی بیؒ  ِ 175 - طلاق کے مسا ئل
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message