سَکّو بائیؒ

کتاب : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2768

جس زمانے میں حضرت بابا تاج الدین ناگپوریؒ شکر درہ میں رونق افروز تھے۔ ان کی خدمت میں گلاب نامی ایک بنجارہ آیا اور عرض کیا حضرت میں دونوں آنکھوں سے معذور ہو گیا، کوئی کام نہیں کر سکتا، سخت مشکل میں ہوں۔

بابا تاج الدینؒ نے فرمایا:

’’تیرے گاؤں میں چراغ ہے اور تو روشنی کے لئے یہاں آیا ہے۔‘‘

گلاب اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ اسے اپنی آنکھوں پر کسی کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا لگتا تھا کہ کوئی اس کی آنکھوں پر انگلیاں پھیر رہا ہے، اندھی آنکھ روشن ہو گئی، دیکھا کہ سکو بائیؒ سامنے کھڑی ہیں۔

سکو بائیؒ کے پیدائش کے وقت خزاں کا موسم تھا لیکن لوگوں نے دیکھا کہ درختوں میں نئی کونپلیں پھوٹ رہی ہیں۔ ان کونپلوں کی خوشبو سے آنگن مہکنے لگا اور نہایت خوبصورت اور خوش الحان پرندے آ کر درختوں پر بیٹھنے لگے ، ان کی پیدائش کے کچھ عرسہ بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا اور موسم بہار پھر موسم خزاں میں تبدیل ہو گیا۔

جب سکو بائیؒ چالیس سال کی ہوئیں تو بابا تاج الدینؒ نے ان کو ہندوستان کے شہر وردھا میں قیام کا حکم دیا، تعمیل حکم میں آپؒ مختصر سامان لے کر ریل میں بیٹھ کر وردھا پہنچ گئیں۔ دوران سفر انہوں نے دیکھا کہ ہر طرف سبزہ ہے، خوبصورت درخت اور پھولوں سے لدی ہوئی بیلیں ہیں، رنگ برنگے پھولوں میں سے رنگ رنگ روشنیاں پھوٹ رہی ہیں، ستاروں سے جگ مگ کرتے آسمان پر نور کا جھماکا ہوا اس نورانی فضا میں سے آواز آئی:

“کیا میں تیرا رب نہیں ہوں؟”

سکو بائیؒ پر لرزہ طاری ہو گیا، روتے ہوئے سجدہ میں گر گئیں اور کہا:

“بے شک آپ ہی میرے رب ہیں۔”

آواز آئی:

“اے سعادت ازلی سے سرفراز روح! میں تجھ سے راضی ہوں، جس طرح میں اپنی مخلوق پر مہربان ہوں تو بھی ان کے دکھوں کا علاج کر، ان کے زخم پر محبت کا مرہم لگا۔”

ایک صاحب انتہائی پریشانی کے عالم میں آپؒ کے پاس آئے اور عرض کیا۔ میری بیوی امید سے ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ زچہ بچہ کی زندگی خطرے میں ہے، سکو بائی یہ سنتے ہی جلال میں آ گئیں اور فرمایا۔

“اللہ کی قسم اللہ تیری بیوی کو بھی زندہ رکھے گا اور تیرا بچہ بھی زندہ رہے گا، جوان ہو کر لائق فائق ہو گا۔”

اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کی اور بخیر و عافیت نارمل ڈلیوری ہوئی، جوان ہو کر بچہ لائق فائق ہوا۔

شہر وردھا سخت خشک سالی کی لپیٹ میں آگیا۔ کھلیان ویران ہو گئے، مویشی مرنے لگے، جو بچ گئے وہ ہڈیوں کا پنجر بن گئے، غلہ کی کم یابی سے بھوک نے ڈیرے جما لئے، جب کوئی تدبیر کامیاب نہ ہوئی تو پریشان حال لوگ سکو بائیؒ کے پاس حاضر ہوئے اور دعا کی درخواست کی، سکو بائیؒ نے فرمایا:

“ہاں۔ پانی کم ہے لیکن اللہ رحیم و کریم ہے۔”

یہ کہہ کر انہوں نے اپنے پیالے سے چلو میں پانی لیا اور زمین پر چھڑک دیا اور کہا:

“یہ بارش ہے۔”

اور پھر کچھ دیر کے لئے آنکھیں بند کر لیں، زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ بھیگی ہواؤں کے جھونکے آنے لگے، آسمان پر بادل چھا گئے، گھن گرج کے ساتھ ایسی موسلادھار بارش ہوئی کہ جل تھل ایک ہو گئے۔

حکمت و دانائی

* امیدیں اتنی رکھنی چاہئیں جو آسانی سے پوری ہو جائیں۔

* پیدل چلنا بقائے صحت کا راز ہے۔

* اتنا غصہ نہ کرو کہ وہ تمہیں کھا جائے۔

* شرافت پگڑی میں نہیں سیرت میں ہے۔

* آرائشی لباس سے آرام دہ لباس بہتر ہے۔

* بھوکے کو کھانا کھلانا اور پیاسے کو پانی پلانا انسانی صفت ہے۔

* جو نصیحت نہیں سنتا وہ ملامت سننے کا عادی ہو جاتا ہے۔

* توبہ کرنا کمال نہیں، توبہ پر قائم رہنا کمال ہے۔

* گناہوں سے پاک انسان بہادر ہوتے ہیں۔

* کم بولنا عقل مند ہونے کی علامت ہے۔

* فقیر کی بخشش سب پر عام ہوتی ہے۔

* دنیا میں سب سے قیمتی چیز عزت ہے۔

* لالچ ایک جال ہے جس میں آدمی پھنس جاتا ہے۔

* پہاڑ سے گر کر آدمی اٹھ سکتا ہے لیکن ذلت میں گرا ہوا انسان زمین میں دھنستا چلا جاتا ہے۔

* جو بات پوری نہیں کر سکتے اسے زبان پر نہ لاؤ۔

* گزرگاہوں پر نہ بیٹھو یہ غیر اخلاقی بات ہے۔

* بہترین کام وہ ہے جو اعتدال میں کیا جائے۔

* جاہل اپنی خامیاں خود بیان کرتا ہے اور دانش مند اسے آخری موقع تک چھپائے رکھتا ہے۔

* سلام کرنے سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 201 تا 204

ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - مرد اور عورت  ِ 2 - عورت اور نبوت  ِ 3 - نبی کی تعریف اور وحی  ِ 4 - وحی میں پیغام کے ذرائع  ِ 5 - گفتگو کے طریقے  ِ 6 - وحی کی قسمیں  ِ 7 - وحی کی ابتداء  ِ 8 - سچے خواب  ِ 10 - حضرت محمد رسول اللہﷺ  ِ 10 - زمین پر پہلا قتل  ِ 11 - آدم و حوا جنت میں  ِ 12 - ماں اور اولاد  ِ 13 - حضرت بی بی ہاجرہؑ  ِ 14 - حضرت عیسیٰ علیہ السلام  ِ 15 - نبی عورتیں  ِ 16 - روحانی عورت  ِ 17 - عورت اور مرد کے یکساں حقوق  ِ 18 - عارفہ خاتون ‘‘عرافہ’’  ِ 19 - تاریخی حقائق  ِ 20 - زندہ درگور  ِ 21 - ہمارے دانشور  ِ 22 - قلندر عورت  ِ 23 - عورت اور ولایت  ِ 24 - پردہ اور حکمرانی  ِ 25 - فرات سے عرفات تک  ِ 26 - ناقص العقل  ِ 27 - انگریزی زبان  ِ 29 - عورت کو بھینٹ چڑھانا  ِ 29 - بیوہ عورت  ِ 30 - شوہر کی چتا  ِ 31 - تین کروڑ پچاس لاکھ سال  ِ 32 - فریب کا مجسمہ  ِ 33 - لوہے کے جوتے  ِ 34 - چین کی عورت  ِ 35 - سقراط  ِ 36 - مکاری اور عیاری  ِ 37 - ہزار برس  ِ 38 - عرب عورتیں  ِ 39 - دختر کشی  ِ 40 - اسلام اور عورت  ِ 41 - چار نکاح  ِ 42 - تاریک ظلمتیں  ِ 43 - نسوانی حقوق  ِ 44 - ایک سے زیادہ شادی  ِ 45 - حق مہر  ِ 46 - مہر کی رقم کتنی ہونی چاہئے  ِ 47 - عورت کو زد و کوب کرنا  ِ 48 - بچوں کے حقوق  ِ 49 - ماں کے قدموں میں جنت  ِ 50 - ذہین خواتین  ِ 51 - علامہ خواتین  ِ 52 - بے خوف خواتین  ِ 53 - تعلیم نسواں  ِ 54 - امام عورت  ِ 55 - U.N.O  ِ 56 - توازن  ِ 57 - مادری نظام  ِ 58 - اسلام سے پہلے عورت کی حیثیت  ِ 59 - آٹھ لڑکیاں  ِ 60 - انسانی حقوق  ِ 61 - عورت کا کردار  ِ 62 - دو بیویوں کا شوہر  ِ 63 - بہترین امت  ِ 64 - بیوی کے حقوق  ِ 65 - بے سہارا خواتین  ِ 66 - عورت اور سائنسی دور  ِ 67 - بے روح معاشرہ  ِ 68 - احسنِ تقویم  ِ 69 - ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین  ِ 70 - ایک دوسرے کا لباس  ِ 71 - 2006ء کے بعد  ِ 72 - پیشین گوئی  ِ 73 - روح کا روپ  ِ 74 - حضرت رابعہ بصریؒ  ِ 75 - حضرت بی بی تحفہؒ  ِ 76 - ہمشیرہ حضرت حسین بن منصورؒ  ِ 77 - بی بی فاطمہ نیشاپوریؒ  ِ 78 - بی بی حکیمہؒ  ِ 79 - بی بی جوہربراثیہؒ  ِ 80 - حضرت اُم ابو سفیان ثوریؒ  ِ 81 - بی بی رابعہ عدویہؒ  ِ 82 - حضرت اُمّ ربیعۃ الرائےؒ  ِ 83 - حضرت عفیرہ العابدؒ  ِ 84 - حضرت عبقرہ عابدہؒ  ِ 85 - بی بی فضہؒ  ِ 86 - اُمّ زینب فاطمہ بنتِ عباسؒ  ِ 87 - بی بی کردیہؒ  ِ 88 - بی بی اُم طلقؒ  ِ 89 - حضرت نفیسہ بنتِ حسنؒ  ِ 90 - بی بی مریم بصریہؒ  ِ 91 - حضرت ام امام بخاریؒ  ِ 92 - بی بی اُم احسانؒ  ِ 93 - بی بی فاطمہ بنتِ المثنیٰ ؒ  ِ 94 - بی بی ست الملوکؒ  ِ 95 - حضرت فاطمہ خضرویہؒ  ِ 96 - جاریہ مجہولہؒ  ِ 97 - حبیبہ مصریہؒ  ِ 98 - جاریہ سوداؒ  ِ 99 - حضرت لبابہ متعبدہؒ  ِ 100 - حضرت ریحانہ والیہؒ  ِ 101 - بی بی امتہ الجیلؒ  ِ 102 - بی بی میمونہؒ  ِ 103 - فاطمہ بنتِ عبدالرحمٰنؒ  ِ 104 - کریمہ بنت محمد مروزیہؒ  ِ 105 - بی بی رابعہ شامیہؒ  ِ 106 - اُمّ محمد زینبؒ  ِ 107 - حضرت آمنہ رملیہؒ  ِ 108 - حضرت میمونہ سوداءؒ  ِ 109 - بی بی اُم ہارونؒ  ِ 110 - حضرت میمونہ واعظؒ  ِ 111 - حضرت شعدانہؒ  ِ 112 - بی بی عاطفہؒ  ِ 113 - کنیز فاطمہؒ  ِ 114 - بنت شاہ بن شجاع کرمانیؒ  ِ 115 - اُمّ الابرارؒ (صادقہ)  ِ 116 - بی بی صائمہؒ  ِ 117 - سیدہ فاطمہ ام الخیرؒ  ِ 118 - بی بی خدیجہ جیلانیؒ  ِ 119 - بی بی زلیخاؒ  ِ 120 - بی بی قرسم خاتونؒ  ِ 121 - حضرت ہاجرہ بی بیؒ  ِ 122 - بی بی سارہؒ  ِ 123 - حضرت اُم محمدؒ  ِ 124 - بی بی اُم علیؒ  ِ 125 - مریم بی اماںؒ  ِ 126 - بی اماں صاحبہؒ  ِ 127 - سَکّو بائیؒ  ِ 128 - عاقل بی بیؒ  ِ 129 - بی بی تاریؒ  ِ 130 - مائی نوریؒ  ِ 131 - بی بی معروفہؒ  ِ 132 - بی بی دمنؒ  ِ 133 - بی بی حفضہؒ  ِ 134 - بی بی حفصہؒ بنت شریں  ِ 135 - بی بی غریب نوازؒ (مائی لاڈو)  ِ 136 - بی بی یمامہ بتولؒ  ِ 137 - بی بی میمونہ حفیظؒ  ِ 138 - بی بی مریم فاطمہؒ  ِ 139 - امت الحفیظؒ (حفیظ آپا)  ِ 140 - شہزادی فاطمہ خانمؒ  ِ 141 - بی بی مائی فاطمہؒ  ِ 142 - بی بی راستیؒ  ِ 143 - بی بی پاک صابرہؒ  ِ 144 - بی بی جمال خاتونؒ  ِ 145 - بی بی فاطمہ خاتونؒ  ِ 146 - کوئل  ِ 147 - مائی رابوؒ  ِ 148 - زینب پھوپی جیؒ  ِ 149 - بی بی میراں ماںؒ  ِ 150 - بی بی رانیؒ  ِ 151 - بی بی حاجیانیؒ  ِ 152 - اماں جیؒ  ِ 153 - بی بی حورؒ  ِ 154 - مائی حمیدہؒ  ِ 155 - لل ماجیؒ  ِ 156 - بی بی سائرہؒ  ِ 157 - مائی صاحبہؒ  ِ 158 - حضرت بی بی پاک دامناںؒ  ِ 159 - بی بی الکنزہ تبریزؒ  ِ 160 - بی بی عنیزہؒ  ِ 161 - بی بی بنت کعبؒ  ِ 162 - بی بی ستارہؒ  ِ 163 - شمامہ بنت اسدؒ  ِ 164 - ملّانی جیؒ  ِ 165 - بی بی نور بھریؒ  ِ 166 - مائی جنتؒ  ِ 167 - بی بی سعیدہؒ  ِ 168 - بی بی وردہؒ  ِ 169 - بی بی عائشہ علیؒ  ِ 170 - بی بی علینہؒ  ِ 171 - اُمّ معاذؒ  ِ 172 - عرشیہ بنت شمسؒ  ِ 173 - آپا جیؒ  ِ 174 - حضرت سعیدہ بی بیؒ  ِ 175 - طلاق کے مسا ئل
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)