یہ تحریر العربية (عربی) میں بھی دستیاب ہے۔

سوکھی ٹہنی

کتاب : تجلیات

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=2964

ظلم و بربریت اور فتنہ و فساد کی ہیبت ہو یا قدرتی عذابوں کی تباہ کاریوں کا خوف، ہر حال میں بصیرت کے ساتھ اس کے اصل اسباب کا سراغ لگایئے اور سطحی تدبیروں پر وقت ضائع کرنے کی بجائے کتاب و سنت کے مطابق اپنی تمام صلاحیتوں کو کام میں لا کر صراط مستقیم پر قدم بڑھا دیجئے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشوریٰ میں فرمایا ہے:
’’اور تم پر جو مصائب آتے ہیں وہ تمہارے ہی کرتوتوں کا نتیجہ ہیں اور خدا تو بہت خطاؤں سے درگزر کرتا ہے۔‘‘
قرآن پاک نے اس کا علاج بھی بتایا ہے:
’’اور تم سب مل کر خدا کی طرف پلٹو، اے مومنو، تا کہ تم فلاح پاؤ۔‘‘
گناہوں کی ہیبت ناک دلدل میں پھنسی ہوئی امت جب اپنے گناہوں پر نادم ہو کر خدا کی طرف پھر جذبۂ بندگی کے ساتھ پلٹتی ہے اور اشکہائے ندامت سے اپنے گناہوں کی گندگی دھو کر پھر خدا سے عہد وفا استوار کرتی ہے تو اس کیفیت کو قرآن توبہ کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے اور توبہ ہی ہر طرح کے فتنہ و فساد اور خوف و دہشت سے محفوظ ہونے کا حقیقی علاج ہے۔
حضور قلب کے ساتھ خدا کو یاد کیجئے۔ دل و دماغ، احساسات، جذبات، افکار و خیالات ہر چیز سے پوری طرح خدا کی طرف رجوع ہو کر یکسوئی اور دھیان کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کیجئے اور ساری زندگی کو تعلق اللہ کا نمونہ بنایئے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک سوکھی ٹہنی کو زور زور سے ہلایا۔ سب پتے ٹہنی ہلانے سے جھڑ گئے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا، صلوٰۃ قائم کرنے والوں کے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح اس سوکھی ٹہنی کے پتے جھڑ گئے اور اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
’’اور نماز قائم کرو دن کے دونوں کناروں پر اور کچھ رات گئے پر۔ بلا شبہ عمل خیر برائیوں کو مٹا دیتا ہے، یہ نصیحت ہے نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کے ساتھ ربط قائم ہو جانے سے انسان کا دل مطمئن ہو جاتا ہے اور اس کے اوپر سکون کی بارش برستی رہتی ہے۔ روحانیت میں قیام صلوٰۃ کا ترجمہ ربط قائم کرنا ہے یعنی اپنے اللہ سے ہر حال اور ہر حرکت میں تعلق اور ربط قائم رکھا جائے۔ نماز کے ذریعے خدا سے قربت حاصل کیجئے۔ بندہ اور اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ اس کے حضور سجدہ کرتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 41 تا 42

یہ تحریر العربية (عربی) میں بھی دستیاب ہے۔

تجلیات کے مضامین :

ِ 1 - قرآن  ِ 2 - زمین پر اندھیرا  ِ 3 - آسمانوں میں اعلان  ِ 4 - ہماری تصویر  ِ 5 - تسخیرِ کائنات  ِ 6 - دولت کی محبت بت پرستی ہے  ِ 7 - ترقی کا محرم غیر مسلم؟  ِ 8 - کفن دفن  ِ 9 - آگ کا سمندر  ِ 10 - روح کی آنکھیں  ِ 11 - سوکھی ٹہنی  ِ 12 - پرخلوص دل  ِ 13 - تبلیغ  ِ 14 - مشعل راہ  ِ 15 - تخلیقی فارمولے  ِ 16 - توبہ  ِ 17 - بھلائی کا سرچشمہ  ِ 18 - عظیم احسان  ِ 19 - طرزِ فکر  ِ 20 - حج  ِ 21 - شیریں آواز  ِ 22 - دو بیویاں  ِ 23 - صراط مستقیم  ِ 24 - ماں باپ  ِ 25 - محبت  ِ 26 - خود داری  ِ 27 - بیداری  ِ 28 - قطرۂ آب  ِ 29 - خدا کی تعریف  ِ 30 - زندگی کے دو رُخ  ِ 31 - علم و آگہی  ِ 32 - جھاڑو کے تنکے  ِ 33 - رزق  ِ 34 - مُردہ قوم  ِ 35 - پیغمبر کے نقوشِ قدم  ِ 36 - نیکی کیا ہے؟  ِ 37 - ضدی لوگ  ِ 38 - سعید روحیں  ِ 39 - توفیق  ِ 40 - سورج کی روشنی  ِ 41 - رب کی مرضی  ِ 42 - دُنیا اور آخرت  ِ 43 - بیوی کی اہمیت  ِ 44 - خود شناسی  ِ 45 - دماغ میں چُھپا ڈر  ِ 46 - روزہ  ِ 47 - مناظر  ِ 48 - دُعا  ِ 48 - مساجد  ِ 50 - علیم و خبیر اللہ  ِ 51 - مایوسی  ِ 52 - ذخیرہ اندوزی  ِ 53 - بھائی بھائی  ِ 54 - اللہ کی کتاب  ِ 55 - اونگھ  ِ 56 - انسان کے اندر خزانے  ِ 57 - اللہ کی صناعی  ِ 58 - ناشکری  ِ 59 - آئینہ  ِ 60 - مُردہ دلی  ِ 61 - خدا کی راہ  ِ 62 - غرور  ِ 63 - رمضان  ِ 64 - قبرستان  ِ 65 - قرآن اور تسخیری فارمولے  ِ 66 - اچھا دوست  ِ 67 - موت سے نفرت  ِ 68 - خطاکار انسان  ِ 69 - دوزخی لوگوں کی خیرات  ِ 70 - معاشیایات  ِ 71 - آدابِ مجلس  ِ 72 - السلامُ علیکُم  ِ 73 - گانا بجانا  ِ 74 - مخلوق کی خدمت  ِ 75 - نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ِ 76 - صبر و استقامات  ِ 77 - مہمان نوازی  ِ 78 - مسکراہٹ  ِ 79 - بلیک مارکیٹنگ  ِ 80 - دوست  ِ 81 - مذہب اور نئی نسل  ِ 82 - معراج  ِ 83 - انسانی شُماریات  ِ 84 - جائیداد میں لڑکی کا حصہ  ِ 85 - دعوتِ دین  ِ 86 - فرشتے نے پوچھا  ِ 87 - سونے کا پہاڑ  ِ 88 - مچھلی کے پیٹ میں  ِ 89 - بچوں کے نام  ِ 90 - صدقہ و خیرات  ِ 91 - اپنا گھر  ِ 92 - غیب کا شہُود  ِ 93 - حقوق العباد  ِ 94 - فقیر دوست  ِ 95 - بے عمل داعی  ِ 96 - عید  ِ 97 - جذب وشوق  ِ 98 - موت کا خوف  ِ 99 - فرشتوں کی جماعت  ِ 100 - اعتدال  ِ 101 - مشن میں کامیابی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message