سعید روح اور شَقی روح کیا ہے؟

کتاب : روح کی پکار

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=13345

سوال: روح امرِ ربّی ہے۔ آدم کے اندر جب اللہ کریم نے اپنی روح پھونکی تو وہ معزز ہو گیا۔ یعنی روح کا تعلق بالواسطہ طور پر اللہ تعالیٰ سے ہے اور تمام روحوں نے اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا اور اس کی ربوبیّت کا اقرار کیا۔ تو پھر کسی کو سعید روح اور کسی کو شَقی روح کہا جاتا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب: شَقی روح اور سعید روح سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روحوں کو دو راستوں میں سے ایک راستے کے انتخاب کا حق دیا ہے۔ جن روحوں نے سعید راستے کا انتخاب کیا وہ سعید ہیں اور جن روحوں نے شقاوت کے راستے کا انتخاب کیا وہ شَقی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان دونوں باتوں سے بے نیاز ہے۔ بندوں نے ان دونوں راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے قبول کر لیا۔
قرآنِ پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’دین میں جبر نہیں ہے۔‘‘ (سورۃ البقرۃ – 256)
اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے لیکن لوگوں نے ان کی بات نہیں سنی۔ ان کو جھٹلایا۔ ان کو جادوگر کے لقب سے پکارا لیکن وہ اپنے مشن میں مستقل مزاجی سے مشغول رہے اور جن لوگوں نے ان کی بات سنی وہ صحابی ہو گئے۔۔۔۔۔۔اور اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو عذاب سے بچا لیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اچھائی اور برائی کے بارے میں معلومات فراہم کر دیں اور انسان کو اچھائی اور برائی کے نفع و نقصان سے آگاہ کر دیا کہ اچھائی اور برائی کو قبول کرنے، نہ کرنے کا اختیار بھی دے دیا تو انسان کی مرضی ہے کہ جنّت میں جائے یا دوزخ میں۔
لیکن ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ خالق و مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے معافی کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ بڑے سے بڑا ظالم و جابر بھی جب اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کرتا ہے تو اللہ اپنی رحمت سے اسے معاف کر دیتے ہیں لیکن جب کوئی انسان برائی پر ضد کرتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا ہے کہ آگ ہاتھ جلا دیتی ہے۔ اور وہ آگ میں ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ پھر وہ ضد میں یہ کہنے لگے کہ اللہ نے آگ بنائی ہی کیوں؟؟ تو یہ کٹ حجتی ہے، مکر ہے اور عقل کی کوتاہ اندیشی ہے۔ اگر آدمی آگ میں ہاتھ ڈالے گا وہ ضرور جلے گا۔ اللہ تعالیٰ نے دین کے بارے میں بھی فرما دیا ہے کہ دین میں جبر نہیں ہے۔
’’اے محمدﷺ! آپ توحید کا پیغام پہنچا دیں لوگ سنیں یا نہ سنیں۔ آپ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس لئے کہ لوگوں کو اختیار دیا گیا ہے۔‘‘ (سورۃ یونس – 108)
رسول اللہﷺ بتوں کی پرستش سے منع فرماتے تھے جب لوگوں نے اپنا اختیار استعمال کیا۔ عقل و شعور سے کام لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کی اور وہ اسلام پر گامزن ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے بڑے بڑے کارنامے سر انجام دیئے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 252 تا 253

روح کی پکار کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - زمان و مکان کیا ہے؟  ِ 3 - لوحِ محفوظ  ِ 4 - خالقِ خدا  ِ 5 - اللہ تعالیٰ نظر کیوں نہیں آتے؟  ِ 6 - اللہ تعالیٰ کی امانت کے حصول کے بعد ظالم اور جاہل کیسے؟  ِ 7 - کونسی طرزِ فکر اللہ کے قریب کرتی ہے؟  ِ 8 - روحانی طرزِ فکر کا تجزیہ  ِ 9 - روحانیت میں سب سے پہلے کیا ضروری ہے؟  ِ 10 - طرزِ فکر کی منتقلی کس قانون سے ہوتی ہے؟  ِ 11 - زمان (Time) کی حدود  ِ 12 - نفس کیا ہے؟  ِ 13 - درست طرزِ فکر کونسی ہے؟  ِ 14 - مرشد کو ظاہری آنکھ سے نہ دیکھا ہو  ِ 15 - کیا مراقبہ خواب کا تسلسل ہے؟  ِ 16 - اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب  ِ 17 - اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہیں  ِ 18 - اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہیں  ِ 19 - اللہ تعالیٰ کے علم کا عکس  ِ 20 - کائنات کے تخلیقی خدوخال  ِ 21 - کسی چیز کو سمجھنے کے لئے بنیادی عمل نظر ہے  ِ 22 - اللہ تعالیٰ کی صفات  ِ 23 - علم استدراج اور علم نوری میں فرق  ِ 24 - روحانی تصرّف کیا ہے؟  ِ 25 - اختیاری اور غیر اختیاری طرزِ فکر  ِ 26 - بخیلی اور سخاوت  ِ 27 - زندگی کی بنیاد  ِ 28 - حقیقت مُطلَقہ کیا ہے؟  ِ 29 - یقین کے کیا عوامل ہیں؟  ِ 30 - کیا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان سب مسخر کر دیا؟  ِ 31 - شُہود کی قسمیں  ِ 32 - سائنسی ایجادات  ِ 33 - علم کی حیثیت  ِ 34 - کیا قرآنی آیات پڑھنی چاہئیں؟  ِ 35 - تعویذ کے اندر کونسی طاقت ہے؟  ِ 36 - فِقہی علم کیا ہے؟  ِ 37 - سلطان کیا ہے؟  ِ 38 - مٹھاس یا نمک  ِ 39 - خیالی اور حقیقی خواب  ِ 40 - دعا آسمان سے کیوں پھینکی جاتی ہے؟  ِ 41 - مرشد کس طرح فیض منتقل کرتا ہے؟  ِ 42 - کتنی نیند کرنی چاہئے؟  ِ 43 - کیا رنگین روشنیاں غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں؟  ِ 44 - طریقت اور شریعت  ِ 45 - روح کا عرفان  ِ 46 - عام آدمی اور مؤمن میں فرق  ِ 47 - حساب کتاب کیا ہوتا ہے؟  ِ 48 - استغنائی طرزِ فکر  ِ 49 - خود ترغیبی کیا ہے؟  ِ 50 - کیفیت اور خیال میں فرق  ِ 51 - حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد  ِ 52 - تدلّیٰ اور علم الاسماء  ِ 53 - ارتقائی منازل  ِ 54 - نورِ باطن  ِ 55 - ذہن بیمار یا جسم بیمار  ِ 56 - روح کہاں جاتی ہے؟  ِ 57 - علم الغیب کیا ہے؟  ِ 58 - اللہ کا پسندیدہ بندہ  ِ 59 - فنا و بقا کیا ہے؟  ِ 60 - رنج و غم کیوں جمع ہوتے ہیں؟  ِ 61 - وَحدت الوجود اور وَحدت الشُہود  ِ 62 - دماغ میں دو کھرب خانے  ِ 63 - قلم خشک ہو گیا  ِ 64 - ترقی کا فسوں  ِ 65 - کون سا رنگ کون سا پتھر؟  ِ 66 - نماز میں حضورِقلب پیدا ہو  ِ 67 - روحانی تفسیر  ِ 68 - روح سے وُقوف حاصل کرنا  ِ 69 - نظر کا قانون  ِ 70 - زمان و مکان (Time And Space)  ِ 71 - شجرِ ممنوعہ کیا ہے؟  ِ 72 - کائنات کا بنیادی مسالہ  ِ 73 - اِرتکازِ توجّہ  ِ 74 - جسم میں لطیفے  ِ 75 - مادری زبان میں خیالات  ِ 76 - تصوّرِ شیخ  ِ 77 - کشش کیوں ہوتی ہے؟  ِ 78 - معجزہ، کرامت، اِستدراج کیا ہے؟  ِ 79 - قوّت ارادی کیا ہے؟  ِ 80 - تخلیقی اختیارات  ِ 81 - بغیر استاد کیا نقصان ہوتا ہے؟  ِ 82 - سورج بینی کا کیا فائدہ ہے؟  ِ 83 - رَحمۃَ لِّلعالمین  ِ 84 - وہاں کی زبان کو سمجھنا  ِ 85 - مراقبہ کا حکم  ِ 86 - انسانی کوشش کا عمل دخل  ِ 87 - اسفل زندگی سے نکلنا  ِ 88 - اسمِ اعظم کیا ہے؟  ِ 89 - ہر شئے دو رخوں پر ہے  ِ 90 - مؤکل کیا ہوتے ہیں؟  ِ 91 - مذہب کی حقیقت کیا ہے؟  ِ 92 - حواس کہاں سے آتے ہیں؟  ِ 93 - شرحِ صدر کیا ہے؟  ِ 94 - تفکر کی صلاحیت  ِ 95 - عشاء کا وقت افضل کیوں ہے؟  ِ 96 - سعید روح اور شَقی روح کیا ہے؟  ِ 97 - حافظے کی سطح  ِ 98 - حسبِ خواہش نتیجہ نہ ملنا  ِ 99 - نیگیٹیو بینی کیا ہے؟  ِ 100 - اس کتاب میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے  ِ 101 - یاحي یاقیوم کا کیا مطلب ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message