سانس کی مشقیں

کتاب : آگہی

مصنف : خواجہ شمس الدۤین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=11672

مورخہ 8فروری2001 ؁ء بروز بدھ
ہر انسان، ہر ذی روح اور وہ تمام مخلوق جن کو ذی روح نہیں سمجھا جاتا سانس اندر لیتے ہیں اور باہر نکالتے ہیں۔ جسمانی زندگی کا دارومدار سانس کے اوپر ہے۔ جب تک سانس ہے جسم میں حرکت ہے، نشوونما ہے، جسم جوان ہوتا ہے اور جسم بوڑھا ہوتا ہے۔ سانس کی آمد و شد نہ ہو تو ہر ذی روح مر جاتا ہے۔

سانس کی موجودگی میں آدمی بڑھتا، گھٹتا اور گھٹتا  بڑھتا ہے۔ ایک دن کے بچے کی زندگی بھی سانس کے اوپر قائم ہے اور سو سال کا بوڑھا بھی اگر زندہ ہے تو سانس کے آنے اور جانے سے زندہ ہے۔ بزرگوں کا فرمان ہے۔۔۔

’’سانس ہے تو جہان ہے۔‘‘

میرا، آپ کا اور ساری دنیا کا تجربہ ہے کہ سانس کی آمد و شد ہے تو آدمی زندہ ہے۔

حضور قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں۔۔۔

’’جس مخلوق کو غیر ذی روح کہا جاتا ہے وہ بھی سانس لیتی ہے۔ جس طرح ذی روح کے اندر حرکت ، عقل اور شعور ہے غیر ذی روح سمجھنے والی مخلوق میں بھی عقل و شعور ہوتا ہے۔‘‘

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر مخلوق ذی روح ہے۔ دنیا میں تین مخلوق آباد ہیں۔

۱) حیوانات

۲) نباتات

۳) جمادات

جس طرح حیوانات بشمول آدمی اور چڑیا، ہاتھی، اونٹ، بکری، گائے وغیرہ پیدا ہوتے ہیں، نشوونما پاتے ہیں اور عمر پوری ہونے کے بعد اس دنیا سے چلے جاتے ہیں اسی طرح نباتات اور جمادات بھی پیدا ہوتے ہیں اور زمین پر سے غائب ہو جاتے ہیں۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔۔۔

’’ہم نے اپنی امانت سماوات کو زمین کو اور پہاڑوں کو پیش کی سب نے کہا ہم اس امانت کے متحمل نہیں ہو سکتے اور انسان نے اس امانت کو اٹھا لیا۔ بے شک یہ ظالم اور جاہل ہے۔‘‘(سورۃ الاحزاب۔ آیت ۷۲)

ہم جب زندگی کا تذکرہ کرتے ہیں اور زندگی کے ماہ و سال کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ زندگی دراصل سانس کا آنا جانا ہے۔ سانس کی آمد و شد ختم ہو جاتی ہے تو آدمی اور دنیا کی ہر شئے مردہ ہو جاتی ہے۔ مردہ ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر، جمادات کے اندر، نباتات کے اندر حرکت ختم ہو جاتی ہے۔

ایک آدمی ہے وہ چلتا پھرتا ہے، حرکت کرتا ہے، دوڑتا ہے، سوتا ہے، جاگتا ہے، باتیں کرتا ہے، محسوس کرتا ہے، گرمی سردی سے متاثر ہوتا ہے، اسے بھوک لگتی ہے، وہ پانی پیتا ہے جسم پر چوٹ محسوس کرتا ہے لیکن اگر وہ مر جاتا ہے تو وہ کچھ محسوس نہیں کرتا، نہ وہ روتا ہے، نہ وہ ہنستا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی مزاحمت کرتا ہے۔

یہ سب کس طرح ہوا۔۔۔؟

اس کا جواب یہ ہے کہ جسم کے اندر انرجی اور توانائی ختم ہو گئی۔ جو اعضاء محسوس کرنے کا ذریعہ ہیں وہ بھی موجود ہیں۔ معدہ موجود ہے، پیٹ موجود ہے لیکن بھوک نہیں لگتی اور آدمی چنے کے برابر غذا نہیں کھاتا۔ اس لئے کہ سانس کا نظام معطل ہو جاتا ہے۔
جب تک نظام تنفس برقرار رہتا ہے، زندگی قائم رہتی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ زندگی میں اگر سانس کا نظام ختم ہو جائے تو موت وارد ہو جاتی ہے۔

ہم بتانا یہ چاہتے ہیں کہ زندگی کا دارومدار سانس کے اوپر ہے۔ ہر شئے سانس اندر لیتی ہے اور سانس باہر نکالتی ہے۔ بتایا یہ جاتا ہے کہ جب ہم سانس اندر لیتے ہیں تو ہمارے اندر آکسیجن داخل ہوتی ہے اور وہ جل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ بن جاتی ہے۔ جب ہم سانس باہر نکالتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈ باہر آتی ہے۔

یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو ماں کے پیٹ میں شروع ہوتا ہے اور جب انسان اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے یہ سلسلہ ختم ہو جاتا ہے اور مادی جسمانی نظام بکھر کر غائب ہو جاتا ہے۔ مشقوں کے ذریعے سانس پر کنٹرول حاصل ہو جائے تو آدمی وہ کام کر لیتا ہے جو بظاہر ممکن نہیں۔ مشق کے ذریعے سانس پر کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے۔۔۔

منہ بند کر کے ناک سے سانس لیں اورگول منہ کھول کر سانس باہر نکال دیں۔ جس وقت سانس کی مشق کی جائے توجہ دل کی طرف رکھیں۔

جب سانس کی مشق کی جائے تو ایسی جگہ بیٹھیں جہاں شور نہ ہو اور گرد و غبار نہ ہو پیٹ خالی ہو۔ آلتی پالتی مار کر بیٹھیں گردن اور کمر سیدھی ہو، یعنی تن کر نہ بیٹھیں، جسم میں کھنچاؤ نہ ہو۔

مشق اس طرح کی جائے۔۔۔

گھڑی دیکھ کر ناک سے ۲۰ سیکنڈ تک سانس اندر لیں اور سانس گول منہ کھول کر باہر نکال دیں۔ ایک مہینہ تک مشق روزانہ گیارہ مرتبہ کریں۔

اس کے بعد وقت ۲۰ سیکنڈ سے بڑھا کر 4۰ سیکنڈ کر دیں اور یہ مشق بتدریج ایک منٹ تک کریں۔ ۳۰ سیکنڈ تک سانس اندر لیں اور ایک منٹ تک روکیں اور ۳۰ سیکنڈ تک خارج کریں۔ جلد بازی سے کام نہ لیا جائے۔ ضروری ہے کہ مشق سے پہلے استاد کا انتخاب کریں جو خود سانس کی مشق کا تجربہ رکھتا ہو اور مشقوں کے نتائج سے باخبر ہو۔

لیکچر4

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 235 تا 238

آگہی کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ 1 - روحانی اسکول میں تربیت  ِ 2 - با اختیار بے اختیار زندگی  ِ 3 - تین سال کا بچہ  ِ 4 - مرید کی تربیت  ِ 5 - دس سال۔۔۔؟  ِ 6 - قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ  ِ 7 - موت حفاظت کرتی ہے  ِ 8 - باہر نہیں ہم اندر دیکھتے ہیں  ِ 9 - اطلاع کہاں سے آتی ہے؟  ِ 10 - نیند اور شعور  ِ 11 - قانون  ِ 12 - لازمانیت اور زمانیت  ِ 13 - مثال  ِ 14 - وقت۔۔۔؟  ِ 15 - زمین پر پہلا انسان  ِ 16 - خالق اور مخلوق  ِ 17 - مٹی خلاء ہے۔۔۔  ِ 18 - عورت کے دو رُخ  ِ 19 - قانون  ِ 20 - ہابیل و قابیل  ِ 21 - آگ اور قربانی  ِ 22 - آدم زاد کی پہلی موت  ِ 23 - روشنی اور جسم  ِ 24 - مشاہداتی نظر  ِ 25 - نیند اور بیداری  ِ 26 - جسمِ مثالی  ِ 27 - گیارہ ہزار صلاحیتیں  ِ 28 - خواتین اور فرشتے  ِ 29 - روح کا لباس؟  ِ 30 - ملت حنیف  ِ 31 - بڑی بیگمؓ، چھوٹی بیگمؓ  ِ 32 - زم زم  ِ 33 - خواتین کے فرائض  ِ 34 - تیس سال پہلے  ِ 36 - کہکشانی نظام  ِ 37 - پانچ حواس  ِ 38 - قانون  ِ 39 - قدرِ مشترک  ِ 40 - قانون  ِ 41 - پچاس سال  ِ 42 - زندگی کا فلسفہ  ِ 43 - انسانی مشین  ِ 44 - راضی برضا  ِ 45 - زمانے کو بُرا نہ کہو، زمانہ اللہ تعالیٰ ہے(حدیث)  ِ 46 - مثال  ِ 47 - سائنس اور روحانیت  ِ 48 - مادی دنیا اور ماورائی دنیا  ِ 49 - چاند گاڑی  ِ 50 - تین ارب سال  ِ 51 - کائناتی نظام  ِ 52 - تخلیق کا قانون  ِ 53 - تکوین  ِ 54 - دو علوم۔۔۔  ِ 55 - قانون  ِ 56 - ذات کا عرفان  ِ 57 - روحانی شاگرد  ِ 58 - ذات کی نفی  ِ 59 - پانچ کھرب بائیس کروڑ!  ِ 60 - زندگی کا تجزیہ  ِ 61 - عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ  ِ 62 - دین فطرت  ِ 63 - عید  ِ 64 - ملائکہ اعلان کرتے ہیں  ِ 65 - بچے اور رسول اللہﷺ  ِ 66 - افکار کی دنیا  ِ 67 - مثال  ِ 68 - تحقیق و تلاش  ِ 69 - Kirlian Photography  ِ 70 - قرآن علوم کا سرچشمہ ہے  ِ 71 - روشنی سے علاج  ِ 72 - روشنی کا عمل  ِ 73 - چھ نقطے  ِ 74 - قانون  ِ 75 - امراض کا روحانی علاج  ِ 76 - مشق کا طریقہ  ِ 77 - نور کا دریا  ِ 78 - ہر مخلوق عقل مند ہے  ِ 79 - موازنہ  ِ 80 - حضرت جبرائیل ؑ  ِ 81 - ڈائری  ِ 82 - ماں کی محبت  ِ 83 - حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانیؒ  ِ 84 - اکیڈمی میں ورکشاپ  ِ 85 - زمین اور آسمان  ِ 86 - ورد اور وظائف  ِ 87 - آواز روشنی ہے  ِ 88 - مثال  ِ 89 - نگینوں سے علاج  ِ 90 - تقدیر کیا ہے؟  ِ 91 - مثال  ِ 92 - حضرت علیؓ کا ارشاد  ِ 93 - فرشتے، جنات اور آدم ؑ  ِ 94 - انسان اور موالید ثلاثہ  ِ 95 - سلطان  ِ 96 - مثال  ِ 97 - دو رخ  ِ 98 - سیاہ نقطہ  ِ 99 - قانون  ِ 100 - کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالی۔۔۔  ِ 101 - تین کمزوریاں  ِ 102 - عفو و درگذر  ِ 103 - عام معافی  ِ 104 - توازن  ِ 105 - شکر کیا ہے؟  ِ 106 - قافلہ سالار  ِ 107 - ٹیم ورک  ِ 108 - سلسلہ عظیمیہ کے ارکان کی ذمہ داری  ِ 109 - چھوٹوں کی اصلاح  ِ 110 - ایک نصیحت  ِ 111 - صبحِ بہاراں  ِ 112 - دنیا مسافر خانہ ہے  ِ 113 - روح کیا ہے؟  ِ 114 - سانس کی مشقیں  ِ 115 - من کی دنیا  ِ 116 - بے سکونی کیوں ہے؟  ِ 117 - غور و فکر  ِ 118 - روحانی علوم  ِ 119 - ہمارے بچے  ِ 120 - اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں  ِ 121 - اللہ ھُو  ِ 122 - اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگو  ِ 123 - قربت  ِ 124 - ہر مخلوق باشعور ہے  ِ 125 - کامیاب زندگی  ِ 126 - انا کی لہریں  ِ 127 - صدقۂ جاریہ  ِ 128 - ادراک یا حواس
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message