سائنس اور روحانیت

کتاب : آگہی

مصنف : خواجہ شمس الدۤین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=11384

سائنسدان جو سوچتے ہیں انہیں اپنی سوچ کا جواب ملتا ہے لیکن سائنسدان سوچ میں وہی معنی پہناتے ہیں جو پہلے سے ان کا علم ہے۔ اس علم میں قبولیت ہوتی ہے یا تردید ہوتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر عالم اپنے علم اور اپنے ماحول میں رائج اعتقادات کے دائرے میں کوئی نتیجہ اخذ کرتا ہے۔

قرآن پاک کی تعلیمات اور سائنس میں بنیادی فرق یہ ہے کہ قرآن پاک ماورائی دنیا سے باہر کی ہر شئے کو فکشن یا مفروضہ قرار دیتا ہے اور حقیقت بینی کے لئے اندر دیکھنے کی ہدایت کرتا ہے۔

فلکیات کے ماہر جب ستاروں کی بات کرتے ہیں تو ستارے اور آدم کا رشتہ اس طرح جوڑتے ہیں کہ فلاں ستارہ سعید ہے اور فلاں ستارہ نحس ہے۔

آدمی ستارے کی ساڑھ ستی میں آ جائے تو حالات خراب ہو جاتے ہیں۔ ساڑھ ستی سے نکل آئے تو حالات اچھے ہو جاتے ہیں۔
قرآن کا اس سلسلے میں اپنا ایک فیصلہ ہے!

’’اور مسخر کر دیا تمہارے لئے جو کچھ سماوات میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب۔‘‘(سورۃ الجاثیہ۔ آیت ۱۳)

لیکن جب ہم ستاروں سے متعلق دنیا میں رائج انسانی علوم پر نظر ڈالتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہم ستاروں کے محکوم اور ستارے ہم پر حاکم ہیں۔ ہم رات اور دن کے وقفوں کو الگ الگ یونٹ قرار دیتے ہیں۔

جبکہ قرآن کہتا ہے کہ

’’کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے سب ایک وقت مقرر تک چلے جا رہے ہیں اور جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔‘‘(سورۃ لقمان۔ آیت ۲۹)

سائنسدان مادی زندگی کو اصل قرار دیتے ہیں لیکن مشاہدہ اس کے برعکس ہے۔ ہم رات کو خواب میں جنسی تلذذ حاصل کرتے ہیں۔ صبح بیدار ہونے پر اسی طرح ناپاک ہوتے ہیں جس طرح بیداری میں جنسی عمل کے بعد ہمارے اوپر غسل واجب ہوتا ہے۔
آج کا بچہ چند منٹ کے بعد ماضی میں چلا جاتا ہے لیکن گزرے ہوئے چند منٹ نے حال اور مستقبل دونوں سے رشتہ توڑ لیا ہے۔
ہم نے زندگی کو حال، ماضی اور مستقبل پر تقسیم کیا ہوا ہے۔ لیکن ادراک کو کام میں لایا جائے تو عالم رنگ و بو ماضی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ آج میں اگر 82سال (تاریخ پیدائش 17-10-1927، خواجہ شمس الدین عظیمی) کا بوڑھا ہوں تو دراصل یہ 82سال میرا ماضی ہے۔

قرآن کے مطابق ہماری دنیا، سماوات، ارض، عالمین، ستارے، سیارے، کہکشانی نظام، عرش و کرسی اور ہم سب ماضی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کھربوں سال پہلے (ماضی میں) کائنات کو تخلیق کیا۔ فی الوقت کھربوں سال پہلے بنی ہوئی کائنات اپنا مظاہرہ کر رہی ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 101 تا 104

آگہی کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ 1 - روحانی اسکول میں تربیت  ِ 2 - با اختیار بے اختیار زندگی  ِ 3 - تین سال کا بچہ  ِ 4 - مرید کی تربیت  ِ 5 - دس سال۔۔۔؟  ِ 6 - قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ  ِ 7 - موت حفاظت کرتی ہے  ِ 8 - باہر نہیں ہم اندر دیکھتے ہیں  ِ 9 - اطلاع کہاں سے آتی ہے؟  ِ 10 - نیند اور شعور  ِ 11 - قانون  ِ 12 - لازمانیت اور زمانیت  ِ 13 - مثال  ِ 14 - وقت۔۔۔؟  ِ 15 - زمین پر پہلا انسان  ِ 16 - خالق اور مخلوق  ِ 17 - مٹی خلاء ہے۔۔۔  ِ 18 - عورت کے دو رُخ  ِ 19 - قانون  ِ 20 - ہابیل و قابیل  ِ 21 - آگ اور قربانی  ِ 22 - آدم زاد کی پہلی موت  ِ 23 - روشنی اور جسم  ِ 24 - مشاہداتی نظر  ِ 25 - نیند اور بیداری  ِ 26 - جسمِ مثالی  ِ 27 - گیارہ ہزار صلاحیتیں  ِ 28 - خواتین اور فرشتے  ِ 29 - روح کا لباس؟  ِ 30 - ملت حنیف  ِ 31 - بڑی بیگمؓ، چھوٹی بیگمؓ  ِ 32 - زم زم  ِ 33 - خواتین کے فرائض  ِ 34 - تیس سال پہلے  ِ 36 - کہکشانی نظام  ِ 37 - پانچ حواس  ِ 38 - قانون  ِ 39 - قدرِ مشترک  ِ 40 - قانون  ِ 41 - پچاس سال  ِ 42 - زندگی کا فلسفہ  ِ 43 - انسانی مشین  ِ 44 - راضی برضا  ِ 45 - زمانے کو بُرا نہ کہو، زمانہ اللہ تعالیٰ ہے(حدیث)  ِ 46 - مثال  ِ 47 - سائنس اور روحانیت  ِ 48 - مادی دنیا اور ماورائی دنیا  ِ 49 - چاند گاڑی  ِ 50 - تین ارب سال  ِ 51 - کائناتی نظام  ِ 52 - تخلیق کا قانون  ِ 53 - تکوین  ِ 54 - دو علوم۔۔۔  ِ 55 - قانون  ِ 56 - ذات کا عرفان  ِ 57 - روحانی شاگرد  ِ 58 - ذات کی نفی  ِ 59 - پانچ کھرب بائیس کروڑ!  ِ 60 - زندگی کا تجزیہ  ِ 61 - عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ  ِ 62 - دین فطرت  ِ 63 - عید  ِ 64 - ملائکہ اعلان کرتے ہیں  ِ 65 - بچے اور رسول اللہﷺ  ِ 66 - افکار کی دنیا  ِ 67 - مثال  ِ 68 - تحقیق و تلاش  ِ 69 - Kirlian Photography  ِ 70 - قرآن علوم کا سرچشمہ ہے  ِ 71 - روشنی سے علاج  ِ 72 - روشنی کا عمل  ِ 73 - چھ نقطے  ِ 74 - قانون  ِ 75 - امراض کا روحانی علاج  ِ 76 - مشق کا طریقہ  ِ 77 - نور کا دریا  ِ 78 - ہر مخلوق عقل مند ہے  ِ 79 - موازنہ  ِ 80 - حضرت جبرائیل ؑ  ِ 81 - ڈائری  ِ 82 - ماں کی محبت  ِ 83 - حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانیؒ  ِ 84 - اکیڈمی میں ورکشاپ  ِ 85 - زمین اور آسمان  ِ 86 - ورد اور وظائف  ِ 87 - آواز روشنی ہے  ِ 88 - مثال  ِ 89 - نگینوں سے علاج  ِ 90 - تقدیر کیا ہے؟  ِ 91 - مثال  ِ 92 - حضرت علیؓ کا ارشاد  ِ 93 - فرشتے، جنات اور آدم ؑ  ِ 94 - انسان اور موالید ثلاثہ  ِ 95 - سلطان  ِ 96 - مثال  ِ 97 - دو رخ  ِ 98 - سیاہ نقطہ  ِ 99 - قانون  ِ 100 - کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالی۔۔۔  ِ 101 - تین کمزوریاں  ِ 102 - عفو و درگذر  ِ 103 - عام معافی  ِ 104 - توازن  ِ 105 - شکر کیا ہے؟  ِ 106 - قافلہ سالار  ِ 107 - ٹیم ورک  ِ 108 - سلسلہ عظیمیہ کے ارکان کی ذمہ داری  ِ 109 - چھوٹوں کی اصلاح  ِ 110 - ایک نصیحت  ِ 111 - صبحِ بہاراں  ِ 112 - دنیا مسافر خانہ ہے  ِ 113 - روح کیا ہے؟  ِ 114 - سانس کی مشقیں  ِ 115 - من کی دنیا  ِ 116 - بے سکونی کیوں ہے؟  ِ 117 - غور و فکر  ِ 118 - روحانی علوم  ِ 119 - ہمارے بچے  ِ 120 - اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں  ِ 121 - اللہ ھُو  ِ 122 - اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگو  ِ 123 - قربت  ِ 124 - ہر مخلوق باشعور ہے  ِ 125 - کامیاب زندگی  ِ 126 - انا کی لہریں  ِ 127 - صدقۂ جاریہ  ِ 128 - ادراک یا حواس
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message