زمین ہماری ہے

کتاب : نظریٗہ رنگ و نُور

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=15251

جب ہم اپنی زمین، چاند، سورج، کہکشانی نظام اور کائنات کی ساخت پر غور کرتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ سارا نظام ایک قاعدے، ضابطے اور قانون کے تحت کام کر رہا ہے اور یہ قانون اور ضابطہ ایسا مضبوط اور مستحکم ہے کہ کائنات میں موجود کوئی شئے اس ضابطہ اور قاعدے سے ایک انچ کے ہزارویں حصے میں بھی اپنا رشتہ منقطع نہیں کر سکتی۔ زمین اپنی مخصوص رفتار سے محوری اور طولانی گردش کر رہی ہے۔ اس کو اپنے مدار پر حرکت کرنے کے لئے بھی ایک مخصوص رفتار اور گردش کی ضرورت ہے اور اس میں ذرہ برابر فرق نہیں ہوتا۔ پانی کا بہنا، بخارات بن کر اڑنا، شدید ٹکراؤ سے اس کے Moleculesکا ٹوٹنا، بجلی کا پیدا ہونا اور ماحول کو منور کرنا یہ سب ایک مقررہ قاعدے اور ضابطے کے تحت ہے۔ اسی طرح حیوانات، نباتات کی پیدائش اور افزائش بھی ایک لگے بندھے قانون کی پیروی کر رہی ہے۔ انسانی دنیا میں بھی پیدائش اور نشوونما کا نظام ایک ہی چلا آ رہا ہے۔ وہ پیدا ہو کر بڑھتا ہے، لڑکپن اور جوانی کے زمانوں سے گزر کر بڑھاپے کے دور میں داخل ہو جاتا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ میں بوڑھا ہو جاؤں لیکن ہر شخص بوڑھا ہونے پر مجبور ہے۔ کوئی شخص پسند نہیں کرتا کہ اس کے اوپر موت وارد ہو لیکن دنیا میں ایک مثال بھی ایسی موجود نہیں ہے کہ آدمی نے موت سے نجات حاصل کر لی ہو۔ ان باتوں پر گہرے غور و خوض کے بعد یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ اس قدر منظم و مربوط نظام کو چلانے والی کوئی ہستی ضرور موجود ہے۔
کوئی اس ہستی کو بھگوان کہتا ہے، کوئی اس لازوال ہستی کا نام Godرکھتا ہے۔ کسی صحیفے میں اسے نروان کے نام سے پکارا گیا ہے۔ آسمانی کتابوں میں اس کا نام اللہ ہے۔ نام کچھ بھی رکھا جائے بہرحال ہم یہ ماننے اور یقین کرنے پر مجبور ہیں کہ ایک طاقتور اور لامتناہی ہستی ہمیں سنبھالے ہوئے ہے اور ساری کائنات پر اس کی حکمرانی ہے۔ وہ لوگ جو اس عظیم ہستی کا اقرار نہیں کرتے وہ زندگی کی شکست و ریخت کا ذمہ دار Natureکو قرار دیتے ہیں، درحقیقت ان کے انکار میں بھی اقرار کا پہلو نمایاں ہے۔ اس لئے کہ جب تک کوئی چیز موجود نہیں ہوتی اس کا انکار اور اقرار زیر بحث نہیں آتا۔ کوئی بندہ جب اپنی دانست میں اس ہستی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا تو اس کا ذہن انکار کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
ہر شئے کسی نہ کسی پروگرام کے ساتھ تخلیق ہوئی ہے۔ بلا مقصد یا کیلا کے طور پر کوئی چیز وجود میں نہیں آئی۔ عام طور پر انسان کی تمام دلچسپیاں گوشت پوست کے جسم پر مرکوز رہتی ہیں جبکہ گوشت پوست کا جسم اصل نہیں ہے۔ اصل انسان وہ ہے جو اس جسم کو متحرک رکھتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے۔
ہم اپنے مادی جسم کی حفاظت کے لئے لباس بناتے ہیں۔ لباس خواہ کسی Materialکا ہو جب تک گوشت پوست کے جسم پر موجود ہے اس میں حرکت ہے۔ لباس کی حرکت جسم کے تابع ہے۔ لباس میں اپنی ذاتی کوئی حرکت واقع نہیں ہوتی۔ اسی طرح جب آدمی مر جاتا ہے تو لباس کی طرح اس کے اندر بھی کوئی ذاتی حرکت یا قوت مدافعت موجود نہیں رہتی۔ ہم گوشت پوست کے جس جسم کو انسان کہتے ہیں وہ انسان نہیں ہے۔ بلکہ اصل انسان کا لباس ہے۔
نظریۂ رنگ و نور اورعقل و شعور ہمیں اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ ہم تلاش کریں کہ انسان کی اصل کیا ہے۔ وہ کہاں سے آ کر اپنے لئے جسمانی لباس تیار کرتا ہے اور پھر اس لباس کو اتار کر کہاں چلا جاتا ہے۔ قدرت نے انسان کو اصل انسان سے متعارف کرانے کے لئے بہت اہم اور مختصر فارمولے بنائے ہیں تا کہ نوع انسانی خود آگاہی حاصل کر کے اپنی اصل سے واقف ہو جائے۔
ہر مخلوق باشعور اور باحواس ہے اور اپنی خداداد صلاحیتوں سے قائم، زندہ اور متحرک ہے۔ نباتات، جمادات آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔ نباتات، جمادات اور زمین پر موجود دوسری مخلوق کی آپس میں گفتگو ہمیں اس طرف متوجہ کرتی ہے کہ زمین اور زمین کے اندر تمام ذرات شعور رکھتے ہیں۔ زمین ایک ماں کی طرح تخلیقی قوتوں کی حامل ہے۔ جس طرح ایک ماں اپنے جسم کو جنم دیتی ہے اسی طرح زمین تخلیقی عوامل سے گزر کر ایسے ایسے رنگ بکھیرتی ہے۔ جو عقل و دانائی کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ دھوپ ایک ہے، ہوا ایک ہے ، چاندنی ایک ہے اور فضا میں بکھری ہوئی Gasesایک ہیں۔ مگر جب پانی زمین کی کوکھ میں جذب ہو جاتا ہے تو اتنی تخلیقات ظہور پذیر ہوتی ہیں جن کا شمار انسان کے بس سے باہر ہے۔ زمین کے پیٹ میں کروڑوں سانچے ہیں۔ جس سانچے میں پانی ٹھہر جاتا ہے۔ پانی Dyeکے مطابق نیا روپ اختیار کر لیتا ہے۔ یہی پانی کبھی کیلا بن جاتا ہے، کبھی سیب بن جاتا ہے، کبھی انگور بن جاتا ہے اور کبھی پھولوں کے نقش و نگار بن کر سامنے آجاتا ہے۔ برگد کا ایک بیج جوخشخاش کے دانے سے بھی چھوٹا ہوتا ہے جب زمین کے پیٹ میں ڈال دیا جاتا ہے تو زمین اس بیج کو پرورش کر کے تناور درخت بنا دیتی ہے۔ ایسا تناور درخت جس کے سائے میں سینکڑوں آدمی قیام کرتے ہیں۔ زمین پر موجود پھیلی ہوئی مادی کائنات نے انسان کو اس بات کا شعور بخشا ہے کہ انسان اپنی عقل و شعور کو استعمال کرے اور یہ سوچے کہ انسان حیوانات، نباتات اور جمادات سے کس طرح ممتاز ہے۔
سائنسی دنیا نے جو علمی اور انقلابی ایجادات کی ہیں ان ایجادات میں Physicsاور Psychologyسے آگے Parapsychology(روحانیت) کا علم ہے۔ روحانیت دراصل تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔ اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کا بہترین ذریعہ مراقبہ Meditationہے۔

مراقبہ کیا ہے ؟
مراقبہ کو سمجھنے کے لئے ہمیں روحانیت کے اس قانون کو سمجھنا ہو گا جو قانون مادی دماغ سے ہٹ کر نگاہ یا ویژن (Vision) کے اصول و ضوابط پر مشتمل ہے۔ ہم جب کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو دیکھنے کی طرز یہ ہے کہ کوئی چیز ہمارے سامنے ہے اور ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔ اس کے برعکس روحانیت ہمیں بتاتی ہے کہ پہلے ہمارے اندر شئے کا عکس بنتا ہے پھر ہم شئے کو دیکھتے ہیں۔ ہم براہ راست کسی چیز کو نہیں دیکھتے بلکہ دماغ سے دیکھنے کو ذہن کی اسکرین پر دیکھتے ہیں۔ روحانیت ایک ایسا میکانیکی نظام ہے جس کی گراریاں لہروں کے اوپر چل رہی ہیں۔ روحانیت کا طالب علم جب اپنی ذہنی توجہ ایک نقطہ پر مرکوز کر دیتا ہے تو اس کے اندر موجود غیب کی دنیا میں داخل ہونے کی صلاحیت بیدار اور متحرک ہو جاتی ہے۔ بظاہر نظر آتا ہے کہ روحانیت کا طالب علم آنکھیں بند کر کے خاموش بیٹھا ہے مگر وہ ظاہری حواس کے ساتھ باطنی حواس میں بھی سفر کرتا ہے اور اس سفر میں غیب کی دنیا اس کے سامنے ہوتی ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 1 تا 6

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)