زمان (Time) کی حدود

کتاب : روح کی پکار

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=11908

سوال: روحانیت میں زمان (Time) کو مختصر کرنے کا تذکرہ کیا جاتا ہے، وہ کون سی طاقت ہے جس کی مدد سے زمان کی حدود کو ردّ و بدل کیا جا سکتا ہے اور کیا ظاہری زندگی میں بھی ایسا کرنا ممکن ہے؟
جواب: غور کیا جائے تو یہ ظاہری زندگی کا عام مشاہدہ ہے کہ ہم زمان یا ٹائم کی گرفت کو اپنے اوپر سے توڑ بھی سکتے ہیں اور اپنے اوپر مسلّط بھی کر لیتے ہیں۔ مثلاً ہمیں کوئی کام کرنا ہے۔ اس کام کو اگر قاعدے اور طریقے سے کیا جائے تو وہ ایک گھنٹے میں پورا ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم نہ چاہیں تو یہ ایک گھنٹے کا کام ہفتوں اور مہینوں میں بھی پورا نہیں ہوتا۔
ایک کام کرنا ہے اب سوچنا شروع کر دیجئے کہ یہ کام کرنا ہے۔ اس سوچ میں کہ یہ کام کرنا ہے، ہفتوں بھی لگ سکتے ہیں، مہینوں بھی لگ سکتے ہیں۔سالوں بھی صرف ہو سکتے ہیں اور اگر ہم فوری طور پر کام شروع کر دیں تو یہ کام منٹوں، گھنٹوں یا دنوں میں پورا ہو جاتا ہے بات وہی ہے جو پہلے کہی جا چکی ہے زمان کا مختصر کرنا یا طویل کرنا انسان کا اپنا اختیاری عمل ہے۔
کہا جاتا ہے کہ زندگی کا وقت معیّن ہے۔ لیکن مشاہدات اور تجربات اس بات کا انکشاف کر رہے ہیں کہ زندگی کے ماہ و سال بھی آدمی اپنے اختیار اور ارادے سے گھٹا اور بڑھا سکتا ہے۔ ایک آدمی ان عوامل میں زندگی گزارتا ہے جن میں زندگی میں کام آنے والی طاقتوں اور صلاحیتوں کا اِصراف بیجا ہوتا ہے۔ وہ ایسی غذائیں استعمال کرتا ہے جن سے آدمی کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ اس کے دماغ پر غم و فکر کے ایسے خیالات چھائے رہتے ہیں جن کے دباؤ سے اس کے اعصاب مضمحل اور ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، نتیجے میں ایسے آدمی کی عمر کم ہوتی ہے۔
اس کے برعکس ایک آدمی لوازمات زندگی کو بہت مختصر کر دیتا ہے۔ غم و آلام اور فکر کو اپنے قریب پھٹکتے نہیں دیتا، ایسی غذائیں استعمال نہیں کرتا جو خون کو کمزور کرتی ہیں یعنی تمباکو، منشیات وغیرہ ایسے صاف ستھرے ماحول میں رہتا ہے۔ جہاں فضا زہر آلود نہیں ہوتی نتیجے میں ایسے آدمی کی عمر بڑھ جاتی ہے۔
یہ وضاحت ہے اس بات کی کہ زمانیت کے بھی دو رخ ہیں۔ ایک رخ وہ ہے جس میں آدمی کے اندر کام کرنے والی انرجی (Energy) یعنی وہ صلاحیت، وہ طاقت یا وہ لہریں جو اس کی زندگی کو قائم رکھتی ہیں اتنی زیادہ خرچ ہوتی ہیں کہ آدمی اعصابی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کے اعصاب جواب دے جاتے ہیں اور وہ بالآخر مر جاتا ہے۔ زمانیت کا دوسرا رخ وہ ہے کہ جس رخ میں کام کرنے والی لہریں ضرورت کے مطابق خرچ ہوتی ہیں۔ اِصراف بیجا نہیں ہوتا چونکہ لہریں اعتدال میں خرچ ہوتی ہیں اس لئے ان کا ذخیرہ محفوظ رہتا ہے۔ ذخیرہ محفوظ رہنے سے آدمی کے اندر صلاحیتیں زیادہ طاقتور ہو جاتی ہیں اور وہ اس طاقت سے زمانیت کو مختصر اور بہت مختصر کر سکتا ہے۔
روحانیت میں مراقبہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ انسان کے اندر لہروں کا ذخیرہ زیادہ سے زیادہ حد تک محفوظ رہ سکے اور اس ذخیرے کی طاقت سے اس کا اپنا اختیار اور ارادہ اس طرف سفر کرنے لگے جہاں سکون اور راحت کی زندگی موجود ہے۔
ہم نے جس طاقت کو لہروں کا نام دیا ہے، سائنسدان ان لہروں کا نام (Calories) رکھتے ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 41 تا 42

روح کی پکار کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - زمان و مکان کیا ہے؟  ِ 3 - لوحِ محفوظ  ِ 4 - خالقِ خدا  ِ 5 - اللہ تعالیٰ نظر کیوں نہیں آتے؟  ِ 6 - اللہ تعالیٰ کی امانت کے حصول کے بعد ظالم اور جاہل کیسے؟  ِ 7 - کونسی طرزِ فکر اللہ کے قریب کرتی ہے؟  ِ 8 - روحانی طرزِ فکر کا تجزیہ  ِ 9 - روحانیت میں سب سے پہلے کیا ضروری ہے؟  ِ 10 - طرزِ فکر کی منتقلی کس قانون سے ہوتی ہے؟  ِ 11 - زمان (Time) کی حدود  ِ 12 - نفس کیا ہے؟  ِ 13 - درست طرزِ فکر کونسی ہے؟  ِ 14 - مرشد کو ظاہری آنکھ سے نہ دیکھا ہو  ِ 15 - کیا مراقبہ خواب کا تسلسل ہے؟  ِ 16 - اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب  ِ 17 - اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہیں  ِ 18 - اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہیں  ِ 19 - اللہ تعالیٰ کے علم کا عکس  ِ 20 - کائنات کے تخلیقی خدوخال  ِ 21 - کسی چیز کو سمجھنے کے لئے بنیادی عمل نظر ہے  ِ 22 - اللہ تعالیٰ کی صفات  ِ 23 - علم استدراج اور علم نوری میں فرق  ِ 24 - روحانی تصرّف کیا ہے؟  ِ 25 - اختیاری اور غیر اختیاری طرزِ فکر  ِ 26 - بخیلی اور سخاوت  ِ 27 - زندگی کی بنیاد  ِ 28 - حقیقت مُطلَقہ کیا ہے؟  ِ 29 - یقین کے کیا عوامل ہیں؟  ِ 30 - کیا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان سب مسخر کر دیا؟  ِ 31 - شُہود کی قسمیں  ِ 32 - سائنسی ایجادات  ِ 33 - علم کی حیثیت  ِ 34 - کیا قرآنی آیات پڑھنی چاہئیں؟  ِ 35 - تعویذ کے اندر کونسی طاقت ہے؟  ِ 36 - فِقہی علم کیا ہے؟  ِ 37 - سلطان کیا ہے؟  ِ 38 - مٹھاس یا نمک  ِ 39 - خیالی اور حقیقی خواب  ِ 40 - دعا آسمان سے کیوں پھینکی جاتی ہے؟  ِ 41 - مرشد کس طرح فیض منتقل کرتا ہے؟  ِ 42 - کتنی نیند کرنی چاہئے؟  ِ 43 - کیا رنگین روشنیاں غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں؟  ِ 44 - طریقت اور شریعت  ِ 45 - روح کا عرفان  ِ 46 - عام آدمی اور مؤمن میں فرق  ِ 47 - حساب کتاب کیا ہوتا ہے؟  ِ 48 - استغنائی طرزِ فکر  ِ 49 - خود ترغیبی کیا ہے؟  ِ 50 - کیفیت اور خیال میں فرق  ِ 51 - حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد  ِ 52 - تدلّیٰ اور علم الاسماء  ِ 53 - ارتقائی منازل  ِ 54 - نورِ باطن  ِ 55 - ذہن بیمار یا جسم بیمار  ِ 56 - روح کہاں جاتی ہے؟  ِ 57 - علم الغیب کیا ہے؟  ِ 58 - اللہ کا پسندیدہ بندہ  ِ 59 - فنا و بقا کیا ہے؟  ِ 60 - رنج و غم کیوں جمع ہوتے ہیں؟  ِ 61 - وَحدت الوجود اور وَحدت الشُہود  ِ 62 - دماغ میں دو کھرب خانے  ِ 63 - قلم خشک ہو گیا  ِ 64 - ترقی کا فسوں  ِ 65 - کون سا رنگ کون سا پتھر؟  ِ 66 - نماز میں حضورِقلب پیدا ہو  ِ 67 - روحانی تفسیر  ِ 68 - روح سے وُقوف حاصل کرنا  ِ 69 - نظر کا قانون  ِ 70 - زمان و مکان (Time And Space)  ِ 71 - شجرِ ممنوعہ کیا ہے؟  ِ 72 - کائنات کا بنیادی مسالہ  ِ 73 - اِرتکازِ توجّہ  ِ 74 - جسم میں لطیفے  ِ 75 - مادری زبان میں خیالات  ِ 76 - تصوّرِ شیخ  ِ 77 - کشش کیوں ہوتی ہے؟  ِ 78 - معجزہ، کرامت، اِستدراج کیا ہے؟  ِ 79 - قوّت ارادی کیا ہے؟  ِ 80 - تخلیقی اختیارات  ِ 81 - بغیر استاد کیا نقصان ہوتا ہے؟  ِ 82 - سورج بینی کا کیا فائدہ ہے؟  ِ 83 - رَحمۃَ لِّلعالمین  ِ 84 - وہاں کی زبان کو سمجھنا  ِ 85 - مراقبہ کا حکم  ِ 86 - انسانی کوشش کا عمل دخل  ِ 87 - اسفل زندگی سے نکلنا  ِ 88 - اسمِ اعظم کیا ہے؟  ِ 89 - ہر شئے دو رخوں پر ہے  ِ 90 - مؤکل کیا ہوتے ہیں؟  ِ 91 - مذہب کی حقیقت کیا ہے؟  ِ 92 - حواس کہاں سے آتے ہیں؟  ِ 93 - شرحِ صدر کیا ہے؟  ِ 94 - تفکر کی صلاحیت  ِ 95 - عشاء کا وقت افضل کیوں ہے؟  ِ 96 - سعید روح اور شَقی روح کیا ہے؟  ِ 97 - حافظے کی سطح  ِ 98 - حسبِ خواہش نتیجہ نہ ملنا  ِ 99 - نیگیٹیو بینی کیا ہے؟  ِ 100 - اس کتاب میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے  ِ 101 - یاحي یاقیوم کا کیا مطلب ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message