زمان و مکان (Time And Space)

کتاب : روح کی پکار

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=12822

سوال: آدمی مراقبے کے ذریعے زمان و مکان کی پابندیوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب زمان و مکان نہیں رہیں گے تو محسوسات کی دنیا بھی نہیں رہے گی اور جب محسوسات کی دنیا ہی نہیں رہے گی تو آدمی کا Time&Space کی پابندیوں سے آزاد ہونا یا نہ ہونا دونوں کیوں کر زیر بحث آ سکتے ہیں؟

جواب: یہ صحیح ہے کہ اگر زمان و مکان ناپید ہو جائیں تو کسی وجود کا تذکرہ ممکن نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس حالت یا کیفیت کو بیان کرنا مقصود ہوتا ہے اس کے لئے قریب تر اور مناسب ترین الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔
زمان و مکان کی آزادی کیا ہے؟
اس کو سمجھنے کے لئے ہم ایک مثال کا سہارا لیتے ہیں۔ مثلاً بھوک کا تقاضہ ایک اطلاع ہے اور اس تقاضے کی تکمیل کیسے کی جائے یا کون سا کھانا کھایا جائے… یہ اطلاع میں معنی پہنانے کا عمل ہے۔
انسان کا ذہن یا دماغ بیک وقت دو طرزوں میں کام کرتا ہے۔
1. ایک طرز یہ ہے کہ انسان خود کو پابند محسوس کرتا ہے، اور
2. دوسری طرز یہ ہے کہ انسان خود کو پابند محسوس نہیں کرتا۔
پہلی طرز میں دماغ ایسے معنی پہناتا ہے جس میں زمانی اور مکانی فاصلے زیر بحث آتے ہیں، اور …
دوسری طرز میں دماغ زمانی و مکانی فاصلوں کو گھٹا کر اتنا کم کر دیتا ہے کہ ہم اس کو وقت یا مکانیت میں بیان نہیں کر سکتے۔
مثلاً جب دماغ بھوک کی اطلاع کو معنی پہنائے گا تو ہمیں متواتر اور مسلسل کئی حد بندیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ پہلے ہم زمین کو ہموار کریں گے پھر ہل چلائیں گے، گیہوں بوئیں گے، پانی دیں گے، اس کی حفاظت کریں گے اور گیہوں جب تیار ہو جائے گا تو کاٹ کر بالیوں کو الگ کر کے گیہوں کو علیحدہ کریں گے اور چکی میں پیس کر آٹا گوندھیں گے۔ آٹا گوندھنے کے بعد بھی تَوے اور چولہے کے عمل سے گزر کر ہی روٹی کھا سکیں گے۔
ہم خواب دیکھتے ہیں اور بعض مرتبہ خواب کے دَوران بھی کھاتے ہیں۔ خواب میں روٹی کھانے کا عمل بیداری میں روٹی کھانے کے عمل سے مختلف ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ خواب میں ہمیں بھوک لگی اور روٹی سامنے آ گئی۔ یہی صورتحال جنّت کی زندگی میں بھی ہے۔ جیسے ہی دماغ میں یہ اطلاع آئی کہ کچھ کھانا چاہئے فوراً ہی وہ چیز سامنے موجود ہو جاتی ہے۔ بیداری کے اعمال کی طرح روٹی کھانے کے لئے گیہوں بونا، کاٹنا، پیسنا وغیرہ کچھ نہیں ہوتا۔ مراقبے کے ذریعے آدمی جب اس صلاحیت کا استعمال سیکھ جاتا ہے جس صلاحیت میں حد بندیاں نہیں ہیں تو زمان و مکان کی پابندیوں سے گزرے بغیر ہر وہ کام ہو جاتا ہے جس کا وہ ارادہ کرتا ہے۔
پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہﷺ اور حضور پاکﷺ کے دوست، اوّلیاء اللہ کے کتنے ہی واقعات اس قانون کے شاہد ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 200 تا 201

روح کی پکار کے مضامین :

ِ 0.01 - انتساب  ِ 1 - مراقبہ کیا ہے؟  ِ 2 - زمان و مکان کیا ہے؟  ِ 3 - لوحِ محفوظ  ِ 4 - خالقِ خدا  ِ 5 - اللہ تعالیٰ نظر کیوں نہیں آتے؟  ِ 6 - اللہ تعالیٰ کی امانت کے حصول کے بعد ظالم اور جاہل کیسے؟  ِ 7 - کونسی طرزِ فکر اللہ کے قریب کرتی ہے؟  ِ 8 - روحانی طرزِ فکر کا تجزیہ  ِ 9 - روحانیت میں سب سے پہلے کیا ضروری ہے؟  ِ 10 - طرزِ فکر کی منتقلی کس قانون سے ہوتی ہے؟  ِ 11 - زمان (Time) کی حدود  ِ 12 - نفس کیا ہے؟  ِ 13 - درست طرزِ فکر کونسی ہے؟  ِ 14 - مرشد کو ظاہری آنکھ سے نہ دیکھا ہو  ِ 15 - کیا مراقبہ خواب کا تسلسل ہے؟  ِ 16 - اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب  ِ 17 - اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہیں  ِ 18 - اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہیں  ِ 19 - اللہ تعالیٰ کے علم کا عکس  ِ 20 - کائنات کے تخلیقی خدوخال  ِ 21 - کسی چیز کو سمجھنے کے لئے بنیادی عمل نظر ہے  ِ 22 - اللہ تعالیٰ کی صفات  ِ 23 - علم استدراج اور علم نوری میں فرق  ِ 24 - روحانی تصرّف کیا ہے؟  ِ 25 - اختیاری اور غیر اختیاری طرزِ فکر  ِ 26 - بخیلی اور سخاوت  ِ 27 - زندگی کی بنیاد  ِ 28 - حقیقت مُطلَقہ کیا ہے؟  ِ 29 - یقین کے کیا عوامل ہیں؟  ِ 30 - کیا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان سب مسخر کر دیا؟  ِ 31 - شُہود کی قسمیں  ِ 32 - سائنسی ایجادات  ِ 33 - علم کی حیثیت  ِ 34 - کیا قرآنی آیات پڑھنی چاہئیں؟  ِ 35 - تعویذ کے اندر کونسی طاقت ہے؟  ِ 36 - فِقہی علم کیا ہے؟  ِ 37 - سلطان کیا ہے؟  ِ 38 - مٹھاس یا نمک  ِ 39 - خیالی اور حقیقی خواب  ِ 40 - دعا آسمان سے کیوں پھینکی جاتی ہے؟  ِ 41 - مرشد کس طرح فیض منتقل کرتا ہے؟  ِ 42 - کتنی نیند کرنی چاہئے؟  ِ 43 - کیا رنگین روشنیاں غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں؟  ِ 44 - طریقت اور شریعت  ِ 45 - روح کا عرفان  ِ 46 - عام آدمی اور مؤمن میں فرق  ِ 47 - حساب کتاب کیا ہوتا ہے؟  ِ 48 - استغنائی طرزِ فکر  ِ 49 - خود ترغیبی کیا ہے؟  ِ 50 - کیفیت اور خیال میں فرق  ِ 51 - حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد  ِ 52 - تدلّیٰ اور علم الاسماء  ِ 53 - ارتقائی منازل  ِ 54 - نورِ باطن  ِ 55 - ذہن بیمار یا جسم بیمار  ِ 56 - روح کہاں جاتی ہے؟  ِ 57 - علم الغیب کیا ہے؟  ِ 58 - اللہ کا پسندیدہ بندہ  ِ 59 - فنا و بقا کیا ہے؟  ِ 60 - رنج و غم کیوں جمع ہوتے ہیں؟  ِ 61 - وَحدت الوجود اور وَحدت الشُہود  ِ 62 - دماغ میں دو کھرب خانے  ِ 63 - قلم خشک ہو گیا  ِ 64 - ترقی کا فسوں  ِ 65 - کون سا رنگ کون سا پتھر؟  ِ 66 - نماز میں حضورِقلب پیدا ہو  ِ 67 - روحانی تفسیر  ِ 68 - روح سے وُقوف حاصل کرنا  ِ 69 - نظر کا قانون  ِ 70 - زمان و مکان (Time And Space)  ِ 71 - شجرِ ممنوعہ کیا ہے؟  ِ 72 - کائنات کا بنیادی مسالہ  ِ 73 - اِرتکازِ توجّہ  ِ 74 - جسم میں لطیفے  ِ 75 - مادری زبان میں خیالات  ِ 76 - تصوّرِ شیخ  ِ 77 - کشش کیوں ہوتی ہے؟  ِ 78 - معجزہ، کرامت، اِستدراج کیا ہے؟  ِ 79 - قوّت ارادی کیا ہے؟  ِ 80 - تخلیقی اختیارات  ِ 81 - بغیر استاد کیا نقصان ہوتا ہے؟  ِ 82 - سورج بینی کا کیا فائدہ ہے؟  ِ 83 - رَحمۃَ لِّلعالمین  ِ 84 - وہاں کی زبان کو سمجھنا  ِ 85 - مراقبہ کا حکم  ِ 86 - انسانی کوشش کا عمل دخل  ِ 87 - اسفل زندگی سے نکلنا  ِ 88 - اسمِ اعظم کیا ہے؟  ِ 89 - ہر شئے دو رخوں پر ہے  ِ 90 - مؤکل کیا ہوتے ہیں؟  ِ 91 - مذہب کی حقیقت کیا ہے؟  ِ 92 - حواس کہاں سے آتے ہیں؟  ِ 93 - شرحِ صدر کیا ہے؟  ِ 94 - تفکر کی صلاحیت  ِ 95 - عشاء کا وقت افضل کیوں ہے؟  ِ 96 - سعید روح اور شَقی روح کیا ہے؟  ِ 97 - حافظے کی سطح  ِ 98 - حسبِ خواہش نتیجہ نہ ملنا  ِ 99 - نیگیٹیو بینی کیا ہے؟  ِ 100 - اس کتاب میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے  ِ 101 - یاحي یاقیوم کا کیا مطلب ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message